Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستانی عوام کا 1965ء کا جذبہ رہا تو بھارت کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


پاکستانی عوام کا 1965ء کا جذبہ رہا تو بھارت کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 6/11/2015
پاکستانی عوام کا 1965ء کا جذبہ رہا تو بھارت کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
اے پی ایم ایس او دنیا کی وہ واحد طلبہ تنظیم ہے جس نے ایک عوامی تحریک ایم کیو ایم کو جنم دیا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیو ایم سمجھتی ہے کہ تعلیم کے ذریعے ہی ملک سے جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ نظام کا جڑ سے خاتمہ کیا جاسکتا ہے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سندھ کے شہری علاقوں کو نظر انداز کر رکھا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقے ملک کی مجموعی آمدنی کا 73 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
موجودہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے شہری علاقوں کے لئے چار ہزار ارب روپے سے زائد بجٹ میں محض ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
حکومت سندھ 15 ارب مالیت کا ایم پی اے ہوسٹل بنا رہی ہے مگر اس نے بھی حیدرآباد کے شہریوں کے لیے پانی جیسی بنیادی سہولتوں کے لیے کوئی فنڈ نہیں رکھا ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
آئین سے متصادم بلدیاتی نظام کو ایم کیو ایم کسی صورت قبول نہیں کرے گی ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
رکن رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی حیدرآباد پکا قلعہ گراؤنڈ میں اے پی ایم ایس او کے37 ویں یوم تاسیس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو
حیدرآباد۔۔۔11،جون،2015 ء
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ بھارتی پرائم منسٹر نریندر مودی کا انکشاف و اعتراف نیا نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور یہ ایک ننگی جارحیت تھی ۔ان خیالات کا اظہار رکن رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ و حق پرست رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے حیدرآباد پکا قلعہ گراؤنڈ میں اے پی ایم ایس او کے37 ویں یوم تاسیس کے حوالے منعقدہ اجلاس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ بھارت نے کبھی بھی پاکستان کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا اور بھارت کی موجودہ حکومت انتہا پسند ہندؤ ں پر مشتمل ہے جو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے شر انگیزی میں مصروف ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کا 1965ء کا جذبہ رہا تو بھارت کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج اے پی ایم ایس او کا 37 واں یوم تاسیس منایا جارہا ہے اور اے پی ایم ایس او دنیا کی وہ واحد طلبہ تنظیم ہے جس نے ایک عوامی تحریک ایم کیو ایم کو جنم دیا ۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سمجھتی ہے کہ تعلیم کے ذریعے ہی ملک سے جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ نظام کا جڑ سے خاتمہ کیا جاسکتا ہے کیوں کہ تعلیم سے شعور اور آگہی حاصل ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا ہمارا ایمان ہے کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کے نظریئے پر عمل پیرا ہونے میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم وہ واحدسیاسی جماعت ہے جس نے ملک کے غریب اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملک کے اعلیٰ ایوانوں میں بھیجا جوعوام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سندھ کے شہری علاقوں کو نظر انداز کر رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقے ملک کی مجموعی آمدنی کا 73 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن موجودہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے شہری علاقوں کے لئے چار ہزار ارب روپے سے زائد بجٹ میں محض ایکارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ 15 ارب مالیت کا ایم پی اے ہوسٹل بنا رہی ہے مگر اس نے بھی حیدرآباد کے شہریوں کے لیے پانی جیسی بنیادی سہولتوں کے لیے کوئی فنڈ نہیں رکھا جو حکمرانوں کے سندھ کے شہری علاقوں سے متعصبانہ رویے کو عیاں کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئین سے متصادم بلدیاتی نظام کو ایم کیو ایم کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور ایم کیو ایم ہر وقت عوام کے درمیان موجود ہے اور عوام ایم کیو ایم کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے اصل وارث ہیں اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اربابِ اختیار سے انصاف کے طلبگار ہیں سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ پچھلے پانچ سالوں میں جو زیادتیاں ہوئی ہیں آنے والے پانچ سالوں میں اُن کا ازالہ نظر آنا چاہئیے۔

12/8/2016 5:54:35 AM