Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جولائی 2013ء کے رواں ہفتے میں ایم کیوایم کے 9 کارکنان کو شہید اور متعدد کارکنان کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا ہے، عامر خان


جولائی 2013ء کے رواں ہفتے میں ایم کیوایم کے 9 کارکنان کو شہید اور متعدد کارکنان کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا ہے، عامر خان
 Posted on: 7/8/2013 1
جولائی 2013ء کے رواں ہفتے میں ایم کیوایم کے 9 کارکنان کو شہید اور متعدد کارکنان کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا ہے، عامر خان 
حکومت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں
ایم کیوایم شہر کے امن کی خاطر قتل و غارتگری، چھاپہ مار کاروائیوں اور گرفتاریوں کو جھیل رہی ہے اور صبر کے گھونٹ پی رہی ہے
دہشت گردوں کے ہاتھوں ایم کیوایم کے کارکنان کی قتل و غارتگری کے واقعات کے خلاف انسانی حقوق کی ملکی و بین الاقوامی تنظیمیں صدائے احتجاج بلند کریں اور پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کے خاموش تماشائی بنے رہنے کے کردار کو اجاگر کریں 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔8، جولائی 2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن عامر خان نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کے جمہوری عوامی مینڈیٹ کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنادیا گیا ہے ، ایم کیوایم کے ذمہ داران ، کارکنان کو لیاری گینگ وار ، نام نہاد پیپلز امن کمیٹی اور فرقہ پرست تنظیموں کے دہشت گردوں کی جانب سے دن دیہاڑے فائرنگ کرکے قتل کیا جارہا ہے ، صرف جولائی 2013کے رواں ہفتے میں ایم کیوایم کے 9کارکنان کی شہادت اور متعدد کارکنان کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے کے واقعات کھلی دہشت گردی ہیں لیکن حکومت ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں ، قتل و غارتگری کی کھلی وارداتوں سے ثابت ہوگیا ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنان اور اردوبولنے والے عوام کی منظم منصوبہ بندی کے تحت نسل کشی کرائی جارہی ہے۔ ان خیالات کااظہار انھوں نے پیر کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین آنسہ ممتاز انوار ، امین الحق ، خالد سلطان اور اسلم آفریدی کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ عامر خان نے نے کہا کہ ایم کیوایم شہر کے امن کی خاطر کارکنان کے گھروں اور دفاتر پر چھاپہ مار کاروائیوں ،قتل و غارتگری، گرفتاریوں اور انہیں دورانِ حراست بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات کو برداشت کررہی ہے اور صبر کے گھونٹ پی رہی ہے تاہم اس عمل کو ایم کیوایم کی کمزوری سے ہرگز تعبیر نہ کیاجائے۔انھوں نے کہا کہ شہر میں لیاری گینگ وار ، نام نہاد پیپلز امن کمیٹی اور فرقہ پرست تنظیموں کے مسلح دہشت گرد کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں ، حکومت ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان مسلح جرائم پیشہ اور فرقہ پرست تنظیموں کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے سے نہ صرف معذور دکھائی دیتے ہیں بلکہ ان کی مکمل سرپرستی کا عمل کررہے ہیں اور الٹا ایم کیوایم کے کارکنان کی رہائشگاہوں اور دفاتر پر چھاپہ مار کاروائیاں کرکے انہیں بلاجواز گرفتار اور سرکاری حراست میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے ۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے کارکنان کی شہادتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 2جولائی کو مسلح دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے ایم کیوایم اورنگی ٹاؤن یونٹ 120کے کارکن شہزاد احمداور گلشن اقبال سیکٹر یونٹ 66-Cکے کارکن جاوید حمید کو بیدردی سے شہید کیا، 3جولائی کو اورنگی ٹا ؤن یونٹ 118-Aکے کارکن عبد الاول کو شہیدکیا ،5جولائی کو بلدیہ ٹاؤن سیکٹر یونٹ 112-Aکے کارکن محمد رفیق ولد ہارون کوفائرنگ کرکے بیدردی سے شہید کیا،6 جولائی کو ہاکس بے پر مسلح دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے ایم کیوایم لیاقت آباد بندھانی کالونی کے کارکن وہاب بندھانی کو شہید کیا اوراسی طرح6جولائی کو گینگ وار کے دہشت گرد جیلانی سینٹر میں ایم کیوایم کے ہمدرد کاشف کی دکان پر آئے اور ان پر گولیاں برسا دیں جس کے باعث وہ شہید ہوگئے۔ 20مارچ کو ناظم آباد گلبہار سیکٹر یونٹ 189کے کارکن فراصت مرزا ولد سہراب مرزا دہشت گردوں کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے تاہم وہ دوران علاج جانبر نہ ہوسکے اور شہید ہوگئے ۔7جولائی کو ہی ایم کیوایم نارتھ کراچی سیکٹر یونٹ 137-Aکے جوائنٹ انچارج اظہر ایوب کو دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کیاجبکہ 7 جولائی کو ہی ایک فرقہ پرست تنظیم کے مسلح دہشت گردوں نے اورنگی ٹاؤن سیکٹر یونٹ 118-Aکی حدودمیں فائرنگ کرکے متعلقہ یونٹ کے کارکنان کمال ولد انصار اور شاہد ولد محمد حسین کو شدید زخمی کردیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف رواں جولائی کے پہلے ہفتے میں ہی ایم کیوایم کے 9کارکنان کو لیاری گینگ وار اور فرقہ پرست تنظیموں کے مسلح دہشت گرد فائرنگ کرکے بیدردی سے قتل کرچکے ہیں لیکن ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کے قتل میں ملوث سفاک دہشت گردوں کی گرفتاریوں کے بجائے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں اور دفاتر پر غیر قانونی چھاپہ مار کاروائیاں کررہی ہے اور کارکنان کوبلاجواز گرفتار کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے ۔انھوں نے مزید بتایا کہ 4جولائی کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے ایم کیوایم ملیر سیکٹر یونٹ 96کے کارکن فیصل ولد مطلوب کی رہائشگاہ پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا، اس طرح محمود آباد سیکٹر کے جوائنٹ سیکٹر انچارج صغیر احمد شیخ کے گھر پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنا تے ہوئے گرفتار کیا جبکہ 7جولائی کورنچھوڑ لائن سیکٹر آفس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے نے بھاری نفری کے ہمراہ چھاپہ مارا اور توڑ پھوڑ کی ۔ انہوں نے کہا کہ 7جولائی کو گینگ وار کے دہشت گردوں نے ملیر سیکٹر یونٹ 95کی حدود غازی ٹاؤن نزد شیل پیٹرول پمپ سے یونٹ 96کے کارکن آصف سمیت چھ ہمدردوں نوید ، زینت علی ، رب نواز ، اسرار احمد ، جاوید اور محمد بلال کو مختلف اوقات میں اغواء کرکے آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نامعلوم جگہ لے گئے اور ان پر بے بہیمانہ تشدد کیا، تشدد سے زخمی افراد نے بتایا ہے کہ گینگ وار کے دہشت گردو ں کے پاس مزید بے گناہ مغوی موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گینگ وار اور فرقہ پرست تنظیموں کی کھلی قتل و غارتگری کی کاروائیوں سے تمام واقف ہیں کہ تاجر ، صنعتکار ، دکاندار اور کچھی کمیونٹی سمیت ایم کیوایم کے کارکنان ان دہشت گردوں سے اپنی جان و مال کے عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایم کیوایم کے کارکنان کے بہیمانہ قتل اور شہر میں جاری قتل و غارتگری میں لیاری گینگ واراور فرقہ پرست تنظیموں کے دہشت گرد ملوث ہیں اور ایم کیوایم کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومت اور انتظامیہ کو بار بار نشاندہی کروائی گئی لیکن ان کی کمین گاہوں پرآج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ شہر کے عوام ، ایم کیوایم کے کارکنان اور تاجروں اور صنعتکاروں اور کچھی کمیونٹی کے افراد کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ شہر میں جاری قتل و غارتگری ، مظلوم کچھی کمیونٹی کی نقل مکانی ، بھتہ خوری اور جرائم کی وارداتوں کے جتنے ذمہ دار دہشت گرد ہیں اس کی اتنی ہی ذمہ داری حکومت ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور ایم کیوایم کے کارکنان سمیت معصوم شہریوں کو اسی طرح سے قتل و غارتگری کا نشانہ بنایا جا تا رہا اور ایم کیوایم کے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے پیروں تلے روندھنے کا عمل جاری رکھا گیا تو یہ غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیر منصفانہ عمل احساس محرومیوں میں مزید اضافہ کرے گا اور اس کے نتائج کسی طرح بھی ملک و قوم کے کیلئے بہتر نہیں نکل سکتے۔انھوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ایم کیوایم ماضی میں بھی دہشت گردوں اور پولیس و رینجرز کی غیر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرچکی ہے جبکہ ایم کیوایم کا نام ونشان مٹانے والے خود ہی صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کے تجارتی اور کاروباری علاقے دہشتگردوں کی زد پر ہیں اور اہلِ کراچی ان کے ہاتھوں یرغمال بن گئے ہیں،سرکاری سرپرستی کے حامل گینگ وار کے دہشت گردسب کے سامنے ہیں کہ انہوں نے کس طرح کراچی کے قدیم باشندوں کچھی کیونٹی اور دیگر پر لشکر کشی کی ، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، ہلاک و زخمی کیاجبکہ ان کے گھروں پر قبضے کرکے انہیں بیدخل کیاجارہا ہے جس سے ہزاروں افراد لیاری اور ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں ۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کچھی کمیونٹی کے بے گھر ہوجانے والے افراد کی امداد کی جائے ، انہیں عارضی رہائشگاہ اور اشیائے خورد و نوش فوری طور پر فراہم کی جائے ، انہیں انصاف فراہم کیاجائے ، ان کی نسل کشی کرنے والوں ، ان پر لشکر کشی کرنیو الوں اور انہیں نقل مکانی کرنے پر مجبور کرنے والے لیاری گینگ وار کے دہشت گردوں کی سرکاری سرپرستی فوراً بند کرکے ان کے خلاف منظم کارروائی کی جائے۔انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور این جی اوز سے اپیل کی کہ وہ کراچی میں لیاری گینگ وار ، فرقہ پرست تنظیموں کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ایم کیوایم کے کارکنان کی قتل و غارتگری کے واقعات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور اس تمام صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کے خاموش تماشائی بنے رہنے کے کردار کو اجاگر کریں اور دنیا کو بتائیں کہ کس طرح ایم کیوایم جیسی جمہوریت پسند جماعت کو ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر ریاستی دہشت گردی اور غیر اعلانیہ آپریشن کا نشانہ بنایاجارہا ہے اور جمہوریت کے چیمپئن کس طرح سے جمہوریت کی دھجیاں اور انصاف و قانون کے تقاضوں کو پیروں تلے روندھ رہے ہیں ۔ عامر خان نے صدر مملکت آصف علی زرداری ، وزیراعظم میاں نواز شریف ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ گینگ وار ، نام نہاد پیپلز امن کمیٹی اور فرقہ پرست تنظیموں کے دہشت گردوں کی فائرنگ سے جولائی 2013ء کے رواں ہفتے میں ایم کیوایم کے 9کارکنان کی شہادت اور متعدد کو زخمی کئے جانے کے واقعات اور کچھی کمیونٹی کی نقل مکانی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، ایم کیوایم کے کارکنان کو رہا کیاجائے، دہشت گردوں اور ان کی کمین گاہوں پر شہر اور ملک کے وسیع تر مفاد میں فی الفور کاروائی کی جائے ، ان کی سرکاری سرپرستی کا عمل فی الفور بند کراکر عوام و کارکنان کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنایاجائے اور شہر کی گھمبیر صورتحال کو واپس نہ لوٹنے والے راستے پر ڈالنے کے بجائے اس کا فی الفور ازالہ کیاجائے بصورت دیگر ایم کیوایم اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔


12/8/2016 3:46:18 AM