Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم نے سندھ کے لئے صوبائی شیڈو بجٹ پیش کردیا


ایم کیوایم نے سندھ کے لئے صوبائی شیڈو بجٹ پیش کردیا
 Posted on: 6/6/2015 1
ایم کیوایم نے سندھ کے لئے صوبائی شیڈو بجٹ پیش کردیا
کراچی :۔۔6؍ جون 2015
متحدہ قومی موومنٹ نے نئے مالی سال کے لیے سندھ کا 6کھرب 68ارب روپے کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ہے ۔ایم کیو ایم نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے مالی سال میں حکومت اپنے وسائل کا ساڑھے 57فیصد ضلعی حکومتوں کے توسط سے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے ۔یہ شیڈو بجٹ ہفتہ کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد اور اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا ۔اس موقع پر ارکان سندھ اسمبلی بھی موجود تھے۔ سید سردار احمد نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں فوری بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور نئے مالی سال کے بجٹ میں انتخابات کرانے کے لیے رقم مختص کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ایک مضبوط مالی نظام کے تحت صوبے کا آئندہ مالی سال کا شیڈو بجٹ پیش کیا ہے ،جس میں آمدنی کا تخمینہ 150ارب روپے اور وفاق سے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں ملنے والی رقم کا تخمینہ 480ارب روپے لگایاگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی وصولی صوبوں کا اختیار ہے وفاقی حکومت فوری طور پر سیلز ٹیکس کی وصولی کا اختیار صوبوں کو دے ۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو وفاقی حکومت کے مالی وسائل پر بھروسہ اب کم کردینا چاہیے اور اپنی آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنے چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے شیڈو بجٹ میں پانی ،توانائی ،تعلیم ،مواصلات ،صحت اور زراعت کے شعبوں کے لیے مثبت تجاویز پیش کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امن و امان ،زراعت اور لینڈ ریفارمز کی پالیسیوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے ۔سردار احمد نے کہا کہ صوبہ جب ترقی کرے گا جب یہاں مقامی حکومتوں کا نظام ہوگا ۔کیونکہ مقامی حکومتیں ہی عوام کے مسائل کو نچلی سطح تک حل کرسکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم مطالبہ کرتی ہے کہ ترقیاتی کاموں کا ساڑھے 57فیصد ضلعی حکومتوں کے توسط سے خرچ ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں تعلیمی نظام خستہ حالی کا شکار ہے ۔صوبے کے 51فیصد اسکولوں میں بجلی ،40فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء اور 43فیصد اسکولوں میں باؤنڈری وال موجود نہیں ہے ۔تعلیمی بجٹ میں مزید 10فیصد اضافہ کیا جائے ۔ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کی کارکردگی کو بڑھایا جائے ۔سرکاری ملازمین کے لیے ہیلتھ انشورنش پالیسی کا اجراء کیا جائے ۔صوبے میں شمسی اور ونڈ انرجی منصوبوں کو شروع کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے بجٹ میں 82ارب روپے کے اخراجات بجٹ دستاویزات میں مبہم انداز میں دکھائے جاتے ہیں ۔یہ پیسے کہاں خرچ ہوتے ہیں آئندہ بجٹ میں اس کی تفصیلات درج ہونی چاہئیں ۔اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے شیڈو بجٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ٹرانسپورٹ کی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے ۔پراپرٹی ٹیکس کا پورے صوبے میں نفاذ کیا جائے ۔کراچی 95فیصد پراپرٹی ٹیکس ادا کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن پر ٹیکس کی شرح کم کرکے ایک فیصد کی جائے اور جائیداد کو رہن رکھنے پر عائد اسٹیمپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس ختم ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس میں بھرتیوں کا شفاف نظام نافذ کیا جائے ۔کمیونٹی پولیسنگ کا نظام وضع کیا جائے ۔سول ڈیفنس کے نظام کو مضبوط کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں انفرااسٹرکچر کی سہولت کی فراہمی کے لیے 2ارب روپے مختص کیے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں ڈی این اے اور فرانزک لیب فوری قائم کی جائیں اور تمام بڑے تعلقہ اسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جائے ۔ہائی ویز پر ایمرجنسی سینٹر قائم کیے جائیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں کم لاگت کے ہاؤسنگ پروجیکٹ شروع کیے جائیں ،جس سے غریب عوام استفادہ حاصل کرسکیں ۔انہوں نے کہا کہ کراچی ایئرپوٹ پر انفرااسٹرکچر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے ۔اس سیلز ٹیکس سے سندھ کی صنعتیں پنجاب منتقل ہورہی ہیں ۔حکومت صوبے میں مربوط صنعتی پالیسی کا اعلان کرے ۔ٹرانسپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بجٹ میں کراچی کے میگا پروجیکٹس کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی ۔گرین لائن بس کے لیے 16کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ،جس سے صرف بسوں کے شیڈز ہی تعمیر ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی سرکلر ریلوے ،کراچی ماس ٹرانزٹ پروگرام ،سولڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے میگا پروجیکٹس فوری شروع کیے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سابقہ اور موجودہ دور حکومت میں میرٹ کے خلاف 2لاکھ سرکاری ملازمین بھرتی کیے ۔ملازمتوں کے کوٹے ایم پی ایز کو دیئے گئے ۔انہوں نے نوکریوں کی بندر بانٹ کی ۔ان بھرتیوں میں 80فیصد ملازمین گھوسٹ ہیں ۔تمام گھوسٹ ملازمین کے لیے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔سندھ پبلک سروس کمیشن ایک معتصب ادارہ بن گیا ہے جو شہری علاقوں کے ساتھ زیادتی کررہا ہے ۔پبلک سروس کمیشن میں اصلاحات کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے لیے 47ارب کا ترقیاتی پیکج صرف ایک دکھاوا تھا ۔کراچی کو خصوصی پیکج دیا جائے ۔K4منصوبے کے پہلے اور دوسرے فیز کے لیے رقم مختص کی جائے اور پانی کی تقسیم کا شفاف نظام قائم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ شیڈو بجٹ پیش کردیا ہے ۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکومت ہماری تجاویز پر عمل کرے گی ۔

9/25/2016 10:41:37 AM