Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وزیراعلیٰ سندھ نے وسیم دہلوی کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسران واہلکاروں کوگرفتارکرکے قانون کے مطابق سزاکیوں نہیں دی ؟الطاف حسین


وزیراعلیٰ سندھ نے وسیم دہلوی کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسران واہلکاروں کوگرفتارکرکے قانون کے مطابق سزاکیوں نہیں دی ؟الطاف حسین
 Posted on: 6/4/2015 1
وزیراعلیٰ سندھ نے وسیم دہلوی کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسران واہلکاروں کوگرفتارکرکے قانون کے مطابق سزاکیوں نہیں دی ؟الطاف حسین
وزیراعظم نوازشریف کوبھی وسیم دہلوی شہید اور دیگربے گناہ کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کاحساب دینا ہوگا،
وزیراعظم نوازشریف کو ایم کیوایم کے رہنما عامرخان پر جھوٹے مقدمہ کا بھی حساب دیناہوگا
عامرخان کے خلاف مقدمہ سے ثابت ہوگیاکہ رینجرزکے افسرنے قوم کے سامنے جھوٹ بولاتھا
جو شخص وردی پہن کرقوم سے جھوٹ بولے اسے وردی پہننے کاکوئی حق نہیں
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کوچاہیے کہ وہ وردی پہن کر قوم سے جھوٹ بولنے والے افسر کاکورٹ مارشل کریں
میں سچی اورکھری باتیں کرتاہوں تواسٹیبلشمنٹ ناراض ہوجاتی ہے ،پیمراکے ذریعے میراخطاب نشرکرنے پر پابندی لگادی گئی
اگراللہ چاہے گاتوایم کیوایم ختم ہوجائے گی وگرنہ اسٹیبلشمنٹ ہو یا کوئی بھی طاقت ہو،وہ ایم کیوایم کوختم نہیں کرسکتی
ہم تمام ترمظالم اورجبروستم کے باوجود اپنی جدوجہدجاری رکھیں گے 
نائن زیروپرایم کیوایم کے ذمہ داران اورکارکنان کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔4، جون2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے ایم کیوایم کے کارکن وسیم دہلوی شہید کے سرکاری حراست میں قتل پر صرف انکوائری کمیٹی کیوں بنائی؟ اس ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسران واہلکاروں کوگرفتارکرکے قانون کے مطابق سزاکیوں نہیں دی گئی؟ وزیراعظم نوازشریف کوبھی وسیم دہلوی شہید اور دیگربے گناہ کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کاحساب دینا ہوگا،انہیں عامرخان پر جھوٹے مقدمہ کا بھی حساب دیناہوگا۔ رینجرز کے ایک افسر نے یہ اعلان کیاتھاکہ ہم عامرخان کوگرفتارنہیں کررہے ہیں بلکہ وہ ہمارے مہمان ہیں اورہم انہیں پوچھ گچھ کے بعدچھوڑدیں گے لیکن آج عامرخان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کردیاگیاہے جس سے ثابت ہوگیاکہ رینجرزکے افسرنے قوم کے سامنے جھوٹ بولا اورجو شخص وردی پہن کرقوم سے جھوٹ بولے اسے وردی پہننے کاکوئی حق نہیں۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو تو چاہیے کہ وہ وردی پہن کر قوم سے جھوٹ بولنے اوروردی کامذاق اڑانے والے افسر کاکورٹ مارشل کریں۔ جنا ب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہارجمعرات کو علی الصبح نائن زیروپرایم کیوایم کے ذمہ داران اورکارکنان کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں رابطہ کمیٹی کے ارکان ، حق پرست سینیٹرزاور ارکان قومی وصوبائی اسمبلی بھی شریک تھے۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم بلدیہ ٹاؤن سیکٹر کے کارکن محمد وسیم دہلوی کی حراست کے دوران شہادت پرگہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ نیک مقصد کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہید ہیں اور اللہ کا وعدہ ہے کہ شہید کبھی مرا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہاکہ قانون کے نفاذ کے نام پر قانون شکنی کی جارہی ہے اور ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنان کوشہید کردیا گیاجن میں معصوم بچے اور جواں سال افراد بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی خوشیاں بھی نہیں دیکھی تھیں، قانون کے سرپرستوں نے بندوق کا استعمال کرکے ان نہتے افراد کو موت کی نیند سلادیا۔جناب الطاف حسین نے برصغیرپاک وہند کی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مسلمان صدیوں سے ہندوؤں ،سکھوں اوردیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رہتے چلے آئے تھے ، برصغیرپاک وہند پر برطانیہ کے قبضے کے بعد جنگ عظیم دوئم میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی کہ برطانیہ کو ہندوستان سے واپس جانا پڑالیکن جاتے جاتے وہ مسلمانوں کو تقسیم کرگیا ۔ برطانیہ نے جب ہندوستان پر قبضہ کیاتھا تو اس وقت پورے ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت تھی ۔ برطانیہ کو یہ ڈر تھا کہ مسلمان 1857ء کی جنگ آزادی کی شکست بدلہ لے سکتے ہیں لہٰذا انگریزوں نے ’’ لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے سازش کے ذریعہ ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنا شروع کردی۔ انہوں نے کہاکہ آزادی ہند کی تحریک 1887ء میں شروع کی گئی ، آزادی کی جدوجہد کرنے والوں نے جیلوں کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور پھانسیوں کی سزا بھی پائی، قائد اعظم محمد علی جناح ہندومسلم اتحاد کے علمبردار تھے، اسی طرح شاعرمشرق علامہ اقبال بھی ہندومسلم اتحاد کے پرچاری تھے لیکن جب قائداعظم محمد علی جناح نے دیکھا کہ جواہر لعل نہرو اورکانگریس کے دیگر رہنماؤں کا رویہ متعصبانہ ہوتاجارہا ہے اور ان میں یہ سوچ جنم لے رہی ہے کہ ہندو اکثریت میں ہیں، ان کے پاس طاقت ہے لہٰذا آزادی کے ثمر کا زیادہ حصہ انہیں ملنا چاہیے تاکہ وہ جسے چاہیں قتل کردیں ، جسے چاہیں گرفتارکرلیں اور جس پرچاہیں قلم لگادیں ان سے پوچھنے والا کوئی نہ ہو توقائداعظم نے یہ دیکھ کرمسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن کے دوران ہم پرظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے، ہمارے بے گناہ کارکنوں کو حراست میں وحشیانہ تشددکانشانہ بنایاگیا،ان کی کھالیں اتاری گئیں، ان کی آنکھیں نکالی گئیں لیکن ہمارے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس ، سی آئی ڈی ، سی آئی اے ،رینجرز ، آئی بی، ایم آئی اور دیگرایجنسیوں کے کسی ایک اہلکارکوبھی سزانہیں دی گئی۔کہتے ہیں کہ ایم کیوایم کے کارکنان کو سیف ہاؤسز کے تہہ خانوں میں مارا تھا لیکن وہ بھول گئے کہ کوئی چاہے کتنے ہی تہہ خانے بنالے اللہ تعالیٰ وہاں بھی دیکھ سکتا ہے ۔ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ اصلاح کیلئے جھٹکے بھی دیتا ہے لیکن بے ضمیرلوگ یہ جھٹکے لگنے کے باوجود بھول جاتے ہیں ، ایسے جھٹکے اگر کسی غیرت مند قوم پر لگتے تو وہ صرف منہ چھپاکر گھر میں بیٹھ جاتی لیکن ہمارے ہاں لوگ جھٹکے کھاکربھی سینہ تان کر پھرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جولوگ دوسروں کی پگڑی اچھالنے کیلئے پیسے لیتے ہیں روز محشر یہی پیسہ دہکتے انگارے بن جائیں گے اوریہ انگارے ان کے جسموں پر چپکائے جائیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگ جھوٹے وعدے کرتے ہیں اورجھوٹی یقین دہانیاں کراتے ہیں کہ اب ایم کیوایم کے دفاتر اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے نہیں مارے جائیں گے لیکن تین روز بعد ہی نہ صرف چھاپے مارے جاتے ہیں بلکہ ہمیں کارکن کی لاش کا تحفہ بھی دیتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دوروز قبل بھی سادہ لباس میں ملبوس سرکاری اہلکاروں نے بلدیہ ٹاؤن میں ایم کیوایم کے کارکن محمد وسیم دہلوی اور ان کے دوبھائیوں محمد نعیم اور محمد عادل کوگھرپرچھاپہ مارکر گرفتار کرلیا ، حراست کے دوران انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایاگیا جس کے نتیجے میں محمد وسیم دہلوی شہید ہوگئے اورسرکاری اہلکاروں کی جانب سے کہاگیا کہ محمد وسیم دل کادورہ پڑنے سے جاں بحق ہوئے ہیں لیکن پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے واضح ہوگیا ہے کہ وسیم دہلوی تشددکے باعث جاں بحق ہوئے اور سرپر بھاری چیزلگنے کے باعث انکی موت واقع ہوئی ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہاکہ پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے لیکن وہ معطل ہونے کے بعد بھی زندہ تو ہیں ،جن اہلکاروں نے وحشیانہ تشددکرکے محمد وسیم کو حراست کے دوران ماورائے عدالت قتل کیا ہے ان کو سولی پر کیوں نہیں لٹکایاگیا؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب دنیاوی قانون بے معنی ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کردیتا ہے کہ قرآن مجید کے قانون آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان اورجان کے بدلے جان جیسی صورتحال سامنے آجاتی ہے ۔ پھر یہ مقتول کے ورثاء پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ قصاص لیتے ہیں یادیت لیکر قاتل کومعاف کردیں۔انہوں نے کہاکہ ٹیلی ویژن پر کہاجاتا ہے کہ 1992ء میں جن پولیس افسران نے ایم کیوایم کے کارکنان کی لاشوں کے انبارلگائے انہیں ایک ایک کرکے ماردیاگیا، انہوں نے کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے کہاکہ میں نے کبھی کسی کو بدلہ لینے کا درس نہیں دیابلکہ جن پولیس افسران نے چالیس چالیس لوگوں کو مارا ان کے 99 فیصد ورثاء نے میری اپیل پر صبروبرداشت سے کام لیا لیکن ایک فیصد ایسے ورثاء تھے جن کے سامنے ان کے پیاروں کے قاتل آئے تو ان کاخون کھول اٹھا اور سفاک قاتل قدرت کے مکافات عمل کا شکارہوگئے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ایک امن پسند شخص ہوں ، میں نے بدلہ لینے کے بجائے ہمیشہ معاف کرنے کادرس دیاہے اورمیں کارکنوں کوآج بھی یہی تلقین کرتاہوں کہ اگرکوئی تمہیں جسمانی یا جانی نقصان پہنچائے تو اسے معاف کردو ،معاف کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہتر عمل ہے اور اللہ تعالیٰ اس عمل کوپسند کرتاہے لیکن میں یا ایم کیوایم کاکوئی بھی رکن یہ بات کس کس کو سمجھائے گا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں سچی اورکھری باتیں کرتا ہوں تو اسٹیبلشمنٹ ناراض ہوجاتی ہے اورپیمراکے ذریعے میراخطاب نشرکرنے پر پابندی لگادی جاتی ہے۔مگرمجھے اس کی کوئی پروانہیں ،میں سمجھتاہوں کہ میرے لئے ٹی وی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جولوگ اپنی طاقت کے بل پر ہم کمزوروں پرظلم کررہے ہیں انہیں قدرت کے سامنے اپنے ظلم کاحساب دیناہوگا۔ اللہ کی لاٹھی بے آوازہوتی ہے اورکوئی بھی ظالم خواہ وہ کتناہی طاقتور کیوں نہ ہووہ قدرت کے مکافات عمل سے نہیں بچ سکتا۔الطاف حسین فقیرآدمی ہے اوراس فقیرکے منہ سے جوبات باربارنکلتی ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور سنتا ہے۔ ایک شخص نے اپنی طاقت کے زعم میں کہاتھاکہ الطا ف حسین کاچیپٹرکلوزہوگیا مگراللہ تعالیٰ نے اسی کاچیپٹربندکردیا، جوایم کیوایم پر لوگوں کوڈرل کرنے کاالزام لگاتا تھا اورایم کیوایم کے کارکنوں کے جسموں کوڈرل کرایاکرتاتھا، اللہ تعالیٰ نے اسے مکافات عمل سے اس طرح گزاراکہ وہ اچھاخاصہ شخص اچانک انتقال کرگیااورصرف یہی نہیں بلکہ اس کی بیوی نے یہ کہہ کرکہ میرے شوہر کو زہر دیاگیا ہے لہٰذاتحقیقات کرائی جائے تواس کی بیوی کی درخواست پر اس کی میت کوقبرسے دوبار نکال کرتحقیقات کی غرض سے لاش کوڈرل کیاگیا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے ایم کیوایم کے کارکن وسیم دہلوی شہید کے سرکاری حراست میں قتل پر صرف انکوائری کمیٹی کیوں بنائی؟ آخر اس ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسران واہلکاروں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزاکیوں نہیں دی گئی؟خیبرپختونخواکے بزرگ رہنماپرقتل کامقدمہ ہوتوانہیں ہتھکڑیاں لگاکرعدالت میں پیش کیا جاتاہے لیکن ایک معصوم نوجوان وسیم دہلوی کوحراست میں قتل کرنے والوں کوصرف معطل کیاجاتاہے،آخرانہیں ہتھکڑیاں کیوں نہیں لگائی گئیں؟ اگر قائم علی شاہ کی جگہ میں ہو تا تویاتواس ظلم پر احتجاجاًاپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیتا یاپھرڈی جی رینجرزیااسپیشل برانچ کے سربراہ کوہٹانے کاحکم دیتا۔جناب الطا ف حسین نے ایم کیو ایم کے رہنما عامرخان پر رینجرزکی جانب سے جھوٹامقدمہ قائم کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ 11مارچ کو نائن زیروپر چھاپے کے موقع پر رینجرز کے ایک افسرکرنل طاہرنے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے واضح الفاظ میں یہ اعلان کیاتھاکہ ہم عامرخان کوگرفتارنہیں کررہے ہیں بلکہ وہ ہمارے مہمان ہیں اور ہم انہیں پوچھ گچھ کے بعدچھوڑدیں گے لیکن آج عامرخان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کردیاگیاہے۔ اس مقدمہ سے ثابت ہوگیاکہ رینجرزکے افسرنے قوم کے سامنے جھوٹ بولا اور جو شخص وردی پہن کرقوم سے جھوٹ بولے اسے وردی پہننے کاکوئی حق نہیں ۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف کوتوچاہیے کہ وہ وردی پہن کر قوم سے جھوٹ بولنے اوروردی کامذاق اڑانے والے افسر کاکورٹ مارشل کریں ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف کوبھی وسیم دہلوی شہید اور انکے دورحکومت میں ایم کیوایم کے جتنے بے گناہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیاہے ، اس کا حساب دینا ہوگا،انہیں عامرخان پر جھوٹے مقدمہ کا بھی حساب دیناہوگا۔وزیراعظم کواس بات کابھی حساب دینا ہوگا کہ انہوں نے صرف جنرل پرویز مشرف پر آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ قائم کیا لیکن فوج کے وہ لوگ جنہوں نے 12 اکتوبر99ء کو اصل میں ان کی حکومت کا تختہ الٹا اور انہیں گرفتارکیاان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اس طرح میاں نوازشریف نے فوج میں تقسیم کروائی۔انہوں نے مزیدکہاکہ مجھے ان فوجی افسران پر بھی حیرت ہے کہ انہوں نے اپنے جوڑی دار پر آرٹیکل 6لگناکیسے قبول کرلیا اوراس پرکوئی احتجاج کیوں نہ کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ دنوں ایم کیوایم مخالف عناصر کے منفی پروپیگنڈوں کی وجہ سے بعض لوگوں کویہ غلط فہمی ہوگئی تھی کہ الطاف حسین نے تاجروں اورصنعتکاروں کودھمکیاں دیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے کسی کوکوئی دھمکی نہیں دی تھی بلکہ یہ کہاتھاکہ کونساایساصنعتکارہے جوکسی پارٹی کوچندہ نہ دیتاہو، بعض افراد ایسے ہیں کہ ایم کیوایم کوچندہزارروپے دیتے ہیں مگراس کا ڈھول پیٹتے ہیں اور یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ایم کیوایم والے بھتہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم توتاجروں اورصنعتکاروں کادل سے نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ ان کی رائے مشوروں پر بھی عمل کرتے ہیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جولوگ آج ایم کیوایم کو ختم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں اورطرح طرح کی سازشیں کررہے ہیں وہ یہ جان لیں کہ اگراللہ چاہے گاتوایم کیوایم ختم ہوجائے گی وگرنہ اسٹیبلشمنٹ ہو یا کوئی بھی طاقت ہو،وہ چاہے جتنی کوششیں کرلے لیکن ایم کیوایم کوختم نہیں کرسکتی۔ہم تمام ترمظالم اورجبروستم کے باوجود اپنی جدوجہدجاری رکھیں گے اور انشاء اللہ ایک وقت آئیگا جب پورے ملک پر ایم کیوایم کی حکومت ہوگی ۔ جناب الطا ف حسین نے اعلان کیاکہ ایم کیوایم کے کارکن وسیم دہلوی کے پولیس حراست میں ماورائے عدالت قتل اورایم کیوایم کے رہنماعامرخان پر جھوٹا مقدمہ قائم کرنے کے خلاف آج بروزجمعرات ملک بھرمیں یوم سوگ منایا جائے گا ۔ انہوں نے سندھ بھرکے تاجروں دکانداروں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ سوگ میں اپناکاروباربندرکھیں۔ انہوں نے پنجاب، خیبرپختونخوا ، بلوچستان اور آزادکشمیرکے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ وسیم دہلوی کے بہیمانہ قتل اور عامر خان کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کرنے پر پرامن احتجاجی مظاہرے کریں۔اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے رکن عبدالحسیب نے وسیم دہلوی شہیداوردیگرشہید کارکنوں کے ایصال ثواب کے لئے دعاکرائی ۔ 

12/10/2016 8:44:01 AM