Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

لفاظی اور اچھے جملوں کا استعمال کرکے کوئی قوم ترقی یافتہ نہیں بن سکتی، قائد تحریک الطاف حسین


لفاظی اور اچھے جملوں کا استعمال کرکے کوئی قوم ترقی یافتہ نہیں بن سکتی، قائد تحریک الطاف حسین
 Posted on: 7/4/2013 1
لفاظی اور اچھے جملوں کا استعمال کرکے کوئی قوم ترقی یافتہ نہیں بن سکتی، قائد تحریک الطاف حسین
ترقی یافتہ بننے کیلئے کسی بھی قوم میں خوداحتسابی کامسلسل جاری عمل ، وطن سے سچی محبت اور مثالی عمل وکردار کا ہونا ضروری ہے۔پاکستان انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے ، ملک کواندرونی وبیرونی خطرات اور امن وامان سمیت انگنت چیلنجز کا سامنا ہے۔کسی بھی چیلنج کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ فیصلے ذاتی خواہشات کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کئے جائیں۔ انسان زمینی حقائق کو جھٹلاکر خود کویہ دھوکہ تو دے لیتا ہے کہ برسوں کی مشکلات چند ماہ میں حل ہوجائیں گی لیکن جب ناگفتہ بہ صورتحال صحیح نہیں ہوتی تو وہ فرسٹریشن اور ٹینشن کا کا شکارہونے لگتے ہیں۔پریشانیوں اوراسٹریس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم زمینی حقائق کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کریں اوراس میں اپنی خواہشات کا تڑکہ لگانے سے گریز کریں۔
رابطہ کمیٹی کراچی اور لندن کے اراکین سے قائد تحریک الطاف حسین کی فون پر گفتگو
لندن۔۔۔4، جولائی2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ لفاظی اور اچھے جملوں کا استعمال کرکے کوئی قوم ترقی یافتہ نہیں بن سکتی ۔ ترقی یافتہ بننے کیلئے کسی بھی قوم میں خوداحتسابی کامسلسل جاری عمل ، وطن سے سچی محبت ، ایمانداری اور مثالی عمل وکردار کا ہونا ضروری ہے اور ان خصوصیات کو اپناکرہی کوئی قوم ترقی کی معراج پر پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کی صبح رابطہ کمیٹی کراچی اور لندن کے اراکین سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کسی بھی چیلنج کا کامیابی سے مقابلہ کرنے اورمشکلات کے باوجود مثبت نتائج حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ فیصلے ذاتی خواہشات کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ناگفتہ بہ حالات کاتجزیہ اور ان حالات سے نکلنے کااندازہ حقائق کے بجائے اپنی ذاتی خواہشات کی بنیاد پر کرتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے ، ملک کواندرونی وبیرونی خطرات،معاشی مسائل اور امن وامان سمیت انگنت چیلنجز کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بعض مرتبہ ہمیں ایسا چیلنج درپیش ہوتا ہے جس کے بارے میں زمینی حقائق کھل کربتارہے ہوتے ہیں کہ اس چیلنج کی وجہ سے درپیش مشکلات کئی برس تک جاری رہیں گی لیکن چونکہ انسان خطرات ومشکلات سے دوربھاگتا ہے اس لئے ہم زمینی حقائق کوجھٹلاتے ہوئے خود کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ چیلنج برسوں کے بجائے چند ماہ میں حل ہوجائے گا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ انسان زمینی حقائق کو جھٹلاکر خود کویہ دھوکہ تو دے لیتا ہے کہ برسوں کی مشکلات چند ماہ میں حل ہوجائیں گی لیکن جب ناگفتہ بہ صورتحال صحیح نہیں ہوتی تو وہ فرسٹریشن اور ٹینشن کا کا شکارہونے لگتے ہیں جس کا نتیجہ اسٹریس اور ٹینشن کی صورت میں نکلتا ہے جو نت نئی بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پریشانیوں اور اسٹریس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم زمینی حقائق کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کریں اور اس میں اپنی خواہشات کا تڑکہ لگانے سے گریز کریں تاکہ ہم درپیش چیلنجز کے حل کیلئے درکار وقت کا ایماندارانہ تعین کرسکیں اور زیادہ وقت لگ جانے کے سبب بیزار اور بددل نہ ہوجائیں۔

12/6/2016 12:05:54 PM