Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے کارکنوں کی پرذور اور دردمندانہ اپیلوں پر تحریک کی قیادت سے دستبرداری کااعلان واپس لے لیا


ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے کارکنوں کی پرذور اور دردمندانہ اپیلوں پر تحریک کی قیادت سے دستبرداری کااعلان واپس لے لیا
 Posted on: 6/30/2013
ایجنسیاں قاتلوں کو تلاش کریں اور کیفرکردار تک پہنچائیں لیکن سازشیں کرکے مجھے ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل میں 
بلواسطہ یا بلاواسطہ ملوث کرنے کی کوشش نہ کی جائے
میں اپنا مقدمہ خود لڑوں گا ۔ میرا ضمیر صاف ہے ، اللہ تعالیٰ دلوں کا حال بہتر جانتا ہے
نیشنل اور انٹرنیشنل ورلڈ اسی لئے میرے خلاف ہے کیونکہ میں ظالمانہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہدکررہاہوں
نائن زیروعزیزآبادکراچی ، حیدرآباد، سکھر، نواب شاہ ، ٹنڈوالہیاراور دیگر شہروں میں جمع ہونے والے کارکنان سے ٹیلی فونک خطاب
تصاویر
لندن30جون 2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی،ارکان اسمبلی اورمختلف شعبوں کے ذمہ داروں اور کارکنوں کی پرذور اور دردمندانہ اپیلوں پر تحریک کی قیادت سے دستبرداری کااعلان واپس لے لیاہے ۔ اس کااعلان انہوں نے آج صبح اپنی رہائش گاہ نائن زیروعزیزآبادکراچی ، حیدرآباد، سکھر، نواب شاہ ، ٹنڈوالہیاراور سندھ کے دیگر شہروں میں جمع ہونے والے ایم کیوایم کے کارکنان سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ کارکنان ہفتہ اوراتوار کی درمیانی شب جناب الطا ف حسین کی جانب سے ایم کیوایم کی قیادت سے رضاکارانہ دستبرداری کے اعلان کے بعد جمع ہوئے تھے اوردھرنادیکر بیٹھ گئے تھے ۔ اس موقع پر تمام کارکنان نے جناب الطاف حسین کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے اور ان سے والہانہ عقیدت ومحبت کااظہار بھی کیا۔اس موقع پر انتہائی رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے ، بیشترکارکنان شدت جذبات سے بے قابو ہوکر دھاڑے مارمارکرروتے رہے اور جناب الطاف حسین سے قیادت سے دستبرداری کافیصلہ واپس لینے پر اصرارکرتے رہے ۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک ہفتہ قبل میرے گھر پر اسکاٹ لینڈیارڈ اور برطانوی پولیس نے چھاپہ مارکر کئی گھنٹوں تک تلاشی لی اور بہت سا مان اپنے ساتھ لے گئے ۔ میں نے ابتداء میں ہی پولیس حکام سے درخواست کی تھی کہ آپ جوکچھ بھی لیکر جانا چاہیں لے جائیں لیکن اس کی فہرست مجھے ضروردے دیں لیکن مجھے فہرست نہیں دی گئی اورآج کے دن تک مجھے نہیں معلوم کہ وہ گھر سے کیا کچھ لے کر گئے ہیں۔ ہم نے اس صورتحال پر وکلاء کی فرم ہائر کی تھی اورچھاپہ والے دن اس فرم کی جانب سے ایک وکیل بھیجا گیا تھا جوکہ چار سے پانچ گھنٹے تک گھر میں موجود رہا اسکے بعد سے آج تک مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے گزشتہ بیان میں یہ بات کہی تھی کہ برطانیہ میں مجھ پر جو کیس بنائے جائیں گے اس حوالہ سے مجھے کسی بھی بیرسٹر، لائریا وکیل کی ضرورت نہیں،میں اپنا مقدمہ خود لڑوں گا ۔ میرا ضمیر صاف ہے ، اللہ تعالیٰ دلوں کا حال بہتر جانتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر کسی بھی ملک کی اسٹیبلشمنٹ خواہ وہ پاکستان کی ہو ، انڈیا کی ہو یا برطانیہ کی ہو، وہ اگر اس پر تل جائے کہ کسی فرد کو سزا دینی ہے یا راستے سے ہٹانا ہے تو ان کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ۔ یہ عمل امریکہ سمیت پوری دنیا میں ہوتا رہا ہے ۔ 1600صدی کے زمانے میں برطانوی سامراج نے تجارت کی غرض سے برصغیر میں قدم جمایا۔ تجارت کی آڑ میں برطانوی تاجر تعلقات بڑھاتے رہے اورانہوں نے اس مہارت سے تجارت کی کہ وہ تاجر نہیں بلکہ برصغیر کے تاجدار بن گئے۔ اس زمانے میں جنگ آزادی لڑنے والوں نے جام شہادت نوش کیااور انسانیت کے علمبرداربرطانیہ کی افواج نے حریت پسندوں کو سولیوں اور درختوں پرلٹکایا ۔ برصغیرپر برطانیہ کے قبضے کے بعد بھی آزادی کی جدوجہد جاری رہی اوربھگت سنگھ سمیت انگنت انقلابی پیدا ہوئے ۔ آزادی کے ان متوالوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ جلیانوالہ باغ میں قتل وغارتگری بھی برطانوی دورحکومت میں جنرل ڈائر نے کرائی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاتماگاندھی، محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے گوکہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کی لیکن ان کے دلوں میں آزادی کی شمع جلتی رہی۔ مہاتما گاندھی اور محمد علی جناح نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی اور علامہ اقبال نے اپنے اشعار سے مسلمانوں میں آزادی کی روح پھونکی ۔ اسی طرح مولانا حسرت موہانی ، مولانا شبیر عثمانی سمیت انگنت حریت پسندوں نے جیلوں میں چکیاں پیسیں۔ خود مہاتما گاندھی جیل میں چرخے پر کپڑا بنایا کرتے تھے۔1914ئمیں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوگیا اورپھردوسری جنگ عظیم کاجس کے بعدHaves اورHave not کے درمیان سردجنگ عروج پرآگئی۔ اس دوران چائنا میں ماوزے تنگ، کیوبامیں فیڈل کاسترو، ویتنام میں ہوچی منہ اور شمالی کوریا میں کم ال سنگ میدان عمل میں آئے جو معاشرے میں مساوات اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اورغریبوں کو انسان سمجھنے کا درس دیتے رہے اور انقلاب لیکر بھی آئے مگر بدقسمتی سے انقلاب جس اسپرٹ کے تحت لایا گیا وہ اسپرٹ پروان نہیں چڑھ سکی۔ پھرآخری معرکہ افغانستان میں ہوا۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور مختلف ممالک نے مجاہدین کو اسلحہ ، پیسے اور تربیت دی ، روس کے خلاف لڑنے کیلئے مسلح جھتے تیارکئے جس کے باعث افغانستان میں روس کو شکست اور طالبان کو فتح حاصل ہوئی لیکن اس کے بعد سے آج کے دن تک طالبان کا عمل ملک بھرکے عوام کے سامنے ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا میں اگر کوئی غریب متوسط طبقہ کے حقوق اور ان کیلئے عزت وآبروکی زندگی فراہم کرنے کی جدوجہد کرنے والا اگر کوئی شخص ہے تو وہ صرف اورصرف الطاف حسین ہے ۔پاکستان میں ہرطریقے سے روشن خیال اور لبرل طبقہ کو ڈرادھمکا کر خاموش کردیا گیایا ان کی آواز کو ہلکاکردیا گیا لیکن شیرکی طرح آج بھی جاگیرداروں ، وڈیروں اوردنیا پر راج کرنے والی سپرطاقتوں کے خلاف اگر کوئی آواز اٹھانے والا ہے تو وہ صرف اورصرف الطاف حسین ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیشنل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ نے مک مکا کرکے الطاف حسین کو خریدنے ، طرح طرح کا لالچ دینے اورڈرانے دھمکانے کی کوشش کی لیکن جب یہ تمام حربے ناکام ہوگئے تو انہوں نے منصوبہ بنایا کہ ایسا کام کیاجائے کہ دنیا میں یہ تاثر دیا جاسکے کہ الطاف حسین اور ایم کیوایم مخالفت اور مخالفین کو برداشت نہیں کرتی لیکن کوئی اس بات کا جواب نہیں دیتا کہ اگر ایم کیوایم مخالفین کو برداشت نہیں کرتی توآج عامر خان اور آفاق احمد کوانتقام کا نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ماضی میں تنظیمی نظم وضبط کی خلاف ورزی پر ڈاکٹر عمران فاروق کو گھربٹھادیا گیا تھا لیکن وہ ساتھیوں کے ساتھ ہی رہتے تھے ، ان کے ساتھ کھانا کھایاکرتے تھے البتہ تنظیمی معاملات میں حصہ نہیں لیتے تھے ۔اس پر اسکاٹ لینڈیارڈ کے اہلکاروں نے محمد انور کوبلایا اوران سے جرائم پیشہ افراد کی طرح پوچھ گچھ کرتے رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کی زندگی کو خطرہ ہے ، پھرمیری بات کرائی گئی اور مجھ سے بھی پوچھا گیا کہ کیا ڈاکٹرعمران فارو ق سے آپ کا کوئی جھگڑا ہے اور کیا آپ نے ڈاکٹرعمران فاروق کو یرغمال بنارکھا ہے ؟ جس پر ہم نے انکار کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔پھروہ خود ڈاکٹرعمران فاروق کے پاس پہنچ گئے اور ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کو زورزبردستی سے اغواء کیا گیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور میں تو سکون سے رہ رہا ہوں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اسی وقت اس سازش کو سمجھ گیا تھا اس قسم کی سازش کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔ آج کل ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد ٹی وی ٹاک شوز میں کہاجارہا ہے کہ کٹھمنڈو سے دوافراد آئے ،انہیں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے نے پکڑا ہے جوکہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ برطانیہ میں ایم آئی فائیو، ایم آئی سکس اور اسکاٹ لینڈ یارڈ اوردیگرایجنسیاں موجود ہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ قاتلوں کو تلاش کریں اور کیفرکردار تک پہنچائیں۔لیکن سازشیں کرکے مجھے ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل میں بلواسطہ یا بلاواسطہ ملوث کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ ماضی بھی ایک سازش کے تحت مختلف افراد کو ایم کیوایم کے خلاف استعمال کیا گیا لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہوسکے، میں ان تمام ہتھکنڈوں کو برداشت کرتا رہا مگر ایک ہفتہ قبل میرے گھر پرچھاپہ مارا گیا، کروڑوں عوام کے دلوں کی دھڑکن اورجس سے کروڑوں عوام پیارکرتے ہوں ، اس کے گھرپرمحض شک کی بنیاد پر چھاپہ مارا جائے کہ وہ منی لانڈرنگ کررہا ہے یا ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل میں ملوث ہے تو پھرمیں یہ بات گوارہ نہیں کرسکتا تھا کہ میں برطانیہ میں رہ کر ایسی پارٹی کی قیادت کرسکوں جو لاکھوں کروڑوں عوام پر مشتمل ہے لہٰذا جب تک میرا فیصلہ نہیں ہوجاتا ، رابطہ کمیٹی اتحاد واتفاق سے تحریک کوچلائے ۔ اس موقع پر تمام کارکنوں، ارکان اسمبلی، اراکین رابطہ کمیٹی، تمام ماؤں، بہنوں اوربزرگوں نے زوردارنعرے لگاکرجناب الطاف حسین کے اس فیصلے کومستردکرتے ہوئے اسے واپس لینے کااصرارکیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پورے پاکستان کے عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر حق کی بات کرنا ، غریب ہاریوں ، کسانوں اورمحنت کشوں کو حق دلانے کی بات کرنا سوشلزم ہے تومیں سوشلسٹ ہوں، اگر یہ بات کرنا کمیونزم ہے تو میں کمیونسٹ ہوں اور اگر یہ بات کرنا اسلامی ہے تو پھرمجھ سے بڑا اسلامی کوئی نہیں ہے ۔کوئی حضرت حمزہؓ کی طرح میراکلیجہ نکال کرچبالے میں اس کو اپنی سعادت محسوس کروں گا۔ حضرت ابوزر غفاریؓ ،دولت مندوں اور سونے کا لباس پہننے والوں پر لعن طعن کیا کرتے تھے ، اس جرم میں انہیں شہر بدرکردیا گیا۔ مجھے بھی جلاوطن کردیا گیاہے۔ انہوں نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں آپ کو پیشگی بتارہا ہوں کہ میں زندہ رہوں یانہ رہوں آپ حق پرستی کی جدوجہد جاری رکھنا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج مجھ سے پوچھا جارہا ہے کہ پیسہ کہاں سے آتا ہے کیا انہیں نہیں معلوم کہ میرے لاکھوں کروڑوں چاہنے والے خاموشی سے آکر عطیہ کرتے ہیں ، عطیہ کی رسید بھی نہیں کٹواتے کہ یہ صرف آپ کیلئے ہے ۔ اس پر اعتراض کیا جاتا ہے مگر پاکستان کے دیگر لیڈر جن کی اربوں پاؤنڈ کی جائیدادیں ہیں ان سے پیسہ کے بارے میں اس لئے نہیں پوچھا جاتا کیونکہ وہ ان کا کھیل کھیلتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں انقلاب کا داعی ہوں ۔ میں زندہ رہوں یا ماردیا جاؤں، میرے اور شہیدوں کے خون سے اس ملک میں انقلاب آئے گااورایم کیوایم کے خلاف دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ناکام ہوجائیں گی۔انہوں نے کہاکہ میراقصوریہی ہے کہ میں غریبوں کی بات کرتاہوں، میں کہتاہوں کہ چوری چکاری اورکرپشن ختم کرواور میرٹ کانظام نافذ کرواسی لئے میرے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں۔پوری نیشنل اور انٹرنیشنل ورلڈمیرے اسی لئے خلاف ہے کیونکہ پوری دنیامیں میں واحدبچاہوں جوظالمانہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کررہا ہے ۔ انہوں نے کارکنوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگراس جدوجہدمیں مجھے شہیدکردیاجائے تومیرے لئے دعائے خیر کرنا، آپس میں نہیں لڑنا،دوستی یاری کی بنیادپر فیصلے نہیں کرنا بلکہ انصاف اورمیرٹ کی بنیادپر فیصلے کرنا۔ہرنفس کوموت کامزہ چکھناہے، میری دعاہے کہ میراسرجھکے تو صرف اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے کسی اورکے آگے نہ جھکے۔ انہوں واضح الفاظ میں کہاکہ میں نے برطانیہ میں رہتے ہوئے نہ کوئی قانون توڑا ہے اورنہ توڑوں گا، میں عدالت میں اپنامقدمہ خودلڑوں گا،چاہے فیصلہ میرے حق میں ہو یامخالفت میں ہو۔میں دنیامیںیہ ثابت کرنانہیں چاہتاکہ میں عدالتوں پر یقین نہیں رکھتا۔اگرایک عدالت غلط فیصلہ کرتی ہے تویہ نہیں کہ ساری عدالتیں غلط فیصلے کرتی ہیں۔ سابق صدرجنرل پرویزمشرف کے خلاف غداری کامقدمہ چلانے کے معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان کے بڑے بڑے دانشوروں میں یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ یہ سوال کرلیں کہ جنرل پرویزمشرف کے خلا ف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کامقدمہ 3نومبر2007ء کے اقدام پر قائم کرنے کی بات کیوں کی جارہی ہے؟12اکتوبر1999ء کوجب جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء نافذ کیا تواس اقدام کے تحت کارروائی کرنے کی بات کیوں نہیں کی جارہی ہے؟بعض دانشورکہتے ہیں کہ 12اکتوبر1999ء کے اقدام کوعدالت نے قانونی قرار دیدیا تھا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر3نومبر2007ء کوایمرجنسی نافذ کرنے کااقدام غلط تھا تو 12اکتوبر1999ء کااقدام درست کیسے ہوسکتاہے؟انہوں نے کہاکہ 12اکتوبر 1999ء کوجب ملک میں مارشل لاء نافذ کیاگیاتواس وقت کی اعلیٰ عدلیہ کے بڑے بڑے ججوں نے اس اقدام کونہ صرف درست قراردیاتھابلکہ جنرل پرویزمشرف کو آئین میں تبدیلی کی بھی اجازت دیدی تھی۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا 12اکتوبر1999ء کومارشل لاء یا 3نومبر2007ء کوایمرجنسی کااقدام پرویزمشرف نے اکیلے کیاتھا؟ کیاان اقدامات پر پرویزمشرف کواکیلے سزاملنی چاہیے؟ انہوں نے سوال کیاکہ جس قوم کے دانشوروں میں یہ حقیقت پسندانہ سوال کرنے کی جرات نہ ہووہ قوم کی اصلا ح کیسے کرسکتے ہیں؟ہماراملک دولخت ہوگیا لیکن آج بھی ہماراسرشرم سے نہیں جھکتابلکہ فخرسے کہاجاتاہے کہ اچھاہوا کہ مشرقی پاکستان الگ ہوگیاوہ پاکستان پر بوجھ تھااورآج اسی بنگلہ دیش کی کرنسی کی قدر پاکستان کی کرنسی سے زیادہ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے بیشتررہنما کراچی کے بارے میں اپنی نفرت کااظہارکرتے ہوئے اکثر کہتے ہیں کہ کراچی میں فوجی آپریشن کیاجائے،اسلحہ برآمدکرنے کیلئے گھرگھر تلاشی لی جائے اورکراچی میں رہنے والوں خاتمہ کردیا جائے۔انہوں نے کہاکہ جولوگ ٹی وی پروگراموں میں بیٹھ کرکسی لیڈر کے بارے میں بغیر ثبوت وشواہد کے الزامات لگاتے ہیں ان کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی قصوروارہیں جوایسے بے بنیادالزامات کونشرکرتے ہیں ۔ جولوگ جھوٹے الزامات لگائیں کارکنان ان کے الزامات کوسنکرغصہ میں آنے کے بجائے لاحول پڑھ لیا کریں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے خلاف جوبھی جتنی بھی سازشیں کرے ہم ملک کی سلامتی اور ترقی وخوشحالی کیلئے کوششیں کرتے رہیں گے۔

12/10/2016 2:28:23 PM