Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایک مرتبہ پھر متنبہ کررہا ہوں کہ مسلم امہ کا ٹائٹینک ڈوب رہاہے، قائد تحریک الطاف حسین


ایک مرتبہ پھر متنبہ کررہا ہوں کہ مسلم امہ کا ٹائٹینک ڈوب رہاہے، قائد تحریک الطاف حسین
 Posted on: 6/26/2013
ایک مرتبہ پھر متنبہ کررہا ہوں کہ مسلم امہ کا ٹائٹینک ڈوب رہاہے، قائد تحریک الطاف حسین
جس طرح کے دعوے ٹائٹینک جہاز کیلئے کئے گئے تھے کم وبیش ویسے ہی دعوے پاکستان کیلئے کئے جارہے ہیں۔ٹائٹینک کے اپرڈیک میں بیٹھے ہوئے دولت مند، اعلیٰ قسم کے بیوروکریٹس اور افسران کو زرہ برابر معلوم نہیں تھا کہ جہاز ڈوب رہا ہے۔ پاکستان کی صورتحال ٹائٹینک جہاز جیسی ہے جس کے اپر ڈیک پر بیٹھے ہوئے لوگ پورے پاکستان کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔مغربی پاکستان کا ریڈیوپاکستان یہ خبریں نشرکررہا تھا کہ سابقہ مشرقی پاکستان میں ہماری مسلح افواج ہرمحاذ پر فتح حاصل کررہی ہے حالانکہ پاکستان کے 93 ہزار فوجی ، انڈین فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈال چکے تھے۔
خدارا!! وہ میرے آج کے اس بیان کو ایک کہانی اور قصہ سمجھ کربھول نہ جائیں ،پاکستانی عوام سے دردمندانہ اپیل
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہووئے گا پھر کبھی ۔۔۔دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔
رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کی فکری نشست سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔26،جون2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے پاکستان کی موجودہ امن عامہ کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی اس بات کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہاہے کہ 
I  am  warning  the  Muslim  world  that  the  Titanic  of  Muslim  Ummah  has  now  started  sinking,  if  the  urgent  and  emergency  measures  are  not  taken  to  rescue  the  ship  then  the  whole  ship  would  collapse  and  finally  sink.
یہ بات انہوں نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کی فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے یہ بات عوام کو سمجھانے کی غرض سے کی تھی کیونکہ جس طرح کے دعوے ٹائٹینک جہاز کیلئے کئے گئے تھے کم وبیش ویسے ہی دعواے پاکستان کیلئے نہ صرف کئے گئے بلکہ شرمناک بات تو یہ ہے کہ آج تک کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 1911ء کے ابتدائی زمانے میں مکمل کئے جانے والے ٹائٹینک جہاز کے بارے میں اس جہاز کے مالک اور اس کے ہمنواؤں نے بڑے متکبرانہ انداز میں ایک سوال کے جواب میں یہ کہاتھا کہ اگر کسی ایمرجنسی کی صورت میں ضرورت کے مطابق مسافروں کو بچانے کیلئے اس جہاز پر چھوٹی کشتیاں نہیں ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہین کیونکہ یہ اتنا بڑا اور مضبوط جہاز ہے کہ نعوذباللہ اسے خدا بھی نہیں ڈبوسکتااورجب ٹائٹینک جہاز آئس برگ(Ice Berg ) سے ٹکرایا تو ٹائٹینک جہاز کا نچلا حصہ آہستہ آہستہ ڈوبنے لگا اور جہاز کی نچلی منزلوں میں مقیم مسافر بچے ، بچیاں ، بوڑھے ، جوان ، مرد اور عورت آہ وزاری کرتے ہوئے اپنی اپنی جانیں بچانے کی فکر میں بچنے بچانے کی جگہیں تلاش کررہے تھے۔ اس وقت اسی جہاز میں موجود اپرڈیک(اوپری منزل) میں بیٹھے ہوئے دولت مند، اعلیٰ قسم کے بیوروکریٹس، افسران جواسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان تھے ، انہیں زرہ برابر معلوم نہیں تھا کہ جہاز ڈوب رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جب جہاز کی رفتارکم ہونے یا رک جانے کے سبب تیزی سے بھاگتے اوردوڑتے ویٹروں اورعملہ کو دیکھ کر اپرڈیک کے لوگوں نے پوچھا کہ جہاز کی رفتارکم یا رک کیوں گئی ہے تو انہوں نے کچھ نہ کچھ بہانہ بناکر اپرڈیک پر مقیم لوگوں کو مطمئن کردیا اور وہ حسب معمول اپنے کھانے پینے ، گانے بجانے اورڈرنک وغیرہ میں مشغول رہے ۔ جب جہاز کے اسٹاف نے اپرڈیک کے مسافروں میں لائف جیکٹس تقسیم کرنا شروع کیں تو اپرڈیک کے لوگوں نے پوچھا کہ کس لئے پہن لیں؟ تو انہیں جواب دیا گیا کہ احتیاطً پہن لیں شائد موسم ٹھیک نہیں ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس کے باوجود اپرڈیک کے مسافروں کو کوئی فکر نہ ہوئی اور وہ حسب روایت اپنے جاری کاموں میں مصروف رہے اور چلتے پھرتے، آتے جاتے وہسکی ، چائے اور کافی کے آرڈرز دیکر کہتے رہے کہ فلاں فلاں جگہ پہنچادینا۔ بالآخر اپرڈیک کا بھی نمبر آیا اور وہ جہاز بھی ڈوب گیا اورچند سو کے سوا اس جہازمیں سوارسبھی مسافرہلاک ہوگئے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پھر پاکستان کی صورتحال ڈوبتے ہوئے ٹائٹینک جہاز جیسی ہے جس کے اپر ڈیک پر بیٹھے ہوئے لوگ پورے پاکستان کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں کہ’’سب اچھاہے ، سب ٹھیک ہے ، سب ٹھیک ہوجائے گا، اللہ تعالیٰ نے یہ وطن بنایا تھا اور اللہ تعالیٰ ہی یہ وطن بچائے گا، ہمیں وطن بچانے کی کوئی ضرورت نہیں ، اللہ ہی اس وطن کو بچائے گا‘‘ اس قسم کے نعرے دیکر ایک مرتبہ پھرلوگوں کو اسی طرح گمراہ کیاجارہا ہے جس طرح ماضی میں گمراہ کیا گیا ۔ مغربی پاکستان کا ریڈیوپاکستان یہ خبریں نشرکررہا تھا کہ سابقہ مشرقی پاکستان میں ہماری مسلح افواج ہرمحاذ پر فتح حاصل کررہی ہے ،میدانوں ، جنگلوں اور ملک کے چپے چپے میں جنگ جاری ہے اور ہم ہرجگہ فتح حاصل کررہے ہیں حالانکہ اس وقت پاکستان کے 93 ہزارفوجی ،انڈین فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈال بھی چکے تھے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کے عوام سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ خدارا!! وہ میرے آج کے اس بیان کو ایک کہانی اور قصہ سمجھ کربھول نہ جائیں ،کہیں خاکم بدہن ،پاکستان ایک یادگاراورالمناک قصے کی صورت میں دنیا کی تاریخ میں موجود ہو۔آخر میں اپنے پاکستانی بھائیوں سے یہ کہنا چاہوں گاکہ 
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہووئے گا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا


The titanic of the Muslim Ummah is sinking... by MQMOfficial

12/3/2016 5:35:50 AM