Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اسماعیلی کمیونٹی کو دہشت گردی کانشانہ بنانے کے بعد حملہ آوروں نے داعش کے پمفلٹ پھینکے وہحکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ الطاف حسین


اسماعیلی کمیونٹی کو دہشت گردی کانشانہ بنانے کے بعد حملہ آوروں نے داعش کے پمفلٹ پھینکے وہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 5/13/2015
اسماعیلی کمیونٹی کو دہشت گردی کانشانہ بنانے کے بعد حملہ آوروں نے داعش کے پمفلٹ پھینکے وہحکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ الطاف حسین
اسماعیلی کمیونٹی کے افرادکو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے جوکہ ایک پرامن کمیونٹی ہے
جائے وقوعہ پر پولیس چوکی خالی کیوں تھی ؟ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا گشت کیوں نہیں تھا؟
جب پولیس اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کراچی کے بے گناہ شہریوں کو کچلنے پر لگادیا جائے گا تو فرقہ پرست اورانتہاء پسند دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیسے کی جاسکے گی ؟
وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کوچاہیے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفے ٰ دیدیں 
گورنرراج کانفاذ مسئلے کاحل نہیں۔مسئلے کاحل یہ ہے کہ کراچی میں مقامی پولیس تعینات کی جائے
ہرمذہب، عقائداور مسلک کے ماننے والوں کو انکے عقائد کے مطابق عبادت کرنے اورزندگی گزارنے کا حق دیا جائے
جب تک آخری سانس باقی ہے مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تبلیغ کرتا رہوں گا،نجی چینلزپر اظہارخیال 
لندن۔۔۔13،مئی2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں کئی برسوں سے مسلسل کہتا رہا ہوں کہ کراچی میں طالبانائزیشن ہورہی ہے، سندھ میں القاعدہ، طالبان اورداعش کے دہشت گرد موجود ہیں لیکن مخالفین کی جانب سے اس سے انکار کیاجاتارہا ہے لیکن آج جس طرح اسماعیلی کمیونٹی کو دہشت گردی کانشانہ بنانے کے بعد حملہ آوروں نے داعش کے پمفلٹ پھینکے وہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ نجی چینلزپر اظہارخیال کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیوایم نے سانحہ صفورا چورنگی کے حوالہ سے کل بروز جمعرات کو یوم سوگ منانے کااعلان کیا ہے اور یوم سوگ کے موقع پر جاں بحق افراد کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کی جائے گی ، سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور کاروبار زندگی بند رکھا جائے گا۔ جناب الطاف حسین نے سانحہ صفورا چورنگی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہاکہ یہ انتہائی المناک اور افسوسناک واقعہ ہے جس میں اسماعیلی کمیونٹی کے افرادکو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے جوکہ پرامن کمیونٹی ہے ۔اس المناک واقعہ سے قبل بھی بوہری کمیونٹی اوردیگراقلیتوں کو طالبان اورفرقہ پرست تنظیموں کے دہشت گردوں کی جانب سے نشانہ بنایاجاچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قابل ذکربات یہ ہے کہ جائے وقوعہ پر پولیس کی چوکی بھی موجود تھی لیکن میڈیاپر نشر ہونے والی رپورٹ کے مطابق المناک سانحہ کے وقت پولیس چوکی خالی تھی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ علاقہ جہاں لینڈمافیا، ڈرگ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہیں ہیں وہاں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا گشت کیوں نہیں تھا؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ظاہرہے کہ جب پولیس اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کراچی کے بے گناہ شہریوں کو کچلنے پر لگادیا جائے گا، بے گناہ افراد کو گرفتارکرکے انکی رہائی کے عوض اربوں کھربوں روپے بطوررشوت کمائے جائیں گے ، رشوت نہ دینے والوں کوبہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر معذوریا ماورائے عدالت قتل کیاجائے گا تو بے گناہ شہریوں کی جان ومال سے کھیلنے والے فرقہ پرست اورانتہاء پسند دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیسے کی جاسکے گی ؟ انہوں نے کہاکہ کراچی میں جاری موجودہ آپریشن محض ایک سراب ہے جس کاواحد مقصد صرف ایم کیوایم کو نشانہ بنانا اور منفی پروپیگنڈہ کرکے ایم کیوایم کو دنیا بھر میں بدنام کرنا ہے ۔داعش کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ طالبان کے خالدخراسانی نے اعلان کیاتھاکہ میں طالبان چھوڑ کر اب اپنے ساتھیوں کے ساتھ داعش کے سربراہ کے ہاتھ پربیعت کرکے داعش میں شمولیت کااعلان کرتاہوں لیکن طالبان کی طرح داعش کا بھی کام اپنے مخالف عقیدے کے ماننے والوں کی گردنیں قلم کرناہے۔صورتحال سے نمٹنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس کیلئے پولیس کوغیرسیاسی کیاجائے ، تھانے فروخت نہ کئے جائیں،پولیس میں نیک ، ایماندار، اہل اور پڑھے لکھے افراد کوآئی جی، ڈی آئی جی اورایس ایچ اوز تعینات کیاجائے ۔تحریک انصاف کی جانب سے سندھ میں گورنرراج کے نفاذ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عمران خان نے فوج کے جرنیلوں کے بارے میں جوکہاہے کہ پہلے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ گورنرراج کانفاذ مسئلے کاحل نہیں۔مسئلے کاحل یہ ہے کہ کراچی میں مقامی پولیس تعینات کی جائے اورمقامی افرادمیں سے اہل اورایماندارلوگ تعینات کئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کوچاہیے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفے ٰ دیدیں اوراب اللہ اللہ کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جن عناصرنے کسی مقصد کیلئے فرقہ پرست تنظیموں کو قائم رکھا ہوا ہے وہ یہ سمجھ لیں کہ یہی دہشت گرد تنظیمیں کل فرنکسٹائن مونسٹر بن جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ جب میں نے کراچی میں طالبانائزیشن کی بات کی تو سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور ان کے وزراء کراچی میں طالبانائزیشن سے انکارکرتے رہے اور کہتے رہے کہ الطاف حسین خوف پھیلارہے ہیں ، جب میں نے داعش کی موجودگی کے حوالہ سے انکشاف کیا تو کہاگیا کہ کراچی میں ایسے ہی کسی نے داعش کی چاکنگ کردی ہوگی لیکن آج صفورا چورنگی کے المناک سانحہ کے بعد دہشت گرد قاتلوں کی جانب سے داعش کے پمفلٹ پھینکے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میری بات درست ہے اور اللہ تعالیٰ مجھ فقیر کی بات کے ثبوت فراہم کردیتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم انتہاء پسند اورفرقہ پرست تنظیموں کی آماجگاہوں کی نشاندہی کرسکتے ہیں اور ماضی میں ہم نے دہشت گردوں کی آماجگاہوں سے وزیراعلیٰ سندھ کو مطلع بھی کیا ہے لیکن افسوس کہ انہوں نے ایم کیوایم کی فراہم کردہ معلومات کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب تک میرے جسم میں آخری سانس باقی ہے میں القاعدہ ، داعش ،طالبان اورفرقہ پرست تنظیموں کے خلاف جہاد کرتارہوں گا اور مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تبلیغ کرتا رہوں گا، میرے درس وتبلیغ کے نتیجے میں کراچی میں اب شیعہ سنی فسادات کاخاتمہ ہوگیا لیکن آج بھی شیعہ ڈاکٹروں، انجینئرز اوردیگر پروفیشنلز کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے کراچی امن وامان کیس کے دوران کہاتھا کہ کراچی میں امن وامان کے مسئلہ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایم کیوایم ، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی ، سنی تحریک ، لشکرجھنگوی ،لشکر طیبہ،سپاہ صحابہ اورسپاہ محمد سب کے عسکری ونگ موجود ہیں لیکن کراچی آپریشن میں صرف ایک جماعت ایم کیوایم کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ ہرمذہب، عقائداور مسلک کے ماننے والوں کو ان کے عقائد کے مطابق عبادت کرنے اورزندگی گزارنے کا حق دیا جائے ، پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے ، یہ ہم سب کا وطن ہے اورپاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے ہم سب ایک ہیں ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائیں ۔(آمین)

9/30/2016 8:26:54 AM