Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کوتباہی سے بچانے اورصحیح راستے پر ڈالنے کیلئے انقلاب فرانس کی طرزکے انقلاب کی ضرورت ہے۔الطاف حسین


پاکستان کوتباہی سے بچانے اورصحیح راستے پر ڈالنے کیلئے انقلاب فرانس کی طرزکے انقلاب کی ضرورت ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 6/11/2013
پاکستان کوتباہی سے بچانے اورصحیح راستے پر ڈالنے کیلئے انقلاب فرانس کی طرزکے انقلاب کی ضرورت ہے۔الطاف حسین
جب کسی ملک کے حکمرانوں اورعوام کی زندگی گزارنے کے طورطریقے میں زمین آسمان کا فرق آجائے وہ ملک ٹوٹ جایاکرتے ہیں 
اگر ایم کیوایم کی حکومت آئی تو ہم ابتدائی طورپر تعلیم کے شعبہ کے بجٹ میں 5 سے 8 فیصد اضافہ کریں گے
اے پی ایم ایس او کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس طلباء تنظیم نے ترقی کرتے کرتے ایک سیاسی جماعت کو جنم دیا
اے پی ایم ایس او کے 35ویں یوم تاسیس کی شب نائن زیرو پر جمع ہونے والے کارکنوں سے فون پرخطاب
جناب الطا ف حسین کایہ خطاب حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، نوابشاہ ، سانگھڑ اورٹنڈوالہ یارمیں زونوں پر جمع ہونے والے کارکنو ں نے بھی بیک وقت سنا

کراچی ۔۔۔10 جون 2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطا ف حسین نے ایک مرتبہ پھر کہاہے کہ پاکستان کوتباہی سے بچانے اورصحیح راستے پر ڈالنے کیلئے انقلاب فرانس کی طرزکے انقلاب کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بات پیرکی شب آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کے 35ویں یوم تاسیس کے موقع پرایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو پر جمع ہونے والے کارکنوں سے فون پرخطاب کرتے ہوئے کہی۔ جناب الطا ف حسین کایہ خطاب حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، نوابشاہ ، سانگھڑ اورٹنڈوالہ یارمیں زونوں پر جمع ہونے والے کارکنو ں نے بھی بیک وقت سنا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے اے پی ایم ایس او کے ذمہ داران ، کارکنان سمیت تمام طلبا وطالبات کو اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ جب جب ایم کیوایم کی تاریخ لکھی جائے گی کسی بھی اندازمیں 11، جون کا تذکرہ لازمی آئے گا۔ 11، جون 1978ء وہ تاریخ ساز دن ہے جب پاکستان کی روایتی سرمایہ دارانہ ، وڈیرانہ ، جاگیردارانہ اور کرپٹ سیاسی کلچر میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ کے طالبعلموں نے ایک طلباء تنظیم آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں روایت یہ رہی ہے کہ پہلے سیاسی جماعتیں بنتی ہیں پھر اسکے طلباء ونگ بنتے ہیں۔ اے پی ایم ایس او کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس طلباء تنظیم نے ترقی کرتے کرتے ایک سیاسی جماعت کو جنم دیاجس نے پاکستان کی روایتی سیاست میں غریب ومتوسط طبقہ کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں جاگیرداروں کے برابر میں بٹھادیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ تاریخ کا عجب امتحان ہے کہ ان طلبا وطالبات نے مجھے صرف سنا ہے مگر اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے جوجنوری 1992ء کو جب میں لندن پہنچا تھا تو وہ اس وقت تین سے آٹھ سال کے تھے یا پیدا ہی نہیں ہوئے تھے ۔ ایسے نوجوان بہت زیادہ مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے مجھے جلسوں میں سنا ہے اور میری فلاسفی کو پڑھ کر اسکے فروغ کی جدوجہد کررہے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے طلباوطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا اصل زیور تعلیم اور تربیت ہے ، آپ کی تعلیم 21 ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے تاکہ ہم ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چل سکیں۔انہوں نے کہاکہ تعلیم کا شعبہ قوم کی ترقی وخوشحالی کیلئے لازمی ہوتا ہے لیکن یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبہ میں انتہائی کم بجٹ مختص کیاجاتا ہے ۔ اگر ایم کیوایم کی حکومت آئی تو ہم ابتدائی طورپر تعلیم کے شعبہ کے بجٹ میں 5 سے 8 فیصد اضافہ کریں گے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہمارانظام تعلیم فرسودہ ہے،اسے 21ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوناچاہیے۔اس تعلیمی نظام کوبہتربنانے کیلئے اس شعبہ پرمزیدفنڈزخرچ کرنے چاہئیں ۔پاکستان ایک غریب ملک ہے اسیلئے ضروری ہے کہ ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنرہاؤسز،وزیراعلیٰ ہاؤسز اوردیگر اقتدارکے ایوانوں میں آئے دن ہونے والے غیرضروری ظہرانوں، عصرانوں اورعشائیوں پر پابندی لگادی جائے، جتنے بھی حکمراں ،وزراء اوربیوروکریٹس ہوں وہ اپنی زندگی میں میانہ روی اورسادگی اپنائیں، فضول خرچیوں سے پرہیزکریں اوران سے جو رقم بچے وہ تعلیم کے فنڈمیں ڈالی جائے،اس سے ہم اسکولوں اوردیگرتعلیمی اداروں کامعیاربہترکرسکتے ہیں اورخستہ اوربوسیدہ اسکولوں کی حالت بہترکرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگرہم انڈیاکے ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس کاموازنہ پاکستان کے ایوان صدراوروزیراعظم ہاؤس سے کریں توہمیں شرم آئے گی،انڈیاکے ایوان صدراوروزیراعظم ہاؤس میں بہت سادگی ہے جبکہ پاکستان کے ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں نہایت لگژری اسٹائل ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس ملک کے بچے بچے کابال بال قرض میں جکڑاہواہو،جہاں بیروزگاری روز بڑھتی جارہی ہو، فاقہ کشی عام ہو، لوگ نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہوں، چوری چکاری اور جرائم میں روزبروزاضافہ ہوتا جارہاہواورمعاشی ناہمواری اس طرح ہوکہ ایک طرف توپیسہ بے تحاشہ ہو اور دوسری طرف لوگوں کے پاس ایک وقت کے کھانے کے پیسے نہ ہوں وہاں کے حکمرانوں کی عیاشیاں دیکھ کرسرشرم سے جھک جاتے ہیں ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جب کسی ملک کے حکمرانوں اورعوام کی زندگی گزارنے کے طورطریقے میں اتنافرق آجائے تووہ ملک ٹوٹ جایاکرتے ہیں، تباہ ہوجایاکرتے ہیں یاپھر کچھ سرپھرے اپنی جانوں پر کھیل کروہاں انقلاب لاکراس ملک کوتباہ ہونے سے بچالیتے ہیں اورجواس ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہوتے ہیں انہیں کیفرکردار تک پہنچاتے ہیں۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ پاکستان کوتباہی سے بچانے اوراسے صحیح راستے پر ڈالنے کیلئے انقلاب فرانس کی طرزکے انقلاب کی ضرورت ہے۔
(جاری ہے)
جناب الطاف حسین نے طلبا وطالبات سے کہاکہ آپ اے پی ایم ایس او کے 35 ویں یوم تاسیس کے موقع پر مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ اپنے والدین ، اساتذہ ، بزرگوں ، خواتین اور اہل محلہ کا احترام کریں گے اور دل لگاکر تعلیم حاصل کریں گے ،اگر آپ نے پورے سال پڑھائی نہ کی تو مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ نقل کرکے پاس ہونے کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ نقل کے مقابلہ میں فیل ہونے کو ترجیح دیں گے ۔ انہوں نے طلبا وطالبات سے کہاکہ جو لوگ نقل کرکے پاس ہوتے ہیں وہ کسی اور کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ جب نقل کی بیماری ملک کے چپہ چپہ میں پھیل جاتی ہے تو طلباء کے ہاتھ میں ڈگریاں تو ہوتی ہیں لیکن ان کے پاس علمی قابلیت نہیں ہوتی اور ان کی حیثیت اس کرنسی کی طرح ہوتی ہے جس کی بوریاں بھر کر بھی بازار میں جائیں تب بھی ایک ڈبل روٹی بھی نہ خرید پائیں۔ 
جناب الطاف حسین نے طلبا وطالبات کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام محنت کشوں ، ہاریوں ، کسانوں ، مزارعین اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو اے پی ایم ایس او کے 35 ویں یوم تاسیس کی زبردست مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان سے کہاکہ میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ ملک کی بے لوث خدمت کریں ، انہوں نے کہاکہ کسی صلہ کی تمنا کیے بغیر کسی کی خدمت کرنا ہی اصل عبادت ہے ۔ میں ایک ایک پاکستانی سے کہتا ہوں کہ آپ یہ نہ دیکھیں کہ کون آپ کی مدد کررہا ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ آپ کس کی مدد کرسکتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح کسی صلہ کی خواہش میں کی جانے والی خدمت ’’بے روح‘‘ ہوتی ہے اسی طرح وہ عبادت بھی بے روح ہوتی ہے جس کا مقصد اللہ کی رضا وخوشنودی نہیں بلکہ جنت اور ثواب کا حصول ہو۔ کسی غرض اور صلہ کی طلب میں کی جانے والی عبادت نہ صرف بے روح ہوتی ہے بلکہ اللہ بھی ایسی عبادت کو پسند نہیں کرتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم اتنے خودغرض ہوگئے ہیں کہ جب اللہ کے سامنے سجدہ شکرادا کرتے ہیں تو اس کی خوشنودی کیلئے نہیں کرتے ، اس کاشکرادا کرنے کیلئے نہیں کرتے کہ تونے ہمیں دو ہاتھ ،پاؤں دیئے ہمیں کسی کا محتاج نہیں رکھا بلکہ ہم صلہ اور ثواب کیلئے اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے اس موقع پر حضرت رابعہ بصری کی وہ حکایت بھی بیان کی جس کے مطابق ان کے شاگردوں نے انہیں بصرہ کے ایک بازار میں دوڑتے دیکھا ، اس حالت میں کہ ان کے ایک ہاتھ میں آگ اوردوسرے ہاتھ میں پانی تھا ۔ شاگردوں نے انہیں روک کر ادب کے ساتھ سوال کیا کہ حضرت آپ یہ آگ اور پانی لیکر کہاں دوڑے جارہی ہیں جس پر انہوں نے کہاکہ میں اس آگ سے جنت میں آگ لگانے اور پانی سے جہنم کی آگ بجھانے جارہی ہوں تاکہ لوگ جنت کی لالچ اور دوزخ کے خوف کے بغیر سچے دل سے اللہ کی عبادت کریں۔ اس حکایت سے سبق ملتاہے کہ عبادت کسی غرض اور صلہ کے بغیراورصرف اللہ کی محبت میں کی جانی چاہئے ۔ جناب الطاف حسین نے طلباوطالبات سے کہاکہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا کرم کرے، آپ کی جائز خواہشات پوری کرے، آپ کو معاشرے کا اچھا فرد بنائے ، آپ کو تمام معاشرتی اور سماجی برائیوں سے دور رکھے اور آپ سب کو حق پرستی کے اس قافلے کے ساتھ چلتا رہنے کی ہمت و توفیق دے۔(آمین)اس موقع پر تمام ذمہ داران اور کارکنان نے جناب الطاف حسین سے اپنے عہدوفا کی تجدید بھی کی

12/5/2016 2:43:42 PM