Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حقیقت پسندی اور عملیت پسندی کے تقاضے (بانی و قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کا کلیدی لیکچر)۔


حقیقت پسندی اور عملیت پسندی کے تقاضے (بانی و قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کا کلیدی لیکچر)۔
 Posted on: 6/3/2013 1
حقیقت پسندی اور عملیت پسندی کے تقاضے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بانی و قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کا کلیدی لیکچر
حقیقت پسندی کی تعریف کو سمجھنے میں اکثر اوقات انسان کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر ہم سورج کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اس حقیقت کو پہچانیں کہ سورج روشنی فراہم کرتاہے تو یہ حقانیت(حقیقت پسندی)کہلاتا ہے۔ جب سورج کی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو یہی عمل حقیقت پسندی کہلاتا ہے لیکن اب ا س کی عملی تاویل کیا ہوگی سورج ایک حقیقت ہے اب اس کا عملی طور پر کیا کیا جائے؟ اس سوال کا جواب کیلئے حقیقت پسندی کی اصل روح کو ہم نہیں سمجھیں گے توہم حقیقت پسندی کے دائرے میں آسکیں گے بصورت دیگر ہم اس دائرے میں نہیں اسکیں گے کیونکہ وہ حقیقت پسندی تو ہوسکتی ہے لیکن اگر ہم حقیقت پسندی کی روح کو نہیں سمجھ رہے ہیں تو پھر ایسی حقیقت پسندی کو تسلیم کرلینے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ مثال کے طورپر سیلاب کے وقت دریاؤں میں پانی زیادہ ہوجاتاہے،سمندر میں طوفان کے سبب لہریں بلند ہونے لگتی ہیں اور پانی آگے کی طرف بڑھنے لگتاہے اور علاقوں کو نقصان پہنچاتاہے اسے حرف عام میں سیلاب کہتے ہیں ۔ٖصرف اس حقیقت کو تسلیم کرلیا جائے کہ سیلاب ہوتے ہیں تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگاجب تک اس کے نتیجے میں ہونے والے عمل کو ہم نہیں سمجھیں گے اور عملیت پسندی کی طرف گامزن ہونے کے لئے ہم کوطوفان کے مقاصد، اسباب اور روح کو اس سے ہونے والی تباہی کو سامنے رکھنا ہوگاکہ طوفان کا آنا ایک حقیقت ہے اور سیلاب آتاہے اس سچائی کو صرف تسلیم کرلینے کا فائدہ نہیں؟
فلسفہ حقیقت پسندی یہ ہے کہ سیلاب جب آتاہے تو زمین پر اُگنے والی فصلوں ، گھروں ، انسانوں کا نقصان ہوتا ہے۔ اب ہم سیلاب کی مزید گہرائی میں جائیں گے کہ سیلاب ایک حقیقت ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے مال کا نقصان ہوتا ہے یہ ہوئی مکمل حقیقت پسندی ہم اس روح اور مقصد کے ساتھ سمجھ رہے ہیں اب اس کی عملیت پسندی کیا ہوگی ہم اس کی مقصد اور روح کو جان چکے ہیں کہ جب سیلابآتا ہے تو نقصان پہنچاتاہے ،جانوں کو بھی ، مال کو بھی تو اب عملیت پسندی کا تقاضہ یہ ہے کہ سمندر کے کناروں پر ساحل سمندر کے پاس یا دریاؤ ں کے کناروں پر ہم پشتے بنائیں اونچی اونچی دیواریں بنائیں تاکہ طوفان آنے کی صورت میں پانی آس پاس کے علاقوں میں داخل نہ ہو۔اب آئیے ایک اور مثال ،مالٹااورآم یہ جو نام دنیا نے ان کے تجویز کردیے ہیں تو فوراً ہمارے ذہن میں اس پھل کا نام لینے سے اس پھل کی شکل ہمارے سامنے آجاتی اور ہمارے سامنے آم رکھے ہوں اور ہم یہ کہیں آم رکھے ہیں اور ہم تسلیم کرلیں کے ہاں یہ آم رکھے ہیں ،موسمیاں ،نارنگیاں رکھی ہوئی ہیں تو صرف اس کو تسلیم کرلینے سے کیا ہوگا جب تک ہم آم کے وجود کو اس کے ذائقے اور شکل کے ساتھ سمجھیں گے اور اس کے کیا فائدے ہیں کیا نقصانات ہیں کہ کیا کیا چیزیں اس میں شامل ہوتی ہیں آیا اس میں نمک کی مقدار زیادہ ہے یا اس میں شکر کی مقدار زیادہ ہے ۔ ہم صرف آم کے وجود کو تسلیم کریں کہ صرف یہ آم ہے لہٰذ ا کھالیا جائے بالکل صحیح ہے یہ تسلیم تو آپ نے کرلیا لیکن آپ اس کے ساتھ اس کی حقیقت کو تسلیم نہیں کررہے ہیں تو یہ حقیقت پسندی کے دائرے میں نہیں آئیں گا کہ بس آم آم ہوتا ہے،آپ کو دیکھنا پڑے گا کہ کون سے اجزاء ہوتے ہیں کون کون سے وٹامن ہوتے ہیں ،کون کون سے Mineralsہوتے ہیں کون کون سے نمکیات ہوتے ہیں اورشکر کس مقدار میں ہوتی ہے تو یہ آپ کا تجزیا کرنے سے یہ معلوم ہوگا کہ آم میں شکر کے اجزاء بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں ۔اگر آپ اس چیز سے واقف نہیں ہوں گے تو آم کے وجود کو تسلیم کرلینے سے کوئی فائدہ نہیں۔ کسی شے کی ہیت اور اُسکے فوائد اور نقصانات کو سمجھے بغیر کے وہ فائدے مند ہے یا نقصاندہ بیکار ہے۔کسی انسان کوذیابطیس کا مرض ہے اور آپ کہیں کہ آم صحت کے لئے بہت اچھا ہے اور آپ کافی کمزور ہوگئے ہیں لہٰذا آپ آم کثرت سے کھائیں ۔ تو آپ بتائیے کہ شوگر کے مریض کا کیا حال ہوگا۔ اگر آم میں ترش اجزاء زیادہ ہیں یعنی ترش ہے کھٹاہے اور عموماً کھٹی ترش چیز گلے کے لئے مناسب نہیں ہوتی۔ عام لوگوں میں یا کچھ لوگوں میں گلے کی خرابی کا سبب بن جاتی ہے ۔ تو اگر آم میں ترشی ہے کھٹاس زیادہ ہے تو کیا آپ کھاتے رہیں گے ؟ اگر آپ کو ترش چیزیں کھانے سے گلے کی خرابی پیدا ہو جاتی ہے ،گلے کی تکلیف پیدا ہوجاتی تو کیا آپ ترش چیز کھاتے رہیں گے؟اسی طریقے سے آپ آئیے جرائم کی طرف اگر صرف کرائم کو صرف تسلیم کرلیاجائے اور اس پر ایکشن نہ لیا جائے تو کیا جرائم کبھی ختم ہوسکتے ہیں؟عملیت پسندی کے تحت جرائم کرنے والے کو آپ پکڑ پکڑ کر گولی سے اڑارہے ہیں تواس عمل سے کیا جرائم ختم ہو جائیں گے؟ یا جیلوں میں بھرتے رہیں کیا اس سے جرائم ختم ہو جائیں گے؟۔ مثال کے طور پر کسی ملک کے اندر دیوالیہ بہت زیادہ ہے افراط زر ہے کرنسی کی قیمت نہیں ہے ۔بین الا قوامی مارکیٹ میں اس کی کوئی نہیں ہے ۔ ملک غریب ہے اور ریاست اپنے لوگوں کی اکثریت کو خوراک اور روزگار فراہم کرنے سے قاصر ہے تو اس ملک کے بھوکے لوگ کیا کریں گے؟اگر کسی ملک میں تعلیم یافتہ لوگوں کی شرح زیادہ ہو اور وہ ڈگریاں ہاتھ میں رکھتے ہوں اور انہیں ملازمتیں دستیاب نہ ہوں اور اگر ایک گھر میں تین افراد ڈگری ہولڈر ہیں لیکن نوکری ،ملازمت ،ذریعہ معاش حاصل نہیں تو کیا وہ اپنی ڈگریاں کھا کر اپنی بھوک مٹائیں گے؟ جینے کے لئے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک جانب بے روزگارنوجوانوں کی ایک طویل فوج جس کا کہیں سے آمدنی کا کوئی ذریعہ یا معاش کا کوئی راستہ نہیں تو وہ کیا کریں گے؟تو یقیناًجرائم بڑھ جائیں گے۔جرائمز کوصرف اس انداز میں یہ سمجھنا کہ جرائم صرف جرائم ہی ہوتے ہیں اس کے اسباب تلاش نہیں کریں گے تو آپ ایسی صورت میں مسائل کی جڑ کو جب تک معلوم نہیں کریں گے آپ صحیح علاج کبھی نہیں کرسکتے۔ ریڑھ کی ہڈی جن پلوں پر قائم ہوتی ہے انہیں مہرے کہتے ہیں ۔اب کسی کی کمر میں دردہے آپ درد کی گولیاں استعمال کرتے رہیں ایک کے بعد دوسری ،دوسری کے بعد تیسری ،چوتھی،پانچویں ،چھٹی۔۔۔زائد مقداراور پھر PethadineاورPethdineکے بعد Norcoticsلگاتے رہیں تو کیا اس سے آپ کے مرض میں کچھ افاقہ ہوگاصرف وقتی طور پر درد کا احساس ختم ہوجائے گا لیکن درد اپنی جگہ رہے گا ۔اب آپ اس مرض کی وجوہات اسباب کو جاننے کی کوشش کریں اگر صحیح طبیب ہوگا صحیح ڈاکٹرہوگاتو وہ ایکسرے کرے گا ،ایم آر آئی کرے گا اور اس نتیجے پر پہنچے گا کہ ریڑھ کی ہڈی کے مہرے کھسک گئے ہیں اب اس کی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن کرکے ’’Disc‘‘ کو بٹھایا جائے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ورزش کرائی جائیگی Discکو بہال کرنے کیلئے۔ آہستہ آہستہ قریب سے قریب یعنی صحیح جگہ پر آنے لگے تو جب تک وہ صحیح جگہ پر رہیں گی درد نہیں ہوگا جب جگہ سے ہٹ ہوجائیں گے تو پھر درد شروع ہوجائے گا تو اچھا معالج بتائے گا کہ آپ کے پیر ووں کے عدم توازن ہونے کی فلا ں فلاں وجوہات ہیں اس میں بہت سی چیزوں کا عمل دخل ہے کہ بھئی آپ کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے کمزور ہوگئے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مہروں کو مناسب سطح پر نہیں رکھ سکتے آپ جب وزن اٹھاتے ہیں یا کہیں زور لگاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کی ریڑھ کی ہڈی پر زور پڑتا ہے اور جو حصہ یا جس حصے کے جوڑکمزور ہوتے ہیں وہاں پرDisc بوجھ برداشت نہیں کرسکتی اورجوڑوں کو اپنے مقام پر نہیں رکھ سکتے اور وہ مہرہ کھسک جاتا ہے۔ تویہ بنیادی سبب معلوم کر لینے کا عمل حقیقت پسندی کہلائے گایعنی حقیقت پسندی اور حقیقت پسندی کا تقاضہ یہ ہے کہ معلوم کریں کہ مہرے جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں ،مہرے کھسک گئے ہیں یا کھسک جاتے ہیں تو پہلا کام عملیت پسندی کا درس یہ ہوگا کہ آپ وزن دار چیز نہ اٹھائیں نہ ایسا کوئی کام کریں جس سے آپ کی کمر پر بوجھ پڑے۔ پھر یہ کہ آپ فزیو تھیراپی کریں گے معالج جو ورزش آپ کو بتائے یا آپریشن کریں آپ ویسے آپریشن نہیں کرانا چاہئے میرا مشورہ نہیں ہے۔ میں ذاتی مشورہ دے سکتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ریڑھ کی ہڈی کا معاملہ ایسا ہے کہ یہ سمجھ لیں کہ جیسے کہ مواصلاتی چیزوں کے سگنل موصول کرنے والے بڑے بڑےMonitorلگے ہوتے ہیں یہ سمجھ لیں کہ پورے جسم کے سسٹم کے پیغامات جو ہوتے ہیں اسے دماغ تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں نسیں بہت ہی باریک باریک ہوتی ہیں وہ شریانوں کی طرح نہیں ہوتی کہ آپ نے کاٹا اور دوسرا لگادیا اس کو جوڑنا لوہے کے چنے چنے چبانے کے مترادف ہوتا ہے اگر آپریشن کے دوران ایک آدھ نس ذ را سی چوک سے کٹ کٹاگئی تو انسان اپاہچ ہو جائے گا۔عملیت پسندی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم بوجھ نہ اٹھائیں بلکہ جسمان ورزش کریں اور اگر ہماراوزن زیادہ ہے تو اسے کم کریں اور ایسی اشیاء یا وٹامن کھائیں کہ جوجوڑوں کو مضبوط کریں جوٹیشوز کو بھی مضبوط کریں اور زیادہ ورزش کریں تاکہ قوت ملے یہ ہوعملیت پسندی۔دنیا میں ہزاروں سسٹم موجود ہیں جن میں ایک فیوڈل سسٹم جاگیر دارانہ نظام بھی ہے جو جب انسان غاروں سے نکل کر دریاؤ ں ،سمندروں کے قریب آباد ہونے لگا اور اپنی چار دیواری بناکر اپنی ایک جاگیر کے حوالے سے جانا پہچانا جانے لگا اور قبیلوں کا عمل وجود میں آنے لگا پھر ان کے علاقے کی حدود آہستہ آہستہ بڑھنے لگیں اور اس کے پیچھے جنگیں بھی ہوئیں اس طرح جاگیراورجاگیریں وجود میں آنے لگیں،راج واڑے بننے لگے وغیرہ وغیرہ بہت فر سودہ نظام میں جاگیر دار اس علاقے کا بادشاہ تصور کیا جاتا تھا اور وہاں کے عوام اس کے غلام تصور کئے جاتے تھے ۔جب انسان نے آہستہ آہستہ علم حاصل کرنا شروع کیا ،تعلیم حاصل کرنا شروع کی تو اس کے ذہن نے انسان کو یہ بتانا شروع کیا کہ تم بھی اس جاگیردار کی طرح انسان ہو تمھیں بھی عزت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہے ۔ اس طرح آہستہ آہستہ جاگیر دارانہ نظام کے خلاف دنیا بھر میں انقلاب کے ذریعے جاگیر دارانہ نظام ختم ہوا۔بالآخر جنہیں اب جاگیر دارکہا جاتا ہے وہ پوری دنیا میں چاہے امریکہ میں ہو برطانیہ میں ہو چاہے مغربی ممالک ہو ں تمام ترقی یافتہ ممالک کے فیوڈل بھی جاگیر دار اپنے کسانوں کے ساتھ غلاموں جیسابرتاوٗ نہیں کرسکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک میں فیوڈل ازم ختم ہوگیا ہے کوئی جاگیردار فصل اگانے کیلئے جاگیر خرید کر اس پر فصل اگا سکتاہے ،اس کے لئے کاشتکار رکھ سکتا ہے،کسان رکھ سکتاہے لیکن ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک نہیں کرسکتا۔ بلکہ جو ریاست کے قانون اور ضابطے ہیں شہریوں کے لئے ختم کردیے گئے ہیں کہ ۔۔۔اب اس کے بعد مہذب ممالک میں یہ بات آئی کہ اگر نو گھنٹے آپ سے کا م کرایا جائے ،دس گھنٹے کرایا جائے یا بارہ گھنٹے کرایا جائے تو آپ سے زبردستی نہیں کراسکتے۔ وہ آپ سے کہیں گے کہ بھائی آج آپ رک سکتے ہیں یا نہیں ۔آج کام زیادہ ہے تو آپ جتنے گھنٹے زیادہ کام کریں گے اس آپ کو پھر ڈبل معاوضہ ملے گا یعنی اضافی وقت کی شکل میں معاوضہ ملے گا ۔یہ کسی کارخانے میں ہو یا کسی دوکان میں ہو ،کسی شاپنگ مال میں ہو۔ اسی طرح اگر کوئی فیوڈل لارڈ اپنی زمین پر کسانوں سے اضافی گھنٹے کام لے گا تو وہ انہیں ریاست کے قوانین کے مطابق اضافی پیسے دے گا۔ ہاری،کسان اٹھارہ،اٹھارہ،سولہ،سولہ،گھنٹے کام کرتے ہیں مگرریاست انہیں تحفظ فراہم نہیں کرتی۔اس نظام کو ہی فیوڈل نظام کہتے ہیں۔اگر آپ اس حقیقت کو، کہ پاکستان میں بڑا فرسو دہ ،بے ہودہ ،جاگیر دارانہ نظام ہے اور یہی گیت گا تے گاتے رہیں تو اس حقیقت پسندی کو اس طرح سے تسلیم کرنے سے کیا فائدہ ؟ حقیقت پسندی یہ ہے کہ یہ ظلم و جبر ہے ۔ سسٹم اپنی جگہ ہے لیکن یہ انسانوں پر ظلم ہے انسانوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ ہے جس ذریعے سے انہیں نشانا بنایا جاتا ہے ،ناانصافی ہے انکے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے تو آپ جب اس روح اور مقصد کو یکھیں گے تو پھر عملیت پسندی کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں ۔
پاکستان میں واحد متحدہ قومی موومنٹ ہے جو جاگیر دارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے جو جاگیر دارانہ نظام کو ختم تو نہیں کراسکی لیکن ایم کیوایم نے الحمداللہ عوام میں اتنی شعور اجاگر کر چکی ہے کہ اب لفظ جاگیر دار گالی بن چکا ہے اور اب جاگیر دار اپنے آپ کو جاگیر دارکہتے ہوئے شرماتا ہے ۔

12/3/2016 7:45:27 AM