Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوا یم گورنر سند ھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے ، استعفیٰ دیکر کارکن کی حیثیت سے کام کریں، ندیم نصرت


ایم کیوا یم گورنر سند ھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے ، استعفیٰ دیکر کارکن کی حیثیت سے کام کریں، ندیم نصرت
 Posted on: 5/11/2015
ایم کیوا یم گورنر سند ھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے ، استعفیٰ دیکر کارکن کی حیثیت سے کام کریں، ندیم نصرت 
ہمارے شہید ولاپتہ کارکنان کے اہل خانہ ، کارکنان اور ہمدردہم سے گورنر سندھ کے رویے کے متعلق سوالات کرتے ہیں
ایم کیوا یم پر عسکری ونگ کے الزامات لگائے جاتے ہیں کسی کو بدین میں ذوالفقار مرزاکی ذاتی فوج نظر نہیں آئی 
کروڑوں عوام کی نمائندہ جماعت ایم کیوا یم کو ختم کرنے اور ایک پوری قوم کو دیوار سے لگانے کا عمل بند کردیا جائے
بستیوں پر حملے اورکراچی کے نوجوانوں کے گلے کاٹے گئے لیکن گورنر سندھ نے قاتلوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا، ڈاکٹر محمد فارو ق ستار 
ایم کیو ایم نے ہمیشہ اقتدار کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے عوام کے مسائل حل نہیں ہوئے تو ایم کیو ایم نے حکومتوں کو ٹھکرایاہے 
نائن زیرو پر اور جناب الطاف حسین کی ہمشیرہ کے گھر چھاپہ اور وقاص علی کو شہید کیا گیا،کارکنان کا ماورائے عدالت قتل،لاپتہ اور کارکنان و ہمدردوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی لیکن گورنر نے کو ئی ایکشن نہیں لیا
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کی خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس 
کراچی ؍ لندن۔۔۔۔11مئی2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینرڈاکٹر ندیم نصرت نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیکر تحریک میں واپس آکر کارکن کی حیثیت سے کام کریں ورنہ ایم کیوایم کا ان سے اب کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ندیم نصرت نے کہا کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کے پاس ایم کیوایم کا مینڈیٹ تھااور ایم کیوا یم کی وجہ سے انہیں گورنر شپ ملی تھی لیکن شہری عوام کیساتھ ہونیوالے مظالم پر ہماری نظریں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی جانب لگی رہیں اور ہمارے شہید کارکنان کے اہل خانہ ، کارکنان اور ہمدردہم سے گورنر سندھ کے رویے کے متعلق سوالات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ 11مارچ کو نائن زیرو پر چھاپے کے بعد بھی نائن زیرونہیں آئے ۔انہوں نے کہا کہ ایک جانب ایم کیوا یم کے کارکنان پر عسکری ونگ، مسلح جتھوں کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور میڈیا ٹرائل کیے جاتے ہیں لیکن کسی کو بدین میں ذوالفقار مرزاکی ذاتی فوج نظر نہیں آئی کیا قانون صرف ایم کیوا یم کے کارکنان اور عوام کیلئے ہے؟؟،انہوں نے کہا کہ کروڑوں عوام کی نمائندہ جماعت ایم کیوا یم کو ختم کرنے اور ایک پوری قوم کو دیوار سے لگانے کا عمل بند کردیا جائے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جناب الطاف حسین نے فوج یا ریاست کے متعلق کوئی غلط بات نہیں کی لیکن انکے خطاب پر پابندی لگادی گئی لیکن عمران خان نے فوجیوں کو بذدل کہا تو انکے خلاف کوئی پالیسی اختیار نہیں کی گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بذریعہ ٹیلی فون لندن سے خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیو ایم پاکستان اور کراچی رابطہ کمیٹی کی ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پررابطہ کمیٹی پاکستان کے انچارج کہف الوریٰ ، اراکین رابطہ کمیٹی سید حیدر عباس رضوی، قمر منصور،کنور نوید جمیل، عارف خان ایڈوکیٹ،عظیم فاروقی،آنسہ ممتازانور،ایم کیو ایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے انچارج وسیم اختراورمختلف شعبہ جات کے مرکزی ذمہ داران سمیت ایم کیو ایم کی لندن رابطہ کمیٹی کے اراکین بھی بذریعہ ٹیلی فونک لائن پریس کانفرنس میں شریک تھے۔ ڈاکٹر محمد فاروق ستارنے کہاہے کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ایم کیو ایم کے خلاف مظالم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں لہٰذا ایم کیوا یم واضح اعلان کرتی ہے کہ عشرت العباد خان ایم کیوایم کا حصہ نہیں ہیں اور ایم کیوا یم ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے اگر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کو قوم اور تحریک کا در د اورجناب الطاف حسین کی محبت ہے تو وہ اپنے منصب سے استعفیٰ دیکر تحریک کی صف میں واپس آجائیں۔انہوں نے کہا کہ سال 2002ء کے جمہوری انتخابات کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ ق کی حکومت سے ایم کیو ایم نے اتحاد کرکے حکومت قائم کی۔ ایم کیوا یم ڈاکٹر عشرت العباد خان کو گورنر نامزد کیا جنہوں نے آغاز میں کچھ عرصہ سندھ کے عوام کی بہتری کیلئے کام کیا لیکن کچھ عرصے بعد انکے طرز عمل میں خاصی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ سال 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران ایم کیو ایم کے کارکنان کے قتل عام اور مخصوص طبقے کی بستیوں پر حملے کئے گئے ، کراچی کے نوجوانوں کو شناخت کے بعد اغواء کرکے انکے گلے کاٹے گئے جبکہ کچھ نوجوانوں کو زندہ بازیاب بھی کروایا گیا لیکن ان نوجوانوں کے قاتلوں کے خلاف قانون کا ہاتھ حرکت میں لایا جاتااور گورنر سندھ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے لیکن ڈاکٹر عشرت العباد خان اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ اقتدار کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے اور اگر اقتدار سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے تو ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2013ء میں کراچی میں ٹارگٹ آپریشن کا آغاز کیا گیا تاکہ شہر سے جرائم اور دہشت گردی کا خاتمہ کرکے مستقل و مسلسل امن قائم کیا جاسکے، ایم کیو ایم آج بھی چاہتی ہے کہ اس آپریشن کے ذریعے کراچی میں مستقل امن قائم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ نامزد ہونے کے عہدے کی ضرورت کیلےء عشرت العباد نے ایم کیو ایم کے کارکن کی حیثیت سے استعفیٰ دیا لیکن انہوں نے ایم کیو ایم سے اپنا تعلق نبھایا لیکن عوام کے ساتھ ہونیوالے اس سلوک پر تمام معاملات گورنر سندھ کے علم میں لایا جاتا رہا، ایم کیوا یم کے کارکنا ن پر دوران حراست بہیمانہ تشدد اور انکے ماورائے عدالت قتل اور کراچی آپریشن کے نام پر مہاجر بستیوں کے محاصروں سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مہاجر بستیوں میں ہونیوالے کسی محاصرے میں وہاں ایم کیو ایم کے کارکنان یا ہمدردوں نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی ، جناب الطاف حسین نے بھی پیشکش کی کہ اگر ہماری جماعت میں جرائم پیشہ افراد ہیں تو ہمیں بتایا جائے ہم ان کو قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خود حوالے کریں گے کیونکہ مجرموں کے ساتھ جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں ہے اور یہ سب ہمارا آپریشن کی کامیابی کیلئے غیر مشروط تعاون تھا لیکن ہمیں ہی اس آپریشن میں سب سے زیادہ مشکوک بنا کر پیش کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے مخالفین یا کسی اہم شعبہ سے وابستہ افراد کے قتل پر بیگناہ کارکنان کو گرفتار کرکے ملوث کیا جاتا رہا اور انکا میڈیا ٹرائل اور جے آئی ٹی بنائی گئی جو کارکنان پہلے کبھی کسی جرم میں نامزد نہیں رہے تھے لیکن ہمارے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل سمیت ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونیولاے ہمارے کارکنان کے قاتل دندناتے پھر رہے ہیں انہیں نہ گرفتار کیا جاتاہے ، نہ انکی جے آئی ٹی ہوتی ہے اور نہ انکا میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے جس سے ایسا تاثر پیدا ہوا ہے کہ ٹارگٹ آپریشن دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ ایم کیو ایم کے سیاسی کردار کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا جارہاہے اور اس تمام تر صورتحال پر انسانی حقوق کی تنظیمیں ، وکلاء و دیگر شعبوں کو سوچنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے آغاز میں وزیر اعظم نے مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن نہیں بنائی گئی اور ہم نے ماورائے عدالت قتل ہونیوالے اپنے ہر کارکن کے ماورائے عدالت قتل کے بعد وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ سے گورنر ہاؤس میں مانیٹرنگ کمیٹی کا مطالبہ کرتے رہے لیکن افسوسناک بات ہے کہ ارباب اقتدار کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اس سلسلے میں بھی اپنی ذمہ دارویوں کو پوراکرنے میں ناکام رہے ۔انہوں نے کہا کہ 11مارچ2015ء کو ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین ، ایم کیوا یم کے خورشید بیگم سیکریٹریٹ اور جناب الطاف حسین کی بیوہ بزرگ بہن کے گھر چھاپہ مارا گیا ایم کیو ایم کے جواں سال کارکن وقاص علی شاہ کو شہید کیا گیا اور درجنوں کارکنان ،ذمہ داران اور ہمدوردوں کو گرفتار کرکے ظلم و ستم کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا لیکن اس پر بھی گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان خاموش رہے۔ انہو ں نے کراچی کے عوام کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوے کہا کہ گورنر سندھ نے عوام کے ساتھ پانی ، بجلی گیس کی قلت کا بھی کو ئی نوٹس نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن سے سب سے زیادہ فائدہ ایم کیوا یم کے ہمدردوں کو ہوگا تاہم یہ کیسے سوچا جاسکتاہے کہ جرائم کے پیچھے ایم کیوایم کی سرپرستی ہوسکتی ہے ایم کیو ایم جرم کے خاتمے کیلئے حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بے حس ہو چکی ہے اور اگر اس تمام تر صورتحال پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان بھی خاموش رہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کی تقریر کو سیاق و سباق سے ہٹا کر جناب الطاف حسین کی تقریر کو نشر کرنے کی پابندی لگادی گئی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے افواج کے جرنیلوں کیلئے بے ہودہ زبان اور انہیں بزدل کہا گیا لیکن کسی کے خطاب پر پابند ی نہیں لگائی گئی اور ایم کیوا یم پر ملک دشمنی کے الزامات لگائے گئے لیکن گورنر سندھ خاموش رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے جناب الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی ، ایم کیوا یم پر ملک دشمنی اور میڈیا ٹرائل پر ہم وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا انہیں ذوالفقار مرزا کے فارم ہاؤس بدین میں جدید ہتھیار نظر نہیں آئے اور وہاں کوئی چھاپہ نہیں مارا گیا جو دوغلی پالیسی ہے۔انہوں نے کہا کہ اج ایم کیوا یم نے اپنے سیاسی حق کو استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے اور آئیندہ بھی آئینی و سیاسی احتجاج کرتے رہیں گے ملک کے معروضی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ارباب اختیار دوغلی پالیسی کا خاتمہ کریں ۔اس موقع پر ایم کیوا یم رابطہ کمیٹی کے رکن کنور نوید جمیل نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان اور ہمدودوں کو سرکاری دفاتر سے گرفتار کرکے انہیں خوف زدہ کیا جارہاہے تاکہ وہ خوفزدہ ہوکر دفتر نہ جائیں اور انہیں نوکریوں سے نکال دیا جائے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر گورنر سندھ تحریک ، قوم اور جناب الطاف حسین سے مخلص ہیں تو وہ اپنے گورنر شپ کے عہدے سے استعفیٰ دیکر تحریک میں واپس آجائیں،اگر گورنر سندھ اس تمام مظالم پر بے اختیار تھے تو انہیں احتجاجا استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا،این اے 246 کا الیکشن قانون نافذ کرنیوالوں کینگرانی میں کیا گیا لیکن اس میں عوام نے کھل کر ایم کیوا یم کی تائید کی پھر بھی اگلے ہی روز ایم کیوا یم پر ملک دشمنی کا الزام لگادیا گیامگر گورنر سندھ اس پر خاموش رہے،قائد تحریک جناب الطاف حسین محب وطن اور مظلوموں کا درد رکھنے والے ہیں اور ملک کے مسائل کا حل جناب الطاف حسین کے پاس ہے۔
English
وڈیو

12/10/2016 2:47:26 AM