Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو غدار نہ کہاجائے ، الطاف حسین


پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو غدار نہ کہاجائے ، الطاف حسین
 Posted on: 5/10/2015
پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو غدار نہ کہاجائے ، الطاف حسین
بھارت ، امریکہ یا کوئی اورملک ، پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے بڑھے گا تو کروڑوں عوام کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، الطاف حسین
میں انشاء اللہ آخری سانس تک ایم کیوایم کی قیادت کرتارہوں گا،الطاف حسین
ایم کیوایم ، چارکروڑ افراد کی نمائندہ جماعت ہے اور چار کروڑ افراد کو اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا کی کوئی بھی طاقت ختم نہیں کرسکتی، الطاف حسین
کراچی سمیت سندھ کے تمام شہروں، لاہور، پنڈی، ملتان ، پشاور، کوئٹہ ، نصیرآباد اوردیگر شہروں میں کارکنان کے جنرل ورکرز اجلاس سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔10، مئی2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو غدار نہ کہاجائے ، بھارت ، امریکہ یا کوئی اورملک ، پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے بڑھے گا تو کروڑوں عوام کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم ، پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ ہرنفس کو موت کا مزاچھکنا ہے اور میں انشاء اللہ آخری سانس تک ایم کیوایم کی قیادت کرتارہوں گا،ایم کیوایم ، چارکروڑ افراد کی نمائندہ جماعت ہے اور چار کروڑ افراد کو اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا کی کوئی بھی طاقت ختم نہیں کرسکتی ۔یہ بات انہوں نے کراچی سمیت سندھ کے تمام شہروں، لاہور، پنڈی، ملتان ، پشاور، کوئٹہ ، نصیرآباد اوردیگر شہروں میں کارکنان کے جنرل ورکرز اجلاس سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہی۔جنرل ورکرز اجلاس کے سلسلے کا مرکزی اجتماع جناح گراؤنڈعزیزآباد کراچی میں منعقد ہوا جس میں بزرگوں ، نوجوانوں، خواتین اور بچوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی جبکہ ملک بھرمیں منعقدہ دیگراجتماعات بھی ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورکارکنوں نے بہت بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔ اس موقع پر اجتماعات کے شرکاء کا جوش وخروش قابل دید تھا۔اجتماعات کے شرکاء نے حسب روایت فلک شگاف نعرے لگاکر جناب الطاف حسین سے والہانہ عقیدت ومحبت کا اظہارکیا۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، بانیان پاکستان کی اولادوں کی جماعت ہے جو پاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام کاخاتمہ چاہتی ہے ، ملک کی ترقی وخوشحالی کیلئے جدوجہد کرنے والی جماعت ایم کیوایم پر گزشتہ 37 برسوں سے من گھڑت اورجھوٹے الزامات عائد کرکے اسے بدنام کیاجارہا ہے ، حق پرستانہ جدوجہد کی پاداش میں ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو شہیدکردیاگیا، ہزاروں کو پابند سلاسل کردیا گیا اور درجنوں کارکنوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ تمام ترمنفی پروپیگنڈوں ، رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود 23، اپریل2015ء کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخابات میں عوام نے اپنے اتحاد سے ایم کیوایم کو شاندار کامیابی سے ہمکنارکرکے ایم کیوایم پر لگائے جانے والے تمام الزامات کو جھوٹا ثابت کردیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب کسی قوم کو آئسولیٹ کرنا مقصود ہوتو اس کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرکے اسے دیگر کمیونٹیز سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس قوم کو آئسولیٹ کرکے اس کا جینا مشکل کردیا جاتا ہے ، جب وہ قوم اس ظلم کے خلاف اور اپنے حقوق کیلئے آوازبلند کرتی ہے تو اس پرجھوٹے الزامات عائد کرکے اس قوم کی کرمنالائزیشن کی جاتی ہے تاکہ دنیا کو گمراہ کیاجاسکے کہ حقوق کی جدوجہد کرنے والے جرائم پیشہ ہیں اور پھر ان پر ملک دشمنی کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پیمرا کے ذریعہ میرے خطاب پر پابندی لگائی جارہی ہے لیکن اگر ایم کیوایم کے لئے ذرائع ابلاغ کاراستہ بند کیاگیا توہم عوام سے رابطہ کیلئے متبادل راستہ اختیارکریں گے اور اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ اور فوج مجھ سے ناراض ہوگئی ہے کہ میں نے فوج سے متعلق غلط بات کہی۔ میں آج مسلح افواج کے شعبہ اطلاعات سے کہتا ہوں کہ نائن زیرو سے میری یکم مئی کی تقریر کی آڈیوکیسٹ لیکر سن لیں کہ میں نے فوج سے متعلق کیا باتیں کہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں فوج کے خلاف بات کرنے کا تصورتک نہیں کرسکتا ، میں آج بھی فوج کا احترام کرتا ہوں۔ میں نے اپنی تقریر میں صرف یہ بات کہی تھی کہ ایم کیوایم کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں کے دوران بزرگوں اور خواتین کو مغلظات بکی جاتی ہیں اوریہ کہاجاتا ہے کہ’’ تم انڈیاکے ایجنٹوں، را کے ایجنٹوں ، تم پاکستان کیوں آگئے ،یہ تمہارا وطن نہیں ہے ،جاؤاپنے ملک واپس چلے جاؤ‘‘ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے اجتماعات کے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا آپ میں سے کسی کویہ تلخ تجربہ نہیں ہوا ؟ جس پر شرکاء کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ بالکل یہ طعنے دیئے جاتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 19، جون 1992ء کوایم کیوایم پر جھوٹے الزامات لگاکر مجھے اپنے ساتھیوں سے دورکردیا گیا ،ہم پربہتان تراشی کرنے والے اپنے بال بچوں کے ساتھ رہ رہے ہیں جبکہ 25 برسوں سے مجھے اپنے خاندان اور ساتھیوں سے دورکردیا گیا پھر بھی انہیں چین نہیں آیا اور آج کے دن تک مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ میں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہاتھا کہ آپ ، ہم پر ’’را‘‘ کے ایجنٹ کا الزام لگاتے ہو توآپ یہ چاہتے ہو کہ کیا میں ’’را‘‘ سے مدد مانگ لوں؟ یہ میرا سوال تھا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آپ ہم پر اس ملک اور ادارے کے ایجنٹ ہونے کا الزام کیوں لگاتے ہو جن کے خلاف ہمارے بزرگوں نے جدوجہد کی اور جانی ومالی قربانیاں دیں، حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کرکے ان کے نومولود بچوں کو نیزوں پر اچھالاگیا ، والدین کے سامنے بچوں کو ذبح کیا گیا، بچیوں نے اپنی عصمتوں کے تحفظ کیلئے اتنی بڑی تعداد میں کنوؤں میں چھلانگیں لگائیں کہ کنوؤں کے منہ بھرگئے ، ہمارے آباواجداد یہ تمام مظالم سہتے رہے لیکن پھر بھی یہی نعرہ لگاتے رہے کہ ’’بٹ کے رہے گاہندوستان ، لیکے رہیں گے پاکستان‘‘ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک اینکرپرسن نے ٹی وی پر تجزیہ کرتے ہوئے یہ جھوٹا الزام لگایا کہ الطاف حسین کہتا ہے کہ فوجیوں کی چھڑیاں چھیں لیں گے ، ان کے کپڑے اور تمغے اتارلیں گے جوکہ سراسر جھوٹ ہے ،میں نے اپنی تقریر میں یہ کہاتھا کہ اگر ہمارے آباواجداد تحریک پاکستان کے دوران اپنے بچوں کو نہ کٹواتے ، اپنے گاؤں کے گاؤں نہ جلواتے اورپاکستان کے نام پر جانی ومالی قربانیاں نہ دیتے تو نہ یہ پاکستان بنتا اور نہ ہی کسی کے پاس چھڑی اور تمغے ہوتے ۔ جناب الطا ف حسین نے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیاجمہوریت میں اختلاف رائے جائز نہیں ہے ؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا ’’قطعی جائز ہے ‘‘ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے جب یہ کہاکہ پرویز مشرف کے خلاف سازش میں سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمدچوہدری ملوث ہیں اور جہاں پرویزمشرف کو قید رکھا گیا ہے اس کے برابر کمرے میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی قید کیا جائے تو مجھے غدار کہاگیا لیکن آج وہی اینکرپرسنز، وکلاء انجمنوں کے رہنما اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے افراد جو افتخارمحمد چوہدری کی بحالی کیلئے جدوجہد میں شریک تھے وہی کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ جنرل کیانی اور افتخارمحمدچوہدری نے پاکستان کا بیڑا غرق کردیا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ایک مرتبہ پھر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ چاہے ایم کیوایم میں ایک ہزارگروپ بنادیئے جائیں یا رابطہ کمیٹی کے ارکان ذمہ داری سے کام کریں یا نہ کریں اور چاہے میری تقریرپر پابندی ہی کیوں نہ لگادی جائے ، انشاء اللہ میں قیادت چھوڑنے کی بات اپنے منہ پر نہیں لاؤں گا۔ ہرنفس کو موت کا مزاچھکنا ہے اور انشاء اللہ میں آخری سانس تک ایم کیوایم کی قیادت کرتارہوں گا۔ایم کیوایم ، چارکروڑ افراد کی نمائندہ جماعت ہے اورچارکروڑافرادکو اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا کی کوئی بھی طاقت ختم نہیں کرسکتی ۔
جناب الطاف حسین نے عوام اور کارکنوں سے کہاکہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوکہ تقریر کی آزادی ہرفردکاحق ہے لیکن پاکستان کے ایک وفاقی ادارے پیمرانے ایم کیوایم سے اس کایہ حق چھین لیاہے۔اسی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام بھی خط لکھیں۔ انہوں نے ایم کیوایم کے وکلاء سے بھی کہاکہ وہ اس پابندی کے خلاف پیمرااورحکومت کے خلاف کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کریں۔انہوں نے کہاکہ ہم اس معاملے میں آئینی وقانونی جنگ لڑیں گے،چاہے دیرہوجائے لیکن انشاء اللہ کامیابی ہماری ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم چارکروڑافرادکی نمائندہ جماعت ہے اورچارکروڑ افرادکودنیاکی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔ہمارا یہی کہناہے کہ جن لوگوں نے وطن بنایا اور اس کو اپنے پیروں پرکھڑا کیا انہیں اوران کی اولادوں کوغدارنہ کہاجائے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ بھارت سمیت کوئی بھی ملک اگر پاکستان کوتباہ کرنے اورنقصان کرنے کیلئے آگے بڑھے گاتوپاکستان کے ان دشمنوں سے جہاں فوج لڑے گی وہاں ایم کیوایم بھی فوج کے ساتھ ملکردشمنوں کا مقابلہ کرے گی۔جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، کورکمانڈرز، آئی ایس آئی کی اعلیٰ قیادت اورفوج کے دیگرحکام سے سوال کیا کہ کیا آئین وقانون کا اطلاق صرف ایم کیو ایم اورالطاف حسین کیلئے ہے؟اگرایم کیوایم حکومت اورفوج پر تنقیدکرے تووہ حکومت اورپیمراکی نظرمیں ملک دشمن ہے لیکن اگر طاقتور اداروں کاچہیتا عمران خان یہ کہے کہ ’’ تسی 20 ہزارافراد سڑکوں پر لے آؤتو جرنیلوں کاپیشاب نکل آئے گا، یہ اتنے بزدل ہوتے ہیں ‘‘ توان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ مجھ پر ملک دشمنی کے الزامات لگانے والوں نے عمران خان کو’’ را ‘‘ کاایجنٹ، انڈین ایجنٹ اورملک دشمن کیوں نہیں کہا؟کیا وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں تقریرکرتے ہوئے فوج کانام لے لے کرفوج کو مغلظات نہیں دیں؟ کیا جماعت اسلامی کے سابق امیرمنور حسن نے یہ نہیں کہاکہ میں فوجیوں کوشہیدنہیں مانتا، وہ ہلاک ہیں جبکہ طالبان شہید ہیں ،آخر فوج نے اس بات پر منورحسن کے خلاف کیا کارروائی کی ؟کیاشہبازشریف نے بھرے جلسے میں تقریرکرتے ہوئے یہ الفاظ ادا نہیں کئے کہ ’’ ہم آصف زرداری کوگریبان سے پکڑ کرچوک پر گھسیٹیں گے ‘‘ ؟ انہوں نے کہاکہ باربارمیرے بارے میں یہ سوال کیا جاتاہے کہ آپ پارٹی کی قیادت چھوڑدیں، آخریہ سوال کسی اور کیلئے کیوں نہیں کیاجاتا؟جناب الطاف حسین نے کارکنوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اتنی سیاسی شخصیات نے قومی اداروں پر تنقید کی، انہیں گالیاں دیں لیکن آج تک ان میں سے کسی کے خطاب کونشرکرنے پرپابندی نہیں لگائی گئی ،کارکنوں کویہ مبارک ہوکہ یہ پابندی بھی آپ کے قائدپرلگائی گئی ۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے کراچی میں خواتین کاجلسہ کیااورخواتین کے حقوق کی بڑی بڑی باتیں کیں لیکن تین روزقبل خیبرپختونخوا کے علاقے لوئردیر میں ضمنی انتخاب ہواتورپورٹس کے مطابق وہاں جماعت اسلامی، تحریک انصاف اوراے این پی نے آپس میں یہ معاہدہ کیاکہ خواتین کوووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی اورانہوں نے خواتین کوووٹ ڈالنے نہیں دیے۔اس پرجب سوال کیا گیا تو جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے کہاکہ خواتین کوگھرمیں کھانا پکانا ہوتاہے اوربچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ دھوکے بازی، عیاری اورمکاری نہیں تواورکیاہے؟انہوں نے کہاکہ سراج الحق لوئردیرکی خواتین اور کراچی کی ماؤں بہنوں سے معافی مانگیں ورنہ آئندہ جب بھی وہ کراچی آئیں گے توانہیں کراچی کی ماؤں بہنوں کے احتجاج کا سامنا کرناپڑے گا۔ جناب الطاف حسین نے اجتماع کے شرکاء کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ شہریوں کوپانی، بجلی اورگیس نہیں مل رہی ہے اورشہرکچرے کاڈھیر بن رہاہے، آپ کمرکس لیں، ہم اس معاملے پر بھرپوراحتجاج کی کال دینے والے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ کراچی سمیت سندھ بھر میں فی الفور بلدیاتی انتخابات کے انعقادکااعلان کیاجائے۔جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، کورکمانڈرز، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹرجنرل رضوان اختر اوردیگر اعلیٰ حکام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ1971ء میں سابقہ مشرقی پاکستان میں مہاجروں نے فوج کاساتھ دیاتھا لیکن فوج کی مددکرنے والے آج بھی بنگلہ دیش میں ریڈکراس کے کیمپوں میں محصورہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ ان محصورپاکستانیوں کوفی الفوروطن واپس لایاجائے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ چندروزقبل کراچی میں این اے 246پر ضمنی انتخاب ہواتوایم کیوایم کے سیاسی مخالفین اورمتعصب تجزیہ نگاروں نے خوشی میں ناچ ناچ کر یہ کہناشروع کردیاکہ ایم کیوایم اب کامیاب نہیں ہوسکے گی اوراگرجیت بھی گئی تو وہ بھاری اکثریت سے کامیاب نہیں ہوسکے گی لیکن سیاسی مخالفین اورمتعصب تجزیہ نگاروں کے تمام اندازے اورتجزیے غلط ثابت ہوگئے اوراللہ تعالیٰ کی تائید سے ایم کیوایم ایک لاکھ کے قریب ووٹ لیکرکامیاب ہوئی۔جہاں پولنگ دیرسے شروع ہوئی اگروہاں پولنگ کیلئے وقت بڑھادیا جاتاتوہم ماضی کے تمام ریکارڈتوڑدیتے ۔ انہوں نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کوہمارے ہاں نیٹوکااسلحہ نظرآگیالیکن پچھلے تین چاروروز سے ذوالفقارمرزا جدید اسلحہ لیکرپھررہاہے لیکن اس کوہاتھ لگانے والاکوئی نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیاکہ جب قانون کایہ دہرامعیارہوگاتویہ ملک کیسے چلے گا؟اللہ تعالیٰ بھی یہ ناانصافیاں کب تک دیکھتارہے گا؟جناب الطاف حسین نے نوجوانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنے بزرگوں سے معلوم کریں اورتاریخ پڑھیں کہ قیام پاکستان کے بعد مہاجروں کے ساتھ کیاہوا، 1964ء میں جنرل ایوب خان کے دور میں مہاجربستیوں پر کیسے حملے ہوئے ، 1972ء میں سندھ میں لسانی فسادات کے دوران کیاہوا، اس وقت ایم کیوایم نہیں تھی۔ نوجوان اپنے بزرگوں سے معلوم کریں کہ 1985ء میں کیاہوا، 31اکتوبر1986ء کوکیاہوا، 14دسمبر1986ء کو علی گڑھ اورقصبہ کالونی کی بستیوں پر حملے کے دوران کس طرح قتل عام ہوا، 26مئی 1990ء کوپکاقلعہ آپریشن کے دوران کیاکچھ ہوا، کس طرح سروں پر قرآن مجید اٹھائی ہوئی خواتین پرگولیاں برسائی گئیں۔ جناب الطا ف حسین نے حیدرآبادکے ایم پی ایزکوتاکیدکہ وہ عوام کے مسائل کے حل کیلئے بھرپورکوشش کریں اورگلی گلی جائیں ورنہ آئندہ وہ ایم پی اے توکجا کونسلربھی نہیں بن سکیں گے۔جناب الطاف حسین نے گلگت کے علاقے نلترمیں پاک فوج کے ہیلی کاپٹرکے حادثے پر افسوس کااظہارکیااورحادثے میں جاں بحق ہونے والے غیرملکی سفیروں، انکی بیگمات اورفوج کے افسران کے لواحقین سے دلی تعزیت کااظہارکیا۔ انہوں نے 11مارچ کونائن زیروپر چھاپے کے دوران سرکاری اہلکاروں کی فائرنگ سے شہیدہونے والے ایم کیوایم کے کارکن وقاص شاہ شہید کی والدہ کے انتقال پر دلی افسوس کااظہار کیااور کارکنوں سے کہاکہ وہ وقاص شاہ شہیدکی والدہ مرحومہ کیلئے دعاکریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاکرے۔

English
مزید تصاویر
وڈیو

12/10/2016 2:46:28 AM