Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ کے شہری عوام کی جانب سے یہ متفقہ رائے سامنے آرہی ہے کہ اب سندھ میں مسائل کے مستقل حل کیلئے ایک نئے صوبے کاقیام ضروری ہے۔الطاف حسین


سندھ کے شہری عوام کی جانب سے یہ متفقہ رائے سامنے آرہی ہے کہ اب سندھ میں مسائل کے مستقل حل کیلئے ایک نئے صوبے کاقیام ضروری ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 4/27/2015
سندھ کے شہری عوام کی جانب سے یہ متفقہ رائے سامنے آرہی ہے کہ اب سندھ میں مسائل کے مستقل حل کیلئے ایک نئے صوبے کاقیام ضروری ہے۔الطاف حسین
خواہ اس علیحدہ صوبے کا نام کراچی صوبہ ہو، شہری صوبہ ہو، سندھ ون سندھ 2 صوبہ ہویاکچھ اور ہی کیوں نہ ہو یہ ایم کیوایم کا نہیں بلکہ عوام کامطالبہ ہے لہٰذا عوام ہی نئے صوبے کا بہتر نام تجویز کرسکتے ہیں
علیحدہ صوبہ شہری سندھ کے ہرفردکے دل کی آوازہے خواہ وہ اردوبولنے والے ہوں، سندھی یابلوچ ہوں ، پنجابی، پختون، ہزارے وال ، سرائیکی، گلگتی بلتستانی یا کشمیری ہوں،یاکسی بھی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہوں، 
سندھ میں علیحدہ صوبے کی بنیادسندھ کے متعصب حکمرانوں نے اسی وقت رکھ دی تھی جب 1973ء میں دیہی سندھ کیلئے 60 فیصد اور شہری سندھ کیلئے 40 فیصد کوٹہ رکھا گیا تھا
یہ کوٹہ 10سال کیلئے مقررکیاگیاتھا مگرہرفوجی اورنام نہاد جمہوری حکومتوں نے اسے آج تک جاری رکھاہواہے کوٹہ سسٹم کی چکی میں پسنے والے عوام اب یہ کہہ رہے ہیں کہ اسی 60-40 کی بنیاد پر سندھ میں علیحدہ صوبہ قائم کیا جائے
شہری سندھ کے عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ جینے کامنصوبہ ہوگا۔۔۔ 40فیصد والوں کاجب صوبہ ہوگا ‘‘
سندھ میں علیحدہ صوبے کے قیام اور نئے صوبے کے نام کے حوالہ سے عوام اپنی رائے سے ای میل ایڈریس [email protected] پر آگاہ کریں۔رابطہ کمیٹی پاکستان لندن ، دیگر شعبہ جات اور ونگز کے ارکان سے گفتگو
لندن۔۔۔27، اپریل2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سندھ کے شہری عوام کی جانب سے یہ متفقہ رائے سامنے آرہی ہے کہ اب سندھ میں مسائل کے مستقل حل کیلئے ایک نئے صوبے کاقیام ضروری ہے خواہ اس علیحدہ صوبے کا نام کراچی صوبہ ہو، شہری صوبہ ہو، سندھ ون سندھ 2 صوبہ ہویاکچھ اور ہی کیوں نہ ہو۔عوام کی رائے میں اب سندھ میں ایک اورصوبہ کاقیام مقدر بن چکا ہے۔انہوں نے یہ بات آج رابطہ کمیٹی پاکستان لندن ، دیگر شعبہ جات اور ونگز کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ شہری سندھ کے جن عوام کو سندھ کی حکومتیں گزشتہ67 سال سے نظرانداز کرتی چلی آئی ہیں اورمتعصبانہ سلوک کانشانہ بناتی چلی آئی ہیں، ا س متعصبانہ طرز عمل کودیکھتے ہوئے سندھ کے ہرشہری کی یہ آواز ہے کہ سندھ میں حق پرستوں کا علیحدہ صوبہ ہونا چاہیے اور یہ آواز شہری سندھ میں رہنے والے ہر فرد کے دل کی دھڑکن بن چکی ہے خواہ وہ اردوبولنے والے ہوں، حق پرست سندھی یابلوچ ہوں ، خواہ شہری سندھ میں مستقل طورپرآبادپنجابی، پختون، ہزارے وال ، سرائیکی، گلگتی بلتستانی یا کشمیری ہوں،یاکسی بھی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہوں، علیحدہ صوبہ شہری سندھ کے ہرفردکے دل کی آوازہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں عوام سے کہتا ہوں کہ وہ علیحدہ صوبے کا بہتر سے بہتر نام تجویز کریں کیونکہ یہ ایم کیوایم کا نہیں بلکہ عوام کامطالبہ ہے لہٰذا عوام ہی نئے صوبے کا بہتر نام تجویز کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حق پرست عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ سندھ میں علیحدہ صوبے کی بنیادسندھ کے متعصب حکمرانوں نے اسی وقت رکھ دی تھی جب 1973ء میں سندھ میں سرکاری ملازمتوں اورداخلوں میں دیہی سندھ کیلئے 60 فیصد اور شہری سندھ کیلئے 40 فیصد کوٹہ رکھا گیا تھا۔یہ کوٹہ 10سال کیلئے مقررکیاگیاتھا مگرہرفوجی اورنام نہاد جمہوری حکومتوں نے اسے بڑھابڑھاکر آج 2015ء تک جاری رکھاہواہے۔اس کوٹہ سسٹم کی چکی میں پسنے والے عوام اب یہ کہہ رہے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسی 60-40 کی بنیاد پر سندھ میں علیحدہ صوبہ قائم کیاجائے ۔ آج شہری سندھ کے عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ جینے کامنصوبہ ہوگا۔۔۔ 40فیصد والوں کاجب صوبہ ہوگا ‘‘۔انہوں نے کہاکہ شہری سندھ کے عوام کااب یہ فیصلہ ہے کہ علیحدہ صوبے کے قیام کیلئے انہیں کتنی ہی جانی ومالی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے او رسب علیحدہ صوبے کی جدوجہدمیں شامل ہوں گے ۔ جناب الطاف حسین نے عوام سے کہاکہ وہ سندھ میں علیحدہ صوبے کے قیام اور نئے صوبے کے نام کے حوالہ سے اپنی رائے ای میل ایڈریس [email protected] پر آگاہ کریں ۔
English

9/27/2016 10:30:56 AM