Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم میں تطہیر اور تنظیم نو کا عمل معمول کا حصہ ہے، الطاف حسین


ایم کیوایم میں تطہیر اور تنظیم نو کا عمل معمول کا حصہ ہے، الطاف حسین
 Posted on: 5/26/2013

ایم کیوایم میں تطہیر اور تنظیم نو کا عمل معمول کا حصہ ہے، الطاف حسین

ایم کیوایم دشمن عناصر منفی پروپیگنڈہ کرکے اس تطہیری عمل کو غلط رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں

کارکنان وعوام متحد اور منظم رہیں اور اس قسم کے پروپیگنڈے کا ہرگز شکار نہ ہوں، الطاف حسین کی اپیل

لندن۔۔۔26، مئی2013ء

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایم کیوایم میں تطہیر اور تنظیم نو کا عمل معمول کا حصہ ہے لیکن ایم کیوایم دشمن عناصر منفی پروپیگنڈہ کرکے اس تطہیری عمل کو غلط رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ پوری دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ ایم کیوایم سے زیادہ مثالی نظم وضبط کسی اور جماعت کا نہیں ہے اور اس وقت ایم کیوایم میں جو تطہیر اور تنظیم نو کا عمل جاری ہے وہ معمول کا حصہ ہے لیکن ایم کیوایم دشمن عناصر اس کو غلط رنگ دیکر یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ خدانخواستہ ایم کیوایم میں کوئی گروپ بندی ہوگئی ہے یا پھوٹ پڑ گئی ہے ،میں عوام اور کارکنان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ متحد اور منظم رہیں اور اس قسم کے پروپیگنڈے کا ہرگز شکار نہ ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیا کی کسی بھی سیاسی جماعت کی طرح ایم کیوایم میں بھی لوگ آتے اور جاتے ہیں ۔ جو لوگ اپنی مرضی سے شامل ہوکر تحریکی ڈسپلن کی پابندی کرتے ہیں وہ تحریکی قافلے کے ساتھ چلتے رہتے ہیں جبکہ جو لوگ تحریکی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو انہیں پارٹی کے اصول وضوابط کے مطابق پارٹی سے معطل یا خارج کردیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کوئی عدلیہ یا قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی جماعت ہے اورایم کیوایم میں کسی کے خلاف کوئی الزام لگاکراسے نقصان پہنچانے کادرس نہیں دیا جاتا، ایسا کرنے والے عناصر کے خلاف نہ صرف پارٹی ڈسپلن کے تحت کارروائی کی جائے گی بلکہ انہیں قانون کابھی سامنا کرنا پڑے گا۔

 


12/10/2016 12:56:48 AM