Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد کا ایم کیوایم سے کوئی تحریکی و تنظیمی تعلق ہے نہ کوئی واسطہ ہے۔الطاف حسین


 Posted on: 4/22/2015
گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد کا ایم کیوایم سے کوئی تحریکی و تنظیمی تعلق ہے نہ کوئی واسطہ ہے۔الطاف حسین
لندن ۔۔۔ 22 اپریل 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد کا ایم کیوایم سے کوئی تحریکی و تنظیمی تعلق ہے نہ کوئی واسطہ ہے ، وہ وفاقی حکومت کے نمائندے تھے اورآج بھی ہیں ۔انہوں نے یہ بات آج بروزبدھ علی الصبح ایک نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگوکرتے کہی۔ انہوں نے کہاکہ آپ نے سنا ہوگا کہ آج رینجرز نے 10دن کا نوٹس دیا ہے کہ کراچی میں جن کے پاس غیر قانونی اسلحہ ہے وہ رینجرز کے آفس میں جمع کرائے ۔آپ نے یہ بیان بھی سنا ہوگا کہ کراچی کے شہری جیب میں شناختی کارڈ رکھ کر چلیں پھریں ،آمد و رفت کریں اور اگر شناختی کارڈ نہیں ملا تو قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی ہوگی ۔اور اگر کسی کے اسلحہ کا لائسنس نہیں ملا تو اسے 14سال سزا ہوگی ۔ آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 میں 23، اپریل کو ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں اور حکومت کابیان آیا ہے کہ ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے اوردفعہ144نافذ کردی گئی ہے۔ یہ سب اعلانات گورنر سندھ عشرت العباد کی گورنر ی کے ہوتے ہوئے ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ 11، مارچ کو تمام قومی الیکٹرانک میڈیا نے پاکستان میں دکھایا کہ نائن زیرو پر چھاپہ مارا گیا ۔ میری بڑی بہن جو بزرگ ہیں، بیوہ ہیں ان کے گھر چھاپہ مارا گیا ۔ میرے بھانجے چاند کو گرفتار کیا گیا جو اپنے بیٹے کو صبح ایکسیڈنٹ کے بعد اسپتال سے مرہم پٹی کراکر واپس لارہے تھے ۔ یہ گرفتاری ، یہ چھاپے سب کچھ ڈاکٹر عشرت العباد گورنر سندھ کے ہوتے ہوئے ہوئے ۔ مزید یہ کہ گزشتہ کئی سالوں میں جتنے ساتھی ایم کیوایم کے گرفتار ہوئے ، ان کی شہادتیں ہوئیں وہ گورنر سندھ عشرت العباد کے گورنر ہوتے ہوئے ہوئیں ، جتنی گرفتاریاں ہوئیں وہ اُ ن کے ہوتے ہوئے ہوئیں ۔ جتنی حراست میں ماورائے عدالت قتل ہوئے اُن کے ہوتے ہوئے ہوئے ۔ جتنی گرفتار شدگان کی جے آئی ٹی بنی وہ گورنر سندھ کے گورنری کے عہدے پر ہوتے ہوئے بنیں ،لیکن میں نہیں کہہ رہا کہ جب یہ جے آئی ٹی بنی تو وہ گورنر کی موجودگی میں بنی، جب وہ رپورٹس آئیں تو گورنر سندھ نے نہ کسی شہادت ، نہ کسی چھاپے پر حتیٰ کہ میرے گھر پر چھاپہ پڑا اس کی مذمت انہوں نے نہیں کی ، وہاں سے جھوٹا ، جعلی الزام لگا کر رینجرز نے اسلحہ کی برآمدگی ظاہر کی ، اس کی تصاویر ٹی وی پر شو کی اور یہ الزام لگایا کہ یہ نیٹو کا اسلحہ ہے ، گورنر سندھ اس وقت موجود تھے اس کی تردید گورنر سندھ نے بحیثیت گورنر نہیں کی ،بحیثیت گورنر کسی ماورائے عدالت قتل کا نوٹس نہیں لیا ، گورنر سندھ نے بحیثیت گورنر کسی غیر قانونی چھاپے اور معصوم لوگوں کی گرفتاری کا کوئی نوٹس لیکر کوئی کارروائی کی ،اس کامطلب صاف ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نمائندے تھے اورآج بھی ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العبادنے جب گورنری کا عہدہ کا سنبھالا تھا تو انہوں نے ایم کیوایم کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھا، وہ ایم کیوایم کے کارکن بھی نہیں رہے تھے لیکن میں کئی سال سے ٹی وی پر آنیو الے تجزیاتی پروگرام میں بیان کی جانے والی یہ جھوٹی بکواس اور الزامات کو سنتا رہا کہ ایم کیوایم کے گورنر کی موجودگی میں یہ سب ہورہا ہے تو آج میں اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ گورنر سندھ کا ایم کیوایم سے تعلق نہیں ہے، جب وہ گورنر بنے تھے اس کے بعدہی انہوں نے یہ اعلان پہلے کردیا تھا لہٰذا گورنر سندھ عشرت العباد کا ایم کیوایم سے اب کوئی تحریکی تنظیمی تعلق نہیں ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سپریم کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کراچی میں ایک عدالت میں امن عامہ کے مسئلے پر یہ بیان دیا کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں، اس میں ایم کیوایم ، پیپلزپارٹی ، سنی تحریک ، مذہبی جماعتوں جماعت اسلامی ، سپاہ صحابہ ایک اورمذہبی جماعت ہے اس کا نام لیا ،کئی جماعتوں اے این پی کا نام لیا ، لشکر جھنگوی کا نام لیا لیکن سندھ میں جب سے یہ بات شروع ہوئی کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف رینجرز کے ذر یعے وفاقی حکومت آپریشن کروا رہی ہے تو صرف اور صرف اب تک ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاگیا ، ایم کیوایم کے کارکنان کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا ، ایم کیوایم کے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ، ایم کیوایم کے قائد ، اس کی بہن اور ساتھیوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اس کے علاوہ اورکسی سیاسی ومذہبی جماعتوں کے گھروں پر چھاپے نہیں مارے گئے۔ جب یہ بات کہی گئی، اعتراض اٹھایا گیا تو کہا گیا لیاری گینگ کے بہت سے افراد مارے اور گرفتار کئے گئے جبکہ لیاری گینگ منشیات فروشوں ، چور اچکوں ، اغواء برائے تاوان ، ڈکیتیاں کرنے والوں کا گروہ تھا اور ہے ۔یہ کہاگیا کہ تحریک طالبان کے بہت لوگ مارے گئے تو ٹی ٹی پی نے آپ کے کامرہ بیس ، جی ایچ کیو پر حملہ کیا ، ہزاروں فوجی ذبح کئے گئے ، ان کے گلے کاٹے گئے ، آرمی پر حملہ کیا گیا ،ان سے آپ ایم کیوایم کو کیوں ملاتے ہیں؟ بات یہ ہے کہ کس سیاسی جماعت کے دفتر اور کس سیاسی جماعت کے رہنما اور کارکنان کا ماورائے عدالت قتل ہوا ؟ ان تمام باتوں پر گورنر سندھ خاموش رہے لہٰذا آج میں اپنے ذمہ دارا ن اورکارکنوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ گورنر سندھ عشرت العباد وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے ہیں ،وہ ایم کیوایم کے نمائندے نہیں ہیں لہٰذا آپ ان سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ آپ کو کسی بھی قسم کا کوئی ریلیف یا رعایت دلا سکتے ہیں کیوں کہ ان کی اپنی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہے۔یہ میں سچ سچ بتا رہا ہوں کہ فوجی جب چاہتے ہیں ان سے بات کرلیتے ہیں ، جب چاہتے ہیں ان سے بات کرنا بند کردیتے ہیں ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہم نے ماضی میں گورنر کے بغیر آپریشن جھیلا ہے ، میں آج اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ آپ تیار ہوجایئے کہ اب آپ کسی مسئلے کے حل کیلئے گورنر سندھ کی طرف نہیں دیکھیں گے ۔وہاں سے کسی انصاف کی امید نہیں رکھیں گے ۔ آپ نے ماضی میں اپنے حقوق کی جدوجہدجس طرح کی آپ دوبارہ اسی طرح متحد ہوکر جدوجہد کرتے رہیں ۔ میں برطانیہ میں کیس بھگت رہاہوں، میراکیس ختم ہوجائے تو کل کراچی آجاؤں گا اور آپ کے ساتھ اپنی جان دیدوں گا،میں برطانیہ میں پچیس سال سے رہ کر تحریک چلارہاہوں اوراس سے علیحدہ نہیں ہوا،میں جب تک زندہ ہوں تحریک چلاتا رہوں گا ، آپ خوفزدہ ہوکر گھر پر بیٹھ سکتے ہیں تو بخدا بیٹھ جایئے مجھے کوئی ناراضگی نہیں ہو گی ۔ میں نے پاکستان کے 98فیصد غریب ومظلوم عوام خصوصاً مہاجروں کے حقوق کیلئے تحریک شروع کی لیکن کوئی مدد کرنے کیلئے تیار نہیں ہوا بلکہ ہمیں تو ایوب خان نے سمندر میں پھینکنے کا کہا تھا ۔ اس کے بعد چھاپوں کے دوران فوج ہمیں انڈین اور اندرا گاندھی کی اولاد ، را کا ایجنٹ کہتی رہی ، طعنے دیتی رہی ۔میرے بھائی ،بھتیجے اور ساتھیوں کو شہید کیا گیا ۔ یہ جو کچھ کریں ،پاکستان میرے بزرگو ں نے بنایا ہے، یہ میراپاکستان ہے، مظلوموں کا پاکستان ہے ، میں جدوجہد کرتا رہوں گا اور انگریزوں کے حکم پر خانہ کعبہ پر گولیاں چلانے والوں کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا چاہے میرے لئے برطانیہ میں زندگی کا راستہ بند کردیاجائے، مجھے اس کی پروا نہیں۔ میری موت اگر آجائے تو میرے لئے دعائے مغفرت کرنا لیکن ثابت قدم رہنا اور اپنی جدوجہد سے دستبردار مت ہونا ۔ اللہ تعالیٰ تمہاراحامی وناصرہو۔

12/6/2016 12:04:55 PM