Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی میں مقامی پولیس کانظام لایاجائے، تھانیداروں کی تعیناتی میں مقامی شہری کو فوقیت دی جائے ۔ الطاف حسین


کراچی میں مقامی پولیس کانظام لایاجائے، تھانیداروں کی تعیناتی میں مقامی شہری کو فوقیت دی جائے ۔ الطاف حسین
 Posted on: 4/21/2015
کراچی میں مقامی پولیس کانظام لایاجائے، تھانیداروں کی تعیناتی میں مقامی شہری کو فوقیت دی جائے ۔ الطاف حسین
سندھ میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور 2001 ء کا بلدیاتی نظام بحال کیاجائے
کراچی میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کیلئے فنڈز مختص کیے جائیں ، کراچی کومیٹروبس اور ٹرین دونوں کی ضرورت ہے
کراچی سمیت ملک بھرکے شہروں کوآبادی کے تناسب سے وسائل فراہم کرنے کیلئے فوری طورپرمردم شماری کرائی جائے
کراچی کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے K-4 منصوبہ جلد ازجلد مکمل کیاجائے 
حیدرآباد ، سندھ کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں صحت وصفائی ، پانی کی ترسیل اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایاجائے
لندن۔۔۔21، اپریل2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں فوری طورپر ماس ٹرانزٹ سسٹم کیلئے فنڈز مختص کیے جائیں اورکراچی سمیت ملک بھرکے شہروں کوان کاجائزحق نمائندگی اورآبادی کے تناسب سے وسائل فراہم کرنے کیلئے فوری طورپرمردم شماری کرائی جائے ۔ انہوں نے یہ مطالبہ منگل کی شب جناح گراؤنڈ میں منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کراچی کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں ہونیوالی ناانصافیوں اورزیادتیوں کاذکرکرنے کے ساتھ ساتھ کراچی کے زیرالتواء بڑے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈزمختص کرنے کامطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ، پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے جس کی آبادی سوا دوکروڑ سے زائد ہے۔ کراچی قومی خزانے میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے 67سال سے یہ شہر ماس ٹرانزٹ سسٹم سے محروم ہے ۔ایم کیوایم نے ہردورمیں اس کے لئے کوشش کی لیکن متعصب بیوروکریسی نے ہمیشہ کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں فوری طورپر ماس ٹرانزٹ سسٹم بنانے کیلئے فنڈز مختص کیے جائیں۔ کراچی کوبھی میٹروبس کی طرز پر میٹروبس اور ٹرین دونوں کی ضرورت ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں آخر ی مرتبہ مردم شماری 1998ء میں ہوئی تھی جبکہ آئین پاکستان کے مطابق ملک میں ہردس سال بعد مردم شماری ہونا لازم ہے ۔ کراچی کی آبادی گزشتہ 17 برسوں میں بے پناہ بڑھ چکی ہے لیکن اسے وسائل پرانی مردم شماری کی بنیاد پر بھی نہیں دیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاکہ پاکستان میں فوری طورپر مردم شماری کروائی جائے اور کراچی ، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، نواب شاہ، سانگھڑ،کوئٹہ، پشاور، ملتان ، لاہور ، اسلام آباد غرض تمام شہروں کو ان کی آبادی کے مطابق وسائل میں حصہ دیا جائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مقامی حکومتوں کا نظام ، جمہوریت کاتیسرا ستون ہیں۔ پاکستان کے آئین کے تحت حکومت ،مقررہ وقت پر بلدیاتی انتخابات کرانے کی پابند ہے لیکن سندھ میں آخری بلدیاتی انتخابات 2005ء میں ہوئے تھے۔ ایم کیوایم کی سٹی گورنمنٹ نے ترقیاتی کام کرکے کراچی ، حیدرآباد اور میرپورخاص کا نقشہ بدل دیا تھا لیکن گزشتہ 6 برسوں سے سندھ میں بلدیاتی نظام قطعی طورپر معطل ہے ۔ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، پانی ، سیوریج، صحت وصفائی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے اور عوام اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ سندھ میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور 2001 ء کا بلدیاتی نظام بحال کیاجائے ۔جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیاکہ کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے K-4 منصوبہ جلد ازجلد مکمل کیاجائے ،کراچی میں امن عامہ کی صورتحال بہتر بنانے ، پولیس اور شہریوں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ اور جرائم کی روک تھام کیلئے شہر کے تمام تھانوں میں مقامی پولیس کے نظام کو عمل میں لایاجائے اور ہرتھانے کے ایس ایچ او کی تعیناتی میں مقامی شہری کو فوقیت
دی جائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ حیدرآباد اور اندرون سندھ کے تمام شہروں کے عوام شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ اورپانی کی قلت کا سامنا کررہے ہیں۔ ان شہروں میں صحت وصفائی کا نظام تباہی کا شکار ہے لیکن حکومت کی جانب سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے کسی قسم کے عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آرہے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد سمیت اندرون سندھ کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں صحت وصفائی ، پانی کی ترسیل اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایاجائے ۔





تصاویر

12/3/2016 9:42:38 AM