Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حلقہ این اے-250، تین لاکھ پیسٹھ ہزار پانچ سو اکتیس ووٹرز پر مشتمل ہے، صرف 50 ہزار ووٹرز کو ہی کیوں ووٹ کا حق دیا جا رہا ہے


حلقہ این اے-250، تین لاکھ پیسٹھ ہزار پانچ سو اکتیس ووٹرز پر مشتمل ہے، صرف 50 ہزار ووٹرز کو ہی کیوں ووٹ کا حق دیا جا رہا ہے
 Posted on: 5/15/2013
حلقہ این اے-250، تین لاکھ پیسٹھ ہزار پانچ سو اکتیس ووٹرز پر مشتمل ہے، صرف 50 ہزار ووٹرز کو ہی کیوں ووٹ کا حق دیا جا رہا ہے
این اے 250، پی ایس 112 اور پی ایس 113 کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر دوباہ الیکشن کرائے جائیں اور حلقہ کے تمام عوام کو ان کا جمہوری حق فراہم کیا جائے 
سیاستدانوں کو اب بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور الزام تراشی کی یہ سیاست چھوڑنا ہوگی، اراکین رابطہ کمیٹی
ہم اس وقت تک یہاں بیٹھے رہیں گے جب تک ہمارے مطالبات مان نہیں لیے جاتے
ایم کیو ایم کی جانب سے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دیئے گئے دھرنے کے دوسرے روز میڈیا کے نمائندوں سے اراکین رابطہ کمیٹی کی گفتگو
کراچی:۔۔15؍ مئی 2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے اراکین واسع جلیل ، وسیم آفتاب اور ڈاکٹر صغیر نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن غیر جانبدار ہے تو اسے فوری طورپر پورے این اے 250، پی ایس 112اور پی ایس 113میں دوبارہ انتخابات کا حکم جاری کرنا چاہئے ، ایم کیوایم کی جانب سے الیکشن کمیشن میں این اے 250میں دوبارہ انتخابات کرانے کی درخواست دینے کے باوجود مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کا اعلان کردیا گیا ہے جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے یہی وجہ ہے کے 15گھنٹے گزرنے کے باوجود عوام کی بہت بڑی تعداد یہاں موجود ہے اور ہم اس وقت یہاں بیٹھے رہیں گے جب تک ہمارے مطالبات نہیں مان لیئے جاتے ۔ان خیالات کا اظہار رابطہ کمیٹی کے اراکین نے این اے 250 ، پی ایس 112اور پی ایس 113 پر دوبارہ پولنگ کرانے کے مطالبہ کی منظوری کیلئے ایم کیوایم کی جانب سے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہردیئے گئے دھرنے کے دوسرے روز میڈیا کے مختلف نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ رابطہ کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ این اے 250، پی ایس 112اور پی ایس 113کے تمام ہی پولنگ اسٹیشنوں میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کسی نہ کسی طرح بے قاعدگی ہوئی ہے ، لہٰذا پورلے حلقے میں انتخابات ہونے چاہئیں ، اگر غلطی الیکشن کمیشن کی ہے تو اس کی سزا این اے 250، پی ایس 112اور پی ایس 113کے عوام کو کیوں دی جارہی ہے ، پورے حلقے میں انتخابی عمل شروع نہیں ہوسکا لیکن صرف 50,000ووٹرز کو ہی کیوں ووٹ کا حق دیا جارہا ہے ، یہ حلقہ 3لاکھ 65ہزار 531( تین لاکھ پیسٹھ ہزار پانچ سو اکتیس)ووٹرزپر مشتمل ہے ، اس حلقے کے عوام کے ساتھ صریحاً نانصافی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جماعتیں جن کا اس شہر میں کبھی کوئی میڈنیٹ نہیں رہا ، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شہر کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے ۔ ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو چھیننے کے لئے صرف کراچی میں ڈی لیمیٹیشن کی گئی ، گھر گھر ووٹرز کی تصدیق کی گئی ، کراچی کے عوام کو خوفزدہ کرنے کے لئے ایم کیو ایم کے انتخابی دفاتر پر بم دھماکے کرائے گئے ۔ رابطہ کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ ایم کیوا یم کے 18 ہزارسے زائد کارکنان کو شہید کیاگیا ، مگر سلا م ہے کراچی کے غیور بہادر عوام کو جنہوں نے گیارہ مئی کو لاکھوں کی تعداد میں گھروں سے نکل اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور قائد تحریک جناب الطاف حسین کے نامزد حق پرست امیدواران کو کامیاب بناکر قائد تحریک جناب الطاف حسین سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا ۔ رابطہ کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ ملک کے سیاستدانوں کو اب بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور الزام تراشی کی یہ سیاست چھوڑنا ہوگی کہ جہاں الیکشن جیت گئے وہاں الیکشن شفاف اور جہاں ہار گئے وہاں دھاندلی کے الزامات عائد کئے جائیں۔۔ رابطہ کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ این اے 250، پی ایس 112اور پی ایس 113کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر دوباہ الیکشن کرائے جائیں اور حلقہ کے تمام عوام کو ان کا جمہوری حق فراہم کیاجائے ۔

12/9/2016 3:20:16 PM