Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

صرف42پولنگ اسٹیشن پر ہی نہیں بلکہ پورے این اے 250، پی ایس 112اور پی ایس 113پر دوبارہ آزادانہ پولنگ اور الیکشن کرائے جائیں ، حق پرست امیدوار این اے 250محترمہ خوش بخت شجاعت کا چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ


صرف42پولنگ اسٹیشن پر ہی نہیں بلکہ پورے این اے 250، پی ایس 112اور پی ایس 113پر دوبارہ آزادانہ پولنگ اور الیکشن کرائے جائیں ، حق پرست امیدوار این اے 250محترمہ خوش بخت شجاعت کا چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ
 Posted on: 5/13/2013
صرف42پولنگ اسٹیشن پر ہی نہیں بلکہ پورے این اے 250، پی ایس 112اور پی ایس 113پر دوبارہ آزادانہ پولنگ اور الیکشن کرائے جائیں ، حق پرست امیدوار این اے 250محترمہ خوش بخت شجاعت کا چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں حق پرست امیدواران پی ایس 112، 113علی راشد اور حافظ محمد ہیل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔13، مئی 2013ء (اسٹاف رپورٹر) 
قومی اسمبلی کے حلقہ 250کی نشست پر نامزد حق پرست امیدوار محترمہ خوش بخت شجاعت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ صرف 42پولنگ اسٹیشن پر ہی نہیں بلکہ پورے این اے 250، پی ایس 112اور پی ایس 113پر دوبارہ آزادانہ پولنگ اور الیکشن کرائے جائیں تاکہ منصفانہ طور پر حلقے کے تمام ووٹر ز کو ان کا جمہوری حق مل سکے ۔ یہ مطالبہ انہوں نے پیر کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ہونے والی ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پی ایس 112کی نشست پر نامزد حق پرست امیدوار علی راشد اور پی ایس 113کی نشست پر نامزد حق پرست امیدوار حافظ محمد سہیل بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ محترمہ خوش بخت شجاعت نے کہا کہ پولنگ کے دن این اے 250کے متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر عملہ ، انتخابی سامان سرے سے موجود ہی نہیں تھا اور پولنگ بھی بعض حلقوں میں کئی گھنٹوں کی تاخیر سے شروع ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ ہم گندگی کی سیاست نہیں کرتے اور نہ ہی سوشل میڈیا بے ہیودہ زبان استعمال کرتے ہیں ، وہ جماعتیں جو مسترد شدہ ہیں انہوں نے سب سے زیادہ شور مچایا وہ 18کروڑ کی آباد ی میں سے دو سیٹیں بھی مشکل سے نکال پائیں ہیں ۔ایک سیاسی جماعت جو چند پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کررہی ہے میرے پاس بھی ان کے خلاف ثبوت موجود ہیں میں انہیں کہنا چاہتی ہوں کہ وہ آئینی اور قانونی راستہ اختیار کریں جبکہ ہمیں پتہ ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار عارف علوی بیلٹ باکسز لے کر اپنی گاڑی میں نکلے اور انہوں نے اس کا میڈیا پر اعتراف بھی کیااور ہمارے پاس میں انتخابی دھاندلی کے ویڈیوز اور فوٹو ثبوت و شواہد موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پولنگ کے دن این اے 250کے حلقے کے پولنگ اسٹیشنوں برنس روڈ ، دہلی کالونی ، الطاف ٹاؤن ، قیوم آباد اور ڈی ایچ اے سمیت دیگر علاقوں میں نہ تو انتخابی عملہ تھا اور نہ ہی انتخابی سامان اور ووٹرز کا جوش و جذبہ تھکن میں تبدیل ہوکر مایوسی کی جانب مائل ہوگیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ آخری وقت تک پرامید رہے ۔ انہوں نے کہا کہ 11مئی کے انتخابات کا قوم کو انتظار تھا اور عوام پرجوش و پر امید تھے اور ڈٹ کر شدت پسندی اور انتہاء پسندی کے سامنے سینہ سپر تھے ، الیکشن سے قبل ڈی لمیٹیشن ، ووٹر لسٹوں کی ویری فکیشن ، دھاندلی اور دہشت گردی کے باوجود ایم کیوایم کے کارکنان نے شبانہ روز محنت کی ، حق پرست امیدواران کو عوام نے اپنے درمیان دیکھا تو تحفظ محسوس کیا اور وہ الیکشن کے دن قائد تحریک جناب الطاف حسین کی اپیل پر ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں نکلے کہ اس کی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہاکہ حب الوطن عوام کے ساتھ ووٹ ڈالنے کیلئے جوش و جذبے سے نکلے لیکن قوم نے جن اداروں پر الیکشن کرانے کی اہم ذمہ داری ڈالی صد افسوس کہ ان اداروں کے کاندھے اس ذمہ داری کو نہ اٹھا سکے ۔ محترمہ خوش بخت شجاعت نے کہاکہ ایم کیوایم منظم جماعت ہے اور انصاف کے تقاضوں پر یقین رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ آئینی و قانونی طریقے پر عمل پیرا ہیں ، ہم تصادم نہیں چاہتے اور جمہوری طریقہ کار ، بھائی چارے سے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن سڑکوں پر آنا ہمارے لئے بھی مشکل کام نہیں ہے ۔ انہوں نے این اے 250ایک پولنگ اسٹیشن تک محدود نہیں ہے یہ وسیع حلقہ ہے اس میں پوش علاقے اور بیسیوں کچی اور مضافاتی آبادیاں ہیں ، میں یہاں کی ایم این اے رہی ہوں میں نے یہاں سے طبقاتی فرق مٹانے کیلئے کام کیا اور پوش علاقوں اور کچی آبادیوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ۔ خوش بخت شجاعت نے ملکی و بین الاقوامی مبصرین ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ میرے مطالبہ پر اگر این اے 250میں دوبارہ پولنگ اور الیکشن کا عمل ہوتا ہے تو وہ اسے مانیٹر کریں اور قوم کو صحیح صورتحال سے آگاہ کریں۔
*****



12/7/2016 11:57:49 PM