Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

این اے 250، پی ایس 112اور 113پر دوبارہ پولنگ اور الیکشن کرائے جائیں ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار کا مطالبہ


این اے 250، پی ایس 112اور 113پر دوبارہ پولنگ اور الیکشن کرائے جائیں ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار کا مطالبہ
 Posted on: 5/11/2013
این اے 250، پی ایس 112اور 113پر دوبارہ پولنگ اور الیکشن کرائے جائیں ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار کا مطالبہ 
کئی پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جہاں پولنگ کا آغاز ہی نہیں ہوا ہے ،متعدد پولنگ اسٹیشن میں بیلٹ باکسز ، پولنگ کا 
عملہ اور انتخابی میٹریل تک دستیاب نہیں ہے
کچھ جانبدار تجزیہ نگار جانبداری کا مظاہرہ کررہے ہیں ، کسی صحافی اور کیمرہ مین نے لیاری کا منظرنامہ نہیں دکھایا ، فاروق ستار 
پولنگ کے دن خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں دوسری ہنگامی پریس کانفرنس خطاب 
کراچی ۔۔۔11، مئی 2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور قومی اسمبلی کے حلقہ 249کی نشست پر نامزد امیدوار ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے قومی اسمبلی کراچی کے حلقہ 250اور پی ایس 112اور پی ایس 113پر دوبارہ پولنگ اور الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ این اے 250پر دوبارہ پولنگ اور الیکشن کے ذریعے ہی حلقہ کے عوام کے جمہوری حق کو محفوظ بنایاجاسکتا ہے ۔ یہ مطالبہ انہوں نے پولنگ کے دن خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں منعقدہ اپنی دوسری ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کی ڈپٹی کنوینر محترمہ نسرین جلیل ، رابطہ کمیٹی کے ارکان رضاہارون ، واسع جلیل اور این اے 246کی نشست پر نامزد حق پرست امیدوار نبیل گبول بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاورق ستار نے این اے 250کی صورتحال بتاتے ہوئے کہاکہ دوپہر 3بجے تک کئی پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جہاں پولنگ کا آغاز ہی نہیں ہوا ہے ،متعدد پولنگ اسٹیشن میں بیلٹ باکسز ، پولنگ کا عملہ اور انتخابی میٹریل تک دستیاب نہیں ہے جبکہ اضافی بیلٹ باکسز کی فراہمی کا بھی کوئی طریقہ وضع نہیں کیا گیا ہے ایسی صورتحال میں پولنگ کا وقت بڑھانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ این اے 250کی صورتحال پر ایم کیوایم کو ہی نہیں دیگر جماعتوں کو بھی تحفظات ہیں لہٰذا انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے ہم چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ این اے 250اور اس کے صوبائی حلقوں پر دوبارہ الیکشن اور پولنگ کرائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ لیاری میں بھی این اے 248پر حق پرست امیدوار نبیل گبول کے خدشات اور تحفظات پر توجہ نہیں دی گئی اور لیاری کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر جرائم پیشہ دہشت گردوں کا قبضہ رہا اور یہاں ووٹرز کو رائے کے اظہار کا کھل کر موقع نہیں ملا اور مینڈیٹ کو ہائی جیک کرلیا گیا اسی وجہ سے حق پرست امیدوار نبیل گبول نے این اے 248لیاری اور اس کے صوبائی حلقے پی ایس 108اور پی ایس 109کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور وہاں بھی ری پولنگ اور ری الیکشن کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت الیکشن سے قبل ایسے حالت پیدا کئے گئے جو ایم کیوایم کے ووٹ بینک کو کٹ ٹو سائز کرنے کی گھناؤنی سازش تھی ، دہشت گردی ، بم حملے ، کارکنان پر فائرنگ کی گئی اور ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ ہم الیکشن مہم نہ چلا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے ووٹر ز کو خوفزدہ کرکے گھروں میں بند رکھنے کی سازش کی گئی تھی جس میں ناکامی ہوئی ، آج پولنگ اسٹیشنوں پر قطاروں کی قطاریں لگی تھیں ، ایک مذہبی جماعت نے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر جو منصوبے بنائے تھے وہ عوام کی قطاریں دیکھ کر ناکام ہوگئی اور اپنی ناپاک سازش کو خاک میں ملتے دیکھ کر راہ فرار کا راستہ اختیار کرلیا جبکہ اس جماعت کی جانب سے بڑے دعوے سے یہ بات کہی گئی تھی کہ اب کہ ہم نہیں کوئی اور بائیکاٹ کرے گا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے پی پی پی کا مقدمہ لڑا مگر اس کی مقامی قیادت نے بھی اپنی شکست کا جواز ڈھونڈنے کیلئے الزام ایم کیوایم پر لگا دیا ۔ انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ دیکھیں کہ یہ ان کی پارٹی کی پالیسی ہے یا مقامی قیادت کا فیصلہ ہے اور اس دو عملی کو اب ختم ہوجانا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان جب سے بستر علالت پر ہیں قائد تحریک اور ایم کیوایم کی جانب سے کئی بار اظہار یکجہتی کیا گیا اور دعائیہ پیغامات بھیجے گئے ، صحت یابی کیلئے دعا کی گئیں لیکن ان کے بیان سے بھی ہمیں دکھ ہوا ہے اور عمران خان کو بھی دیکھنا چاہئے کہ جس طرح پنجاب کے عوام باہر آئے ہیں اور انہیں مبارک دے رہے ہیں تو انہیں بھی کراچی کے عوام کو جرائم پیشہ مافیا اور دہشت گردوں کے منصوبے ناکام بنا کر گھروں سے نکلنے پر خراج تحسین کے دو الفاظ ضرور ادا کردینا چاہئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ متعصب اینکر پرسنز مکمل جانبداری کا مظاہرہ کررہے ہیں اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ ایک اور ایک سے زائد جماعتوں کی مہم چلا رہے ہیں جو آزادی صحافت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دکھ اس بات پر ہے کہ 20روز پنجاب میں انتخابی مہم چلتی رہی اسے ٹی وی چینلز نے فوکس کئے رکھا اور آج جب پولنگ کا دن ہے تو سارا کا سارا میڈیا کراچی پر فوکس کئے ہوئے ہے جبکہ ہمارے ساتھ رو ا رکھے گئے سلوک اور ظلم کو فوکس نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی کیمرہ صحافی اور کیمرہ لیاری نہیں گیا اور نہ اب تک کسی چینلز نے لیاری کا منظر نامہ دکھایا ہے 



12/3/2016 3:35:21 AM