Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں ،دھاندلیوں کے ذریعے بم حملے اور فائرنگ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دیکر عام انتخابات کو ہائی جیک کرلیا گیا ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار


انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں ،دھاندلیوں کے ذریعے بم حملے اور فائرنگ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دیکر عام انتخابات کو ہائی جیک کرلیا گیا ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 5/9/2013 1
انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں ،دھاندلیوں کے ذریعے بم حملے اور فائرنگ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دیکر عام انتخابات کو ہائی جیک کرلیا گیا ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
ایک مذہبی جماعت کی ایماء پر پولنگ اسکیموں کو تبدیل ، پولنگ اسٹیشنوں اور عملے میں راتوں رات رد بدل کیاجارہا ہے
انتخابی مہم کے دوران 80کارکنان کو شہید اور 6بم حملے کئے گئے ، فاروق ستار 
نگراں حکومت ، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور ریاستی اداروں کو ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے والوں نے بے بس کردیا گیا ہے اور یہ سب انتہاء پسند دہشت گردوں کے سامنے بے اختیار اور اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہوگئے ہیں، فاروق ستار 
پاکستان کے جمہوریت پسند حلقے ، دانشور اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایم کیوایم کے ساتھ جمہوریت اور پاکستان کو بھی دیوار سے لگانے کا نوٹس لیں ، ڈاکٹر فاروق ستارکی اپیل 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ڈپٹی کنوینر محترمہ نسرین جلیل اور اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی (اسٹاف رپورٹر)9، مئی 2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور این اے 249کی نشست پر نامزد امیدوار ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے والوں نے نگراں حکومت ، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور ریاستی اداروں کو بے بس کردیا ہے اور یہ تمام انتہاء پسند دہشت گردوں کے سامنے بے اختیار اور اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایک مذہبی جماعت کی ایماء پر پولنگ اسکیموں کو تبدیل اور پولنگ اسٹیشنوں اورپولنگ عملے میں راتوں رات ردو بدل کیاجارہا ہے ، انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں اور دھاندلی کے ذریعے بم حملے اور، فائرنگ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دیکر عام انتخابات کو ہائی جیک کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام انتخابات کے موقع پر جوکچھ ہورہا ہے یہ جمہوریت اور ملک کیلئے اچھا شگون نہیں ہے ، یہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے کیونکہ ایسے انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومت اپنے ساتھ مصیبت لارہی ہے اور اس حکومت کی قومی وصوبائی اسمبلی میں یہ بازگشت گونجتی رہے گی کہ 2013کے عام انتخابات جھرلو انتخابات تھے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں جمعرات کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کی ڈپٹی کنوینر محترمہ نسرین جلیل ، رابطہ کمیٹی کے اراکین رضاہارون ، کنور خالد یونس اور واسع جلیل بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن 2013پاکستان کی تاریخ کے انتہائی مختلف طرح کے الیکشن ہیں ، ناگزیر وجوہات کی بناء پر ایم کیوایم روایتی طور پر انتخابی مہم چلانے کی پوزیشن میں نہیں تھی ، ایم کیوایم سندھ کی دوسری ملک کی تیسری اورکراچی کی سب سے بڑی جماعت ہے ، 87ء سے 9انتخابات میں ایم کیوایم کی کامیابی عوام کے سامنے رہی ہے تاہم ، ایم کیوایم سے ماضی میں 9انتخابات میں شکست کھانے کے باوجود روایتی طور پرشکست خوردہ عناصر اپنی سازشوں سے باز نہ آئے اور نئے انداز سے ایم کیوایم کو خصوصی طور پر دہشت گردی کا نشانہ بنا یا گیا اور جرائم پیشہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ایسی صورتحال میں عام انتخابات کے دوران ایم کیوایم کیلئے کراچی میں بڑا جلسہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ، پوری انتخابی مہم کے دوران بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے جمہوریت اور شہریوں کو یرغمال بنا یا گیا ، ایم کوایم کو محدود کرنے اور اس کے مینڈیٹ پر ڈاکے کی سازش ایک عرصہ سے جاری ہیں ، وہ جماعتیں جو 9انتخابات میں ایم کیوایم کی نمایاں اور بھاری اکثریت سے کامیابی کو دل سے نہیں مانتی اس مرتبہ بھی یہ خواہش لے کر اتری ہیں کہ کسی طرح ایم کیوایم کے مینڈیٹ کو تقسیم کرکے یرغمال بنا کرزبردستی چھینا جائے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایم کیوایم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے مختلف مراحل میں عملدرآمد کیا گیا ، پہلا مرحلہ ڈی لیمیٹیشن ہے جو 98ء کی مردم شماری پر دوسری بار کی گئی ۔ جب ہم نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تو ہماری اپیل کو انتخابات سے 4دن پہلے مسترد کردیا گیا اور اتنا موقع بھی نہیں دیا گیا کہ ہم سپریم کورٹ سے رجوع کرتے لیکن ہم الیکشن کے بعد سپریم کورٹ جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن سے قبل ہی حلقہ بندیوں کے ذریعے غیر امتیازی اور غیر جانبدارانہ سلوک ایم کیوایم کے ساتھ شروع کردیا گیا اور انتخابی میدان کو ایم کیوایم کیلئے بند کرنے کی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جارہے تھے کہ انتہاء پسند دہشت گردوں نے اپنے منصوبے پر عملدرآمد کیا اور ایم کیوایم حیدرآباد کے امیدوار فخر الاسلام کو بیدردی سے فائرنگ کرکے شہید کردیا ،ایم کیوایم کی انتخابی سرگرمیوں پر حملے کئے گئے ، 6مرتبہ بموں سے نشانہ بنایا گیا ایک حملہ تو بالکل نائن زیرو کے قریب ہوا جو ہمارے لئے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے والوں کی جانب سے واضح پیغام تھا کہ انہوں نے طے کرلیا ہے کہ کسی طرح بھی ایم کیوایم کو انتخابات میں لڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تاہم ہم نے ہمت کی گھر گھررابطوں کا سلسلہ شروع کیا ، مختلف برادریوں سے ملاقاتیں کیں لیکن دہشت گردی کے ذریعے ہمیں مجبور کیا گیاکہ ہم انسانی جانوں کو بچانے کی خاطر اپنی انتخابی مہم بند کردیں ،تاہم ایم کیوایم نے زہر کا یہ گھونٹ بھی پیا ، مشکل حالات کے باوجود سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور عوام میں محدود انتخابی مہم کوجاری رکھا صرف اس لئے کہ ہم نے عز م کررکھا ہے کہ عام انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ کراچی میں جن علاقوں میں پاکستان کے ریاستی ادارے جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کرنے سے قاصر ہیں ، جہاں رینجرز اور ایم کیوایم کے کارکنوں کو اغواء کے بعد بیدردی سے قتل کیا گیا وہاں کے پولنگ اسٹیشن حساس تک بھی قرار نہیں دیئے گئے اور یہ عمل واضح طور پرانتخابات سے قبل دھاندلی کی نشاندہی کررہا ہے ، انتظامیہ کی جانب سے شکست خوردہ عناصر اورمذہبی جماعت کو خوش کرنے کیلئے پاکستان کو عام انتخابات کے ذریعے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے حوالے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، سیاسی و جمہوری عمل کو دیوار سے لگادیا گیا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کے ضابطے دہشت گرد دے رہے ہیں کہ کون جماعتیں الیکشن لڑیں گی اور کون نہیں ، جو دہشت گرد بم دھماکے کررہے ہیں ، امیدواروں کو نشانہ بنارہے ہیں اور ذمہ داریاں قبول کررہے ہیں ان سے نگراں حکومت غافل ہے ۔ انہوں نے پاکستان کے جمہوریت پسند حلقوں ، دانشوروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کو دیوار سے لگایاجارہا ہے لیکن ایم کیوایم کے ساتھ جمہوریت اور پاکستان کو بھی دیوار سے لگا یاجارہا ہے ۔ایم کیو ایم بین الاقوامی مبصرین کے سامنے بھی اپنا مقدمہ رکھے گی ۔ انہوں نے کہا یہ انتخابات اس لئے جھرلو ہیں کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور امیدوار علی حیدر گیلانی کو دن دیہاڑے دیدہ دلیری کے ساتھ کارنر میٹنگ میں لوگوں کو یرغمال بنا کر اغواء کرلیا جاتا ہے اس کے بعد کوئی کسر باقی نہیں رہ جاتی کہ یہ انتخابات شفاف اور آزادانہ ہورہے ہیں ، ایسے انتخابی عمل پر اعتماد کیسے کیاجائے؟ انہوں نے بتایا کہ مارچ سے اب تک ہمارے 80کارکنان و ہمدرد انتخابی مہم کے دوران شہید ہوچکے ہیں ، لیاری ، پا ک کالونی ، سہراب گوٹھ ، اولڈ سٹی ایریا ، منگھو پیر ، بلدیہ ، اسکیم 33کے بعض علاقے ایم کیوایم کے امیدواروں اور ووٹر ز کیلئے نوگو ایریا بنے ہوئے ہیں ، نبیل گبول ایم کیوایم کے لیاری سے نامزد امیدوار ہیں جو ایک دن بھی اپنے علاقے میں جاکر مہم نہ چلاسکے ، انہوں نے سندھ ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ میں پٹیشن کی ہے کہ ان کے حلقے میں 133پولنگ اسٹیشن ہین انہیں حساس ترین قرار دیاجائے لیکن انہیں نارمل قرار دیدیا گیا جبکہ میرے حلقے میں 35پولنگ اسٹیشن ہیں جن کو حساس ترین قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی انہیں بھی نارمل قرار دے دیا گیا اور وہ علاقے جہاں رینجرز پولیس آزادی سے آجاسکتی ہے انہیں حساس ترین قرار دے دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی صورتحال یہ ہے کہ لانڈھی میں چند روز سے حقیقی دہشت گرد فائرنگ کرکے حق پرست عوام کو ہراساں کررہے ہیں اور اس دہشت گردی میں لیاری گینگ وار کے دہشت گرد حقیقی دہشت گردوں کے ساتھ کارروائی کرتے دیکھے گئے ہیں اور انتظامیہ کا رویہ مکمل جانبدارانہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسی صورتحال میں جہاں دہشت گردوں کو کھل کرآزادی دی گئی ہو وہاں ہواور انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہمارے کارکنان کو گرفتارکیاجارہا ہے ، پاک کالونی سیکٹر کے انچار ج دلاور پانچ روز سے گرفتار ہیں اور انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے ، ایم کیوایم کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے گئے ہیں اور یہ عمل جمہوریت ، پاکستان کے خلاف سازش ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عام انتخابات میں ملک کے قومی اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اس شہر کے ساتھ ایسا سلوک کیاجارہا ہے تو پھر کوئٹہ اور پشاور میں کیا کیاجارہا ہوگا ۔ڈاکٹر فاروق ستار نے SOSاپیل کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم انتخابی عمل اور جمہوریت اور ملک بچانے کی بات کررہی ہے تاہم تمام تر سازشوں کے باوجود جناب الطاف حسین کی اپیل ہے کہ عوام ایم کیوایم کی انتخابی مہم اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور 11مئی کے دن اپنے گھروں سے ضرور نکلیں اورپتنگ پر مہر لگاکر جمہوریت اور ملک کے خلاف گھاؤنی سازش کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ انہو نے کہاکہ 11مئی کو متحدہ قومی موومنٹ بھاری اکثریت کے ساتھ پاکستان کے عوام کو بڑی تعداد میں نشستیں حاصل کرکے خوشگوار حیرتوں کے تحفے دے گی ۔



12/8/2016 1:56:28 AM