Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی کو پیسہ بھیک کی طرح دیاجا تا ہے حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ کراچی کے لوگ انہیں پیسہ بھیک کی طرح دیں، نامزد حق پرست امیدوار کنو ر نوید جمیل ایڈووکیٹ


کراچی کو پیسہ بھیک کی طرح دیاجا تا ہے حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ کراچی کے لوگ انہیں پیسہ بھیک کی طرح دیں، نامزد حق پرست امیدوار کنو ر نوید جمیل ایڈووکیٹ
 Posted on: 4/18/2015
کراچی کو پیسہ بھیک کی طرح دیاجا تا ہے حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ کراچی کے لوگ انہیں پیسہ بھیک کی طرح دیں، نامزد حق پرست امیدوار کنو ر نوید جمیل ایڈووکیٹ 
جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی پاکستان تو کیا پوری دنیا سے اپنے لوگ بلا لیں تو اتنا بڑا جلسہ نہیں کرسکتیں ، کنورنویدایڈووکیٹ 
حلقہ این اے 246کے عوام طالبان کے سرپرستوں کوبتا دیں گے کہ کراچی میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے، کنورنوید ایڈووکیٹ 
این اے 246کی انتخابی مہم کے سلسلے میں لیاقت آباد فلائی اوور پر منعقد ہونے والے عظیم الشان انتخابی جلسہ کے شرکاء سے خطاب 
کراچی ۔۔۔18، اپریل 2015ء 
این اے 246کی نشست پرنامزد حق پرست امیدوار کنور نوید جمیل نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کا جلسہ پورے پاکستان کا جلسہ نہیں ہے یہ جلسہ پورے کراچی کا جلسہ بھی نہیں ہے ، یہ جلسہ پورے ڈسٹرکٹ سینٹرل کا جلسہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ جلسہ صرف این اے 246کا جلسہ ہے اور اس جلسے میں اتنے لوگ موجود ہیں جتنے لوگ اگر جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی پاکستان تو کیا پوری دنیا سے اپنے لوگ بلا لے تو اتنا بڑا جلسہ نہیں کرسکتیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ اس بات کی دلیل اور ثبوت ہے کہ کراچی کے لوگ زندہ لاشیں نہیں زندہ قوم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 23اپریل کو حلقہ این اے 246کے عوام طالبان کے سرپرستوں کوبتا دیں گے کہ کراچی میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ شب لیاقت آباد فلائی اورر پر این اے 246کی نشست پر ہونیو الے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں منعقدہ عظیم الشان جلسہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسہ سے رابطہ کمیٹی کے اراکین عظیم فاروقی ، حیدر عباس رضوی ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی خطاب کیا ۔ کنور نوید جمیل ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی کے عوام کو اپنی قیادت اور اپنے قائد کے بارے میں بھی معلوم ہے اور اپنے دوستوں اور دشمنوں کو بھی پہچانتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ کراچی کے لوگوں سے اگرکوئی مخلص ہے تو محترم جناب الطاف حسین یا متحدہ قومی موومنٹ ہے یہی جماعت ہے جو کراچی کے لوگوں کے ہر دکھ اور درد میں کھڑی رہی اور ان کے ہر درد اور خوشی کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی ان لوگوں کا شہر ہے جنہوں نے پاکستان بنانے کیلئے پندرہ لاکھ جانوں کی قربانی دی اور 1947ء سے پورے پاکستان کو پال رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کے بجٹ سے ہر سو روپے میں سے ستر روپے کراچی سے جاتے ہیں جبکہ صوبے کے بجٹ میں سے ہر سو روپے میں سے پچانوے روپے کراچی سے جاتے ہیں لیکن کراچی کی گلی گلی ، کوچے کوچے میں لوگ پانی جیسی بنیادی ضرورت کیلئے ترس رہے ہیں اور پریشان ہورہے ہیں یہ پریشانی لاہور ، فیصل آباد، سیالکوٹ ، لاڑکانہ ، پشاور ، کوئٹہ کے شہریوں کو نہیں ہے یہ پریشانی اس شہر کے لوگوں کی ہے جن کے پیسے سے سارے پاکستا ن کے شہروں میں ترقی ہوتی ہے ، ترقیاتی کام ہوتے ہیں جن سے پاکستان چلتا ہے اور پاکستان بنتا ہے اس کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی کی نمائندگی کہیں نہیں ہے وفاقی حکومت جس کے تمام اخراجات کا ستر فیصد کراچی ادا کرتا ہے یہ کراچی پر ایک روپیہ لگانے کو تیار نہیں ہیں ، یہ کراچی کو پیسہ بھیک کی طرح دیتے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ کراچی کے لوگ انہیں پیسہ بھیک کی طرح دیں جبکہ سندھ حکومت جس کی پچانوے فیصد آمدنی کراچی سے ہوتی ہے وہ بھی کراچی پر ایک پیسہ لگانے کیلئے تیار نہیں ہے اور وفاقی اور صوبے کی حکومت میں کراچی کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ، جتنے افسران یہاں بیٹھے ہیں ، پولیس ،انتظامیہ یا بلدیات کے ہوں ان میں کوئی کراچی کا نہیں ہے ، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت اپنے لوگوں کو یہاں اس لئے تعینات کرتی ہے کہ یہاں وہ لوٹ مار کریں اور یہاں کا پیسہ یہاں کے لوگوں کی جیبوں سے نکال کر اربوں اور کھربوں روپے کی رشوت لیکر چلے جائیں اور کراچی کی سڑکوں پر جو لوگ کراچی کے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں ، بنکوں اور کراچی کے کارخانوں کو لوٹ رہے ہیں وہ بھی کراچی کے نہیں ہیں ہر طرف سے کراچی کو لوٹا جارہا ہے اور جرائم روکنے والوں اور کرنے والوں میں آپس میں پارٹنر شپ ہے ، جب ہی یہ اسلحے کا کاروبار کراچی سے ختم نہیں ہوتا ، کراچی میں ایک گولی نہیں بنتی یہ تمام اسلحہ قبائلی علاقوں سے چلتا ہے ، پورا خیبرپختونخوا ، پنجاب ، سندھ سرحد کو عبور کرتا ہے اس کے بعد یہ کراچی پہنچتا ہے کہاں ہیں وہ ادارے ، کہاں ہیں وہ ایجنسیاں جو کراچی میں اسلحہ کی بات کرتی ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے اس مذموم کاروبار کی وجہ سے کراچی میں امن قائم نہیں ہونے دیتے تاکہ کراچی میں ہتھیاروں کی کھپت رہے ، کراچی کے لوگ ان تمام لوگو ں کو سمجھ چکے ہیں اور پہچان چکے ہیں ، اب کراچی کے لوگ کسی کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 23اپریل کو یہ طالبان سرپرستوں کو بتا دیا جائے گا کہ کراچی میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ 

12/9/2016 8:59:59 PM