Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کونسا فیصلہ درست ۔۔۔تحریر: ارشدحسین


کونسا فیصلہ درست ۔۔۔تحریر: ارشدحسین
 Posted on: 5/7/2013 1

  کونسا ...فیصلہ درست 

[email protected] تحریر: ارشدحسین 
بارہ اکتوبر 1999کا فیصلہ درست یا غلط ،تین فروری 2007ء کی ایمر جنسی کا فیصلہ درست یا غلط ، قابل معافی کون ،قابل گردن زنی کون ؟بارہ اکتوبر 1999ء کو منتخب حکومت کو برطرف کر کے آئین کو معطل کر کے قبضہ کرلینا تو جائزہے اور تین سال کی مہلت مل جائے اورمعزز ججزحضرات پی سی او کے تحت حلف بھی اٹھا لیں یہ عمل بھی درست سمجھ لیا جائے ۔
اب یہاں ایک سوال اور زہن میں گرد ش کر رہا ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے ایک شخص بغیر نکاح کے 1999میں زنا کر ے تو کیا حد زنا لگے گی ؟اور 3فروری 2007کو وہی شخص زنا کرے تو بھی زنا بالجبر یا زنا کی حد لگے گی یا نہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں گونج رہے ہیں ،مگر سوال یہ ہے کہ ان سوالوں کے جوابات کس سے دریافت کریں ، کیونکہ ہرانسان اب ڈرنے لگا ہے کہ پتہ نہیں اس کے منہ سے نکلا ہوا کوئی لفظ یا جملہ اس کیلئے مصیبت نہ بن جائے۔
اس قدر خوف ہے کہ اس ملک کے لو گ
چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ 
سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو ان کے ہی فارم ہاؤس چک شہزاد اسلام آباد میں نظر بند کرکے ان پر متعدد مقدمات قائم کئے جارہے ہیں جس میں بے نظیرقتل کیس ،لال مسجد ،اکبر بگٹی سمیت دیگر شامل ہیں مگر ان سب میں افضل جو مقدمہ ان پر عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ پرویز مشرف صاحب کی جانب سے ملک میں تین نومبر2007ء کی ایمر جنسی ہے ملک کے آئین کو توڑنے کے زمرے میں شامل کر کے ان پر آرٹیکل 6کے تحت غدار ی کا مقدمہ بنانے کیلئے سر تو ڑ کوشش کی جارہی ہیں ۔اب سوچنے کی بات ہے کہ اگر ملک میں ایسے سنگین اقدامات اٹھائے گئے تو کیا پاک فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف اور ملک کے صدر کے منصب پر فائز ہونے والا فرد ایسا کام اکیلا انجام دے سکتا ہے؟ کیا ان ا ہم فیصلوں میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہوگی؟ کوئی اجلاس نہیں بیٹھا ہوگا ؟اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کی مشاورت شامل نہیں کی گئی ہوگی ؟
اگر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6لگے گا تو اسی آرٹیکل کی کلاز بی123شق کا اطلاق ان ججز ز ( جنہوں نے آئین میں ترامیم کی اجازت دی یا پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ) اور وہ سیاستد ان جوان کے معاون بنے ان پر بھی صادق آتا ہے کیونکہ آرٹیکل 6کلاز ۔۔۔۔۔۔ کے مطابق جو۔۔۔۔۔۔ ؟لہٰذامارچ 1956 ء سے جتنی بھی سیاسی اور فوجی شخصیات نے آئین کو توڑا ہے اور خلاف ورزی کی ہے ان سب کو بھی قانون کے کٹہر ے میں ہونا چاہئے ، جس میں جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ خان ، جنرل ضیاء الحق، ذالفقار علی بھٹو،نوازشریف سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں پھر یہ سب کیوںآرٹیکل 6سے بری الذمہ ہیں کیا ان پر یہ آرٹیکل لاگو نہیں ہوتا ہے؟ 
یہ بھی المیہ ہے کہ ملک کے پہلے وزیراعظم کو راولپنڈی کے جلسے میں گولی ماردی گئی، سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کو پھانسی دیدی گئی،اس کے بیٹوں کوشہید کردیا گیا ، سندھ کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو شہیدکیاگیا اور جب بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والے سیاستداں کامعاملہ آیاتو انہیں عدالت سے عمر قید کی سزاہونے کے باوجود انکے پورے خاندا ن اور100 صندوقوں سمیت سعودی عرب کے محلوں میں بھیج دیاگیا، آخریہ کہاں کاانصاف ہے؟ جنرل پرویزمشرف پر آئین توڑنے کامقدمہ چلانے کی بات کی جارہی ہے کہ ان پر کونسا مقدمہ چلا یا جائے او رکونسا مقدمہ نہ چلا یا جائے۔ 12اکتوبر1999ء کو جب فوج کے چند جرنیلوں نے منتخب حکومت کو بر طر ف کر کے اس پر قبضہ کیا تھا آئین تو اسی دن ٹوٹ گیا تھا لہٰذا اسی دن سے سب کے خلاف مقدمہ چلایا جائے ۔ اگر جنرل پرویز مشرف پر مقدمہ ثابت ہوجائے تو انہیںآئین و قانون کے تحت سز اد ی جائے لیکن جو دیگر لوگ سز اوار ہوں انہیں بھی فرار نہ ہونے دیا جائے بلکہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جارہا ہے اور اگر وہ جائز ہے تو پھر اصغر خان کیس میں پیسے لینے والے آئی جے آئی کے تمام رہنماؤ ں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں جیلوں میں بندکرکے ان پر بھی مقدمات چلایا جائے، اتنا ضرور ہے کہ آج جنرل پرویزمشرف کے ساتھ جوکچھ کیا جارہاہے اس سے فوج اورحساس اداروں کی نہ صرف بدنامی ہورہی ہے بلکہ دشمن ممالک میں اس عمل پر خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔سابق صدر جنرل پرویز مشرف پاکستان کے شہری ہیں انہوں نے پاکستان آکر اپنی عبوری ضمانتیں کروائیں ، خود کوعدالت میں پیش کیا اور انہوں نے ایک سچے ،بہادر، اور نڈر پاکستانی ہونے کا صرف ثبوت ہی پیش نہیں کیابلکہ پاک فوج کے ادارے کے تقدس کا بھی بھرم رکھا جو غیر ممالک میں ہونے کے باوجود ملک میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنے کیلئے عدالتوں کا سامناکر رہے ہیں ان کے اس عمل سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ملک کی عدلیہ کا بھی احترام کر تے ہیں آج وہ ایک اسیر کی زندگی گزاررہے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان، الیکشن کمیشن آف پاکستان اورنگراں حکومت کا آئین وقانون کے مطابق یہ فرض ہے کہ وہ جنرل پرویزمشرف کو خود پر لگائے گئے الزامات کے دفاع کا بھرپورموقع فراہم کرنے میں اپنا اہم کر دار ادا کریں ۔ جو رویہ جنرل پرویز مشر ف کے ساتھ اختیار کیا جارہا ہے اور یہ بھی طے کر لیا گیا ہے کہ ملک میں آئند ہ کوئی آئین کو نہ توڑے او رکوئی غیر آئینی کام نہ ہو تو پھر ملک میں حکمرانی کرنے والے ،فوجی افسران سمیت دیگر اہم اداروں کے سربراہان پر کڑی نظر رکھنی ہوگی اور جیسے ہی وہ اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوں فوراً ہی ان پر احتساب کے دروازے کھول دیئے جائیں اور انہیں ملک سے باہر نہ جانے دیا جائے اورپاکستان کوپسند و ناپسند کے نظام سے نکال کرانصاف کانظام قائم کرتے ہوئے سب کے ساتھ آئین وقانون کے تحت یکساں سلوک ہونا چاہئے ۔جومقدمات جنرل پرویز مشرف پر چلانے کی کوشش ہورہی ہے ان میں سے لال مسجد کمیشن کی یہ رپورٹ جس میں واضح ہے کہ لال مسجد ،جامعہ حفصہ آپر یشن میں کل 103افراد جاں بحق ہوئے جبکہ اس میں کوئی خاتون جاں بحق نہیں ہوئیں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اس کمیشن کی رپورٹ کو عام کیا گیا ہے جو 142 صفحات پر مشتمل ہے ، خاص بات یہ ہے کہ اس آپر یشن میں جو فوجی جوان شہید ہوئے ان کا کوئی ذکر تک نہیں کررہا ۔ دوسری اہم بات یہ کہ معروف کالم نویس ازخود اکبر بگٹی قتل کے حوالے سے یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ اکبر بگٹی نے خود کشی کی ہو جو یقیناًمعنی ٰخیز ہے ، جبکہ بے نظیر قتل کیس کے حوالے صدر آصف علی زرداری کے وہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بی بی کی سیکورٹی پر میر ے جیل کے دوست متعین تھے ۔ 
اب یہ الگ بحث ہے کہ پرویز مشرف کو انصاف فراہم ہوسکے گا یا نہیں کیونکہ جہاں ایسے جج موجود ہوں جو مذہبی جماعت کی جانب سے انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہوں ، او ر لال مسجد کے اہم رہنما ء کے وکیل بھی رہ چکے ہوں اور وہ پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ کریں اور گرفتاری کا حکم صادر فرمائیں اور جہاں وکلاء کی یہ بھی خواہش ہو کہ وہ ملزم کو ہتھکڑی میں دیکھنا چاہتے ہوں تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے 
*****


12/10/2016 8:16:56 PM