Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے لاکھوں رضاکار، دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے شانہ بشانہ جدوجہد کیلئے تیار ہیں، الطاف حسین


ایم کیوایم کے لاکھوں رضاکار، دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے شانہ بشانہ جدوجہد کیلئے تیار ہیں، الطاف حسین
 Posted on: 5/4/2013 1
ایم کیوایم، پاکستان کو قائد اعظم محمدعلی جناحؒ اور علامہ اقبال ؒ کے وژن کا پاکستان بنانا چاہتی ہے
پاکستان میں 65 برسوں سے چند مخصوص خاندان چہرے بدل بدل کر حکومت میں آتے رہے ہیں
پاکستان میں کرپشن سے پاک معاشرہ اور قومی خزانے میں لوٹ مارکرنے والوں کا محاسبہ چاہتے ہیں
ثابت کردیا جائے کہ الطاف حسین نے ایک گز زمین بھی حاصل کی ہے تو میں سیاست سے علیحدہ ہوجاؤں گا
پنجاب کے ایک سابق وزیراعلیٰ نے طالبان سے کہاکہ تم جو نظام چاہتے ہوہم بھی وہی چاہتے ہیں
کیا پنجاب کی خواتین یہ چاہتی ہیں کہ طالبات کے اسکولوں کو دھماکوں سے اڑا دیا جائے ؟ 
لندن۔۔۔4،مئی2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے مسلح افواج کو دوبارہ پیشکش کی ہے کہ ایم کیوایم کے لاکھوں رضاکار، دہشت گردی کے خلاف اس جدوجہد میں پاک فوج کے شانہ بشانہ جدوجہد کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کی جدوجہد کسی فرد یا خاندان کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کے غریب ، مظلوم اور محروم عوام کے جائز حقوق کیلئے ہے ، ہم اپنے لئے کچھ نہیں چاہتے بلکہ پاکستان کو قائداعظم محمدعلی جناحؒ اور علامہ اقبال ؒ کے وژن کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے گلشن راوی لاہور میں ایم کیوایم کے انتخابی جلسہ سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان کی روشن خیال اور اعتدال پسند جماعت ہے جو بین المذاہب اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ ایم کیوایم ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے پاکستان کی 65 سالہ روایتی سیاست اور فرسودہ جاگیردارانہ کلچر میں شگاف ڈال کرغریب ومتوسط طبقہ کے ایماندار اور تعلیم یافتہ افراد کو سینیٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں بھیجا۔ پاکستان میں 65 برسوں سے چند مخصوص خاندان چہرے بدل بدل کر حکومت میں آتے رہے ، موروثی اور خاندانی سیاست کرتے رہے اور پاکستان کے غریب عوام کو سہانے خواب دکھا کر ان کی معصومیت سے کھیلتے رہے جس کے باعث ملک کے غریب عوام غریب سے غریب تر اور امیر، امیرسے امیرتر ہوتے رہے ۔ ملک کے اقتدارپر قبضہ کرنے والے ان چند خاندانوں کی تعداد میں آج پانچ گنا اضافہ ہوگیاہے ۔ آج بھی وہ مخصوص خاندان اوران کی اولادیں اقتدار کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ گزشتہ 35 برسوں سے ملک بھر کے محروموں اور مظلوموں کے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے اور حق پرستی کی اس جدوجہد کی پاداش میں ایم کیوایم کو سب سے زیادہ ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا گیا، الطاف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف سب سے زیادہ منفی پروپیگنڈہ کیا گیا تاکہ ملک بھر کے غریب عوام خصوصاً پنجاب کے عوام کو ایم کیوایم سے بدظن کیاجاسکے اورملک میں جاری فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو قائم رکھا جاسکے ۔ استحصالی قوتوں نے ایم کیوایم پر طرح طرح کے الزامات لگائے ، اگران الزامات میں سچائی ہوتی تو ایم کیوایم پر بہتان تراشی کرنے والی سیاسی جماعتیں ایم کیوایم سے اتحاد کرکے مخلوط حکومت نہ بناتیں۔ایم کیوایم مختلف مخلوط حکومتوں میں شامل رہی لیکن مخلوط حکومتوں میں شامل ہونے کے بعد الطا ف حسین نے لاہور، اسلام آباداورمری میں اپنے محل نہیں بنائے اورنہ ہی خود کو امیر ترین فرد بنایا۔الطاف حسین کل بھی 120 گزکے مکان میں رہتا تھا آج بھی اسی گھر
میں رہتا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور سید مصطفی کمال ،کراچی کے میئر رہے ہیں، اگر یہ کرپٹ ہوتے میئر بننے کے بعد کراچی کے پوش علاقوں میں اپنے محلات تعمیر کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔اس لئے کہ میں نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو ایمانداری کا درس دیا ہے ، ان کاقائد بے ایمانی ، دھوکہ بازی اور کرپشن کے خلاف ہے ۔انہوں نے خفیہ اداروں اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کو چلینج دیتے ہوئے کہاکہ اگرانہوں نے ثبوت وشواہد سے ثابت کردیا کہ الطاف حسین نے اپنے یا اپنے خاندان کیلئے پاکستان میں ایک گز بھی زمین حاصل کی ہے تو میں نہ صرف سیاست سے علیحدہ ہوجاؤں گابلکہ ہرکڑی سزا بھی بھگتنے کیلئے تیار ہوجاؤں گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سازشی عناصر نے نبی آخرالزماں ؐ کو بھی نہیں بخشا اور ان پر بھی طرح طرح کے بہتان لگانے سے باز نہ آئے ۔ جب مکہ معظمہ میں سرکاردوعالم ؐ اورصحابہ کرامؓ کی زندگی اجیرن بنادی گئی تو آپؐ کو صحابہ کرامؓ کے ہمراہ مکہ چھوڑ کرمدینہ ہجرت کرنی پڑی ۔ سرکاردوعالم ؐ کی سنت پر چلتے ہوئے الطاف حسین بھی تحریک کی خاطر ہجرت کرکے22 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہے لیکن ان برسوں میں کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب الطاف حسین کا اپنے رہنماؤں ، ذمہ داروں اور کارکنوں سے رابطہ نہ ہوتا ہو۔انہوں نے کہاکہ جو آج غریبوں کے سب سے بڑے ہمدرد بنے ہوئے ہیں ان سیاسی رہنماؤں سے پنجاب کے عوام کوسوال کرنا چاہئے کہ اقتدار میں آنے کے بعدان کی جائیدادوں ، محلات اور شوگر ملوں میں اضافہ کیسے ہوگیا۔الطاف حسین اورایم کیوایم 35 برسوں سے مختلف مخلوط حکومتوں میں شامل رہے لیکن نہ تو الطاف حسین کے محلات ہیں اورنہ ہی شوگرملیں ہیں، الطاف حسین نے اپنے بہن ، بھائی یابھانجے بھتیجے کو الیکشن میں ٹکٹ نہیں دیئے لیکن جب تحریک کیلئے قربانی دینے کاوقت آیا تو اپنے 70 سالہ بڑے بھائی ناصر حسین اور 28 سالہ بھتیجے عارف حسین کو قربانی کیلئے پیش کردیا لیکن ان قربانیوں کے عوض کوئی صلہ نہیں مانگا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کی جدوجہد کسی فرد یا خاندان کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کے غریب ، مظلوم اور محروم عوام کے جائز حقوق کیلئے ہے ، ہم اپنے لئے کچھ نہیں چاہتے بلکہ پاکستان کو قائداعظم محمدعلی جناحؒ اور علامہ اقبال ؒ کے وژن کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ایم کیوایم ، پاکستان میں کرپشن سے پاک معاشرہ قائم کرنا چاہتی ہے ، فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام ختم کرکے ملک پر غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی چاہتی ہے تاکہ قومی خزانے میں لوٹ مارکرنے والوں کا محاسبہ کیاجاسکے جنہوں نے 65 برسوں میں پاکستان کے 98 فیصد غریب ومتوسط طبقہ کے عوام اوران کے بچوں کو بھوک ، افلاس، مہنگائی، غربت اور پسماندگی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم حق پرستی کے نظریہ کے فروغ کیلئے جدوجہد کررہی ہے اورملک میں ایسا نظام قائم کرناچاہتی ہے جہاں امیراورغریب کے بچوں کو صحت اور تعلیم کے یکساں مواقع میسر ہوں، ملک سے موروثی سیاست، پٹواری کلچر اور غنڈہ گردی کے کلچرکاخاتمہ ہو۔ اگر ایم کیوایم کو اقتدارمیں آنے کا موقع ملا تو ہم قومی خزانہ لوٹ کرمحلات بنانے والوں کے محلات واپس لیکروہاں اسکول، کالج، اسپتال اور خواتین کیلئے انڈسٹریل ہوم قائم کریں گے۔جناب الطاف حسین نے پنجاب کے عوام سے کہاکہ وہ طلسماتی نعروں کے پیچھے بھاگنا چھوڑدیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پنجاب کے عوام نے الطاف حسین اور اس کے ساتھیوں کی زندگی اور قربانیاں نہیں دیکھیں؟ ہم آپ کو وہ مراعات نہیں دے سکتے اوروہ بلند وبانگ نعرے نہیں لگاتے جو دوسرے سیاسی لیڈران کرتے ہیں لیکن ہم آپ کو پیار اوراپنایت دے سکتے ہیں۔ میں لاہور کے تمام نوجوانوں، ماؤں ، بہنوں اوربزرگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بہت جلدوہ وقت آئے گا اسی شہر لاہور کے مینارپاکستان پر ایم کیوایم کا ایساجلسہ ہوگا جو پاکستان کی تاریخ کے تمام بڑے بڑے جلسوں کاریکارڈ توڑ دے گا۔ انشاء اللہ ایک دن آئے گا جب طلبہ وطالبات، نوجوان، مائیں ، بہنیں، بزرگ اور بچے ہرطرف سے جاگیرداروں اوروڈیروں کے خلاف ایم کیوایم کے جھنڈے لیکر نکلیں گے اور ملک میں انقلاب لائیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے اہلیان لاہور سے سوال کیا کہ میں نے آپ سے ماضی میں جوبھی باتیں کیں کیا ان میں سے کوئی غلط ثابت ہوئی؟ جس پر شرکاء نے کہا’’جی نہیں‘‘ انہوں نے کہاکہ جب میں نے چند سال قبل طالبانائزیشن کے بارے میں اپنے خدشات کااظہار کیا تو میرا مذاق اڑایا گیالیکن آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ میری باتیں درست تھیں۔ طالبان کے دہشت گرد، ایم کیوایم ، پیپلزپارٹی اور اے این پی
کے خلاف نہ صرف دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں بلکہ مسلسل ان جماعتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بھی بنارہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنوں وہمدردوں کو شہید وزخمی کردیا گیا ہے ،ہمارے دفاتر پر بموں سے حملے کیے جارہے ہیں ، پی پی پی اور اے این پی کو بھی نشانہ بنایاجارہا ہے لیکن ان دھماکوں اور حملوں کے باوجود ہم ڈٹے ہوئے ہیں کیونکہ ہم بزدل نہیں ہیں اور آج کایہ جلسہ بھی اس بات کاثبوت ہے کہ ہمارے حوصلے کل کی طرح آج بھی بلند ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پنجاب کے ایک سابق وزیراعلیٰ نے طالبان سے کہاکہ تم جو نظام چاہتے ہوہم بھی وہی چاہتے ہیں۔ آج پورے ملک میں دھماکے ہورہے ہیں ، لاشیں گرائی جارہی ہیں جبکہ پنجاب میں پورے زوروشور سے انتخابی مہم چلائی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم اس بات پرخوش ہیں اوردعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ پنجاب میں امن وامان قائم رکھے لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ باقی ملک میں بھی امن وامان ہوااوروہاں بھی سکون واطمینان سے انتخابی مہم چل سکے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہا کہ طالبانائزیشن کے بارے میں میں نے جوباتیں کہی تھیں ان پر توجہ دے لی جاتی تو شائد آج یہ حالات نہ ہوتے ۔ طالبان نے صرف ہمارے ساتھیوں اور عام شہریوں کوہی قتل نہیں کیا ہے بلکہ تلواروں سے پاک فوج کے جوانوں کے گلے بھی کاٹے ہیں، انہیں گولیاں ماری ہیں اور ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینکی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض سیاسی رہنما آج بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہماری جنگ نہیں ہے تو جن لوگوں کے گلے کاٹے جارہے ہیں کیا وہ کسی اور ملک کے شہری ہیں؟ کیا جن فوجیوں کوقتل کیاجارہا ہے وہ کوئی غیرملکی فوجی ہیں؟ ان لوگوں نے مساجد ، مزارات حتیٰ کہ داتا دربار تک کو نہیں چھوڑا اورآج کلاشنکوف اور بموں کے ذریعہ اپنے نظریات ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے حوصلے بھی بلند ہیں اور ہم ان دہشت گردوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہونگے۔
جناب الطاف حسین نے مسلح افواج کو ایک مرتبہ پھر اپنے تعاون کی پیشکش کی اور کہاکہ دہشت گردی کاشکار جماعتیں خصوصاً ایم کیوایم کے لاکھوں رضاکار، دہشت گردی کے خلاف اس جدوجہد میں پاک فوج کے شانہ بشانہ جدوجہد کیلئے تیار ہیں۔ جناب الطاف حسین نے پنجاب کی ماؤں ، بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کیا آپ یہ چاہتی ہیں کہ طالبات کے اسکولوں کو دھماکوں سے اڑا دیا جائے ؟ خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی لگادی جائے ؟ انہیں ملازمتوں سے نکال دیا جائے اور شٹل کاک برقعے پہناکر انہیں گھروں میں مقید کردیا جائے ؟ کیا آپ اس بات کیلئے تیارہیں کہ پاکستان کو پتھروں کے دور یعنی (Stone age ) میں دھکیل دیا جائے ؟ جس پر خواتین نے بآواز بلند جواب دیا ’’ہرگز نہیں‘‘جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج یہ آگ سندھ ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں لگی ہے ۔ اگر پنجاب کے عوام نے عقل سے کام نہ لیا اور سوجھ بوجھ کا کامظاہرہ نہ کیا تو خدانخواستہ کل یہ آگ پنجاب تک پھیل سکتی ہے۔ بخدامیں چاہتا ہوں کہ پنجاب میں امن رہے اور پورا ملک دہشت گردی سے پاک ہو، شیعہ ،سنی ،دیوبندی، بریلوی ، غرض سب امن وچین سے رہیں۔ عیسائی ، ہندو،سکھ اوردیگر غیرمسلم پاکستانیوں کا احترام کیاجائے اور انہیں اپنے اپنے عقائد کے مطابق عبادت کا حق دیا جائے ۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب کے صحافی دانشور،وکلاء اورتمام شعبوں کے افرادخداراپاکستان کومذہبی انتہاپسندوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکیں۔ ملک پر مذہبی انتہاپسندوں کوبرسراقتدارلانے کی سازشوں کوسمجھیں اوراپنے اتحادسے ان کاسازشوں کوناکام بنائیں۔ انہوں نے تمام ترمشکلات کے باوجودحق اورسچ لکھنے والے صحافیوں اوردانشوروں کوزبردست خراج تحسین پیش کیا ۔ پنجاب کے مسائل کاذکر کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے پنجاب کے مسائل کااچھی طرح اندازہ ہے۔لاہور،فیصل آباد،سیالکوٹ اورپنجاب کا کونسا ایسا شہرہے جہاں لوڈشیڈنگ نہ ہورہی ہو، لاہور شہر میں سینکڑوں ایسے سرکاری اسکول ہیں جن میں چار دیواری اورچھت نہیں ہے اور سرکاری اسکولوں میں بچے فرش پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔پنجاب میں بہت سے ایسے دیہات ہیں جہاں لوگوں کو آج تک پینے کاصاف پانی تک میسرنہیں ہے اورلوگ وہاں سے پانی پینے پر مجبورہیں جہاں سے جانورپانی پیتے ہیں۔ بیروزگاری سے تنگ آکر ہزاروں خاندان شہروں کی جانب ہجرت کرنے پرمجبورہوگئے،سرکاری ہسپتالوں میں دوا نہیں ہے ،غریب عوام دواؤں کے لئے چکرلگاتے ہیں لیکن انہیں دوائی نہیں ملتی۔کسی سرکاری ادارے میں رشو ت کے بغیر کام نہیں ہوتا ،لوگ پٹواری کلچر سے بیزارہیں۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت اورعوام کی خدمت کے
بڑے بڑے دعوے کرنے والے پنجاب کے سیاسی رہنماجوآج اپنی اشتہاری مہم پر کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں وہ اگر عوام سے مخلص ہوتے توانہوں نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کروائے ؟
جناب الطا ف حسین نے عوام سے کہاکہ جن جماعتوں کے جلسوں میں اس قدربدنظمی ہوتی ہے کہ کھانوں میں لوٹ ماربھی ہوتی ہے، ایسے لوگ اقتدارمیں آئے تووہ ملک کانظا م کیسے چلائیں گے۔انہوں نے پنجاب کے غریب کسانوں اورمزارعوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ اپنے علاقوں میں کھل کرایم کیوایم کوووٹ دینگے توآپ کے ظالم جاگیردارآپ کوظلم کانشانہ بنائیں گے لہٰذا آپ بیج اورجھنڈاکسی کابھی لگالیں لیکن جب الیکشن والے روزپولنگ بوتھ جائیں تواندرجاکرپتنگ پر مہر لگائیں اورملک پر غریب ومتوسط طبقہ کی حکومت لائیں ۔انہوں نے تمام ترمظالم اورمصائب ومشکلات کے باوجود تحریک کاپیغا م پھیلانے پر ایم کیوایم پنجاب کے کارکنوں کوزبردست خراج تحسین پیش کیا۔ 

12/11/2016 2:00:47 AM