Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے لیڈر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرکے امیرالمومنین بننا چاہتے ہیں، الطاف حسین


دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے لیڈر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرکے امیرالمومنین بننا چاہتے ہیں، الطاف حسین
 Posted on: 5/2/2013 1
دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے لیڈر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرکے امیرالمومنین بننا چاہتے ہیں، الطاف حسین
آئندہ انتخابات میں معرکہ لبرل جماعتوں اور مذہبی انتہاء پسندوں کی حمایت کرنے والی جماعتوں کے مابین ہوگا
انگریزوں کی بنائی ہوئی یونینسٹ پارٹی کے وفادار،آج بانیان پاکستان اور ان کی اولادوں کو حب الوطنی سکھارہے ہیں
بانیان پاکستان اور انکی اولادوں کو پاکستان مخالفوں کی طرف سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ لینے کی قطعی ضرورت نہیں 
ایم کیوایم کے پاس عسکری ونگ نہیں بلکہ ثابت قدم ، حوصلہ مند اور بہادر ماؤں ، بہنوں ، بزرگوں نوجوانوں کے ونگ ہیں
لال قلعہ گراؤنڈ میں ایم کیوایم ایلڈرزونگ کے ارکان اور کارکنان کے اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔2،مئی2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہے کہ بم دھماکے کرنے والے دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے لیڈر، ملک وقوم پر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرکے امیرالمومینین بننا چاہتے ہیں۔آئندہ انتخابات میں معرکہ لبرل اورروشن خیال جماعتوں اور مذہبی انتہاء پسندوں کی حمایت کرنے والی جماعتوں کے مابین ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بانیان پاکستان اور ان کی اولادوں کو پاکستان مخالفوں کی طرف سے حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ لینے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کی شام لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآبادمیں ایم کیوایم ایلڈرزونگ کے بزرگ اراکین اور کارکنان کے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مختلف مذاہب، مکاتب فکراور قومیت سے تعلق رکھنے والے بزرگوں نے بہت بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطا ف حسین نے کہاکہ اس اجلاس میں وہ بزرگ میں شریک ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یا تحریک پاکستان کے دوران ہونے والے جلسوں میں شرکت کی۔ ان بزرگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے قیام پاکستان کی جدوجہد میں 20 لاکھ مسلمانوں کو ذبح ہوتے، گاؤں کے گاؤں جلتے اور اپنی بہن بیٹیوں کو عزتوں کے تحفظ کیلئے کنوؤں میں چھلانگیں لگاتے، معصوم بچوں کو بلوائیوں کے نیزوں پر تڑپتے اور نوجوانوں کی گردنیں کٹتے دیکھی ہیں لیکن ان تمام قربانیوں کے باوجود ان کا حوصلہ ،ہمت اور جذبہ ایمانی یہی تھا کہ ’’بٹ کے رہے گاہندوستان۔۔۔لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ تحریک پاکستان کے دوران ہمارے بزرگوں نے قتل وغارتگری اور دہشت گردی کے المناک مناظر دیکھے اور پاکستان قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن وہ لوگ جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی وہ آج بانیان پاکستان اوران کی اولادوں کوحب الوطنی کے معنی سمجھارہے ہیں۔ جنہوں نے تحریک آزادی کے متوالوں کی مخبریاں کرکے انگریزوں سے بڑی بڑی جاگیریں حاصل کیں، حریت پسندوں کو گرفتارکروایااورجو آخروقت تک انگریزوں کی وفادار یونینسٹ پارٹی کے وفادار رہے وہ بانیان پاکستان اور ان کی اولادوں کو حب الوطنی سکھارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ ہمارے بزرگوں کو پاکستان بنانے اور ان گنت قربانیوں کا صلہ دینے کے بجائے ان کی حب الوطنی پرشک کیاجارہا ہے اورانہیں طعنے دیئے جارہے ہیں ۔ 1857ء میں ہمارے بزرگ جنگ آزادی لڑتے ہوئے کامیابی کی جانب بڑھنے لگے تو انگریزوں کے ایجنٹوں نے حریت پسندوں کی مخبریاں اورسازشیں کرکے جنگ آزادی کو ناکام بنادیا ، ان سازشی عناصر کی باقیات آج حب الوطنی کے تمغے سجائے بیٹھی ہے ۔آج بھی ایک لیڈرنے کراچی میں کہاہے کہ ’’ہماری حکومت آئی تو ہم کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ختم کریں گے ‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ عجیب بات ہے کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ صرف کراچی میں ہیں لیکن کلاشنکوف کی گولیاں اورخونی گولیاں صوبہ پنجاب میں چلتی ہیں اورپنجاب میں خونریزی ہوتی ہے۔انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ ایم کیوایم کے پاس عسکری ونگ نہیں بلکہ ثابت قدم ، حوصلہ مند اور بہادر ماؤں ، بہنوں ، بزرگوں اور نوجوانوں کے ونگ ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ان عناصر کو بتادینا چاہتا ہوں کہ بانیان پاکستان اور ان کی اولادوں کو پاکستان مخالفوں کی طرف سے حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ لینے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔جس دن ایم کیوایم کی حکومت قائم ہوئی رائے ونڈ کے محلات قبضے میں لیکر وہاں کالج ،اسکول اور صحت کے مراکز قائم کرے گی ۔ایم کیوایم، پاکستان کی واحد جماعت ہے جوغریب ومتوسط طبقہ کی نہ صرف نمائندگی کررہی ہے بلکہ انکے حقوق کی جدوجہد بھی کررہی ہے ۔ہم پاکستان بنانے والے اپنے بزرگوں سے عہد کرتے ہیں کہ آپ نے تحریک پاکستان کے دوران انگنت قربانیاں دیں اور اب آپ کی اولادیں پاکستان کی بقاء وسلامتی ، غریب ومتوسط طبقہ کے حقوق کیلئے قربانیاں دیں گی ، مظلوم ،محکوم اور محروم عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولیات فراہم کریں گی ۔جناب الطاف حسین نے ایلڈرز ونگ کے بزرگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے ہرکٹھن ، کڑے اور آزمائش کے دورمیں ایم کیوایم کا ساتھ دیا ،ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن کے دوران جب نائن زیرو پر تالے ڈال دیئے گئے اور نوجوانوں کاچلناپھرنا ناممکن بنادیا گیا تو ایسے وقت میں بزرگ میدان میں آئے ، نائن زیرو کھولا، نائن زیروپر چھاپے پڑتے رہے مگر ہمارے بزرگ ڈٹے رہے ۔میں ہمت وجرات کے اس مظاہرے اورکڑے وقت میں ایم کیوایم کا ساتھ دینے پر تمام بزرگوں کو سلام تحسین پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی تحریک پر کڑا وقت ہے اور اس آزمائش کے موقع پربھی بزرگوں کو میدان عمل میں آنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ مسلح افواج کے جوانوں کو ذبح اور ملک بھر میں دھماکے کون کررہاہے اوران دہشت گردوں کو کن کن جماعتوں کی حمایت حاصل ہے ۔دہشت گردوں کی حمایت کرنے والی جماعتوں کے لیڈروں کے منہ سے کبھی یہ نہیں نکلا کہ وہ اقتدار میں آکر مسلح افواج کے جوانوں اور شہریوں کے گلے کاٹنے والوں، مساجد ، امام بارگاہوں ، بزرگان دین کے مزارات اور اسکولوں میں بم دھماکے کرکے معصوم بچوں ، خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں کوقتل کرنے والے دہشت گردوں کا صفایاکردیں گے ۔حقیقت یہ ہے کہ سفاک دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے چھپ چھپ کرانتہاپسند دہشت گردوں کے بڑوں سے ملتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر ملک وقوم پر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرکے امیرالمومینین بننا چاہتے ہیں۔اب آئندہ انتخابات میں معرکہ لبرل ، روشن خیال جماعتوں جو لکم دین کم اور لااکراہ فی الدین پر یقین رکھتی ہیں اورمذہبی انتہاپسندوں کی حمایت کرنے والوں کے مابین ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نبی کریم ؐ کے ماننے والے ہیں جو رحمت اللعالمین ہیں جنہوں نے جبر اور تلوار سے دین نہیں پھیلایا بلکہ پیارومحبت، حسن اخلاق، تبلیغ اور دلائل سے اسلام کی تعلیم دی اور ہمارا ایمان ہے کہ جبروستم اور طاقت سے اسلام کی بات کرنے والا دین اسلام سے محبت کرنے والا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ نبی کریم ؐ مسلمانوں کے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کردیا کرتے تھے اور ان لوگوں کے گھرعیادت کرنے جایاکرتے تھے جو آپؐ پر کوڑا پھینکاکرتے تھے ۔ سرکاردوعالم ؐ نے بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کے عمل کوگناہ کبیرہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ علم سراسر ظلم اور سفاکیت ہے ۔انہوں نے کہاکہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر لازم ہے لیکن یہ دہشت گرد اسلام کی آڑ میں تعلیمی اداروں کو بموں سے اڑارہے ہیں اور معصوم بچیوں کو سرعام کوڑے ماررہے ہیں۔ انہوں نے پنڈال کے شرکاء کے توسط سے پورے پاکستان کے بزرگوں اورنوجوانوں سے سوال کیا کہ یہ دہشت گرد خواتین کو گھروں میں قید کردینا چاہتے ہیں کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بہن ، بیٹیوں کو زبردستی شٹل کاک برقعے پہنادیئے جائیں ، انہیں تعلیم حاصل کرنے ، ملازمت کیلئے گھر سے نکلنے اور ڈرائیونگ کرنے سے روک دیا جائے اور ان کا گھر سے نکلنا جرم بنادیاجائے ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی لبرل ، روشن خیال اور ترقی پسند قوتوں نے تہیہ کرلیاہے کہ ہم اپنی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو سفاک دہشت گردوں کے رحم وکرم پر ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور ایسی کسی بھی سازش کو اپنی جمہوری ، آئینی اور قانونی جدوجہد سے ناکام بنادیں گے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ دہشت گردی اور دھماکوں کے ذریعے اعتدال پسندجماعتوں کاراستہ روکنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہم ان دہشت گردوں کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں،ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے ،ہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورمذہبی رواداری پر یقین رکھتے ہیں،ہم تمام فقہوں،مسلکوں اورمذاہب کااحترام کرتے ہیں اوردوسروں پرکفرکے فتوے لگانے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ چاہتے ہیں کہ تمام مذاہب اورمسالک کے ماننے والوں کااحترام کیاجائے۔جناب الطا ف حسین نے بزرگوں سے سوال کیاکہ کیاوہ بموں کے دھماکے کرکے معصوم وبے گناہ شہریوں کاخون بہانے والوں، بچیوں کے اسکولوں، مساجد، امام بارگاہوں اورمزارات کواڑانے والے دہشت گردوں اوران کی حمایت کرنے والی جماعتوں کاساتھ دیں گے؟اس پر بزرگوں نے ایک آوازہوکرجواب دیا’’ نہیں ‘‘۔ انہوں نے کہاکہ جنہوں نے کراچی میں عسکری ونگ کاالزام لگایا،دراصل عسکری ونگ توانکے اپنے پاس ہے ،خود انکے بھائی نے طالبان سے یہ کہاتھاکہ آپ پنجاب میں دھماکے نہ کریں کیونکہ آپ کااورہمارامنشورایک ہی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ آج اعتدال پسندجماعتوں پر دہشت گردوں کی جانب سے بموں کے حملے ہورہے ہیں لیکن ان کے جلسوں میں کوئی دھماکہ نہیں ہوتا۔ آج صرف پنجاب میں انتخابی جلسے جلوس ہورہے ہیں جبکہ باقی تین صوبوں میں کوئی انتخابی مہم چلانے نہیں دی جارہی ہے۔عوام خوددیکھ لیں کہ تین صوبوں کوعلیحدہ کون کررہاہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ انتہاپسندعناصرخواتین کوشٹل کاک برقعہ پہناکر گھروں میں بٹھادینا چاہتے ہیں ، طالبات کے اسکول تباہ کردیناچاہتے ہیں۔انہوں نے الیکٹرونک میڈیاپر مختلف پروگرامزپیش کرنے والی خواتین اینکر پرسنزکو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیاکہ اگرآپ کوشٹل کاک برقعہ پہن کراپنا پروگرام پیش کرناپڑے توآپ کوکیسامحسوس ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ مذہب کے جودعویدار خواتین پر پابندیاں لگاتے ہیں اورانہیں شٹل کاک برقعے پہناکرحقوق سے محروم رکھتے ہیں وہ خوداپنی بیٹیوں کو اسمبلیوں کارکن بنواتے ہیں۔ ایسے لوگ منافق ہیں۔ جناب الطاف حسین نے میڈیاپر کام کرنے والی خواتین سے کہاکہ میری بہنو ! آپ ایم کیوایم کے بارے میں جوبھی الزامات سنتی ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ صرف ایم کیوایم اورالطاف حسین ہی آپ کے حقوق کی محافظ ہیں اورکھل کرآپ کیلئے بات کرتے ہیں۔اگرآپ کومیری کوئی بات ناگوارگزری ہوتو خدارا مجھے معاف کردیں اوردہشت گردی اورخواتین کے حقوق کیلئے کھل کر ایم کیوایم اوراپنے الطاف بھائی کاساتھ دیں۔ جناب الطاف حسین نے دہشت گردی کے حوالے سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی کے خطاب کوایک مرتبہ پھرسراہتے ہوئے کہاکہ طالبات کے اسکولوں کوبم دھماکوں سے اڑانے والوں اوربے گناہوں کوبم دھماکوں سے اڑانے والوں کے خلاف جدوجہدمیں ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جن لوگوں نے لوٹ مارکرکے سو سو ایکڑپر محل بنالئے ہیں وہ آج سندھ آکرطعنے بازی کررہے ہیں۔یہ رجعت پسند عناصرہیں اور11مئی کاانتخاب رجعت پسندوں اورترقی پسندوں کے درمیان ہے۔ انہوں تمام تر دہشت گردیوں، دھماکوں ، اپنے ساتھیوں کی ٹارگٹ کلنگ ،رکاوٹوں اورآزمائشوں کے باوجود جرات وہمت کے ساتھ انتخابی مہم چلا نے اورتحریک کے پیغام کو پھیلانے پرتحریک کے کارکنوں،بزرگوں اورخواتین کو سیلوٹ پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ ماضی کی طرح ایک بارپھرتحریک پر کڑا وقت ہے لہٰذا بزرگ آپس کے اختلافات کوبالائے طاق رکھ کرمتحدہوجائیں ۔نوجوانوں کی قربانیوں ، بزرگوں کے حوصلوں اورماؤں بہنوں کی دعاؤں کی بدولت اللہ تعالیٰ تمام تر آزمائشوں کے باوجود ایم کیوایم کوان انتخابات میں بھی کامیابی سے ہمکنارفرمائے گا۔جناب الطاف حسین نے نوجوانوں کوتلقین کرتے ہوئے کہاکہ بزرگوں کاوجود دھوپ میں درخت کے گھنے سائے کی مانند ہوتاہے لہٰذا نوجوان اپنے والدین،اساتذہ اورتمام بزرگوں کی عزت کریں، ان کااحترام کریں،انکے ساتھ شائستگی سے پیش آئیں کیونکہ بزرگوں کی عزت کرنا اللہ تعالیٰ کافرما ن،نبی کریمؐ کی تعلیم اور ہماری تہذیب کا بنیادی حصہ ہے ،اپنی تہذیب وثقافت کونہ بھولیں۔ انہوں نے کاغذی شیروں کومخاطب کرتے ہوئے یہ شعرپڑھا،
کیاعشق نے سمجھاہے ، کیاحسن نے جاناہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکرمیں زمانہ ہے 
جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب کااختتام پاکستان زندہ باد، ایم کیوایم زندہ باد،ایلڈرزونگ زندہ باد اورروشن خیال عوام زندہ باد کے نعروں پر کیا۔ 



12/4/2016 4:32:32 PM