Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ ، نیٹو اور مغربی ممالک کی نہیں ہماری جنگ ہے ، الطاف حسین


دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ ، نیٹو اور مغربی ممالک کی نہیں ہماری جنگ ہے ، الطاف حسین
 Posted on: 5/1/2013 1
دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ ، نیٹو اور مغربی ممالک کی نہیں ہماری جنگ ہے ، الطاف حسین
یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے اسے ہمیں خود ہی ٹھیک کرنا ہوگا
جنرل کیانی کے دوٹوک خطاب کے بعد یہ بحث ختم ہوجانی چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کس کی ہے 
دہشت گردی کے خلاف لبرل اور روشن خیال جماعتیں متحدہوچکی ہیں جبکہ بم دھماکے کرنے اور انکی حامی جماعتیں ایک جگہ ہیں 
صوبہ سندھ ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مخصوص جماعتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے
دہشت گردوں کے آگے سرینڈرنہیں کرینگے اوردہشت گردوں کے حامیوں کواپنامینڈیٹ ہائی جیک کرنے نہیں دیں گے
نہ الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے نہ میدان چھوڑ کر بھاگیں گے ۔پکا قلعہ گراؤنڈ حیدرآباد میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب 
تصاویر
لندن۔۔۔یکم ، مئی 2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ، امریکہ ، نیٹو فورسز اور مغربی ممالک نہیں بلکہ ہماری جنگ ہے ، اس جنگ میں پاکستان کے عوام شہید وزخمی ہورہے ہیں ، یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے اور اسے ہمیں خود ہی ٹھیک کرنا ہوگا۔ یہ بات جناب الطاف حسین نے پکاقلعہ گراؤنڈ حیدرآباد میں انتخابی جلسہ عام سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جلسہ عام میں مختلف مذاہب ، مسالک اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے بزرگوں ،خواتین ، نوجوانوں اور بچوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔پکا قلعہ گراؤنڈ عوام سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا جبکہ حاضرین کی تعداد کے لحاظ سے جلسہ گاہ چھوٹی پڑجانے کے باعث ہزاروں لوگ پکا قلعہ کے اطراف کی گلیوں میں کھڑے ہوئے تھے ۔ اس موقع پر خواتین کا جوش وخروش قابل دید تھا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے حیدرآبادکے کارکنان وعوام سے ایم کیوایم کے امیدوار فخرالاسلام شہید، ندیم اجمیری شہید اور منظور احمد شہیدکی شہادتوں پر دلی تعزیت کی اور شہداء کے بلند درجات کیلئے دعائیں کیں ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 12 دنوں کے دوران کراچی میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کرکے ایم کیوایم کے 70 سے زائد کارکنان وہمدرددں کو شہید کیا جاچکا ہے اسی طرح پاکستان کے مختلف صوبوں میں بھی بم دھماکے کرکے لبرل اور روشن خیال جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنان کو شہید وزخمی کیا گیا ہے ۔ انہوں نے تمام شہداء کے سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت کااظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے اور بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کو صحت یاب کرے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بم دھماکے ، قتل وغارتگری اور دہشت گردی کرنے والے سمجھ رہے تھے کہ وہ اس طرح کا گھناؤنا عمل کرکے ایم کیوایم کو الیکشن سے دور کرنے ،اسے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور کردیں گے اور ایم کیوایم کے کارکنان وعوام کو خوف زدہ کردیں گے ، انہیں معلوم نہیں کہ ایم کیوایم کے کارکنان وعوام گزشتہ 35 برسوں سے قتل وغارتگری ، ریاستی آپریشن اور بدترین مظالم برداشت کرتے رہے ہیں، ایم کیوایم کے کارکنان کو اذیت گاہوں میں ٹارچر کرکے شہید کیاگیا، گرفتارکرکے پولیس مقابلوں کی آڑمیں ماورائے عدالت قتل کیا گیا، یہ ظلم وبربریت کرنے والوں نے دعویٰ کیا تھاکہ اب الطاف حسین کا باب بند ہوگیا لیکن جو یہ سوچتا رہا اللہ تعالیٰ نے اس کا چیپٹر کلوز کردیا۔ آج کراچی سے خیبرتک پاکستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ایم کیوایم کے جھنڈے نہ لہرارہے ہوں۔ آج ایم کیوایم نے پورے پاکستان سے 671 امیدواروں کونامزد کیا ہے جو انتخابات لڑ رہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دہشت گردی اور قتل وغارتگری کے خلاف پاکستان کی لبرل اور روشن خیال جماعتیں متحدہوچکی ہیں جبکہ بم دھماکے کرنےاور ان کی حمایت کرنے والی جماعتیں ایک جگہ جمع ہیں ۔ یہ انتخابات روشن خیال جماعتوں اور رجعت پسند ،انتہاء پسند جماعتوں کے درمیان ہورہے ہیں ۔گزشتہ روز نائن زیروکراچی ، آج مردان ہاؤس کراچی اورپیپلزپارٹی کے دفتر میں پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے ایک چھت تلے جمع ہوکر عہد کیا ہے کہ ماضی کی تمام غلط فہمیوں کو بالائے طاق رکھ کر وہ انتہاء پسند جماعتوں ، کلاشنکوف اور ڈنڈابردار شریعت کے ماننے والوں سے خوفزدہ نہیں ہونگے۔ ان جماعتوں کا عہد ہے کہ ہم نہ الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے نہ میدان چھوڑ کر بھاگیں گے بلکہ تمام روشن خیال اور جمہوریت پسند جماعتیں مل کر انتہاء پسندوں کا ہرسطح پر آئین وقانون کے مطابق ڈٹ کر مقابلہ کریں گی ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی روشن خیال اور ترقی پسند جماعتیں انتہاء پسندوں کے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی اورانہیں قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان کو انتہاء پسندوں کاپاکستان ہرگزنہیں بنانے دیں گی ۔انہوں نے مزید کہاکہ درندہ صفت دہشت گرد ،گولہ باردو اور بندوق کے زور پر اپنی نام نہاد شریعت اور نظریہ سب پر مسلط کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم انہیں بتادیں کہ حیدرآباد ، ایم کیوایم اور الطاف حسین کے چاہنے والوں کا شہرہے ، یہ شہر ایم کیوایم کا مضبوط قلعہ ہے، اس شہر کے عوام نے ہرکڑے موقع پر بے مثال قربانیاں دی ہیں لیکن کبھی بھی حق پرستی کا علم گرنے نہیں دیا، اس شہرکے عوام نے اپنی جانیں قربان کردیں مگر ایم کیوایم اور حق پرستی کے مشن کو زندہ رکھا ہے اور تاریخ کے اوراق سے حیدرآباد کے عوام کی قربانیوں کو نکالا نہیں جاسکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو دہشت گرد عناصر ایم کیوایم ، اے این پی اور پی پی پی کو دہشت گردی کا نشانہ بنارہے ہیں ، ان جماعتوں کے کارکنان وہمدردوں کو شہید وزخمی کررہے ہیں لیکن ان مظالم کے باوجود تینوں لبرل اور پروگریسیو جماعتوں کے رہنماؤں ، ذمہ داروں اور کارکنوں کے حوصلے آج بھی بلند ہیں ۔انہوں نے دہشت گردی کے تازہ واقعات کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ صوبہ سندھ ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مخصوص جماعتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، آج بھی خیبرپختونخوا میں اے این پی کے امیدوار پر حملہ کیا گیا، شکارپور میں نیشنل پیپلزپارٹی کے رہنما ابراہیم جتوئی پر حملہ کیا گیاہے جبکہ صوبہ پنجاب میں بم دھماکے کرنے والوں کی سرپرستی اور حمایت کرنے والی جماعتوں کو کھلے عام جلسے جلوس منعقد کرنے اورانتخابی مہم چلانے کی اجازت دی جارہی ہے ۔ انہوں نے پنڈال کے شرکاء سے استفسار کیا کہ ایسے انتخابات کو کس طرح شفاف، منصفانہ اورقومی الیکشن قراردیا جاسکتا ہے ؟انتخابات سے قبل دھاندلی کی جارہی ہے اور بے گناہ شہریوں کو شہید وزخمی کیاجارہا ہے ان حالات میں نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کہاں ہیں؟دہشت گردی کا نشانہ بننے والے پاکستان کے عوام کو تحفظ فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے ؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھ میں سچائی کا اظہار کرنے کی جرات ہے اور میں نے ہمیشہ سچ کو سچ کہا ہے ۔ گزشتہ روز پاکستان کی مسلح افواج نے یوم شہداء منایا ۔ اس تقریب سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جراتمندانہ خطاب کیا ہے جس پر انہیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہوگا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا خطاب پاکستانی قوم کے دل کی آواز اوران کے جذبات کی ترجمانی ہے ۔ انہوں نے حساس اور اہم معاملات پر جس جراتمندی سے اپنے مؤقف کا اظہارکیا ہے اس سے پوری قوم کوحوصلہ ملاہے اور انتخابات کے انعقاد کے حوالہ سے پائے جانے والے شکوک وشبہات میں بڑی حدتک کمی واقع ہوئی ہے اور الیکشن کے انعقاد کے حوالہ سے قوم میں اعتماد بھی پیدا ہوا ہے ۔ جنرل کیانی نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں جس دوٹوک مؤقف کااظہار کیا ہے اس کے بعد یہ بحث ختم ہوجانی چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کس کی ہے ۔یہ جنگ امریکہ ، مغربی ممالک ، نیٹو فورسز کی نہیں بلکہ ہماری جنگ ہے ۔ یہ ہمارے گھر کامعاملہ ہے اوراسے ہمیں خود ہی ٹھیک کرنا ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں مسلح افواج کویقین دلاتاہوں کہ ایم کیوایم کے لاکھوں کارکنان اورپورے ملک کے لبرل عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں اوروہ دہشت گردو ں کے خلاف فوج کے ساتھ ہیں،وہ ملک کیلئے جب بلائیں گے اورجہاں بلائیں گے ہم بلاتاخیروہاں پہنچ جائیں گے اورملک کی بقاء وسلامتی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کے ہزاروں افسران اورجوان شہید ہوئے ، مسلح افواج کے افسران و جوان اپنی ہتھیلی پرجان رکھ کر پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں،قربانیاں پاکستان کے لوگ دے رہے ہیں پھر بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی نہیں امریکہ کی جنگ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پوری قوم ملک وقوم کیلئے قربانیاں دینے والے فوج، ایف سی ، لیویز اورپولیس کے افسران وجوانوں کو سیلوٹ پیش کرتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیاکہ پاکستان کو کلاشنکوف بردار اورڈنڈابردار شریعت نافذ کرنے والوں کے حوالے نہیں کیاجائے گا،قائداعظم اورعلامہ اقبال جہادی نہیں بلکہ روشن خیال اورلبر ل سوچ رکھنے والے تھے ،ہم پاکستان کوقائداعظم اور علامہ اقبال کے وژن کاپاکستان بناناچاہتے ہیں،ہم ایساپاکستان چاہتے ہیں جہاں شیعہ سنی ،دیوبندی بریلوی تمام مسالک کے لوگ آپس میں بھائی بھائی بنکر رہیں ،جہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہو اورتمام مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کااحترام کریں۔انہوں نے کہاکہ خواہ ہندو ہوں ،سکھ یاعیسائی ہوں ہم سب کوپاکستانی مانتے ہیں ، انکے مساوی حقوق تسلیم کرتے ہیں اورانکی عبادت گاہوں کااحترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمام تر دہشت گردی اورقتل وغارتگری کے باوجود ایم کیوایم کے ذمہ داروں، کارکنوں کے حوصلے بلندہیں، ہماراعزم ہے کہ ہم اپنے آئینی،قانونی اور جمہوری حق سے کسی بھی قیمت پر دستبردارنہیں ہونگے، دہشت گردوں کے آگے سرینڈرنہیں کرینگے اوردہشت گردوں کے حامیوں کواپنامینڈیٹ ہائی جیک کرنے نہیں دیں گے۔جناب الطاف حسین نے پاکستان بھرکے عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ بم دھماکے کرنیوالوں اورانکی بلواسطہ یابلاواسطہ حمایت کرنیوالی جماعتوں کوووٹ نہ دیں بلکہ انسانیت پر یقین رکھنے والی روشن خیال اورلبرل جماعتوں کوووٹ دیں۔انتہاپسندوں کی حمایت کرنے والی جماعتیں ملک میں اپنی مرضی کی شریعت اورنظریات نافذ کرنا چاہتی ہیں،کوئی شوریٰ کا،رکن اورکوئی امیرالمومنین بنناچاہتاہے۔ یہ سازش پہلے بھی کی گئی تھی لیکن ایم کیوایم اسکی راہ میں رکاوٹ بن گئی تھی اوراب ایم کیوایم ہی نہیں بلکہ پیپلزپارٹی اوراے این پی بھی بندوق کے زورپر شریعت نافذ کرنے والوں کے سامنے سینہ سپرہوجائیں گی مگرسرینڈرنہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم نے 1987ء سے اب تک کئی انتخابات میں حصہ لیا مگراس نے ٹکٹوں کاجمعہ بازارنہیں لگایا،دیگرجماعتوں کی طرح کروڑوں روپے میں ٹکٹ فروخت نہیں کئے ،الیکشن ٹکٹ رشتہ داروں میں نہیں بانٹے بلکہ میرٹ کی بنیادپر غریب ومتوسط طبقہ کے تعلیم یافتہ افراد کوٹکٹ دیئے۔ الطاف حسین نے اپنے بھائی بھتیجوں کوالیکشن ٹکٹ نہیں دیے بلکہ تحریک کیلئے قربانیاں دینے والے کارکنوں کوٹکٹ دیئے۔ایم کیوایم موروثی سیاست کے خلاف ہے ، وہ جاگیردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ چاہتی ہے۔انہوں نے ملک بھرکے عوام سے کہاکہ انہوں نے تمام جماعتوں کوآزمالیا،ایک مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ کی جماعت ایم کیوایم کوآزمائیں، ایم کیوایم انہیں مایوس نہیں کرے گی۔ایم کیوایم حکومت میں آکرملک میں بلدیاتی نظام قائم کرے گی اورشہریوں کی عملی خدمت کرے گی،ایم کیوایم کے ناظمین نے عوام کی مثالی خدمت کی، ایم کیوایم کے میئر مصطفےٰ کمال کودنیاکے تین بہترین میئرزمیں منتخب کیا گیا۔اگرآپ اپنے شہروں میں بھی مصطفےٰ کمال جیسے میئردیکھناچاہتے ہیں توایم کیوایم کوکامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ملک سے دہراتعلیمی نظام ختم کرناچاہتی ہے۔ہم اقتدارمیں آئے توحیدرآبادمیں یونیورسٹی بنا کردکھائیں گے،خواتین کیلئے علیحدہ یونیورسٹی اورانڈسٹریل ہومز قائم کئے جائیں گے جہاں خواتین ہنرسیکھیں گی اوراپنی محنت اورحق حلال کارزق کمائیں گی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج حیدرآباد اوراسکے اطراف میں رہنے والے اردو اورسندھی بولنے والے سندھی،پنجابی، پختون،بلوچ،سرائیکی، کشمیری تمام لوگ شریک ہیں، شاہ لطیف کی دھرتی امن کی دھرتی ہے اوریہاں رہنے والوں کے مابین دوریاں ختم ہوگئی ہیں ، رواداری اورہم آہنگی فروغ پارہی ہے اورسب ایم کیوایم کے پرچم تلے متحد ہیں ۔اس موقع پر جناب الطا ف حسین نے حیدرآباداوراس کے نزدیک مختلف انتخابی حلقوں سے نامزدکئے جانے والے حق پرست امیدواروں کے ناموں کابھی اعلان کیاجن میں این اے 210سے سیدغلام شبیرشاہ ، این اے 219 سے ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی، این اے 220 سیدوسیم حسین،این اے 221 سے غازی صلاح الدین ، این اے 222 سے راؤمحمدانور، صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 43 سے محمدانور، پی ایس 44 سے احسان ابڑو، پی ایس 45سے دلاورقریشی ایڈوکیٹ، پی ایس46 سے راشدخلجی، پی ایس 47 سے علی احمدبروہی، پی ایس 48سے زبیراحمدخان، پی ایس 49سے صابرقائم خانی اورپی ایس 53 سے اعجاز علی پہنور شامل ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے اپنے خطاب کے اختتام پر جلسہ کے انتظامات کرنے والے ایم کیوایم کے تمام ذمہ داروں اورکارکنوں کوزبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہو ں نے پکاقلعہ حیدرآبادمیں مدفون ایم کیوایم کے شہداء کوبھی زبردست خراج عقیدت پیش کیا اورکہاکہ ہم اپنے شہیدوں کی قربانیوں اورخون کاسوداکسی قیمت پر نہیں کرینگے اورمنزل کے حصول تک اپنی جدوجہدجاری رکھیں گے۔ انہوں نے اپنے شعرکا اختتام اس شعرپر کیا۔ 
آج بھی منزلوں پر لگی ہے نظر
دل میں رکھتے ہیں عزم سفرآج بھی
دل شکستہ نہ سمجھے زمانہ ہمیں
اپنی ہمت ہے سینہ سپرآج بھی



12/2/2016 1:54:38 PM