Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملک میں لبرل ، پروگریسو ، جمہوری اور روشن خیال جماعتوں اور بنیاد پرست ، انتہاء پسندی کی بنیاد پر واضح تقسیم ہوچکی ہے


ملک میں لبرل ، پروگریسو ، جمہوری اور روشن خیال جماعتوں اور بنیاد پرست ، انتہاء پسندی کی بنیاد پر واضح تقسیم ہوچکی ہے
 Posted on: 4/29/2013
دہشت گردی اور بم دھماکوں سے خوفزدہ نہیں ، انتخابات میں حصہ لیں گے، ایم کیوایم ، پیپلزپارٹی اور اے این پی کا اتفاق
لبرل ، روشن خیال اور ترقی پسند جماعتوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے
پاکستان کے لبر ل ، معتدل اور روشن خیال قوتیں ابھی زندہ ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں 
ملک میں لبرل ، پروگریسو ، جمہوری اور روشن خیال جماعتوں اور بنیاد پرست ، انتہاء پسندی کی بنیاد پر واضح تقسیم ہوچکی ہے 
پاکستانی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ پر واضح کرتے ہیں کہ ہم کسی کی ناجائز دھمکی اور دباؤ کے آگے اپنا سر نہیں جھکائیں
اپنے جائز حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور انتخابات کا بائیکاٹ ہرگز ہرگز نہیں کریں گے
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’لکم دینکم ولی دین اور لا اکراہ فی الدین ‘‘ پر یقین رکھتے ہیں
ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اقوام متحدہ کے چارٹر ، انسانی و معاشرتی اصولوں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنا حق دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں
الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگراں حکومت حقیقی معنوں میں صاف و شفاف اور آزادانہ الیکشن کرائیں اورتمام سیاسی پارٹیوں کو عوام تک رسائی فراہم کریں
حیدر عباس رضوی ،سینیٹرتاج حیدر اور بشیر جان کی کراچی پریس کلب مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب
تصاویر
کراچی ۔۔۔29، اپریل 2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی میں اس امر پر اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ ایک منظم سازشی منصوبے کے تحت دائیں بازو کی جماعتوں کو اقتدارمیں لانے کیلئے لبرل ، روشن خیال اور ترقی پسند جماعتوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ مغربی ممالک کی جانب سے پاکستان میں دائیں بازوکی جماعتوں کو ہر طرح کی سپورٹ فراہم کی جارہی ہیں لیکن پاکستان کے لبر ل جمہوریت پسند اور روشن خیال جماعتوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ہم دہشت گردی اور بم دھماکوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ، ہم نہ صرف انتخابات میں حصہ لیں گے اور بم دھماکے کرنے والے انتہاء پسندوں آگے سرینڈر نہیں کریں گے ۔تینوں جماعتوں نے واضح کیا کہ ملک میں لبرل ، پروگریسو ، جمہوری اور روشن خیال جماعتوں اور بنیاد پرست ، انتہاء پسندی کی بنیاد پر واضح تقسیم ہوچکی ہے اور لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ انہوں نے پاکستانی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ پر واضح کیا کہ ہم کسی کی ناجائز دھمکی اور دباؤ کے آگے اپنا سر نہیں جھکائیں، اپنے جائز حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور انتخابات کا بائیکاٹ ہرگز ہرگز نہیں کریں گے ۔ ان خیالات اظہار ایم کیوایم کے رہنما و سابق رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی ، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماتاج حیدر اور اے این پی کے رہنما و امیدوار بشیر جان نے پیر کے روز کراچی پریس کلب میں مشتر کہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر صغیر احمد ، رضاہارون ، واسع جلیل ، پیپلزپارٹی کے رہنما وقارمہدی ، نجمی عالم اور اے این پی کے رہنما الطاف ایڈووکیٹ و دیگر بھی موجودتھے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حیدر عبا س رضوی نے کہا کہ انتہاء پسندی دہشت گردوں کی جانب سے ملک میں ایم کیوایم ، پی پی پی اور اے این پی کے دفاتر پر بم حملے اور کارکنان کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیاجارہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے تاہم اس کے باوجود نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پرامن انتخابی ماحول کی فراہمی کیلئے کوئی کردارا د ا نہیں کیاجارہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اقوام متحدہ کے چارٹر ، انسانی و معاشرتی اصولوں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہم تینوں جماعتیں مل کر اپنا حق دفاع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پی پی اور اے این پی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’لکم دینکم ولی دین اور لا اکراہ فی الدین ‘‘ پر یقین رکھتے ہیں اور اسلام کے نام پر دہشت گردی اور مذہبی انتہاء پسندی کے رجحانات کے سخت ترین مخالف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک کی پاکستان کی دائیں بازو کی جماعتوں کے حوالہ سے جو بھی پالیسی ہو وہ اس پر عمل کریں لیکن انہیں یہ بھی سوچ لینا چاہئے کہ پاکستان کے لبر ل ، معتدل اور روشن خیال قوتیں ابھی زندہ ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں ، مغربی ممالک پاکستان کے متعلق جو بھی فیصلہ کریں کہ اگر وہ 2014میں افغانستان سے واپسی کی راہ تلاش کرنے کیلئے پاکستان میں دائیں بازو کی جماعتوں کو اقتدار میں لانا چاہتی ہیں وہ سوچ لیں کہ انہوں نے ماضی میں بھی افغانستان سے نکلتے وقت وہاں کے مستقبل کے بارے میں کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کے بجائے عجلت میں فیصلے کئے جس کے نتائج 9/11اور 7/7کے سانحات کی صورت میں سامنے آئے ، خدارا ماضی کی غلطیاں اب نہ دہرائی جائیں اور ایسے فیصلے نہ کئے جائیں جن کے منفی نتائج نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا پر اثرا نداز ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک کو مذہبی انتہاء پسندوں اور ان کی حامی جماعتوں کی جانب دیکھنے کے بجائے پاکستان کے الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہئے کہ وہ حقیقی معنوں میں صاف و شفاف اور آزادانہ الیکشن ایسے ماحول میں کرائیں جس سے ساری سیاسی پارٹیوں کو عوام تک رسائی برابری کی بنیاد پر ممکن ہو جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج الیکشن مہم صرف پنجاب میں ہی چل رہی ہے ۔ انہوں نے بم دھماکے میں شہید ہونے والے افرادکے تمام سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت وہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں سے دلی دہمدردی کاظہار کرتے ہوئے ان کی جلد ومکمل صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔ پیپلزپارٹی کے رہنما تا ج حیدر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پی پی پی ، ایم کیوایم اور اے این پی ڈٹ کر انتہاء پسندی کا مقابلہ کریں گی ، ہم ضیاء الحق کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو اس کی باقیات کا سامنا کرنے کابھی حوصلہ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رہی ، انتہاء پسندی کے مسئلے کو صحیح پس منظر میں دیکھا اور لیاجائے ، یہ امن و امان کا مسئلہ نہیں واضح طور پر نظریاتی تقسیم ہے ،ایک جانب وہ جماعتیں ہیں جو ترقی پسند ، لبرل اور روشن خیال ہیں اور صبر و برداشت کا درس دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب انتہاء پسند اور شدت پسند جماعتیں ہیں جوہماری انتخابی مہم کو روک رہی ہیں جبکہ وہ جماعتیں جنہیں دہشت گردوں نے ضامن قرار دیا وہ آزادانہ طور پر انتخابی مہم چلا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ انتہاء پسنداور جہادی تنظیمیں مغربی آمریت نے مقامی آمریت کے ساتھ مل کر بنائی ہیں 30برس سے یہ خطہ جل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات وقت پر چاہتے ہیں اور الیکشن میں بھر پور حصہ لیں گے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما و امیدوار بشیر جان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی یہ سمجھتی ہے یکہ ملک کے مسائل کا حل الیکشن میں ہے ، الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے قوانین پر عمل نہیں کراسکا ، اسکروٹنی میں امیدواروں کی تذلیل کی گئی اور جوکالعدم تنظیموں کے نمائندے تھے ان کوالیکشن لڑنے کا اہل قراردیدیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے ذریعے ایم کیوایم ، اے این پی اور پیپلزپارٹی کا جمہوری حق چھین نے کے بجائے ہمیں یکساں اور برابر سیاسی ماحول فراہم کیا جائے پھر معلوم ہوگا کہ کون کتنا عوام میں مقبول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران دہشت گردانہ ماحول جاری ہے اور اسے پرامن بنانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں جس کے باعث ہمیں خدشہ ہے کہ نگراں حکومت ، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور دہشت گردوں کا مقصد ایک ہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انتہاء پسندی اور شدت پسندوں کی جانب سے شہر میں پوسٹر لگائے جارہے ہیں کہ ووٹ دینا کفر ہے جبکہ ان دہشت گردوں کا سیاسی ونگ کہہ رہا ہے کہ ووٹ دینا جہاد ہے لہٰذا ،عوام تضاد بیانی کا از خود نوٹس لیں اور دہشت گردوں اور ان کے سیاسی ونگ کو انتخابات میں نظرا نداز کرکے ثابت کردیں کہ ملک کے عوام معتدل ،روشن خیال اور لبرل معاشرہ چاہتے ہیں اور شدت پسندی اور انتہاء پسندی کے صریحاً خلاف ہیں۔بعدازاں ایم کیوایم ، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے رہنماؤں نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیئے ۔ 



12/3/2016 7:52:58 PM