Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ارباب اقتدار و اختیار قوم کو بتائیں کہ دہشت گردی، بم دھماکے کے ماحول میں انتخابات کیسے آزادانہ اور منصفانہ ہوسکتے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار


ارباب اقتدار و اختیار قوم کو بتائیں کہ دہشت گردی، بم دھماکے کے ماحول میں انتخابات کیسے آزادانہ اور منصفانہ ہوسکتے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 4/24/2013
ارباب اقتدار و اختیار قوم کو بتائیں کہ دہشت گردی، بم دھماکے کے ماحول میں انتخابات کیسے آزادانہ اور منصفانہ ہوسکتے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
گذشتہ شب پیپلز چورنگی پر ایم کیوایم کے انتخابی دفتر کے قریب بم دھماکے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت
ایم کیوایم کو دیگر جماعتوں کی طرح انتخابات میں آزادانہ حصہ لینے کا موقع دیا جائے
بارہا مرتبہ نگراں حکومت، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حالات سے آگاہ کرنے کے باوجود سنوائی نہیں ہورہی 
ایم کیوایم کو انتخابی مہم سے دور رکھنے کیلئے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے، الیکشن صرف پنجاب میں ہوتا نظر آرہا ہے
لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ میڈیا کو پریس بریفنگ
کراچی۔۔۔24، اپریل2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے گذشتہ شب پیپلزچورنگی پر ایم کیوایم کے انتخابی دفترکے قریب بم دھماکے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اورکہاکہ ڈیزائن کردہ اسکرپٹ کے مطابق جمہوریت پسندقوتوں کوانتخابی عمل سے باہررکھ کرملک وقوم کونقصان پہنچایاجارہا ہے۔ انہوں نے ارباب اقتدار و اختیارسے سوال کیا کہ کیاایسے حالات میں کہ جب ایم کیوایم کوانتخابی سرگرمیوں سے روکنے کیلئے دیوارسے لگایاجارہاہو ، انتخابی دفاتر پربموں سے حملے کیے جا رہے ہوں ، نامزد امیدواروں سمیت ذمہ داران وکارکنان کوبے دردی سے قتل کیاجارہاہو،ایم کیوایم کے روایتی علاقوں میں محاصرے کرکے کارکنان وہمدردوں کو بلاجواز گرفتارکرکے سرکاری عقوبت خانوں میں تشددکانشانہ بنایاجارہاہو،کراچی میں غیرقانونی حلقہ بندیاں کی جارہی ہوں تو کیا خوف کے ایسے ماحول میں ملک میں ہونیوالے ’’ عام انتخابات آزادانہ اورمنصفانہ ‘‘ہونگے؟ان خیالات کااظہارڈاکٹرمحمدفاروق ستار نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ لال قلعہ گراؤنڈعزیز آبادمیں سانحہ23اپریل کے شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کے اجتماع کے اختتام کے بعدمیڈیاکے نمائندوں کوبریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سندھ بھرمیں پرامن یومِ سوگ منایاگیا گزشتہ روزپیپلزچورنگی میں ایم کیوایم کے انتخابی دفترپردہشت گردی کاایک افسوسناک واقعہ رونما ہواجس میں اب تک ہمارے چارکارکنان شہید ہوچکے ہیں جبکہ متعددکارکنان وحامی شدیدزخمی حالت میں زیرعلاج ہیں۔انہوں نے انتخابی دفاترپربم دھماکے اور ذمہ داران وکارکنان کی قتل وغارتگری کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کی اپیل پرآج کے پرامن ’’یوم سوگ ‘‘نے ثابت کردیاکہ پوری قوم ایم کیو ایم کے ساتھ ہے ۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ ہم ایک ماہ سے باربارنگراں حکومت،الیکشن کمیشن آف پاکستان اورقانون نافذکرنے والے اداروں کومطلع کرتے رہے ہیں کہ ہمیں ہمارے جمہوری حق سے علیحدہ نہ کیاجائے اورہمیں بھی دیگرجماعتوں کی طرح آزادانہ طورپرالیکشن میں حصہ لینے کاموقع دیاجائے۔ایک ماہ کے دوران ہمارے 25 سے زائدکارکنان شہید کیے جاچکے ہیں جس میں حیدرآبادسے قومی وصوبائی اسمبلی کے نامزدحق پرست امیدوارفخرالاسلام بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ جماعتیں جو انتخابات میں آزادی سے حصہ لے رہی ہیں انہیں اس بات کی ذرا بھی پروانہیں بلکہ ہمارے زخموں پرمرہم رکھنے کے بجائے نمک پاشی کی گئی،آج جوکچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے خدانخواستہ کل ان کے ساتھ بھی ہوسکتاہے؟انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کوکھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ ہماری انتخابی مہم کوروکیں تاکہ اس کافائدہ کسی اور کو پہنچایا جائے۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے سوال کیاکہ کیاایسے حالات میں انتخابات آزادانہ اورمنصفانہ ہونگے؟جب نوبت یہ آجائے کہ ایم کیوایم کواپنے انتخابی دفاتر بند کرنے پڑیں اوراسکے کارکنان کوبلاوجہ قتل وغارتگری کانشانہ بنایاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں دیگرسیاسی جماعتوں کی طرح بڑے جلسے اورجلوس کرنے کی ویسے بھی اجازت نہیں،اس صورتحال میں اب سوال یہ نہیں کہ انتخابات ہونگے ؟بلکہ اب سوال یہ ہے کہ آیاانتخابات شفاف ،آزادانہ اورمنصفانہ ہونگے؟ انہوں نے ارباب اقتدارواختیار ، نگراں حکومت ،الیکشن کمیشن آف پاکستان،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اورسندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے سوال کیاکہ وہ بتائیں کہ پاکستان میں منصفانہ انتخابات چاہتے ہیںیا نہیں؟ انہوں نے کہاکہ ڈئزائن کردہ اسکرپٹ کودیکھ کر ایسامحسوس ہوتاہے کہ الیکشن صرف پنجاب میں ہورہا ہے جبکہ خیبرپختونخواہ،بلوچستان ، سندھ اور کراچی کے شہری علاقوں میں اس کے برعکس صورتحال ہے جہاں ووٹرزاورشہریوں کوخوف وہراس میں مبتلاکرکے یرغمال بنادیاگیاہے ۔ڈاکٹرفاروق ستارنے کہاکہ آج پوری دنیاکے میڈیااورجمہوریت پسندقوتوں کی نظریں پاکستان پر ہیں اوروہ لوگ بھی اس بات کوبخوبی محسوس کررہے ہیں کہ کس طرح جمہوریت پسندقوتوں کودیوارسے لگایا جارہا ہے۔انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیاکہ وہ ایساماحول مہیا کریں جہاں صاف شفاف انتخابات کے عمل کویقینی بنایاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ ہم انتخابات میں جارہے ہیں ہم نے ساری باتوں اورظلم وذیادتیوں کوبرداشت کیاہے تاہم ہمارے کارکنان جس بے دردی سے قتل کیے جارہے ہیں ان کے لواحقین بھی ہم سے سوال کررہے ہیں کہ یہ سب آخرکب تک چلے گا؟انہوں نے کہاکہ وہ علاقے جودہشت گردوں کی آماجگاہیں وہاںآپریشن کیاجائے۔آخرمیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ڈاکٹرطاہرالقادری کی انتخابی اصلاحات سے ایم کیوایم نے ہمیشہ اتفاق کیاہے تاہم انتخابی عمل میں62،63کی آئینی شق کواستعمال ہی نہیں کیا گیا یہ بات ہم جانتے ہیں اس کے باوجودہم نے انتخابات میں جانے کافیصلہ کیااورہم انتخابات میں جارہے ہیں۔

12/9/2016 1:43:36 AM