Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

۔12 اکتوبر 1999ء کے دن سے سب کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ الطاف حسین


۔12 اکتوبر 1999ء کے دن سے سب کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ الطاف حسین
 Posted on: 4/22/2013
۔12 اکتوبر 1999ء کے دن سے سب کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ الطاف حسین 
اگر پرویز مشرف کے ساتھ کیا جانے والا ناروا سلوک جائز ہے تو پھر اصغر خان کیس میں پیسے لینے والے آئی جے آئی کے تمام رہنماؤں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا جائے اور ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔ 
آج جنرل پرویز مشرف کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے اس سے فوج اور حساس اداروں کی بدنامی ہورہی ہے
جنرل پرویز مشرف کو خود پر لگائے گئے الزامات کے دفاع کا بھرپور موقع دینا عدلیہ، الیکشن کمیشن آف پاکستان، نگراں حکومت اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے
خدارا پاکستان کو پسند و ناپسند کے نظام سے نکال کر انصاف کا نظام قائم کریں اور سب کے ساتھ آئین و قانون کے تحت یکساں سلوک کریں
حیدرآباد میں ایم کیوایم کے ذمہ داروں، کارکنوں اور ایم کیوایم کے نامزد حق پرست امیدواروں سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن ۔۔۔22، اپریل2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ انصاف کی بات یہ ہے کہ 12اکتوبر1999ء کو جب فوج کے چند جرنیلوں نے منتخب حکومت کو بر طر ف کر کے اس پر قبضہ کیا تھا آئین تو اسی دن ٹوٹ گیا تھا لہٰذا اسی دن سے سب کے خلاف مقدمہ چلایا جائے ۔اگر پرویز مشرف کے ساتھ کیا جانے والا ناروا سلوک آپ کی نظر میں جائز ہے تو پھر اصفر خان کیس میں پیسے لینے والے آئی جے آئی کے تمام رہنماؤ ں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا جائے اور ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے ۔ آج جنرل پرویزمشرف کے ساتھ جوکچھ کیا جارہاہے اس سے فوج اورحساس اداروں کی بدنامی ہورہی ہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو خودپر لگائے گئے الزامات کے دفاع کا بھرپورموقع دینا عدلیہ، الیکشن کمیشن آف پاکستان،نگراں حکومت اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بھی اپیل کی کہ ٹاک شوز میں جنرل پرویز مشرف کے حوالہ سے تنقید میں شائستگی اور ادب کا خاص خیال رکھاجائے ۔ یہ بات انہوں نے آج حیدرآباد میں ایم کیوایم کے ذمہ داروں ، کارکنوں اور ایم کیوایم کے نامزد حق پرست امیدواروں کے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ انصاف اور آئین کے تقاضوں کے مطابق کوئی بھی شہری جو فوجی ہویا سویلین ہو، اس پر کوئی الزام ہے تو آئین وقانون کے تحت ان الزامات کی تحقیقات کی جائے ،قانون بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے ،قانون کے مطابق فیصلے کرنا عدالتوں کا کام ہے ۔ وکلاء ہوں یا زندگی کے دیگرشعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری ہوں کسی کوبھی کسی کے خلاف قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے ہمیشہ حق اورانصاف کی بات کی ہے ، ایم کیوایم نے جنرل پرویز مشرف، صدرآصف زرداری اور پیپلزپارٹی کے ادوارحکومت میں انکی غلط باتوں کی کھل کرمخالفت کی کیونکہ سچ بولنا اور سچ کا ساتھ دینا ہے حق پرستوں کا شیوہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر آئین توڑنے کا الزام ہے ، وہ پاکستان کے شہری ہیں ، انہوں نے پاکستان آکر اپنی عبوری ضمانتیں کروائیں ، خود کوعدالت میں پیش کیا اور آج وہ جیل میں ایک اسیر کی زندگی گزاررہے ہیں لہٰذا میں میڈیا کے نمائندوں سے اپیل کرونگا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کیلئے کی جانے والی قانونی کارروائی کے حوالہ سے جو تنقید،بحث ومباحثہ کریں اس میں شائستگی اور ادب کا خاص خیال رکھیں ۔ بعض عناصر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایسی زبان استعمال کررہے ہیں جو مستقبل میں کوئی اور ان عناصر کے خلاف بھی ایسی زبان استعمال کرسکتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان، الیکشن کمیشن آف پاکستان اورنگراں حکومت سے کہاکہ آئین وقانون کے مطابق جنرل پرویزمشرف کو خود پر لگائے گئے الزامات کے دفاع کا بھرپورموقع ملنا چاہئے ۔ یہ عدلیہ ، الیکشن کمیشن آف پاکستان، نگراں حکومت اور سیاسی جماعتوں کی بنیادی ذمہ داری اورفرض ہے ۔جناب الطاف حسین نے جیل کے عملے کی جانب سے جنرل پرویز مشرف کے وکلا کو اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وکلاء کو جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی اجازت دی جائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج جنرل پرویزمشرف پر آئین توڑنے کامقدمہ چلانے کی بات کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ جنر ل پرویز مشرف پر کونسا مقدمہ چلا یا جائے او رکونسا مقدمہ نہ چلا یا جائے۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ 12اکتوبر1999ء کو جب فوج کے چند جرنیلوں نے منتخب حکومت کو بر طر ف کر کے اس پر قبضہ کیا تھا آئین تو اسی دن ٹوٹ گیا تھا لہٰذا اسی دن سے سب کے خلاف مقدمہ چلایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کو میری بات بری لگے گی کہ میں نے آمر کا ساتھ دیا ، میں کسی کا ساتھ نہیں دے رہا ، میر ا کہنا یہ ہے کہ اگر پرویز مشرف پر مقدمہ ثابت ہوجائے تو انہیںآئین و قانون کے تحت سز اد ی جائے لیکن جو اور لوگ سز اوار ہوں انہیں بھی پتلی گلی سے فرار ہونے کا مو قع نہ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف کے ساتھ کیا جانے والا ناروا سلوک آپ کی نظر میں جائز ہے تو پھر اصغر خان کیس میں پیسے لینے والے آئی جے آئی کے تمام رہنماؤ ں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا جائے اور ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج جنرل پرویزمشرف کے ساتھ جوکچھ کیا جارہاہے اس سے فوج اورحساس اداروں کی بدنامی ہورہی ہے۔ہماراکہنایہ ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتاہوانظر بھی آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیامذاق ہے کہ ملک کے پہلے وزیراعظم کو راولپنڈی میں جلسے میں گولی ماردی گئی، سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کو پھانسی دیدی گئی،اس کے بیٹوں کوشہید کردیا گیا ، سندھ کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو شہیدکیاگیا اور جب بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والے سیاستداں کامعاملہ آیاتو انہیں عدالت سے سزاہونے کے باوجود انکے پورے خاندا ن اورسوصندوقوں سمیت سعودی عرب کے محلوں میں بھیج دیاگیا، آخریہ کہاں کاانصاف ہے؟ خدارا پاکستان کوپسند و ناپسند کے نظام سے نکال کرانصاف کانظام قائم کریں اورسب کے ساتھ آئین وقانون کے تحت یکساں سلوک کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بیشترایسے بڑے بڑے امیدواروں کے کاغذات درست قراردیدیئے گئے جو بینک ڈیفالٹرز ہیں اورجنہوں نے قومی خزانے کے اربوں کھربوں روپے کھالئے ۔ جناب الطاف حسین نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرعدالتی کارروائی کے بارے میں میرے منہ سے کوئی غلط بات نکلی ہوتو اس پر پیشگی معذرت چاہتاہوں، میری نیت غلط نہیں تھی،اعمال کادارومدارنیتوں پر ہے اورنیتوں کاحال صرف اللہ تعالیٰ جانتاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے کاروکاری، ونی، قرآن سے شادی، خواتین کے چہروں پرتیزاب پھینکنا، کورٹ میرج کرنے پرمردوں اور خواتین کوقتل کرنے سمیت ہرمعاملے پر آوازاٹھائی، ۔اسلام ،آئین اورقانون ہربالغ لڑکے لڑکی کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کاآئینی وقانونی حق دیتاہے اوراسے غیرقانونی قراردیناکسی کوزیب نہیں دیتا اور اگر کورٹ میرج ناجائزہے تو پارلیمنٹ قانون سازی کراکے کورٹ میرج کے قانون کوختم کردے۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ایسانظام قائم کریں کہ کوئی کسی کی بہن بیٹی پر غلط نگاہ نہ ڈالے اورسب کوتحفظ ہو۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اگرکوئی جماعت خواتین کوانکے مساوی حقوق دلاسکتی ہے تووہ صرف متحدہ قومی موومنٹ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے ملک بھر کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم ،پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سرمایہ دارانہ ،سردارانہ نظام اور کرپٹ سیاسی کلچر پر سب سے پہلے کاری ضرب لگائی اورغریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں جاگیرداروں اوروڈیروں کے برابر بٹھایا۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آج پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ان کی جماعت جاگیرداروں اوروڈیروں کی جماعت نہیں بلکہ غریب ومتوسط طبقہ کی نمائندہ جماعت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے عوام نے ایم کیوایم پر اعتماد کا اظہار کیا اور وفاق میں ایم کیوایم کی حکومت قائم ہوئی تو ہم سب سے پہلے مقامی حکومتوں کا نظا م قائم کریں گے تاکہ انصاف غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کی دہلیز پر ہی فراہم کیاجاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ اورقومی اسمبلی کے ارکان کا کام قانون سازی ہوتا ہے جبکہ مقامی حکومتوں کاکام شہریوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنا ہوتاہے ۔ ایم کیوایم اقتدارمیں آئی تو کرپشن میں ملوث عناصر کوکسی صورت برداشت نہیں کیاجائے گا۔ ، سرکاری خزانے میں ڈاکہ ڈالنے والا خواہ ایم کیوایم سے ہی کیوں نہ تعلق رکھتا ہووہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔ایم کیوایم اقتدارمیں آکر انصاف کا ایسا شفاف نظام قائم کرے گی جہاں اقرباء پروری اور پسند ناپسند کے بجائے ایمانداری کی بنیاد پر فیصلے کئے جائیں گے ۔ ایم کیوایم کی حکومت آئی تو حیدرآباد شہر میں سب سے پہلے یونیورسٹی قائم کرے گی ،حیدرآباد میں طالبات کیلئے کم ازکم پانچ کالج بنائے جائیں گے ، خواتین کیلئے انڈسٹریل ہوم قائم کئے جائیں گے اور اسپتال میں جدید سہولیات فراہم کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں بلدیاتی نظام ابھی تک اپنی جڑیں قائم نہیں کرسکا، ایم کیوایم بلدیاتی نظام کومضبوط بنانے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی تاکہ عوام کو اعلیٰ سطح کی تعلیم ، صاف پانی، صحت اوردیگرسہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے آج بھی وہ وقت یاد ہے جب میں صرف ایک تحریکی ساتھی کے ساتھ بس میں سفر کر کے حیدرآباد جاتاتھا اور حیدرآباد کے کارکن جو دو یاتین ہوتے تھے بس اسٹاپ پر مجھے لینے آتے تھے ۔ ایم کیوایم آج ایک بہت بڑی سیاسی جماعت ہے اور پوری دنیا میں اسکے چاہنے والے مووجود ہیں لیکن میں آج بھی اپنی اوقات نہیں بھولا ۔ اس موقع پر انہوں نے یہ شعر بھی پڑھا ،
میں اکیلا ہی چلاتھا جانب منزل مگر 
لوگ ساتھ آتے گئے کارواں بنتا گیا
جناب الطاف حسین نے اس موقع پر حیدرآبادضلع سے نامزدکردہ ایم کیوایم کے تمام امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیااور کہا کہ ملک کے تمام حصوں سے ایم کیوایم کے نامزد کرد ہ امیدوارحصہ لے رہے ہیں ۔ ایم کیوایم اب ایک قومی جماعت ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایم کیوایم ایک علاقائی جماعت ہے ۔جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے امیدوارو ں کو ہدایت کی کہ وہ منتخب ہوکر خود کو عوام کی خدمت کیلئے وقف کر دیں ۔ انہوں نے الیکشن کی تیاریو ں میں رات دن مصروف ذمہ داروں او رکارکنو ں کو زبر دست خراج تحسین بھی پیش کیا ۔انہوں نے ایم کیوایم کے جلسوں اوردیگرتقریبا ت کی کوریج پر تمام الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکاخصوصی شکریہ اداکیا۔

12/4/2016 2:25:13 PM