Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سعودی عرب فوجیں بھیجنے کے معاملے پر پاکستان کی بقاء وسالمیت کودیکھئے، پاکستان کواولیت دیجئے۔الطاف حسین


سعودی عرب فوجیں بھیجنے کے معاملے پر پاکستان کی بقاء وسالمیت کودیکھئے، پاکستان کواولیت دیجئے۔الطاف حسین
 Posted on: 4/6/2015 1
سعودی عرب فوجیں بھیجنے کے معاملے پر پاکستان کی بقاء وسالمیت کودیکھئے، پاکستان کواولیت دیجئے۔الطاف حسین
ہمیں ’’ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے ‘‘ کاکرداراداکرنے اورچوہدری بننے کاشوق ہے۔الطاف حسین
بشمول الطا ف حسین ہر مسلمان کے دل میں خانہ کعبہ اورمسجدنبوی ؐ کابہت احترام ہے۔الطاف حسین
خدانخواستہ وقت پڑا تومیں بھی خانہ کعبہ اورمسجدنبویؐ کی حرمت وتقدس کی سلامتی کیلئے دوڑا چلاجاؤں گا 
اس وقت معاملہ خانہ کعبہ یامسجدنبویؐ کانہیں بلکہ سعودی عرب اوریمن کاہے۔الطاف حسین
استعفے دینے والے ارکان کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دینا آئین وقانون کامذاق اڑانے کے مترادف ہے
جس طرح طلاق کے بعد دوبارہ رجوع کرناپڑتاہے اسی طرح استعفے کے بعد دوبارہ اسمبلی میں جانے کیلئے دوبارہالیکشن لڑناپڑتاہے۔ موجودہ صورتحال پر الیکٹرانک میڈیاسے گفتگو
لندن ۔۔۔ 6 اپریل 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے پاکستان کے ارباب اختیارسے کہاہے کہ سعودی عرب فوجیں بھیجنے کے معاملے پر پاکستان کی بقاء وسالمیت کودیکھئے، پاکستان کواولیت دیجئے اور پاکستان کواپنے مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔انہوں نے کہاکہ استعفے دینے والے ارکان کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دینا آئین وقانون کامذاق اڑانے کے مترادف ہے۔انہوں نے ان خیالات کااظہارآج موجودہ صورتحال پر الیکٹرانک میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ آج پارلیمنٹ کے اجلاس میں ارکان کی حیثیت کٹھ پتلی کے تماشبین سے زیادہ نہیں تھی اور سعودی عرب یمن کے درمیان جاری چپقلش پر پاکستان کے مؤقف کے بارے میں اول فول بات کی گئی اوراجلاس شام تک کیلئے ملتوی کردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کے محروم ومظلوم عوام کے نمائندے کی حیثیت سے یہ بتاناچاہتاہوں کہ میں پاکستان اوراس کے عوام کادوست اورہمدردہوں۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہاگیاکہ سعودی عرب کاہرجگہ ہرلحاظ سے دفاع کیاجائے گا۔ ایساکہنے والوں کوشرعی اصولوں کا کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی دنیاوی قوانین کااورنہ ہی اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کی قراردادوں کاکوئی بھرم ہے۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کاچارٹر7یہ کہتاہے کہ اگر کسی ملک کی جانب سے کسی ملک کے خلاف جارحیت ہو اوراس کی وجہ سے اس ملک کے استحکام کوخطرہ ہوتواقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل اس بارے میں قراردادپاس کرتی ہے کہ کس کس کوکس کی مددکرنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ عرب لیگ نے اپنے اجلاس میں یمن کے خلاف کارروائی کی بات کی۔ عرب لیگ نے انڈیاکومبصر کی حیثیت سے ممبرکادرجہ دیاہواہے لیکن پاکستان کومبصرکادرجہ بھی نہیں دیاگیا ہے۔اس لحاظ سے سعودی عرب کے دفاع کے لئے انڈیاکو کہاجانا چاہیے تھالیکن ہمیں ’’ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے ‘‘ کاکرداراداکرنے اورچوہدری بننے کاشوق ہے۔انہوں نے کہاکہ بشمول الطا ف حسین ہر مسلمان کے دل میں خانہ کعبہ اورمسجدنبوی ؐ کابہت احترام ہے اورخدانخواستہ وقت پڑا تومیں بھی تمام مشکلات کی زنجیریں توڑکرخانہ کعبہ اورمسجدنبویؐ کی حرمت وتقدس کی سلامتی کیلئے دوڑا چلاجاؤں گالیکن اس وقت معاملہ خانہ کعبہ یامسجدنبوی کانہیں بلکہ سعودی عرب اوریمن کاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی فوج پہلے ہی ملک میں ضرب عضب میں مصروف ہیں ایسے میں پاکستان کی فوجیں کس طرح کہیں اوربھیجی جاسکتی ہیں ؟ انہوں نے سوال کیاکہ پاکستان کے تحفظ کیلئے آج تک کس ملک کی افواج آئی ہیں؟1948ء، 1965ء، 1971ء کی جنگ میں کس ملک نے پاکستان کا ساتھ دیا؟ کارگل کی جنگ میں کس ملک نے پاکستان کاساتھ دیا؟آرمی پبلک اسکول میں معصوم بچے شہیدہوئے لیکن کسی نے مدد نہیں کی اور اگر مدد کی ہو تو کسی کے ذاتی خزانے میں مددکی ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ خدار پاکستان کی بقاء وسالمیت کودیکھئے، پاکستان کواولیت دیجئے اور پاکستان کواپنے مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ سعودی عرب یمن کے معاملے پرآج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی آڑ میں ایسے ارکان کوبھی ایوان میں آنے کی اجازت دی گئی جنہوں نے بہت پہلے ہی استعفے دیدیے تھے۔اس لحاظ سے ان کی رکنیت اوراجلاس میں شرکت ناجائز ہے۔انہوں نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 64کی شق ایک کے تحت جب کوئی رکن ایک مرتبہ استعفیٰ دیدے تواس کی سیٹ خالی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح آئین کے آرٹیکل 64کی شق 2کے تحت اگرکوئی رکن مسلسل 40دن تک ایوان سے غیرحاظررہے توبھی اس کی رکنیت ختم ہوجاتی ہے۔ استعفے دینے والے ارکان کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دینا آئین وقانون کامذاق اڑانے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہاکہ جس طرح طلاق کے بعد دوبارہ رجوع کرناپڑتاہے اسی طرح استعفے کے بعد دوبارہ اسمبلی میں جانے کیلئے دوبارہ الیکشن لڑناپڑتاہے۔انہوں نے کہاکہ خدارامفادات کے بجائے صحیح فیصلے کئے جائیں۔


12/8/2016 6:03:12 PM