Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملک وقوم کیلئے ایم کیوایم کے مثبت اقدامات کو قدرکی نگاہ سے نہیں دیکھاجارہا ہے ،ایم کیوایم کے کارکنان وعوام پرعرصہ حیات تنگ کیاجارہا ہے۔الطاف حسین


ملک وقوم کیلئے ایم کیوایم کے مثبت اقدامات کو قدرکی نگاہ سے نہیں دیکھاجارہا ہے ،ایم کیوایم کے کارکنان وعوام پرعرصہ حیات تنگ کیاجارہا ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 3/30/2015
ملک وقوم کیلئے ایم کیوایم کے مثبت اقدامات کو قدرکی نگاہ سے نہیں دیکھاجارہا ہے ،ایم کیوایم کے کارکنان وعوام
پرعرصہ حیات تنگ کیاجارہا ہے۔الطاف حسین
ایم کیوایم نے کراچی میں امن کی خاطر آپریشن کی حمایت کی تھی لیکن اس آپریشن کا رخ ایم کیوایم کی جانب موڑدیاگیا،
ایم کیوایم کے کارکنان وہمدردوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کاسلسلہ شروع کردیاگیا
عامر خان کو دیگر گرفتارشدگان کے ہمراہ مجرموں کی طرح آنکھوں پرپٹیاں باندھ کر عدالت میں لایاگیااوردنیا کو بتایا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ مہمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے
اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصرایم کیوایم سے ذاتی پرخاش رکھتے ہیں اور ایم کیوایم کو طاقت سے کچلنا چاہتے ہیں
کراچی کے عوام ایم کیوایم کے ساتھ ہیں اورتمام ترسازشی ہتھکنڈوں اورمظالم کے باوجودایم کیوایم کواپنامینڈیٹ دیتے آئے ہیں
اگر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخاب کے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی اورضمنی انتخاب کا نتیجہ عوام کے فیصلے کے خلاف آیا توملک سے جمہوریت کے خاتمے کا آغاز ہوجائے گا
لاس اینجلس کی عدالت یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ عمران خان ، سیتا وائٹ کی بچی کا والد ہے 
پاکستان نے پانچ جنگیں لڑیں لیکن کسی بھی جنگ میں او آئی سی کے کسی مسلم ملک نے عملاً پاکستان کا ساتھ نہیں دیا
ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ سعودی عرب اور یمن کی جنگ میں پاکستان کا کیا کردارہونا چاہیے
پیراور منگل کی درمیانی شب ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر ذمہ داران کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب 
اجلاس میں اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست سینیٹرز ،ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اورایم کیوایم کے مختلف شعبہ جات کے ارکان شریک تھے
ذمہ داران و کارکنان کے پرذوراصرار پرجناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کی قیادت سے علیحدگی کا فیصلہ واپس لے لیا
لندن۔۔۔30، مارچ2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی کے عوام آج بھی ایم کیوایم کے ساتھ ہیں اورتمام ترسازشی ہتھکنڈوں اورمظالم کے باوجودایم کیوایم کواپنامینڈیٹ دیتے آئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 کی طرح این اے 246 کے ضمنی انتخاب کے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی اورضمنی انتخاب کا نتیجہ عوام کے فیصلے کے خلاف آیا توملک سے جمہوریت کے خاتمے کا آغاز ہوجائے گا۔یہ بات انہوں نے پیراور منگل کی درمیانی شب ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر ذمہ داران کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست سینیٹرز ،ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اورایم کیوایم کے مختلف شعبہ جات کے ارکان شریک تھے ۔ جناب الطاف حسین نے تاریخ کے حوالے دیکر مہاجروں کے سیاسی ، معاشی ، تعلیمی اور جسمانی قتل عام ، اے پی ایم ایس اور ایم کیوایم کے قیام کے اسباب ،ایم کیوایم کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے متعصبانہ رویہ اور ایم کیوایم کی 40 سالہ حق پرستانہ جدوجہد کی تفصیلات بیان کیں۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ بانیان پاکستان اور ان کی اولادوں کے ساتھ غیروں جیسے سلوک کی داستان بہت طویل ہے۔قائداعظم محمد علی جناح ، بانی پاکستان تھے لیکن انہیں ایک سازش کے تحت قتل کردیا گیا ، ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کوبھی قتل کردیا گیا، خان لیاقت علی خان کو بھرے جلسے میں گولی مارکر شہید کردیا گیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اردوبولنے والوں کو ہردور میں انہیں تعصب اور عصبیت کا نشانہ بنایاجاتا رہا ، جنرل ایوب خان کے دور میں 300 سے زائد اعلیٰ مہاجر افسران کو بیک جنبش قلم بلاجواز ان کی ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا، جنرل یحییٰ خان کے دور میں ایک ہزار سے زائد مہاجر بیوروکریٹس کو ملازمتوں سے نکالاگیا اور باقی رہ جانے والے مہاجر بیوروکریٹس کو ذوالفقار علی بھٹو کے دورمیں برطرف کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ذوالفقارعلی بھٹو نے نیشنلائزیشن کی پالیسی متعارف کرائی اور تمام پرائیوٹ بینکس، انڈسٹریز اور دیگرکاروبارقو می تحویل میں لئے گئے جن میں سے 90 فیصد اردوبولنے والے گجراتی ،میمن ، اسماعیلی اورانڈیا سے ہجرت کرکے آنے والوں کی ملکیت تھے ۔ جب 90ء کی دہائی میں نوازشریف کے دورمیں نیشنلائزیشن کی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی کاآغازکیاگیا اورقومیائے گئے بینکوں اوراداروں کوواپس نجی تحویل میں دینے کاسلسلہ شروع کیاگیا توغیرمہاجروں کے بنک ، انڈسٹری اور کاروبارتو انکے حوالے کردیئے گئے لیکن اردوبولنے والوں کو ان کے بینک، انڈسٹری اور دیگر کاروبار واپس نہیں کیے گئے۔ذوالفقارعلی بھٹو نے1973ء میں سندھ کی دیہی آبادی کوشہری آبادی کے برابرلانے کے نام پر سند ھ میں10سال کیلئے کوٹہ سسٹم نافذکردیاجس کے تحت دیہی سندھ کیلئے ملازمتوں اورداخلوں میں 60فیصدا ورشہری سندھ کیلئے 40فیصدکوٹہ مقررکیاگیا۔بھٹوکے بعد جنرل ضیاء الحق نے اس غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کوختم کرنے بجائے اس کی معیاد میں 20 سال کا اضافہ کردیا۔پسماندہ دیہی علاقے صرف سندھ میں نہیں تھے بلکہ صوبہ پنجاب ،سرحد اوربلوچستان میں بھی تھے لیکن وہاں کوٹہ سسٹم متعارف نہیں کیاگیا بلکہ کوٹہ سسٹم صرف صوبہ سند ھ میں نافذ کیا گیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بانیان پاکستان کی اولادوں نے تحریک پاکستان کی جدوجہد میں جانی ومالی قربانیاں دیں اور پاکستان ہجرت کی لیکن انہیں پاکستانی تسلیم نہیں کیاگیا،سندھ میں سرکاری ملازمتوں کیلئے دیئے جانے والے اشتہارات میں صاف لکھاگیا کہ کراچی ، حیدرآباد اور سکھر سے تعلق رکھنے والے افراد ملازمت کی درخواست دینے کی زحمت نہ کریں، سندھ کی یونیورسٹیوں میں اردواسپیکنگ طلباء کا داخلہ لینا ناممکن بنادیا گیا ، وہ اگروہاں جاتے تو انہیں برہنہ کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاجاتا تھا،یہی طرزعمل کراچی کے تعلیمی اداروں میں بھی روا رکھاجاتا تھا۔اردوبولنے والے طلباوطالبات کے ساتھ متعصبانہ سلوک اور ناانصافیوں کے مسلسل عمل کے خلاف 11جون 1978ء کو جامعہ کراچی میں ’’ آل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹس آرگنائزیشن ‘‘ قائم کی گئی۔ اے پی ایم ایس او کے قیام سے قبل جامعہ کراچی میں پنجابی اسٹوڈینٹس ایسوسی ایشن، پختون اسٹوڈینٹس فیڈریشن، جئے سندھ اسٹوڈینٹس فیڈریشن، بلوچ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن اور ہزارہ ، گلگت بلتستانی اوردیگرقومیتوں کی طلباء تنظیمیں موجود تھیں جوکہ برسوں سے کام کررہی تھیں اوران تنظیموں پر کسی کوکوئی اعتراض نہیں تھالیکن جب ہم نے مہاجر وں کے ساتھ ہونیوالی ناانصافیوں کے خلاف اے پی ایم ایس او قائم کی توایک طوفان کھڑاکردیاگیا، اس کے خلاف اخبارات میں اداریے شائع کیے گئے ، اے پی ایم ایس او پر جھوٹے الزامات لگائے گئے اور اسے برابھلا کہاگیا۔14، اگست1979ء کو میں نے بنگلہ دیش میں محصورپاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے قائداعظم کے مزارپر پرامن مظاہرہ کیا تو مجھے جھوٹے الزام میں گرفتارکرکے جنرل ضیاء کی سمری ملٹری کورٹ سے9،ماہ قید اور پانچ کوڑوں کی سزا سنائی گئی ، میں نے کسی سے معافی نہیں مانگی بلکہ اپنی سزا پوری بھگتی، اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے لوگ مجھے طرح طرح کا لالچ دینے لگے کہ فلاں نوکری لے لو اور معافی مانگ لو لیکن میں نے معافی نہیں مانگی ۔ مجھے اندازہ تھا کہ یہ میری والدہ محترمہ کے پاس جاکر انہیں مجبور کرسکتے ہیں لہٰذا میں نے اپنی والدہ کو جیل بلاکران سے کہاکہ آپ کے پاس یونیورسٹی کے پروفیسرز کے ہمراہ فوج کے کچھ لوگ آئیں گے اورآپ سے کہیں گے آپ دو لائن کامعافی نامہ تحریر کردیں ، اگر آپ نے ایک لفظ بھی لکھ کردیا تو میں رہا تو ہوجاؤں گا لیکن پھرساری زندگی گھرواپس نہیں آؤں گا۔ اسٹیبلشمنٹ کے لوگ میرے گھرپہنچے اور میری والدہ سے کہاکہ عید قریب آرہی ہے ، اچھا ہوگاکہ آپ کا بیٹا عید آپ کے ساتھ ہی عید گزارے لہٰذاآپ معافی نامہ لکھ دیں۔ جب میری والدہ نے معافی نامہ لکھنے سے انکارکردیاتوان سے کہاگیاکہ آپ صرف اتنا لکھ دیں کہ’’میرا بیٹا مظاہرے میں شریک نہیں تھا‘‘ جس پر میری والدہ محترمہ نے کہاکہ میں یہ کیسے لکھ دوں ، میں جھوٹ نہیں لکھ سکتی کیونکہ میرا بیٹا مظاہرے میں شریک تھا۔میری والدہ نے کچھ بھی لکھنے سے انکارکردیا لہٰذا وہ مایوس ہوکر چلے گئے اور میں نے اپنی سزا پوری کی ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے خریدنے کیلئے جنرل حمید گل نے بریگیڈئیر امتیاز احمد کے ہاتھوں نوٹوں سے بھرا بریف کیس میرے پاس بھیجا مگر میں نے وہ پیسے لینے سے انکار کردیا۔بریگیڈئیر امتیاز احمد اپنے ٹی وی انٹرویو میں پوری دنیا کے سامنے اس بات کااعتراف کرچکے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کیلئے جواز دیا گیا کہ سپریم کورٹ کے مطابق تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں میں عسکری ونگ ہیں جن میں ایم کیوایم ، پیپلزپارٹی ، اے این پی ، سنی تحریک، جماعت اسلامی ، لشکرجھنگوی، سپاہ صحابہ ، سپاہ محمد اوردیگر تنظیمیں شامل ہیں۔ ایم کیوایم نے کراچی میں امن وامان کی خاطر اس آپریشن کی حمایت کی لیکن اس آپریشن کا رخ ایم کیوایم کی جانب موڑدیاگیااور ایم کیوایم کے کارکنان وہمدردوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کاسلسلہ شروع کردیاگیا۔11مارچ 2015ء کو میرے گھرنائن زیروپر ، میری بڑی بہن کے گھر پر چھاپے مارے گئے ، نائن زیرو کے اطراف رہائش پذیر ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو گرفتارکرلیا گیالیکن آج تک کسی اور سیاسی جماعت کے دفتر یاکسی سیاسی جماعت کے سربراہ کے گھر پرچھاپہ نہیں مارا گیا۔نائن زیروپرچھاپے کے دوران دیگرکارکنوں کے ہمراہ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن عامر خان کو بھی گرفتارکیاگیا۔انکے بارے میں کہاگیا کہ انہیں گرفتارنہیں کیاجارہا ہے ، وہ ہمارے مہمان ہیں لیکن دوسرے دن عامر خان کو دیگر گرفتارشدگان کے ہمراہ مجرموں کی طرح آنکھوں پرپٹیاں باندھ کر عدالت میں لایاگیااوردنیا کوبتایا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ مہمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ عمل کرکے اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر نے واضح اشارہ دیدیا کہ وہ ایم کیوایم سے ذاتی پرخاش رکھتے ہیں اور ایم کیوایم کو طاقت سے کچلنا چاہتے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کے پے رول پر کام کرنے والے بعض اینکرپرسنز اورتجزیہ نگار مسلسل اس بات کو اچھال رہے ہیں کہ الطاف حسین کے بغیر ایم کیوایم بہت اچھی ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ کھلی ناانصافی ہے کہ تمام تر پابندیاں صرف ایم کیوایم کیلئے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کو پنجاب میں گلو بٹ جیسے غنڈے نظر نہیں آتے ، جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے گھروں سے القاعدہ اورطالبان کے دہشت گردوں کو گرفتارکیا جاچکا ہے لیکن آج تک جماعت اسلامی کے کسی رہنماء کے گھر پرچھاپہ نہیں مارا گیا، فرقہ پرست تنظیمیں، مختلف مذاہب اور مکاتب فکرکے بے گناہ شہریوں کوقتل کررہی ہیں لیکن انکے دفاتر پرچھاپے نہیں مارے جاتے ، اسلام آباد کی لال مسجد کی خواتین داعش کی شان میں قصیدے پڑھتی ہیں ، داعش کے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کررہی ہیں ، لال مسجد سے فوجی اہلکاروں پر فائرنگ کی جاتی ہے ، کمانڈوز کو شہید کیا جاتا ہے لیکن وہاں چھاپہ نہیں مارا جاتا، لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف دو ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں لیکن اس کو گرفتارنہیں کیاجاتااوروفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کھل کراعتراف کرتے ہیں کہ ہم مولوی عبدالعزیز کو گرفتارنہیں کرسکتے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل اور پاکستان کے مظلوم ومحروم عوام کی زندگی سنوارنے کیلئے 25 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی بسر کررہاہوں ، اس پر بھی مجھے بعض سیاسی رہنما ؤں کی مغلظات اوربہتان تراشی کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ لاس اینجلس کی عدالت یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ عمران خان ، سیتا وائٹ کی بچی کے والد ہیں لیکن بغیرنکاح ایک بچی کو جنم دینے والا یہ شخص دن رات مجھ پرجھوٹے الزامات عائد کرتارہتا ہے ، ایم کیوایم پر بہتان تراشی کرتا ہے ملک بھر کے دانشور،کالم نگار، اینکرپرسنز اور عوام جانتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے دھرنے کے دوران پولیس اہلکاروں کو تشددکا نشانہ بنایا،انکی حراست سے اپنے مسلح غنڈوں کو چھڑایا اوراپنی رہائش گاہ بنی گالہ لے گیا لیکن نہ تو اس دہشت گردی کے خلاف کوئی آواز اٹھاتا ہے اورنہ ہی وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے عمران کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ماضی میں ہم نے روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں روس کو کافرقراردیااور امریکہ کو اہل کتاب کہہ کراس کی حمایت کی اورافغانستان بھیجنے کیلئے جہادی دستے بنائے ، ہم آج تک اس غلط فیصلے کے نتائج بھگت رہے ہیں ۔آج بھی ملک سے مذہبی انتہاء پسندی اوردہشت گردی کے خاتمے کیلئے ضرب عضب جاری ہے ۔ سعودی عرب اور یمن کی جنگ کا تنازعہ سامنے آگیا، اس حوالہ سے مختلف لوگوں کی جانب سے دلیل دی جارہی ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات سعودی عرب میں واقع ہیں لہٰذا ہمیں سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ کعبۃ اللہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کیلئے ہم سب کی جانیں حاضرہیں لیکن معاملہ دواسلامی ملکوں کاہے۔انہوں نے کہاکہ 1948 ء سے آج کے دن تک پاکستان نے پانچ جنگیں لڑیں لیکن کسی بھی جنگ میں او آئی سی کے کسی مسلم ملک نے عملاً پاکستان کا ساتھ نہیں دیااورکسی مسلم ملک نے پاکستانی فوج کی مدد کیلئے اپنی فوجیں نہیں بھیجیں۔اسی طرح چائنا، امریکہ اورمغربی ممالک نے بھی نیٹو کی طرح اپنی فوجیں پاکستان کی مدد کیلئے نہیں بھیجیں۔لہٰذا ہمیں ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ سعودی عرب اور یمن کی جنگ میں پاکستان کا کیا کردارہونا چاہیے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تمام ترناانصافیوں اورزیادتیوں کے باوجود ایم کیوایم نے پاکستان کی بقاء وسلامتی اور ترقی وخوشحالی کو مقدم جانا اور اس تناظر میں ، میں نے جے یوآئی کے سربراہ مولانافضل الرحمان ، مولانا تنویر الحق تھانوی،پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اورتمام تر نظریاتی اختلافات کے باوجود جماعت اسلامی کے امیرمحترم سراج الحق سے بات کی ، اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی کی رہائش گاہ پر فون کیا تاہم ان سے بات نہیں ہوسکی۔ اس حوالہ سے میری جن جن سیاسی ومذہبی رہنماؤں سے بات ہوئی ، ہم سب نے ایک نکتہ پر اتفاق کیا کہ اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس مسئلہ پر قومی اتفاق رائے کیلئے وزیراعظم نوازشریف کو وقت ضائع کیے بغیر آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنی چاہیے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک وقوم کیلئے ایم کیوایم کے مثبت اقدامات کو قدرکی نگاہ سے نہیں دیکھاجارہا ہے اورایم کیوایم کے کارکنان وعوام پرعرصہ حیات تنگ کیاجارہا ہے۔اگر میں ایم کیوایم کی قیادت جاری رکھتا ہوں تو یہ ہماری کمیونٹی پر مزید مظالم کریں اور ظلم وستم کے ہتھکنڈے استعمال کریں گے لہٰذا بہتر ہے کہ میں ایم کیوایم کی قیادت سے علیحدہ ہوجاؤں اورقوم کو مزید مظالم سے بچالوں۔آپ میرے فکروفلسفہ اورنظریہ کو سامنے رکھتے ہوئے حق پرستی کی تحریک جاری رکھیں۔جس پر ایم کیوایم کے تمام ذمہ داران وکارکنان نے قیادت سے جناب الطاف حسین کی دستبرداری کے فیصلے کویکسرمستردکرتے ہوئے کہاکہ ہم ہرظلم وستم کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن آپ کی قیادت سے علیحدگی فیصلہ قبول نہیں کریں گے ۔ ذمہ داران وکارکنان نے جناب الطا ف حسین کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے اور ان سے اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کااظہار کیا۔ اس موقع پر بیشتر کارکنان بالخصوص خواتین شدت جذبات سے بے قابو ہوگئیں اور پھوٹ پھوٹ کررونے لگیں ۔انہوں نے روتے ہوئے جناب الطاف حسین کو بزرگ ہستیوں کے واسطے دیکر ان سے درخواست کی وہ اپنے فیصلہ پر نظرثانی کریں۔ ذمہ داران و کارکنان کے پرذوراصرار پرجناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کی قیادت سے علیحدگی کا فیصلہ واپس لے لیا۔انہوں نے کہاکہ تمام ترناانصافیوں اورمظالم کے باوجود ایم کیوایم کے کارکنان وعوام کی حب الوطنی ہرقسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے ،ہم آج بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء اورترقی وخوشحالی چاہتے ہیں اور ملک بھرکے غریب ومظلوم عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں لیکن ہم نے تہیہ کررکھا ہے کہ ہم کسی بھی باطل قوت کے آگے اپنا سرنہیں جھکائیں گے اور ملک بھرکے مظلوم عوام کیلئے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام ذمہ داران اور کارکنان پرزوردیا کہ وہ صوبہ سندھ، پنجاب ، پختونخوا ،بلوچستان ، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں پھیل جائیں اور گھرگھر جاکرایم کیوایم کے حق پرستانہ پیغام سے عوام کوآگاہ کریں ، انشاء اللہ وہ دن ضرورآئے گا جب ملک سے ظلم وجبرکا فرسودہ جاگیردارانہ نظام ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگا اور ملک وقوم کو چند خاندانوں پر مشتمل اقتدارمافیا سے نجات حاصل ہوجائے گی۔

12/10/2016 2:55:06 AM