Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں کریکٹر نام کی کوئی چیز نہیں ہے، کنور نوید جمیل


عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں کریکٹر نام کی کوئی چیز نہیں ہے، کنور نوید جمیل
 Posted on: 3/30/2015
عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں کریکٹر نام کی کوئی چیز نہیں ہے، کنور نوید جمیل 
کوشش کی جارہی ہے کہ بیساکھیوں پر سوار ہوکر کراچی میں ایم کیوایم سے مینڈیٹ چھینا جائے ، کنورنوید 
سیاست میں تنقید ہوتی ہے لیکن اس کے اپنے ادب آداب اور رویئے ہیں بازاری لوگوں کی طرح سے سیاست میں باتیں نہیں ہوا کرتی، کنور نوید 
عمران خان دہشت گردی کے خلاف بلائی گئی اے پی سی میں شرکت کرنے کے بجائے لندن میں ایسی پارٹی میں موجود تھے 
جو ہندوستان میں ہاتھیوں کے تحفظ کیلئے تھی ، کنور نوید جمیل 
کراچی میں کتنی قیامتیں گزر گئی کسی پی ٹی آئی کے لیڈر نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کجا ہمدردی تک نہیں کی ، کنور نوید جمیل 
اگر کراچی کے عوام عمران خان کو ووٹ دیں تو ٹھیک اور اگرنہیں دیں توعمران خان انہیں زندہ لاشیں کہتے ہیں ، کنو رنوید جمیل 
آج دنیا بھر میں یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ عمران خان نے تو اپنی ساری دولت شوکت خانم کو دیدی تھی تو یہ اربوں روپیہ کہاں سے آگیا ہے، کنو رنوید جمیل 
حلقہ این اے 246 لیاقت آباد اور فیڈرل بی ایریا سے گزشتہ چھ ماہ کے ودران ایم کیوایم کے چھ سو سے زائد کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، کنور نوید 
2013ء کے انتخابات کے بعد کراچی کی چار سیٹوں پر ضمنی انتخاب ہوئے ہیں جن میں چاروں 
حق پرست امیدواربھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں، کنور نوید جمیل 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں حق پرست اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔30، مارچ2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور این اے 246کی ضمنی نشست پر نامز دحق پرست امیدوار کنور نوید جمیل نے کہا ہے کہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں کریکٹر نام کی کوئی چیز نہیں ہے، سیاست میں تنقید ہوتی ہے لیکن اس کے اپنے ادب آداب اور رویئے ہوتے ہیں بازاری لوگوں کی طرح سے سیاست میں باتیں نہیں ہوا کرتی،پی ٹی آئی اور عمران خان ان کے پاس جھوٹے وعدوں اور خراب کردار کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے دوسری مرتبہ کراچی پر قبضہ کی کوشش کی ہے ، پہلی مرتبہ طالبان کی حمایت سے کی تھی ، کراچی کے لوگ جانتے ہیں 2012ء ، 2013ء میں بھی طالبان کے ذریعے ایم کیوایم کو ہاتھ پاؤں باندھ کر الیکشن میں دھکیل دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود عوام نے ایم کیوایم کو اکثریت سے ووٹ دیکر کامیاب کرایا ۔انہوں نے کہاکہ این اے 246میں شامل لیاقت آباد اور فیڈرل بی ایریا سے گزشتہ چھ ماہ کے ودران ایم کیوایم کے چھ سو سے زائد کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے ، ایسے کارکنان جن پر کسی قسم کے کوئی کیس تک نہیں ہیں وہ بھی اپنے گھروں میں نہیں سورہے ہیں ۔کوشش کی جارہی ہے کہ بیساکھیوں پر سوار ہوکرکراچی میں ایم کیوایم سے مینڈیٹ چھینا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء کے انتخابات کے بعد کراچی کی چار نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوئے ہیں جن میں چاروں حق پرست امیدواربھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں ، چاروں ضمنی انتخاب کے دوران میں فوج پولنگ بوتھ کے اندر موجود تھی اور چاروں الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئی ہیں آج پتہ نہیں پی ٹی آئی کس زعم میں مبتلا ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے خورشیدبیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے جناب الطا ف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف زہر افشانی کرنے پر منعقد کی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سابق حق پرست رکن قومی اسمبلی اور ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے انچارج وسیم اختر ، حق پرست رکن قومی اسمبلی ریحان ہاشمی ، آصٖف حسنین اور حق پرست رکن سندھ اسمبلی جمال احمد بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ کنور نوید جمیل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن ایک جمہوری عمل ہے اور الیکشن کے ذریعے ہی جمہوریت کو پروان چڑھایا جاتا ہے ، ایم کیوایم اور اس کے قائد جناب الطاف حسین جمہوریت اور جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں یہی وجہ ہے این اے 246کا جب ضمنی انتخاب آیا اور پی ٹی آئی کی جانب سے یہ کہا گیا کہ پی ٹی آئی یہاں سے الیکشن لڑے گی تو جناب الطاف حسین نے پی ٹی آئی کو بڑی فراخدالانہ پیشکش کی کہ آیئے اور آپ این اے 246کے الیکشن سے حصہ لیں اس لئے کہ یہ ایک جمہوری عمل ہے اور اس میں تمام جماعتوں کا حصہ لینا ان کا جمہوری حق ہے یہی نہیں بلکہ تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود جب بھی عمران خان نے کراچی میں کوئی بھی جلسہ کیا تو محترم قائد تحریک جناب الطاف حسین نے نہ صرف پی ٹی آئی اور عمران خان کو خوش آمدید کہا بلکہ ان کے جلسہ کے اختتام پر سب سے پہلے عمران خا ن اور پی ٹی آئی کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ جناب الطاف حسین کی اس فراخدالانہ پیشکش کے جواب میں عمران خان نے گزشتہ روز سماء ٹیلی ویژن کے پروگرام میں جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم پر جو الزامات لگائے وہ کم از کم کسی سیاسی رہنما یا لیڈر کو زیب نہیں دیتا تھا اس قسم کی باتیں کوئی سڑک چھاپ شخص تو کرسکتا ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کے لیڈر کو یہ باتیں زیب نہیں دیتی لیکن پاکستان کے عوام یہ بات جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں اور باالخصوص عمران خان میں کریکٹر نام کی کوئی چیز نہیں ہے نہ ان کی جماعت میں ، نہ ان کی شخصیت ، لہجوں اور رویوں میں یہ موجود ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف آزاد کشمیر کے جلسہ میں کراچی کے لوگوں کو زندہ لاشیں کہا اور الطاف حسین کیلئے انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے ، کبھی عمران خان نے نوازشریف ، آصف زرداری کو گالی گفتار دینا شروع کردی ۔ پولیس والوں کیلئے کہنے لگے کہ کسی کارکن کو پکڑا تو خود پھانسی دوں گا یہی انداز اورلہجہ ان کے تمام رہنماؤں اور لیڈروں میں ہے ۔انہوں نے کہاکہ عارف علوی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے جناب الطاف حسین کیلئے جو زہر فشانی کی ہے یہ ایم کیوایم نہیں ان کے اپنے منہ پر طمانچہ ہے ،مہذب معاشرے اور سیاست میں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتی ہیں اور دنیا بھر کو جمہوریت کا سبق سکھانے والے اور ایم کیوایم اور اس لیڈڑ کوبرملا گالیاں دینے والے وہی لوگ ہیں جو پی ٹی وی پر حملے میں ملوث ہیں اور انہی عارف علوی نے پی ٹی وی پر حملے کے بعد عمران خان کو اطلاع دی اور عمران خان نے اس پر انہیں شاباشی دی اور کہا کہ یہی دباؤ برقرار رکھا گیا تو نواز شریف استعفیٰ دیدیگا۔ اس ٹیلی فونک گفتگو کو سن کر وفاقی وزیر نشرو اشاعت پرویز رشید کو کہنا پڑا کہ رات پی ٹی آئی والے ایم کیوایم کی کال کا انتظار کرتے ہیں اور دن کو گالیاں دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور اس کے لوگ پاکستان کے سب سے زیادہ باشعور لوگ ہیں ، کراچی نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ کراچی میں پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں یہاں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ گزشتہ 35، 40برس میں کراچی کی تکالیف میں ، جرائم پیشہ لوگوں کی یلغار اور کراچی میں ہونے والے آپریشنز میں وہ کونسی سیاسی جماعت تھی اور وہ کونسا لیڈر تھا جو شب و روز ان کے ساتھ رہا اور کراچی کے لوگ بخوبی اس بات کو جانتے ہیں کہ کراچی کی تعمیر و ترقی کے پیچھے کس جماعت اور کس لیڈر کی شب و روز کی محنت شامل ہے لیکن پی ٹی آئی اور عمران خان ان کے پاس جھوٹے وعدوں ، خراب کردار کے علاوہ کچھ نہیں ہے اسی بنیاد پر یہ دوسری مرتبہ کراچی پر قبضہ کی کوشش کررہے ہیں پہلی مرتبہ طالبان کی حمایت سے کی ۔ کراچی کے لوگ جانتے ہیں کہ 2002ء ، 2013ء میں بھی طالبان کے ذریعے ایم کیوایم کے ہاتھ پاؤں باندھ کر الیکشن میں دھکیل دیا گیا تھا ، 2013ء کے الیکشن کا یہ ریکارڈ ہے کہ پورے الیکشن کی مہم میں ایم کیوایم نے کراچی میں کوئی جلسہ نہیں کیا کوئی قابل ذکر بڑی گینڈرنگ نہیں کی ، ماسوائے چھتوں اور چھوٹے مقامات پر چھوٹی پبلک میٹنگیں کیں ۔ اس میں بھی یہ ہوا کہ نائن زیرو کے ساتھ مور پارک پر بم بلاسٹ ہوا جس میں ایم کیوایم کے کارکنان شہید اور زخمی ہوئے جس میں آج بھی کچھ لوگ معذور ہیں ۔ اسی طرح سے لنڈی کوتل میں ایم کیوایم کا آفس تھا جہاں بم بلاسٹ ہو ا جس میں 11سے زائد لوگ ایم کیوایم کے شہید 40سے زائد زخمی ہوئے اس وقت بھی ایم کیوایم کو الیکشن مہم چلانے نہیں دی گئی تھی لیکن اس وقت بھی کراچی کے عوام نے ایم کیوایم کا ساتھ دیا اور اسے اپنا مینڈیٹ دیا ۔ اسی طرح سے اس مرتبہ بھی صرف لیاقت آباد اور فیڈرل بی ایریا جو این اے 246میں شامل ہے گزشتہ چند ماہ کے دوران جب سے یہ آپریشن شروع ہوا ہے ہمارے چھ سو سے زائد کارکنان اس حلقہ سے گرفتار ہوئے ہیں ، اس وقت اس حلقہ میں ہمارا ایک کارکن بھی جس کے اوپر کوئی کیس نہیں ہے جس پر کوئی مقدمہ نہیں ہے وہ بھی اپنے گھروں پر نہیں سوتا ہے وہ اپنے گھروں ، محلوں میں نہیں جاتا ہے ۔ اس مرتبہ پھر یہی کوشش کی جارہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں پر سوار ہوکر کراچی میں ایم کیوایم سے مینڈیٹ چھینا جائے ۔ تحریک انصاف اور عمران خان طالبان کا پولیٹیکل ونگ ہے اگر کوئی ڈرون حملہ ہوتا ہے تو اس پر سب سے پہلے عمران خان اس کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے ہی طالبان کی حمایت میں درہ خیبر پر افغانستان سے آنے والا راستہ بند کیا تاکہ طالبا ن کو ریلیف دیاجائے بلکہ ہر موقع پر یہ طالبان کی آواز اور ترجمان بنے رہے نہ صرف یہ بلکہ حکومت سے مذاکرات کیلئے طالبان نے انہیں نامز د بھی کیا اور باقاعدہ انہوں نے طالبان کے آٖفس کھلوائے اور آج یہ اپنی انہی بیساکھیوں پر بیٹھ کر طالبان کا سہارا لیکر کراچی والوں پر جن کا ایم کیوایم کے ساتھ 35سال کا دکھوں ، تکالیف ، خوشیوں ، تعمیر و ترقی کا ساتھ ہے ان کے مینڈیٹ پرقبضہ کرنے کیلئے آگئے ہیں میں ان کیلئے یہی کہوں گا کہ" جو لوگ دے رہے ہیں تمہیں رفاقت کے فریب ان کی تاریخ سنوں گے تو دہل جاؤ گے" ۔ یہ وہی لوگ ہیں جب پشاور میں کے پی کے صدر مقام پر جب آرمی پبلک اسکول پر بلاسٹ ہوا تو یہ ان کی تعزیت کیلئے نہیں گئے یہ اسلام آباد چلے گئے اپنا پورا ہنی مون منا کر اور اس کے بعد جب وہاں یہ تعزیت کیلئے پہنچے تو کے پی کے شہید بچوں کے والدین کا ان کے ساتھ جو برتاؤ رہا وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا نے دیکھا ہے ۔ یہ وہی عمران خان ہے جب فیصل آباد کے جلسے میں بھگڈر مچی اور اس میں لوگ مرے تو انہوں نے رات کو ان شہیدوں کی میتوں میں شریک ہوانا بھی گوارا نہیں کیا اور چارٹرڈ جہاز میں میتوں کو چھوڑ کر اسلام آباد چلے گئے ۔ یہ وہی عمران خان ہیں جب وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی تو عمران خان یہ کانفرنس چھوڑ کر انگلینڈ میں ہونے والی ایک ایسی پارٹی میں جو ہندوستان کے ہاتھیوں کے تحفظ کیلئے تھی ۔ پاکستان کے اتنے بڑے مسئلہ پر بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس عمران خان کی عدم شرکت کی وجہ بار بار ملتوی ہوئی اسے چھوڑ کر یہ ہندوستان کے ہاتھیوں کے تحفظ کیلئے جو تقریب رکھی گئی تھی اس میں شریک ہوئے آج بھی اس کی تصاویر فارن اخبارات کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہیں جس میں عمران خان کو شراب کا گلاس ہاتھ میں لئے دکھایا گیا ہے جنہیں آپ دیکھ سکتے ہیں ۔آج یہ آکر کراچی کے لوگوں کو یہ کہ رہے ہیں کہ ہم آپ کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں یہ اس وقت کہاں تھے جب کراچی میں بم بلاسٹ ہورہے تھے ، عمران خان کہاں تھے جب دس محرم کو کراچی میں بم بلاسٹ ہوا ، درجنوں بم بلاسٹ میں عمران خان کہاں تھے کیا یہ کراچی میں لوگوں کی تعزیت کیلئے آئے ، کٹی پہاڑی پر جب لوگوں کو مارا جارہا تھا اس وقت پی ٹی آئی کے تمام رہنما کہاں تھے ، یہ کہاں تھے جب کراچی میں بے گناہ لوگوں کو اتار کر گلے کاٹے جارہے تھے اس پر عمران خان اور یا پی ٹی آئی کے کسی لیڈر کا بیان دیکھا ۔ پی ٹی آئی مئی 20013ء سے قومی صوبائی اسمبلی میں ہے ۔ ہم کراچی ، سندھ ، ایم کیوایم کے نمائندے ہیں ہم پورے پاکستان کے مسائل قومی اسمبلی میں اٹھاتے ہیں اگر کے پی کے ، بلوچستان ، گلگت بلتستان کی زمینوں کا مسئلہ ہو وہ بھی اٹھاتے ہیں آپ بتائیں پی ٹی آئی کے کسی ایم این اے ، ایم پی اے کا کوئی بیان کراچی کے مسائل کے حوالے سے دیکھا۔ جس طرح کراچی میں فنڈز کی تعمیر و ترقی میں نظر انداز کیاجارہا ہے ۔ ہم تو دکھوں میں مبتلا ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار حکومت سے واپس آئے اس لئے آئے کہ حکومت ہماری توقعات پر پورا نہیں اتر رہی ہے اورہم کراچی کے لوگوں کی خدمت نہیں کرپارہے تھے ۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ آج اچانک پی ٹی آئی کے پیٹ میں کراچی کے لوگوں کا درد جاگاہے ، کراچی میں کتنی قیامتیں گزر گئی ، ، پچھلے سال میں کراچی کی ایک فیملی کار میں بہہ گئی تھی آپ نے دیکھا کسی پی ٹی آئی کے لیڈر کو کے انکے گھر جاکر تعزیت کیلئے گیا ہو۔ آج انہیں کراچی کے لوگوں کا درد یاد آرہا ہے اگر کراچی کے لوگ انہیں ووٹ دیں تو تعریف کریں اگرنہیں دیں تو زندہ لاشیں کہیں ۔کراچی پورے پاکستان کو پال رہا ہے اس کراچی کے لوگوں کو جو ایم کیوایم کے جلسوں میں دس دس لاکھ لوگ موجود ہوں انہیں زندہ لاشیں کہہ رہے ہیں ہم نے تو کبھی کے پی کے کے لوگوں کو کبھی لاش اور زندہ لاش نہیں کہا۔ کراچی کے عوام ان تمام باتوں کونظر انداز کردیں گے تو یہ پی ٹی آئی کی بھول ہے ۔ آج صبح الطاف حسین نے یہ بات کی ہے کہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن میں فوج ، رینجرز، پولیس لگائیں کراچی کے انتخاب دیانتدار ہونا چاہئے اگر کراچی کے انتخاب دیانتدار نہیں ہوئے تو پاکستان سے جمہوریت کا اختتام شروع ہوجائے گا ۔ پی ٹی آئی لوگوں کو بیوقوف بنا رہی کہ فوج آجائے گی تو ہم جیت جائیں گے ، فوج پاکستان کا ادارہ ہے وہ ایک شفاف انتخاب کیلئے آتا ہے ۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد کراچی کی چار سیٹوں پر ضمنی انتخاب ہوئے ہیں جن میں حق پرست امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں چاروں میں فوج پولنگ بوتھ کے اندر موجود تھی اور چاروں الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئی ہیں آج پتہ نہیں پی ٹی آئی کس زعم میں مبتلا ہیں ، آج عارف علوی بڑی بڑی باتیں کررہے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ این اے 250سے جہاں سے انہیں اسٹیبلشمنٹ نے کامیاب کرادیا اس این اے 250میں وہاں کے لوگوں کے مسائل سننے کیلئے کتنی بار گئے ، ایوان میں کتنی مرتبہ آواز اٹھائی ہے اور ان کے ایم پی ایز انہوں نے کتنی مرتبہ سندھ اسمبلی میں کراچی کے مسائل کیلئے آواز اٹھائی ہے۔ عمران خان وہ بزدل لیڈر ہیں کہ جنہوں نے ساٹھ ہزار پاکستانیوں کو شہید کرنے والے جس میں ہزاروں مسلح افواج کے اہلکار شامل ہیں آج تک اس کی مذمت نہیں کی ۔ روشن خیال اور خواتین کے حقوق کی بات کرنے والوں نے کے پی کے کی اسمبلی میں ملالہ یوسف زئی کیلئے قرار داد پاس نہیں کرنے دی ۔انہوں نے خیبر پی کے میں ملالہ کی کتاب کو شائع نہیں ہونے دیا اس لئے کہ طالبان ناراض ہوجائیں گے کراچی کے لوگ پاگل نہیں ہیں ، کراچی کو معلوم ہے کہ طالبان کا پولیٹیکل ونگ کراچی میں آئے گا تو پھر کراچی میں کیا ہوگا انہیں تو کسی کی بہن بیٹیوں کا کوئی خیال اور آس نہیں ہے ، جب کسی پاکستانی کی بہن بیٹیاں اسلام آباد کی روڈوں پر بیٹھی ہوئی تھی تو یہ کنٹینر میں عشق فرما رہے تھے۔کون نہیں جانتا کراچی کے لوگ اس بات کو کیا بھول جائیں گے ۔ عمران خان پاکستان کی نمائندگی کرنے کیلئے دنیا بھر ، امریکہ میں گئے وہاں پر اپنی ایک بغیرباپ کی بچی کو چھوڑ کر آگئے لاس اینجلس کی عدالت نے فیصلہ دیدیا ہے کہ عمران خان ٹیریان سیتا وائٹ کی جو بیٹی ہے اس کا باپ ہے ، ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ اسے اپنی بچی کہیں اور تسلیم کریں کہ ہاں یہ میری بیٹی ہے ۔ آج دنیا بھر میں یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ عمران خان نے تو اپنی ساری دولت شوکت خانم کو دیدی تھی آج یہ اربوں روپیہ کہاں سے آگیا ہے بنی گالہ کا محل ارو زمینداری کہاں سے آگئے ، آج چارٹرڈ طیاروں میں جاتے ہیں یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے ۔

12/10/2016 8:14:53 PM