Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

صولت مرزا کے ویڈیو بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، بیرسٹر فروغ نسیم


 Posted on: 3/19/2015
صولت مرزا کے ویڈیو بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، بیرسٹر فروغ نسیم
زندگی کا لالچ دیکر صولت مرزا سے جو بیانات حاصل کیے گئے وہ قانون پاکستان بلکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، بیرسٹر محمد علی سیف
کوئی سیاسی جماعت ایم کیوایم کا میڈیاٹرائل کررہی ہے اور اس میڈیا ٹرائل میں پاکستان کے لاء کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے
اس قسم کے افسوسناک اقدامات سے پاکستان کے قوانین کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے
صولت مرزا کے مقدمے کی طوالت لگ بھگ 20برس ہے اور اس کے دورا ن اسکی متعدد اپیلیں اور نظرثانی کی درخواستیں مسترد کی جاچکی ہیں لہٰذا پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق صولت مرزا اب وعدہ معاف گواہ بھی نہیں بنایا جاسکتا
سزا پر عمل درآمد سے چند گھنٹے قبل صولت مرزا سے نہ صرف بیان لیا گیا بلکہ اسے تمام ٹی وی چینلز پر نشر کیا گیا جو آئین و قانون کا کھلا تمسخر ہے 
اگر حکومت کو ایم کیوایم پسند نہیں تو کم ازکم ایسا کرے جو قابل یقین ہو اور قانون اور آئین میں جس کی کوئی حیثیت ہو
سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم، سینیٹر بیرسٹر محمدعلی سیف و حق پرست سینیٹر و اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس
کراچی:۔۔۔19؍مارچ2015ء
ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والے سینیٹرزبیرسٹرفروغ نسیم اوربیرسٹرمحمدعلی سیف نے کہاہے کہ پھانسی کے منتظرقیدی صولت مرزاکے ویڈیوبیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں لیکن افسوس اس قسم کے اقدامات پاکستان کے قوانین کے ساتھ کھلواڑکیاجارہاہے۔قانون شہادت 114پرنسپل آ ف اسٹاپل عدالت کے رو برو دیا جانے والا بیان پھر تبدیل نہیں ہو سکتا صولت مرزاکاحالیہ دیا جانے والاویڈیو بیان عدالتوں میں دئے جانے والے بیان کے یکسربر عکس ہے۔انہوں نے کہاکہ اگرحکومت کوایم کیوایم پسندنہیں توکم ازکم ایساکرے جوقابل یقین ہواورقانون اورآئین میں جس کی کوئی حیثیت ہو۔انہوں نے کہاکہ کوئی سیاسی جماعت ایم کیوایم کامیڈیاٹرائل کررہی ہے اور اس میڈیاٹرائل میں پاکستان کے لاء کوتباہ وبربادکیا جارہا ہے،کچھ ہی انسی ٹیوشنزبچے ہیں اوراب ایسامعلوم ہوتاہے کہ ان کوتباہی کی جانب دھکیلاجارہاہے جس کی ہم شدیدمذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثاراچھے آدمی ہیں لیکن انہیں جوبھی ایڈوائس دے رہاہے وہ قانون سے لاعلم ہے ،صولت مرزاکے بیان کی کوئی لیگل حیثیت نہیں بصورت دیگروزارت قانون کے خلاف کریمنل کیس بنتاہے۔انہوں نے کہاکہ گورنرکاکام جیل میں قیدکسی مجرم کی سہولت یاپست پناہی فراہم کرنانہیں بلکہ یہ کام وزارت داخلہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ان حالات کودیکھاجائے جس میںیہ بیان دلوایاگیاہے صولت مرزاکی باڈی لینگویج اور ان کے چہرے کے تاثرات سے واضح تھاکہ ان کوپہلے یہ سب پڑھوایاگیااوراس کوزندگی کالالچ دیکرمن پسندبیانات حاصل کیے گئے جوقانون پاکستان بلکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت یاعدلیہ کسی بھی مجرم کوزندگی کالالچ دیکربیان حاصل نہیں کرسکتی۔جس چیزمیں بدنیتی شامل ہوجائے پاکستان کی عدالتیں اس کوزیروسمجھتی ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے حق پرست اراکین سینیٹ اورصوبائی اسمبلی کے ہمراہ خورشید بیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔بیرسٹرفروغ نسیم اوربیرسٹرمحمدعلی سیف نے کہاکہ صولت مرزا کے حالیہ بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے جس کی قانونی وجوہات ہیں ۔ پہلی یہ کہ صولت مرز ا کے خلاف فوجداری مقدمہ چلا انسداد ہشت گردی کورٹس میں جس میں سرکاری گواہ پیش ہوئے اور ان پر صولت مرزا کے وکلاء نے جرح کی اس کے بعدصولت مرزا کا اپنا بیان حق دفاع میں جوکہ سیکشن 342CRPCمیں ریکارڈ ہوا نہ صرف اس بیان میں بلکہ کسی بھی وکیل کی جرح میں صولت مرز ا کی طرف سے یہ نہیں کہا گیا کہ اس سے یہ واردات ایم کیوا یم یا ایم کیوا یم سے متعلقہ لوگوں نے کرائی ۔انہوں نے کہاکہ قانون شہادت 114پرنسپل آ ف اسٹاپل عدالت کے رو برو دیا جانے والا بیان پھر تبدیل نہیں ہو سکتا اور متعدد عدالتوں میں صولت مرزا کی جانب سے دئیے گئے بیانات میں کہیں یہ بات موجود نہیں ہے کہ اس نے یہ جرم ایم کیوا یم کے قائد جناب الطاف حسین یا ایم کیو ایم کے کسی اور رہنما کی ایما یاانکی ہدایت پر کئے ہیں لہٰذا اسکا ویڈیو بیان نہ صر ف قانون کی نگاہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ ایک AFTER THOUGHT ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صولت مرزاکاحالیہ دیا جانے والاویڈیو بیان عدالتوں میں دئے جانے والے بیان کے یکسر بر عکس ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ عدالتوں میں دئیے جانے والے بیانات عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں اور ان میں بعد میں نا کوئی تحریف کی جاسکتی ہے نا کوئی ترمیم کی جاسکتی ہے کجا کہ عدالتی ریکارڈ کے برعکس بیان دیاجائے اور وہ بھی تقریباً تقریباً 20سال بعد صولت مرزا نے پہلی اپیل ہائی کورٹ میں اور دوسری اپیل سپریم کورٹ میں کی تھیں۔اس کی تین نظر ثانی کی درخواستیں سپریم کورٹ اور ہائی کو رٹ سے مسترد ہو چکی ہیں ، ان اپیلوں اور نظرثانی کی درخواستوں میں کیا کبھی اس نے ان خیالات کا اظہار کیا جو آج سامنے لائے گئے ہیں ؟ لہٰذا قانون شہادت دفع 114کے تحت اس کے اس بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔بیرسٹرفروغ نسیم اوربیرسٹرمحمدعلی سیف نے کہاکہ پاکستان کے آئین و قانون کے تحت کوئی بھی شخص وعدہ معاف گواہ صرف اور صرف عدالتی کارروائی کے دوران بن سکتا ہے ، صولت مرزا کے مقدمے کی طوالت لگ بھگ 20برس ہے اور اس کے دورا ن اسکی متعدد اپیلیں اور نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کی جاچکی ہیں لہٰذا پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق صولت مرزا اب وعدہ معاف گواہ بھی نہیں بنا یا جا سکتا ۔ انہوں نے کسی بھی سزا یافتہ شخص کے حوالے سے لازم ہے کہ جیل میں اسکے ساتھ جیل MANUALیا جیل قواعد کے مطابق سلوک کیا جائے ۔اس سے ہٹ کر دی جانے والی رعایتیں غیر آئینی و غیر قانونی ہیں اور جیل قواعد کے تحت کسی بھی ایسے شخص کو جس کو پھانسی کی سزا سنا ئی جا چکی ہو اور اس کی نظر ثانی کی تمام درخواستیں بھی مسترد کی جاچکی ہوں وہ ازسر نو بیان دینے یا ریکارڈ کرنے کا اہل نہیں ہے ، خاص طور پر سزا پر عمل در آمد سے چند گھنٹے قبل کجا کہ اس سے نہ صرف بیان لیا گیا بلکہ اسے تمام ٹی وی چینلز پر نشر کیا گیا جو آئین و قانون کا کھلا تمسخر ہے ۔

12/4/2016 10:16:48 AM