Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مسلح افواج میرے وطن کی محافظ ہے اور میں ہرسطح پر پاک فوج کی وکالت کرتا رہوں گا۔الطاف حسین


مسلح افواج میرے وطن کی محافظ ہے اور میں ہرسطح پر پاک فوج کی وکالت کرتا رہوں گا۔الطاف حسین
 Posted on: 3/18/2015
مسلح افواج میرے وطن کی محافظ ہے اور میں ہرسطح پر پاک فوج کی وکالت کرتا رہوں گا۔الطاف حسین
فوج میری ہے ، میں فوج کا ہوں، پاک فوج کا دل سے احترام کرتا ہوں اور کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں چاہتا
فوج کے جرنیل اور کمانڈرز میری باتوں کا غلط مطلب نہ نکالیں
مجھ پر مقدمہ بناناہے توضروربنائیں لیکن خدارامجھے ملک کا غدار اور دشمن نہ سمجھیں
میں آج بھی سرحدوں پر مسلح افواج کے شانہ بشانہ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہوں
میں صاف اورواضح الفاظ میں کہتاہوں کہ میں نے رینجرزکوکوئی دھمکی نہیں دی
ایم کیوایم کو لاکھوں کروڑوں عوام نے اپنا مینڈیٹ دیا مگر اسٹیٹس کو برقراررکھنے والے حکمراں طبقہ کی جانب سےایم کیوایم کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا
ہمارے ساتھ جس طرح کاکھلاتعصب کیاجارہاہے اورجوسلوک کیاجارہاہے اس پر لوگوں کاخون کھول رہاہے
عوام کے اندرلاواپک رہاہے، اگریہ لاواپھٹ گیاتولوگ ہمارے کنٹرول میں بھی نہیں رہیں گے 
ہم نے ہر قسم کی دہشت گردی کی ماضی میں بھی ہمیشہ کھل کر مذمت کی ، اور مستقبل میں اپنا کر دار ادا کرتے رہیں گے
ایم کیوایم کے 31ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں39 مقامات پرمنعقدہ کارکنان کے اجتماعات سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔18، مارچ2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ مسلح افواج میرے وطن کی محافظ ہے اور میں ہرسطح پر پاک فوج کی وکالت کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں، میں پاک فوج کا دل سے احترام کرتا ہوں اور کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں چاہتا ، فوج کے جرنیل اور کمانڈرز میری باتوں کا غلط مطلب نہ نکالیں،مجھ پر مقدمہ بناناہے توضروربنائیں لیکن خدارامجھے ملک کا غدار اور دشمن نہ سمجھیں، میں آج بھی سرحدوں پر مسلح افواج کے شانہ بشانہ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم غریب ومتوسط طبقہ سے جنم لینے والی پاکستان کی واحد جماعت ہے جسے لاکھوں کروڑوں عوام نے اپنا مینڈیٹ دیا مگر پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور اسٹیٹس کو برقراررکھنے والے حکمراں طبقہ کی جانب سے ایم کیوایم کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ پاکستان میں امیروں اور غریبوں کیلئے الگ الگ قانون ہے ، ملک میں قانون کا اطلاق صرف غریبوں پر ہوتا ہے جبکہ قومی دولت لوٹنے والا امیرطبقہ اس قانون کی گرفت سے آزاد اور اس سے بری الذمہ ہوتا ہے،میں اس دہرے نظام کو توڑنے کی جدوجہد کررہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ملک میں آئین اور قانون کا ایسا نظام نافذ ہو جس کا اطلاق امیراور غریب سب پر برابر اور یکساں ہو ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آئین پاکستان کی شق 62 اور 63 کے مطابق چور ، بے ایمان ، بددیانت ، جھوٹا اور منافق الیکشن لڑنے کا اہل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود سرکاری خزانہ ہڑپ کرنے والے بڑے بڑے جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار، ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ان خیالات کااظہار جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے 31ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں39 مقامات پرمنعقدہ کارکنان کے اجتماعات سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یوم تاسیس کا مرکزی اجتماع جناح گراؤنڈ عزیزآباد کراچی میں منعقد ہوا جبکہ جناب الطاف حسین کا خطاب صوبہ سندھ ، پنجاب ، خیبرپختونخوا، بلوچستان ، آزادکشمیر، گلگت اور بلتستان کے 39 مقامات پر بیک وقت سنا گیا ۔ ان اجتماعات میں مختلف قومیتوں ، مسالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے بزرگوں،خواتین ، نوجوانوں اور بچوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر کارکنان بالخصوص خواتین کارکنان کا جوش وخروش قابل دید تھا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے 31 ویں یوم تاسیس پر ایم کیوایم کے کارکنان ،ہمدردوں اور پوری قوم کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ایم کیوایم کے پہلے حق پرست شہید سے لیکر 11، مارچ کو نائن زیرو پر شہید ہونے والے وقاص علی شاہ شہید سمیت تمام شہداء کو دل کی گہرائیوں سے زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ حق پرست شہداء کی قربانیوں کی بدولت تحریکی کارکنان میں ہمت ، حوصلہ اور توانائی پیدا ہوتی ہے اور وہ تمام تر مظالم کے باوجود حق پرستی کی جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ وقاص علی شاہ شہیدایک بہترین شاعر، شعلہ بیاں مقرر اور اچھے انسان تھے اور ایم کیوایم کے پروگراموں میں بہترین انداز سے نظامت کے فرائض ادا کرتے تھے ، 11، مارچ 2015ء کو جب انہیں نائن زیرو پر چھاپے کی اطلاع ملی تو وہ ناشتہ کیے بغیر نائن زیرو پہنچے اور وہاں رینجرز کے اہلکاروں کی جانب سے خواتین کو زدوکوب کرنے کے خلاف احتجاج کررہے تھے کہ انہیں گولی مارکرشہید کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر وقاص شہید کے قاتل کو قانون کے مطابق سزا ملتی ہے تو اچھی بات ہے ورنہ مجھ سمیت اللہ تعالیٰ کے پاس سب کو جانا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 11، جون1978ء کو قائم ہونے والی طلباء تنظیم اے پی ایم ایس او نے 18،مارچ 1984ء کو ایم کیوایم کے نام سے ایک سیاسی جماعت ایم کیوایم کو جنم دیا جو آگے چل کر متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوئی جوملک بھرکے محروم،مظلوم اور محکوم عوام کے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ایک حکمراں طبقہ ہے جو سول وملٹری بیوروکریٹس، اخبارات اور ٹی وی چینل کے مالکان اورسیاستدانوں پر مشتمل ہے جبکہ ایک 98 فیصد غریب ومتوسط طبقہ ہے ، ایم کیوایم غریب ومتوسط طبقہ سے جنم لینے والی پاکستان کی واحد جماعت ہے جسے لاکھوں کروڑوں عوام نے اپنا مینڈیٹ دیا مگر پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور اسٹیٹس کو ،کو برقراررکھنے والے حکمراں طبقہ کی جانب سے ایم کیوایم کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیاجاتا۔ انہوں نے کہاکہ کسی ملک کا آئین اور قانون وہاں کے عوام کو انصاف فراہم کرنے کی روح ہواکرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں امیروں اور غریبوں کیلئے الگ الگ قانون ہے ، ملک میں قانون کا اطلاق صرف غریبوں پر ہوتا ہے جبکہ قومی دولت لوٹنے والا امیرطبقہ اس قانون کی گرفت سے آزاد اور اس سے بری الذمہ ہوتا ہے،انہوں نے کہاکہ معمولی جرم کرنے یا چند گرام چرس یا ہیروئین رکھنے پر کسی غریب کوتو سزا دیکر جیل بھیج دیا جاتا ہے لیکن منشیات کی اسمگلنگ کرنے اور قومی خزانے کی لوٹ مار میں ملوث مراعات یافتہ طبقہ کے کسی بھی فرد کو آج تک سزا نہیں دی گئی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں انصاف کے اس دہرے نظام کو توڑنے کی جدوجہد کررہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ملک میں آئین اور قانون کا ایسا نظام نافذ ہو جس کا اطلاق امیراور غریب سب پر برابر اور یکساں ہو۔ انہوں نے اجتماعات کے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا سرکاری خزانے سے اربوں کھربوں روپے قرضے لیکر معاف کرانے والوں یا منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد میں سے کسی کو عدالت سے سزا یا پھانسی ہوئی؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر کہا ’’ہرگز نہیں‘‘ انہوں نے کہاکہ میرے سوا کسی بھی سیاستداں میں اتنی اخلاقی جرات اس لئے نہیں ہے کہ انہوں نے سرکاری خزانے سے اربوں کھربوں روپے کے قرضے لیکرمعاف کرائے اور قانون میں قرضے معاف کرانے کی شق شامل کرائی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے ملک کی عدلیہ کا یہ حال ہے کہ جب کوملزم ججوں کو اپنے جسم پر بدترین تشدد کے باعث رستے ہوئے زخم دکھائے اور جیل کسٹڈی کی درخواست کرے تو بدترین تشدد اور زخمی جسم دیکھنے کے باوجود بعض ججز انکا مزید ریمانڈ دے دیتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ باتیں دنیا سے چھپائی جاسکتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے چھپائی نہیں جاسکتیں ، اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور اس کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ ظلم وستم ، ناانصافیوں کے نظام سے ملک دولخت ہوچکا ہے اور باقیماندہ ملک میں محروموں، محکوموں اور مظلوموں پر ظلم ڈھایاجارہا ہے ۔حتیٰ کہ ظلم کرنے والے بعض افراد سینیٹ کے ایوان میں خواتین کو زندہ دفن کرنے کے عمل کو اپنی ثقافت اور روایت قراردیتے ہیں لیکن اس پرپورا ملک خاموش رہتا ہے ۔ صوبہ پنجاب میں آئے دن بڑے بڑے جاگیرداراپنے مزارعوں کی معمولی غلطی پر ان کی خواتین کو برہنہ کرکے جلوس نکالتے ہیں لیکن کسی ایک بھی جاگیردارکو سزا نہیں دی جاتی ۔ صوبہ سندھ میں کاروکاری کا الزام لگاکر جرگہ میں نوجوان مرد اور عورت کو قتل کردیا جاتا ہے لیکن کسی وڈیرے کو سزا نہیں دی جاتی ۔ غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کردیا جاتا ہے ، ان کے منہ پر تیزاب پھینک دیاجاتا ہے یہ عمل کرنے والے کتنے لوگ آج تک پھانسی پر لٹکائے گئے ؟ کیا یہ سارا ظلم وستم اللہ تعالیٰ نہیں دیکھ رہا ہے ؟ صبح شام عدالتو ں میں زنا کے کیس آتے ہیں ، اگر کسی غریب کا کیس عدالت میں آجائے تو اسے سزا سنادی جاتی ہے لیکن جب ملک کا ایک دولت مند بغیر نکاح کیے ایک بچی کو پیدا کرے تو اسے پاکستان کے مسائل کا نجات دہندہ بنادیا جاتا ہے ، اسے نیکوکار لیڈ ر بنادیاجاتا ہے جو صبح شام تقریریں کرکے طالبان اور القاعدہ کے دہشت گردوں کو اپنا بھائی قراردیکر ان سے مذاکرات کی بات کرتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس شخص کے پاس پاکستان کی سب سے زیادہ طاقتور ایجنسی سے زیادہ جدیدآلات ہیں کہ وہ اسپتال میں لیٹا ہوتا ہے اور زہر ہ شاہد نامی خاتون کے قتل کے چند منٹ بعد ہی یہ بیان دے دیتا ہے کہ یہ قتل الطاف حسین نے کرایا ہے جبکہ میں پاکستان سے ہزاروں میل دور لندن میں بیٹھا ہوا ہوں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آئین پاکستان کی شق 62 اور 63 کے مطابق چور ، بے ایمان ، بددیانت ، جھوٹا اور منافق الیکشن لڑنے کا اہل نہیں ہے لیکن اسکے باوجود سرکاری خزانہ ہڑپ کرنے والے بڑے بڑے جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار، ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ نائن زیرو پرچھاپہ ماراگیا مجھ اس پر کوئی اعتراض نہیں، وہ کوئی کعبہ نہیں بلکہ سیاسی لیڈرکی رہائش گاہ ہے لیکن میرااعتراض اس بات پرہے کہ آپ چھاپہ مارنے کیلئے وارنٹ لیکرمجسٹریٹ کے ساتھ آتے، میری بہن کے گھرچھاپہ مارنے کیلئے سرچ وارنٹ لیکرآتے، مجسٹریٹ اورلیڈی پولیس اہلکاروں کے ساتھ آتے۔انہوں نے کہاکہ میری باتوں کے بارے میں وزیرداخلہ چوہدری نثارنے کہاکہ میں نے فوج کے بارے میں سخت زبان استعمال کی لیکن جب خواجہ آصف نے اسمبلی کے فلورپرفوج کے خلاف تقریر کی تواس پر چوہدری نثار کچھ نہیں بولے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کل ٹی وی چینلزپربعض متعصب لوگوں نے اپنے تعصب کامظاہرہ کرتے ہوئے مجھ پر مقدمہ کے حوالے سے قانونی ماہرین سے سوال پوچھ پوچھ کر اپنی دانست میں مجھے پھانسی دلوادی۔میں ان سے کہتاہوں میرانام الطاف حسین ہے،یہ حسینؓکے غلام کی گردن ہے، وہ اللہ کیلئے اورمظلوموں کیلئے جس طرح چاہے جائے۔ ایک بارنہیں ہزار بار جائے ، الطاف حسین اس پر اللہ کاشکراداکرے گا، ڈرے گانہیں۔انہوں نے کہاکہ میرے بیان کوجہاں چاہے لے جائیں، جسے چاہیں دکھائیں ، میں صاف اور واضح الفاظ میں کہتاہوں کہ میں نے رینجرزکوکوئی دھمکی نہیں دی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرے بیانات پر اعتراض کیاجاتا ہے لیکن میں پوچھتاہوں کہ دیگر لوگوں کے غیرمناسب بیانات پربات کیوں نہیں کی جاتی؟ کیاشہبازشریف نے نہیں کہاتھاکہ ہم آصف زرداری کوگریبان سے پکڑکر چوک پر گھسیٹیں گے؟کیاصدرمملکت کے بارے میں اس طرح کہناجائز ہے؟ کیا عمران خان نے دھمکیاں نہیں دیں؟ کیاعمران خان نے دھرنے کے دوران نہیں کہاتھا کہ ’’ میرے ٹائیگرو فلاں جگہ پولیس نے لوگوں کو روکاہواہے ، فوراً جاؤ ، پولیس والوں کو جاکر سبق سکھاؤ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ ن لیگ والوں نے اسلحہ کابہت شور مچایا ، میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ گلوبٹ کے گلے میں کیاموتیاکا ہار ڈالناچاہیے تھا؟کیاچوہدری نثار کیلئے گلوبٹ جائز ہے ؟ انہوں نے کہاکہ جولوگ ایم کیو ایم پر تنقیدکرتے ہیں کیاانہوں نے گلوبٹ کو گاڑیاں توڑتے نہیں دیکھا؟کیا مولانافضل الرحمن کے قافلے میں مسلح افرادنہیں ہوتے؟ کیا محمودخان اچکزئی کے قافلے میں اسلحہ نہیں ہوتا؟اے این پی کاایک لیڈرجوپہلے کراچی میں ہوتا تھا کیا اس کے ساتھ چلنے والی گاڑیوں میں اسلحہ نہیں ہوتا؟کیافوج والوں نے نہیں دیکھا کہ مسلم لیگ ن کاایساکونساجلسہ ہے جس میں اسلحہ کی نمائش نہ کی گئی ہو اور ان کے کارکنوں نے خوشی میں گولیاں نہ چلائی ہوں؟آخران کے ہاں چھاپہ کیوں نہیں ماراگیا ؟ کیامذہبی رہنمااسلحہ نہیں رکھتے ؟یہ کیامذاق ہے کہ عمران خان، ن لیگ والے اسلحہ رکھیں توجائزہے، دیگرلوگ اسلحہ رکھیں توجائز ہے، سندھ کے بڑے بڑے جاگیرداراسلحہ رکھیں توجائزہے لیکن اگر ہم اپنی حفاظت کیلئے قانونی طورپرلائسنس والااسلحہ بھی رکھیں توناجائز ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ کاذکرکیا ، اس میں صرف ایم کیوایم کاہی نام نہیں تھابلکہ اس میں اے این پی، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور دیگرجماعتوں کاذکربھی کیاگیاتھالیکن صرف ایم کیوایم کانام لیاجاتاہے۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاجماعت اسلامی کے رہنماؤں کے گھروں سے القاعدہ کے بڑے بڑے دہشت گردگرفتارنہیں ہوئے؟انہوں نے کہاکہ ہم ہرموقع پر مسلح افواج کی کھل کرحمایت کررہے ہیں پھربھی ہم پاکستان کے غدارقراردیے جاتے ہیں۔انہوں نے سوال کیاکہ ضرب عضب اورمسلح افواج کی حمایت میں ون ملین ریلی ایم کیوایم نے نکالی یاکسی اورجماعت نے ؟لاکھوں کے جلسہ میں مسلح افواج کے جرنیلوں ، افسروں اورجوانوں کوکھڑے ہوکرجس نے سیلوٹ کیاوہ الطاف حسین ہے یاکوئی اور؟انہوں نے کہاکہ بعض لوگ جل کرکہتے ہیں کہ ٹی وی چینل الطاف حسین کی ایک ایک گھنٹہ کی تقریردکھاتے ہیں۔ایسے لوگوں کوسابق چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی 27 ،27گھنٹے کی نشریات اورعمران خان کی 17 گھنٹہ کی مسلسل نشریات اورمسلسل تقریریں نظرنہیں آتیں۔انہوں نے کہاکہ دراصل یہ لوگ اسلئے جلتے ہیں کہ غیور سندھی ، پنجابی، پختون، بلوچ ، سرائیکی ،کشمیری ، گلگتی بلتستانی،ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی، شیعہ سنی، تمام مکاتب فکرکے لوگ ایم کیوایم کے پرچم آرہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جواینکراورتجزیہ نگار آئے دن الطاف حسین پرالزامات لگاتے ہیں وہ دوسروں کی پگڑی اچھالنے سے پہلے سوچ لیا کریں ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے فوج کے بعض افسران پر تنقیدکی ہے لیکن چندلوگوں کے خراب ہونے کامطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ سب خراب ہیں، اب بھی فوج ہی ایساادارہ ہے کہ جس میں نیک اور ایماندار لوگوں کی سب سے بڑی تعدادموجود ہے ۔ انہوں نے مسلح افواج کے جرنیلوں اورکمانڈروں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خدارامیری باتوں کاغلط مطلب نہ نکالیں، مجھ پر مقدمہ بناناہے تو ضروربنائیں لیکن مجھے غداراورفوج کادشمن نہ سمجھیں،میں فوج کااحترام کرتاتھا، کرتاہوں اور آج بھی ملک کی سرحدپرآپ کے شانہ بشانہ دہشت گردوں سے لڑنے کیلئے تیارہوں۔فوج میری ہے ، میں فوج کا ہوں ۔ چھاپہ توایک ہفتہ قبل ماراگیا، رینجرز نے مقدمہ اب بنایاہے ،فوج کی حمایت میں ریلی ہم نے ایک سال پہلے نکالی تھی اورایک سال قبل ہی فوج کوسیلوٹ کیاتھا،اگر آج سیلوٹ کرتاتو لوگ کہتے کہ فوج سے ڈرکر سیلوٹ کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض جمہوریت پسندلوگ کہتے رہے کہ آرٹیکل 245 کے تحت اختیارات چاہئیں لیکن پھروہی کہنے لگے فوجی عدالتیں قائم ہونی چاہئیں ۔ رضا ربانی نے بھی روتے ہوئے کہاکہ ’’ میں ملٹری کورٹ کو منظورکرتاہوں ‘‘ ۔ انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والی ہماری ایک باجی ہم سے کہتی ہیں کہ آپ نے ملٹری کورٹ کوسپورٹ کیوں کیا، میں ان سے کہتاہوں کہ میں توپہلے سولی پر لٹکاہوں ، آپ دوسروں سے بھی کہیے ، یہ صرف ہماراہی فرض نہیں ہے سب کافرض ہے کہ وہ جمہوریت کی بقاء کیلئے آگے آئیں اوربولیں۔جناب الطاف حسین نے انٹرنیشنل کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے ساتھ جس طرح کاکھلاتعصب کیاجارہاہے اورجوسلوک کیاجارہاہے اس پر لوگوں کاخون کھول رہاہے اورانکے اندرلاواپک رہاہے، اگریہ لاوا پھٹ گیاتولوگ ہمارے کنٹرول میں بھی نہیں رہیں گے ، پھروہ پولیس اور عسکری اداروں کے قابومیں بھی نہیں آئیں گے اورخدانخواستہ پاکستان میں بھی عراق، لیبیااورمصرجیسی صورتحال پیداہوجائے گی لہٰذاآپ بھی اس صورتحال کانوٹس لیں۔ ایم کیوایم ملک کی بڑی جماعت ہے، اسکے 24 ارکان قومی اسمبلی ، 8 سینیٹرز اور51 ارکان سندھ اسمبلی ہیں اتنی بڑی جماعت کے ساتھ ایساسلوک ٹھیک نہیں ۔ جناب الطاف حسین نے شرکاء جلسہ سے سوال کیا ’’ کیا الطاف حسین بڑے بڑے محل نہیں بناسکتا تھا ‘‘ اس پر شرکاء نے باآوا ز بلند کہا ’’ہاں‘‘ ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرا قصورہی یہ ہے کہ میں نے محل نہیں بنائے ۔ میں اپنے ساتھیوں اور ماؤں بہنوں بزرگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے آپ سے کوئی بات نہیں چھپائی ۔ میرے پاس برطانیہ میں بھی کوئی بلٹ پروف گاڑی نہیں ہے ۔ میرے یہاں بھی بہت دشمن ہیں ۔ اگر مجھے قتل کردیا جائے یا پھانسی چڑھا دیا جائے تب بھی تحریک کو ختم نہیں کرنا ۔ تحریک کو جاری رکھنا ، غریبوں کا حق نہیں مارنا ،اگر اللہ نے تمہیں تمہاری ضرورت سے زیادہ دیا تو غریبوں کے گھر روٹی ڈلوادینا،حکومت کچھ نہیں کرتی نہ کرے لیکن آپ ضرور کریں یہ میری آپ کو وصیت ہے۔ جناب الطاف حسین نے شرکاء کو تمام ترنامساعد حالات کے باوجود یوم تاسیس کے جلسہ میں شرکت پر زبردست خراج تحسین پیش کر تے ہوئے کہا کہ میں آپ کو 23مارچ کو دوبارہ زحمت دونگا کیونکہ 23مارچ کو ہم یوم پاکستان منائیں گے اور سی ویو کلفٹن سے ریلی نکالیں گے ۔ اس موقع پر میں ملک کی خوشحالی اور عوامی فلاح وبہبود کے حوالے سے کچھ اہم اعلانات بھی کر ونگا ۔ ہم کراچی میں اسپتالوں اور ڈسپنریوں جا ل بچھارہے ہیں ۔اب ہم حیدر آباد میں یونیورسٹی بنائیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر اعلان کیاکہ ایم کیوایم میں جرائم پیشہ افراد کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہیں ،ہم نے ماضی میں بھی ان لوگوں کو پارٹی سے نکالاہے جن کے بارے میں یہ رپور ٹس سامنے آئیں کہ وہ ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث تھے اور آئندہ بھی یہ عمل جاری رہیگا ۔ میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایم کیوایم ایک ترقی پسند،سیکولر اور امن پسند جماعت ہے جس نے ہر قسم کی دہشت گردی کی ماضی میں بھی ہمیشہ کھل کر مذمت کی ہے اور ہم مستقبل میں بھی آگے بڑھ کر اپنا کر دار ادا کرتے رہیں گے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم نے تاجروں اورصنعتکاروں کا ہمیشہ کھل کر ساتھ دیا ہے اور ان کے مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ان کے ساتھ ہمارے ہمیشہ سے تعلقات رہے ہیں لیکن بعض ایسے افراد ہیں جو کروڑوں روپے بھتہ دیکر اسے چندہ کہتے ہیں جبکہ چندہ ہزار کا رضا کارانہ چندہ لینے والوں پر بھتے کا الزام لگاتے ہیں اور بند کمروں میں ان کی برائیاں کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ خدا کا خوف کریں ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیوایم کی حکومت آئی تو آرٹیکل 6کے تحت سب کے ساتھ انصاف ہوگا ۔اگر الطاف حسین کے خلاف مقدمہ چلے گاتو عمران خان کے خلاف بھی مقدمہ چلے گا ۔انہوں نے آپریشن ضرب عذب میں مصروف فوج کے افسروں اور جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ آپ کو ہمت دے اور کامیابی عطا کرے ۔میری دعا ئیں آپ کے ساتھ ہیں ۔ اگر آپ کو ہماری ضرورت پڑے تو ہم حاظرہیں، آپ ایک بار آزما کر تو دیکھیں ۔ آپ ہمیں دہشت گرد وں کے جس جس اڈے پر لے جانا چاہیں لے جائیں ،آپ پیچھے رہیں اور ہمیں آگے کردیں ، آپ دیکھ لیں گے کہ ایم کیوایم والے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔جناب الطا ف حسین نے شرکاء جلسہ سے کہا کہ اگر فوج نے ہماری مدد کی پیشکش قبول کرلی اور ہم سے رضاکارمانگ لیئے تو کتنے افراد ساتھ دیں گے ۔اس موقع پر ہزاروں نوجوانوں ،بزرگوں او رخواتین نے اپنے ہاتھ کھڑے کر کے پر جوش نعروں کے ساتھ خود کو فوج کا ساتھ دینے کیلئے رضا کارانہ طور پر پیش کرنے کااعلان کیا۔جناب الطاف حسین نے ازراہ تفنن کہاکہ بعض افراد یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مختلف ٹی وی چینل میرے خطابات ایک ایک ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ تک کیوں دکھاتے ہیں۔ میں معترضین سے کہتا ہوں کہ سینکڑو ں ٹی وی چینلرز موجود ہیں ۔ اگر آپ کومیرے خطابات دکھانے والے والا چینل پسند نہیں ہے تو چینل بدل کیوں نہیں لیتے ۔ اب یہ لوگ خطاب بھی دیکھتے ہیں اور انہیں اس سے تکلیف بھی ہوتی ہے ۔ آخر یہ لوگ کسی حکیم کو کیوں نہیں دکھاتے ؟ شہر کی دیواروں پر ہزاروں اشتہارات لکھے ہوتے ہیں جن میں حکیم ہرقسم کے امراض کے علاج کا دعویٰ کرتے ہیں ان سے علاج کرالیں۔ ویسے میں خود بھی ڈگری یافتہ کیمسٹ ہوں اور کچھ دوائیں تجویز کرسکتا ہوں ورنہ میری جماعت کے کسی ڈاکٹر سے علاج کرالیں کیونکہ جتنے ڈاکٹرز ماشاء اللہ ایم کیوایم میں ہیں کسی اور جماعت میں نہیں ہیں۔ جناب الطاف حسین نے شرکائے اجلاس کو شاندار الفاظ میں ایم کیوایم کے 31 ویں یوم تاسیس کی زبردست مبارکباد بھی پیش کی ۔ انہوں نے کہاکہ میرے ساتھیوں نے تمام تر نامساعد حالات کے باوجود جس طرح آج کے پروگرام کا انعقاد کیا اور جس والہانہ انداز میں عوام نے آج کے پروگرام میں شرکت کی ہے اس پر میں انہیں دل کی گہرائیوں سے زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے 11، مارچ کو شہید ہونے والے ایم کیوایم کے کارکن وقاص علی شاہ سمیت ایم کیوایم کے تمام حق پرست شہداء کو بھی جذباتی انداز میں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ جناب الطاف حسین نے آپریشن ضرب عضب کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے فوج،ایف سی اور پولیس کے تمام افسروں اور جوانوں کو بھی زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ راہ حق میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور دہشت گردوں کے ہاتھوں اسکولوں، مساجد اور امام بارگاہوں میں شہید ہونے والے تمام بے گناہوں کو بھی اپنی جواررحمت میں بلند مرتبہ عطا کرے۔ جناب الطا ف حسین نے اس موقع پر یوحنا آباد لاہور میں گرجاگھروں پر ہونے والے دھماکوں کی ایک بارپھر مذمت کی اور بے گناہ افراد کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کااظہار کیا۔ انہوں نے اس سانحہ پر احتجاج کرنے والوں سے کہاکہ میں آپ کا دکھ سمجھ سکتا ہوں لیکن آپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ پاکستان میں صرف چرچ ہی نہیں بلکہ مساجد ، امام بارگاہوں اور بزرگان دین کے مزارات کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ آپ اس سانحہ کا بدلہ بے گناہ افراد سے نہ لیں بلکہ جو بے گناہ افراد احتجاج کے دوران اپنی جانوں سے گئے اس پر خدا کے حضور معافی کے طلبگار ہوں۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے دیکھ لیں کہ آج بھی یہاں عوام کا اژدھام ہے ، عوام اور کارکنان نے ثابت کردیا ہے کہ الطاف حسین کاساتھ دینے والے بزدل نہیں بلکہ جی دار ہیں اور میں بھی دنیا کی ہر چیز سے زیادہ انہیں پیارکرتا ہوں۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب کا اختتام پاکستان پائندہ باد اور ایم کیوایم زندہ باد کے نعروں سے کیا۔ 

12/2/2016 1:53:31 PM