Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میں قانون پسند ہوں، ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتا ہوں، الطاف حسین


میں قانون پسند ہوں، ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتا ہوں، الطاف حسین
 Posted on: 3/11/2015
میں قانون پسند ہوں، ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتا ہوں، الطاف حسین
ایم کیوایم میں دہشت گردوں ، جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصرکیلئے زیرو ٹولیرنس ہے، الطاف حسین
میرے گھر نائن زیرو اور تنظیم میں جرائم پیشہ عناصر کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے، الطاف حسین
اگر جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری مقصود تھی تومیری بڑی بہن کے گھر پر رینجرز نے دو مرتبہ کیوں چھاپہ مارا؟
لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے باوجود گرفتاری کیلئے چھاپہ نہیں مارا جاتا
میری خواہش ہے کہ میں اپنے پاکستانی پاسپورٹ پر وطن واپس آؤں ، الطاف حسین
میں اپنے خلاف لندن میں کیسوں پر عدالت کا سامنا کررہا ہوں اور میرے وکلاء میرا مقدمہ لڑرہے ہیں، الطاف حسین
میں نے ایم کیوایم میں اجتماعی قیادت ترتیب دیدی ہے، الطاف حسین
میں آج بھی پاکستان کی بقاء وسلامتی اور ترقی وخوشحالی کیلئے کڑوے گھونٹ پینے کاحامی ہوں، الطاف حسین
میں چاہتا ہوں کہ کوئی مصطفی کمال اتاترک جیسا فوجی افسر پاکستان کی قیادت سنبھالے اور ملک سے ہرقسم کی گند کو صاف کردے، الطاف حسین
نجی ٹیلی ویژن کو قائد ایم کیوایم الطاف حسین کا خصوصی تفصیلی انٹرویو
وڈیو حصہ اول    وڈیو حصہ دوم
لندن۔۔۔11، مارچ2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں قانون پسند ہوں، ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم جمہوریت اور امن پسند جماعت ہے،ایم کیوایم میں دہشت گردوں ، جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصرکیلئے زیرو ٹولیرنس ہے اور میرے گھرنائن زیرو اور تنظیم میں ایسے عناصر کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹیلی ویژن کو خصوصی تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اپنے انٹرویو میں جناب الطاف حسین نے وضاحت کی کہ رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپے کے دوران نائن زیرو سے کسی بھی مطلوب شخص کو گرفتارنہیں کیا ،یہ سراسر غلط بات ہے کہ نائن زیرو سے پولیس کو مطلوب کسی فرد کو گرفتارکیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر میری رہائش گاہ نائن زیرو اور ایم کیوایم کے مرکزی دفتر پر پولیس کو مطلوب افراد کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارنامقصود تھا تو نائن زیرو سے 500 گزکے فاصلے پر میری بیوہ بڑی بہن 68 سالہ سائرہ اسلم جوکہ شدیدعلیل ہیں ، جن کے شوہراسلم ابراہانی کو 1995ء میں گرفتارکرکے چھ ماہ تک اڈیالہ جیل میں بدترین تشددکا نشانہ بناکر نیم مردہ حالت میں رہا کیا گیاجورہائی کے کچھ عرصے بعد جاں بحق ہوگئے ان کے گھر پر رینجرز نے کیوں چھاپہ مارا؟میری ہمشیرہ کے گھرپرچھاپہ کے دوران رینجرز کے اہلکاروں نے گھر میں موجود خواتین سے بدسلوکی کی اور انہیں مغلظات بکیں جوکہ قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف دوایف آئی آر درج ہیں جن کے مدرسے میں دہشت گردی اورنفرت کی تعلیم دی جاتی ہے اورمدرسے کی بچیاں داعش کی حامی ہیں لیکن مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کیلئے کوئی چھاپہ نہیں مارا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ ولی خان بابر کے قتل پر میری جانب سے مذمت ریکارڈ پر موجود ہے ، میں نے بارہا ولی خان بابر کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور اس کیس میں ملوث افراد کا ایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں ہے،قتل میں ملوث افراد کوقانون کے مطابق سخت سزا دی جائے خواہ اس میں میرا بھائی ہی کیوں نہ شامل ہو۔ لندن میں کیس کے حوالہ سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں اپنے خلاف لندن میں کیسوں پر عدالت کا سامنا کررہا ہوں اور میرے وکلاء میرا مقدمہ لڑرہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میری پاکستان میں عدم موجودگی ، فاصلے کی دوری اور فیصلے کرنے میں تاخیر کے باعث ایم کیوایم میں خرابیاں پیدا ہوئی ہیں جنہیں دور کرنے کی میں کوشش کررہا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت میرا پاسپورٹ پولیس کے پاس ہے اور میری خواہش ہے کہ جیسے ہی مجھے پاسپورٹ ملے میں اپنا پاکستانی پاسپورٹ بنواؤں ، میں اپنے پاکستانی پاسپورٹ پر وطن واپس آنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم میں لیڈرشپ کے حوالہ سے میں قطعی ناکام نہیں ہوا ہوں ، یہ میری حکمت عملی کا حصہ ہے ، میں نے ایم کیوایم میں اجتماعی قیادت ترتیب دیدی ہے ۔ انہوں نے رابطہ کمیٹی کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ ایم کیوایم کے جواں سال سرگرم کارکن وقاص علی شاہ کی آخری نظامت کی وڈیو آرمی چیف، وزیراعظم پاکستان، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈپٹی ڈی جی ، آئی ایس آئی، کورکمانڈرکراچی اور ڈی جی رینجرز کو ارسال کریں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پولیس کے سربراہ کو ایم کیوایم میں گروپ تلاش کرنے کے بجائے پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے سماج دشمن اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے حوالہ سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ دبئی میں کسی کمپنی میں اچھی پوسٹ پر کام کررہے ہیں میں ان کی مزید ترقی کیلئے دعا گو ہوں، انہوں نے کراچی کے عوام کی جو خدمت کی ہے وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔ انہوں نے مصطفی کمال کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مصطفی کمال! واپس آجاؤ، ایم کیوایم تمہارا اپنا گھر ہے ، واپس آجاؤ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں آج بھی پاکستان کی بقاء وسلامتی اور ترقی وخوشحالی کیلئے کڑوے گھونٹ پینے کاحامی ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ کوئی کمال اتاترک جیسا فوجی افسر پاکستان کی قیادت سنبھالے اور ملک سے ہرقسم کی گند کو صاف کردے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ18 ویں ترمیم کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ، جب وزیراعلیٰ سندھ نائن زیرو پر چھاپے کی کارروائی سے لاعلم رکھے گئے اوروہ اس پر سرپکڑ کر بیٹھے ہیں تو گورنر سندھ کا کیا قصور ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی دونوں سندھ کے عوام کی منتخب نمائندہ جماعتیں ہیں ، ہماری کوشش ہے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آئیں ، سندھ کے عوام کو آبادی کے تناسب سے ہرشعبہ میں جائز حصہ ملے اور صوبہ سندھ ترقی کرے کیونکہ سندھ کی ترقی ،پاکستان کی ترقی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں بھی انسان ہوں اور بسااوقات مجھ سے بھی غلطی ہوجاتی ہے لیکن میں اپنی غلطی تسلیم کرکے معافی مانگ لیتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ غلطی اور کوتاہی کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔


12/10/2016 4:45:01 AM