Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

غیرمتعلقہ اور تضحیک آمیز سوالات کرکے امیدواروں کی تذلیل کی جارہی ہے، الطاف حسین


غیرمتعلقہ اور تضحیک آمیز سوالات کرکے امیدواروں کی تذلیل کی جارہی ہے، الطاف حسین
 Posted on: 4/5/2013 1
غیرمتعلقہ اور تضحیک آمیز سوالات کرکے امیدواروں کی تذلیل کی جارہی ہے، الطاف حسین
اللہ اور اس کے رسولؐ نے نجی زندگی کے معاملات میں پردہ پوشی کا حکم دیا ہے
عوام میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھتے جارہے ہیں
کراچی میں حلقہ بندیوں کاعمل قطعی غیرآئینی ، غیرقانونی اورغیرجمہوری ہے
کیا نظریہ پاکستان یہ ہے کہ سینے پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی جائے اور جو نہ مانے اس کی گردن کاٹ دی جائے؟
سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ وضاحت کردے کہ نظریہ پاکستان کیاہے تاکہ روزروز کی بحث ختم کی جاسکے
لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں الطاف حسین کا ٹیلی فونک پریس کانفرنس سے خطاب
لندن۔۔۔5، اپریل2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کے دوران ریٹرننگ افسران کی جانب سے غیر مناسب اور غیرشائستہ سوالات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں عوام کو عام انتخابات کے ذریعہ اپنے نمائندوں کو منتخب یا مستردکرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے لیکن غیرمتعلقہ اور تضحیک آمیز سوالات کرکے نہ صرف امیدواروں کی تذلیل کی جارہی ہے بلکہ انہیں نااہل قراردیکر انتخابی عمل سے دوررکھنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں حلقہ بندیوں کاعمل قطعی غیرآئینی ، غیرقانونی اورغیرجمہوری ہے ۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کی شام لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ٹیلی فون کے ذریعہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پاکستان اپنی تاریخ کے ایک انتہائی اہم موڑ سے گزررہا ہے۔ سابقہ حکومت کی کارکردگی پر دورائے ہوسکتی ہے لیکن ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت نے اقتدار کے پانچ سال مکمل کئے ہیں اور تمام دنیا کی نظریں آئندہ عام انتخابات پر مرکوز ہیں۔ انتخابات میں محض چند ہفتے رہ گئے ہیں اور اصولی طور پر پورے ملک میں انتخابی گہماگہمی عروج پر ہونی چاہئے تھی تاہم کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران امیدواروں سے جوسوال جواب کئے جارہے ہیں اوراس مرحلے پر جس نوعیت کے واقعات پیش آرہے ہیں اس کی وجہ سے عوام میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھتے جارہے ہیں کہ ملک میں انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے یا نہیں ہونگے ۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ایک امیدوار کے کاغذات محض اس بنیاد پر مسترد کردئے گئے کہ انہوں نے نظریہ پاکستان کے بارے میں دو تنقیدی مضامین لکھے ہیں، یہ مضامین کسی کیلئے تنقیداور کسی کیلئے علمی بحث کا سبب ہوسکتے ہیں لیکن جہاں تک نظریہ پاکستان یاپاکستان کے حوالے سے اسلامی نظریہ کاتعلق ہے تو تمام امیدوارکسی بھی عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے یہ عہدکرتے ہیں کہ ’’ میں اسلامی نظریہ کو، جوقیام پاکستان کی بنیادہے، برقراررکھنے کیلئے کوشاں رہوں گا‘‘۔ سوال یہ ہے کہ یہ نظریہ ہے کیا؟ کیاکوئی اسلامی نظریہ ، Ideology کی تعریف بتاسکتاہے؟ اگرکوئی فردنظریہ پاکستان کے بارے میں اپنے علم کی بنیادپر کچھ نکات اٹھاتاہے تواس کے نکتہء نظر سے یقیناًاختلاف یااتفاق کیاجاسکتاہے لیکن اس بنیادپراس فرد کو خارج الاسلام قراردینا یا آئین کی شق 62 اور 63 کا شکار بناکرانکے کاغذات مستردکر دینا اور اس کی حب الوطنی کومشکوک قراردینا سمجھ سے بالاترہے۔ یہ عمل اس امیدوار اوراسکے حلقہ ء انتخاب کے عوام کوان کے جمہوری حق سے محروم کرناہے۔اگر عوام اس شخص کو اپنے لئے موزوں نہیں سمجھتے تو الیکشن کے جمہوری عمل کے ذریعہ وہ اسے خود ہی مسترد کردیں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ میری کم علمی ہے لہٰذا مجھے بتایا جائے کہ آئینی وقانونی طور پر نظریہ پاکستان کیا ہے تاکہ اس حوالہ سے مختلف سوچ وفکر رکھنے والے افراد کے درمیان کوئی اختلاف نہ رہے ۔انہوں نے درخواست کی کہ سپریم کورٹ اورآئندہ آنے والی پارلیمنٹ مل کر اس کی وضاحت کردے کہ نظریہ پاکستان کیاہے تاکہ روزروز کی بحث ختم کی جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور پاکستان میں اصل حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور ختم نبوت پر یقین رکھنا ہرمسلمان کے ایمان کا حصہ ہے تاہم جس کالم نگار کے کاغذات نظریہ پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات کوجواز بناکر مستردکئے گئے ہیں وہ بھی مسلمان ہیں ، اللہ کی حاکمیت پرایمان رکھتے ہیں اور سرکاردوعالم ؐ کو اللہ کا آخری نبی مانتے ہیں، اس کے علاوہ نظریہ پاکستان اور کیا ہے ؟کیا نظریہ پاکستان یہ ہے کہ سینے پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی جائے اور جو نہ باندھے اس کی گردن کاٹ دی جائے؟ یا ناف کے نیچے ہاتھ باندھ کر نماز اداکرنا نظریہ پاکستان کے عین مطابق ہے اور جو اس کی پیروی نہ کرے اس کی گردن کاٹ دی جائے؟کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ڈریکونین قوانین نافذ کردیئے جائیں ؟انہوں نے کہاکہ اسلام تواختلافی مسائل پر بحث ومباحثہ اور اجتہاد کادرس دیتاہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اجتہادکی نفی کی جارہی ہے اوریہ ماحول بنایاجارہاہے کہ جوہم کہہ رہے ہیں وہ درست ہے اورجوتم کہہ رہے ہو وہ غلط ہے۔
جناب الطاف حسین نے علم کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ علم حاصل کرنے پر جتنا زور اسلام میں ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔ آنحضرتؐ پر اللہ نے پہلی وحی کا آغاز ہی لفظ اقراء سے کیا جس کے معنی ہیں ’’پڑھ‘ ‘ اور جس کے بارے میں تمام محققین اورمحدثین متفق ہیں کہ اس کا مطلب جاننا،سیکھنا اور علم حاصل کرنا ہے۔سورۃ یونس کی آیت نمبر 101 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’آپ کہہ دیجئے کہ دیکھو توآسمان اورزمین کیا کچھ ہے؟ مگر جولوگ ایمان نہیں رکھتے ان کیلئے نشانیاں اورکچھ کام نہیں آتے‘‘۔ اسی طرح سورۃ آل عمران کی آیت نمبر191میں ارشادہے کہ ’’جوکھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہرحال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں اورآسمانوں اورزمینوں کی پیدائش میں غور کر تے (اورکہتے) ہیں کہ اے پرودگار! تونے اس (مخلوق) کو بے فائدہ پیدانہیں کیا ۔ تو پاک ہے۔ تو (قیامت کے دن ) ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ لے‘‘انہوں نے مزید کہاکہ اس حوالہ سے حدیث مبارکہ ہے کہ ’’ علم حاصل کرو چاہے اس کیلئے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘اورسب جانتے ہیں کہ چین میں اس وقت اسلامی علم نہیں تھابلکہ دنیاوی علم تھا ۔
جناب الطاف حسین نے دریافت کیا کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران الیکشن کمیشن کے عملے کی جانب سے کون سے آئین اور قانون کے تحت غیرمناسب سوالات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اورہرجمہوری ملک کی طرح پاکستان میں بھی عوام کو عام انتخابات کے ذریعہ اپنے نمائندوں کو منتخب یا مسترد کرنے کاحق حاصل ہوناچاہیے لیکن یہ بات افسوسناک ہے کہ حالیہ انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمندافراد سے غیرضروری اورغیرمناسب سوالات کرکے انہیں نااہل قراردیکر انتخابی عمل سے باہررکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی امیدوار کی قانونی اہلیت کا تعین کرنا یقیناًالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور ہمیں الیکشن کمیشن کے اس قانونی حق پر قطعی کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم اسکروٹنی کے دوران بعض ریٹرننگ افسران ایسے سوالات کررہے ہیں جو خالصتاً امیدواروں کی نجی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ امیدواروں سے پوچھا جارہاہے کہ آ پ کی بیویاں کتنی ہیں ؟ کس بیوی کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں ؟ بچوں میں لڑکے زیادہ پسند ہیں یا لڑکیاں؟وغیرہ وغیرہ ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ اور اس کے رسول ؐ نے نجی زندگی کے معاملات میں پردہ پوشی کا حکم دیا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انبیاء اکرام تک نے کسی کی نجی زندگی میں نہ تو خوددخل دیا اور نہ کسی کو اس کی اجازت دی لیکن آج نجی زندگی کے بارے میں ایسے غیرمناسب سوالات پوچھ کر اسلامی تعلیمات کی سراسر نفی کی جارہی ہے۔انہوں نے خلوت کے حوالہ سے قرآنی آیات اور احادیث بیان کرتے ہوئے کہاکہ قرآن مجید میں سورۃنور کی آیت نمبر 27،میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’مومنو!اپنے گھر کے سوادوسرے (لوگوں کے)گھروں میں اجازت لئے اور ان کوسلام کیے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ یہ تمہارے حق میں بہترہے (اور ہم یہ نصیحت اسلئے کرتے ہیں کہ ) شائد تم یاد رکھو‘‘۔صحیح بخاری جلدسوئم کے صفحہ نمبر490، پر حدیث روایت کی گئی ہے کہ’’،ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا۔۔۔کہا ہم سے سفیان بن عینیہ نے۔۔۔ زہری نے کہا مجھے اس حدیث کا ایسا یقین ہے(یعنی ایسی یاد ہے) جیسے تیرے یہاں ہونے کا یقین ہے۔۔۔ انہوں نے سہل بن سعد سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے سوراخ میں سے آنحضرتؐ کے حجرے میں جھانکا ۔ اس وقت آپ ؐ کے ہاتھ میں پشت خار تھا جس سے سر کھجارہے تھے ۔آپؐ نے فرمایا اگر مجھ کو معلوم ہوجاتا تو جھانک رہا ہے تو میں تیری آنکھ پر مارتا (آنکھ پھوڑدیتا) ارے بھلے آدمی پھر اجازت لینے کا حکم کیوں ہوا ہے‘‘ اسی لئے تاکہ نظرنہ پڑے۔ اسی طرح صحیح بخاری جلدسوئم کے صفحہ نمبر490 پرایک اور حدیث روایت کی گئی ہے کہ،’’ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے۔۔۔ انہوں نے عبیداللہ بن ابی بکر سے۔۔۔ انہوں نے انس بن مالک سے کہ ایک شخص نے آنحضرت ؐ کے حجرے میں جھانکا ۔آ پ تیر لیکر کھڑے ہوئے گویا میں آپ کو دیکھ رہاہوں آپ چاہتے تھے کسی تدبیر سے اس کی آنکھ پر ماریں‘‘۔ان ایات کریمہ اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام میں کسی کے نجی معاملات میں تانک جھانک سے ممانعت اور پردہ پوشی کا حکم دیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ آج کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران بعض ریٹرننگ افسران انتخابی امیدواروں سے غیرضروری اور غیرمتعلقہ سوالات پوچھ کران امیدواروں کی تضحیک کررہے ہیں اوران کاعوامی سطح پر مذاق اڑارہے ہیں ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ایک ریٹرننگ افسر نے ایک خاتون امیدوار کی عمر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی طرح 35،سا ل کی نہیں لگتیں اس لئے اپنا چہرہ پوری طرح گھما کر دکھائیں! آ خر یہ کیا مذاق ہے؟عوامی سطح پر خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک ان کی تذلیل نہیں تو کیا ہے؟ اخباری رپورٹس کے مطابق ایک اور خاتون امیدوار کے شوہر سے ریٹرننگ افسر نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ اگر آپ کی بیگم انتخابات جیت گئیں تو پھر گھر کے کام کاج نہیں کرسکیں گی! کیا اس طرح کے ریمارکس دیکر خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے کی حوصلہ شکنی نہیں کی جارہی ہے؟ اخباری رپورٹس کے مطابق ریٹرننگ افسران امیدواران سے نماز جنازہ کے طریقہ کار کے بارے میں سوالات کررہے ہیں اور انہیں دعائے قنوت اور آیت الکرسی سنانے کیلئے کہہ رہے ہیں۔جناب الطاف حسین نے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی کہ وہ ٹی وی پر آکر پوری قوم کو نماز جنازہ پڑھنے کا متفقہ طریقہ کار بیان کردیں تاکہ عوام کو نماز جنازہ کا صحیح طریقہ کار معلوم ہوجائے اور مسالک کے درمیان اس مسئلہ پر اختلاف بھی ختم ہوجائے۔ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جو ریٹرننگ افسران، انتخابی امیدواران سے دعائے قنوت سنانے ، غزوہ بدر کے واقعات کی تفصیل بیان کرنے اور دیگر اسلامی معاملات بیان کرنے کا فرمان جاری کررہے ہیں خود ان کی اسلامی امور پر کتنی دسترس ہے اورانہیں اس حوالہ سے کتنا علم ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے اس بات پر اعتراض نہیں کہ کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران سوالات کیوں پوچھے جارہے ہیں ۔ مجھے اعتراض اس بات پر ہے کہ جانچ پڑتال کے نام پر امیدواروں کی تضحیک کی جارہی ہے اور جانچ پڑتال کرنے والے خود ان معاملات پر کتنی دسترس رکھتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ قرآن مجید کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 2 اور 3 میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا ہے کہ’’ اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہاکرتے ہو جوکیا نہیں کرتے۔ اللہ اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرونہیں‘‘۔اسی طرح سورۃ الحمزہ کی آیت نمبر 1 میں ارشادباری تعالیٰ ہے کہ’’ بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کیلئے جو عیب ٹٹولنے والا اورغیبت کرنے والا ہو‘‘۔سورۃ النساء کی آیت نمبر 148 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ اللہ اس با ت کو پسند نہیں کرتاکہ کوئی کسی کو اعلانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو‘‘ جبکہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 44 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ’’ یہ کیا عقل کی بات ہے کہ تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے اورخود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوحالانکہ تم کتاب (اللہ) بھی پڑھتے ہو ،کیا تم سمجھتے نہیں؟‘‘
جناب الطاف حسین نے تجویزدی کہ تمام سیاسی جماعتوں سے ایک ایک نمائندہ لیکرایک ایسی کمیٹی بنائی جائے جوامیدواروں سے سوالات کرنے والے ان ریٹرننگ افسران سے انٹرویوکرے اوراسلامی فقہ، تاریخ ، شرع اورتاریخ پاکستان کے حوالے سے ان سے سوالات کرے۔ اگر ہرریٹرننگ افسر اس کمیٹی کے سارے سوالات کے ٹھیک ٹھیک جواب دے دے توپھراسے کاغذات کی جانچ پڑتال کاحق دیاجائے اورجو جواب نہ دے سکے اسے گھربھیج دیا جائے۔
جناب الطاف حسین نے اصغرخان کیس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کیس میں جن کے نام تھے وہ آج پاک قراردیدئے گئے ہیں کیا اسی کو نظریہ پاکستان کہتے ہیں؟دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے حوالہ سے جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب دہری شہریت کامعاملہ پہلی بار اٹھااوربہت سے ارکان کونااہل قراردیدیاگیاتوبہت سے ارکان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اسمبلیوں کی رکنیت سے رضاکارانہ طورپر استعفے دیدئے جن میں ایم کیوایم کے ارکان بھی شامل ہیں۔ لیکن رضاکارانہ استعفے دینے والوں تک کوعدالتوں میں طلب کیا جارہا ہے ۔الیکشن کمیشن کاکہناہے کہ دہری شہریت کامعاملہ ہویاانتخابی حلقوں میں تبدیلی کا، یہ تمام کام سپریم کورٹ کے احکامات پر کئے جارہے ہیں،لہٰذا میں انتہائی احترام کے ساتھ معزز عدلیہ سے یہ درخواست کرنا چاہتاہوں کہ وہ فیصلے کرتے وقت سورہء المائدہ کی آیت نمبر42کو یادرکھیں جس میں کہاگیا ہے کہ ’’ اللہ انصاف کرنے والوں کودوست رکھتا ہے‘‘ ۔ انصاف کاتقاضہ ہے کہ جن اراکین اسمبلی نے عدالتی فیصلہ کااحترام کرتے ہوئے رضاکارانہ طورپر استعفے دیدیئے ان کومزید کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی میں نہ الجھایاجائے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ترقی اور ملک کی معیشت کے استحکام میں اوورسیز پاکستانیوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ دنیا بھر میں مقیم یہ محب وطن پاکستان ہر سال پاکستان کو زرمبادلہ کی شکل میں کھربوں روپے بھیجتے ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کے بلاتنخواہ سفیر کی حیثیت سے وطن عزیزکی نیک نامی اوراس کے مفادات کے تحفظ کیلئے کام کرتے ہیں۔ ان محب وطن پاکستانیوں کو اسمبلیوں میں نمائندگی کے حق سے محروم کردیا گیا ہے ۔ میری دردمندانہ اپیل ہے کہ ارباب اختیار اوورسیز پاکستانیوں کے اس مسئلہ پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں۔ 
جناب الطاف حسین نے کراچی میں حدبندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے شیڈول کااعلان کرتے ہی کراچی میں متعدد انتخابی حلقوں میں من مانی تبدیلیوں کااعلان بھی کرڈالا۔ میں واضح طورپرکہتاہوں کہ کراچی میں حلقہ بندیوں کاعمل قطعی غیرآئینی ، غیرقانونی،غیرجمہوری اورکھلی gerrymandering ہے۔ قانون میں واضح طور پر درج ہے کہ مردم شماری کے بغیر حلقہ بندیاں نہیں کی جاسکتیں اور حلقہ بندیوں کا عمل پورے ملک میں یکساں طور پر کیاجانا چاہئے۔کیا یہ عمل ایم کیوایم کے عوامی مینڈیٹ پرڈاکہ ڈالنے کے مترادف نہیں ہے ؟انہوں نے سوال کیا کہ آخرپورا ملک چھوڑ کر صرف کراچی میں حدبندی کا عمل کیوں کیا گیا؟کیاکراچی، پاکستان کاحصہ نہیں ہے ؟ کیا کراچی کوئی نوآبادیاتی کالونی ہے کہ جہاں کے بارے من مانے فیصلے کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کہ کسی بھی ملک کے عوام علیحدگی پسند نہیں ہوتے ،اقتدارمافیا کے متعصبانہ اوریک طرفہ فیصلے عوام میں انتہاء پسندانہ سوچ کو جنم دیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میں چاربرس سے مسلسل کہتا رہا ہوں کہ کراچی میں طالبانائزیشن کی جارہی ہے لیکن میری باتوں کا مذاق اڑایا گیااور آج کراچی کے بیشتر علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ جرائم پیشہ عناصر کے ایک گروہ نے کراچی کی قدیم بستی لیاری میں اپنی ریاست قائم کررکھی ہے ،مٹھی بھرجرائم پیشہ عناصرنے لیاری کے معصوم عوام کویرغمال بنایاہواہے، پولیس ورینجرزکے کئی اہلکاروں تک کواغواکرکے بیدردی سے قتل کردیاگیالیکن ان جرائم پیشہ عناصرکو گرفتارنہیں کیاگیااوران کی اس ریاست کا خاتمہ نہیں کیاجاتا بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ لیاری کراچی کاسب سے پرامن علاقہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ دوسال قبل لیاری کے انہی جرائم پیشہ عناصرنے کراچی میں اردوبولنے والے سندھیوں کوباقاعدہ شناخت کرکے اغواء کرکے سفاکی سے ذبح کیا،انکے ساتھ بدفعلی کی اورلوگوں پر خوف بٹھانے کیلئے ا سکی وڈیوجاری کی ۔یہ وڈیوفلم سپریم کورٹ کے جج صاحبان سمیت تمام ارباب اختیارکوبھجوائی گئی لیکن افسوس کہ اس سفاکانہ قتل عام میں ملوث درندوں کوآج تک گرفتارنہیں کیا گیا ۔جناب الطاف حسین نے ملک کے تمام حقیقت پسندسیاسی رہنماؤں، دانشوروں، کالم نگاروں، صحافیوں، اینکرپرسنز، وکلاء اورتمام اہل دانش سے درخواست کی کہ وہ ان کی باتوں کوتنقیدبرائے تنقیدکی نذرکرنے کے بجائے ان پر ٹھنڈے دل سے غورکریں اورانکی آوازمیں آوازملائیں، پاکستان کی سول سوسائٹی ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں پاکستان کے تحفظ اور انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے اتحاد کامظاہرہ کریں تاکہ ہم ملکرملک کوایک صحیح راہ پر گامزن کرسکیں اورسب ایک آواز ہوکر ریٹرننگ افسران کوپابندکرسکیں کہ وہ امیدواروں سے ذاتی سوالات کرنے کا سلسلہ بند کریں۔

12/10/2016 6:47:51 AM