Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میری خواہش ہے کہ پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہو، الطاف حسین


 Posted on: 1/30/2015
میری خواہش ہے کہ پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہو، الطاف حسین
میں پاکستان میں ایسا منصفانہ نظام قائم کرنا چاہتا ہوں جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں تمام شہریوں کو بلا امتیاز مساوی حقوق حاصل ہوں، الطاف حسین
حیدرآباد کے عوام نے تمام تر سازشوں کے باوجود اپنے الطاف بھائی کا ہاتھ تھامے رکھا، الطاف حسین
میں مالی اعتبار سے پاکستان کے دیگر سیاسی رہنماؤں میں سب سے زیادہ غریب ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ عوام کا جو پیار مجھے ملا ہے وہ بڑے بڑے دولتمندوں کے پاس نہیں ہے، الطاف حسین
الطاف حسین یونیورسٹی میں داخلے کیلئے کوئی سفارش نہیں چلے گی بلکہ تمام داخلے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے، الطاف حسین
جوانو! میں چاہتا ہوں کہ آپ پڑھ لکھ کر اعلیٰ درجے کے انسان بن جائیں اور میں سینہ تان کر کہہ سکوں کہ آپ میرا غرور ہو، الطاف حسین
مجھے خوشی ہوگی کہ اس یونیورسٹی کے گریجویٹ امریکہ، برطانیہ اور دیگرممالک میں جاکر علم کے ہر شعبہ میں ٹاپ کریں، الطاف حسین
انشاء اللہ حیدرآباد میں ٹیکنیکل سینٹرزاور ووکیشنل سینٹرزبھی قائم ہوں گے جہاں بچیاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سیکھ سکیں گی،الطاف حسین
اتوار کو حیدرآباد میں تاریخی جشن عام ہوگا جس میں شہر کا ہرفرد بلاخوف وخطر شرکت کرکے خوشیاں منائے گا، الطاف حسین
الطاف حسین یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی خوشی میں منعقدہ تقریب کے شرکاء سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔30، جنوری2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہو اور ایسا منصفانہ نظام قائم ہو جہاں زندگی کے ہرشعبہ میں تمام شہریوں کو بلاامتیاز رنگ ونسل ، زبان ، مسلک اور مذہب مساوی حقوق حاصل ہو ں اور سب کے چہروں پر مسکراہٹ ہی مسکراہٹ ہو۔ یہ بات انہوں نے لطیف آباد، حیدرآباد میں الطاف حسین یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی خوشی میں ہونے والی تقریب کے موقع پر ایم کیوایم اوراے پی ایم ایس او کے ذمہ داروں ،کارکنوں اور شعبہ خواتین کی ارکان سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے حیدرآباد کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کی 40 سالہ جدوجہد کے دوران حیدرآباد کے عوام کو بدترین ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا گیا،سرکاری اہلکاروں کی جانب سے گھروں میں سیڑھیاں لگاکر چادروچہاردیواری کا تقدس پامال کیاگیا، خواتین اور بزرگوں سے بدسلوکی کی گئی، گھریلوسامان کی لوٹ مار کی گئی، ایم کیوایم کے کارکنان کو جھوٹے مقدمات میں گرفتارکرکے جیلوں میں بدترین تشدد کیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تحریرکردہ بیانات پر دستخط نہ کرنے کی پاداش میں کارکنان کو شہید کیا گیا، سانحہ 30 ستمبر 1988ء میں قتل عام کیا گیااور پکاقلعہ آپریشن کے دوران درندہ صفت پولیس اہلکاروں نے قرآن پاک سروں پراٹھاکر رحم کی فریادیں کرنے والی خواتین کو گولیاں مارکرشہید کردیا گیالیکن اس کے باوجود حیدرآبادکے عوام نہ ڈرے، نہ جھکے اورنہ بکے اور تمام تر سازشوں کے باوجود انہوں نے اپنے الطاف بھائی کا ہاتھ تھامے رکھا۔انہوں نے کہاکہ میں مالی اعتبار سے پاکستان کے دیگر سیاسی رہنماؤں میں سب سے زیادہ غریب ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ عوام کاجو پیار مجھے ملا ہے اور بڑے بڑے دولتمندوں کے پاس نہیں ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کا قیام میرادیرینہ خواب تھا، بالآخر آج سب کی قربانیاں رنگ لائیں اورآج تمام تر سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود شہرمیں 80 ایکڑ زمین پرمشتمل الطاف حسین یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے حیدرآباد کی ایک ایک ماں، بہن ، بیٹی ، بزرگ اور نوجوان کو حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے آغاز کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ انشاء اللہ دوسال کے عرصے میں یہ یونیورسٹی کی تعمیرکا کام مکمل ہوجائے گااور شہر کے نوجوان اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرسکیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین یونیورسٹی میں داخلے کیلئے کوئی سفارش نہیں چلے گی بلکہ تمام داخلے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے لہٰذا نوجوانوں کو خوب دل لگاکر تعلیم حاصل کرنی ہوگی تاکہ جب آپ داخلے کے امتحان میں شریک ہوں تو پہلی نشست میں کامیاب ہوکراس یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرسکیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی خوشی میں جشن کا انتظام کیا گیا تھا لیکن آج شکارپورمیں المناک سانحہ میں 51 افراد کی شہادتیں ہوئی ہیں، ہم انسانیت کا احترام کرتے ہیں اور احترام انسانیت میں ہم نے آج کا جشن ملتوی کرکے یوم سوگ میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ انشاء اللہ اتوار کو حیدرآباد میں تاریخی جشن عام ہوگا جس میں شہر کا ہرفرد بلاخوف وخطر شرکت کرکے خوشیاں منائے گا۔ انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ حیدرآباد میں ٹیکنیکل سینٹرزاور ووکیشنل سینٹرزبھی قائم ہوں گے جہاں بچیاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سیکھ سکیں گی۔میں چاہتا ہوں کہ الطاف حسین یونیورسٹی کے گریجویٹ پوری دنیا میں جاکر علم حاصل کریں ، مجھے خوشی ہوگی کہ اس یونیورسٹی کے گریجویٹ امریکہ ، برطانیہ اور دیگرممالک میں جاکرعلم کے ہر شعبہ میں ٹاپ کریں اور ملک وقوم کا نام روشن کریں۔انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ پڑھ لکھ کر اتنے اعلیٰ درجے کے انسان بن جائیں کہ میں سینہ تان کرکہہ سکوں کہ آپ میرا غرور ہو اور پوری دنیا کو چیلنج کرسکوں کہ الطاف حسین یونیورسٹی کے گریجویٹ سے کسی بھی شعبہ میں مقابلہ کرکے دکھاؤ۔ الطاف حسین یونیورسٹی میں آپ کو اعلیٰ تعلیم ملے گی اور پوزیشن لانے والے طلباء کو مزید اعلیٰ تعلیم کیلئے اسکالرشپ دیکر پوری دنیا میں بھیجاجائے گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ وہ دن جلد لائے اور ایسے حالات پیدا کردے کہ میں پاکستان آکر اپنوں کے درمیان پہنچ جاؤں اور اپنے شہر حیدرآباد میں آکر قیام کروں۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کی طرح میری یہ بھی خواہش ہے کہ پاکستان میں ایسا منصفانہ نظام قائم ہو جس میں زندگی کے ہرشعبہ میں تمام شہریوں کو بلاامتیاز رنگ ونسل ، زبان ، مسلک اور مذہب مساوی حقوق حاصل ہو ں، ہرماں ، بہن، بیٹی ،بزرگ اور نوجوان کے دکھ درد اور پریشانیوں کا خاتمہ ہو اور سب کے چہروں پر مسکراہٹ ہی مسکراہٹ ہو۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم حیدرآباد زونل کمیٹی کے ارکان ، حق پرست ارکان قومی وصوبائی اسمبلی،سیکٹراور یونٹ کمیٹیوں کے ذمہ داران اور کارکنان کو دن رات محنت کرنے اورلطیف آباد میں خوبصورت پنڈال سجانے پر خراج تحسین اور شاباش دی۔ اس موقع پر کمسن بچوں ، اے پی ایم ایس او کی طالبات اور شعبہ خواتین کی ارکان نے بھی جناب الطاف حسین سے براہ راست گفتگو کی ۔

12/9/2016 1:47:42 AM