Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

الطاف حسین یونیورسٹی صرف اردوبولنے والوں کی نہیں بلکہ ہرزبان بولنے اور ہرمذہب سے تعلق رکھنےوالوں کی یونیورسٹی ہوگی۔الطاف حسین


الطاف حسین یونیورسٹی صرف اردوبولنے والوں کی نہیں بلکہ ہرزبان بولنے اور ہرمذہب سے تعلق رکھنےوالوں کی یونیورسٹی ہوگی۔الطاف حسین
 Posted on: 1/30/2015
الطاف حسین یونیورسٹی صرف اردوبولنے والوں کی نہیں بلکہ ہرزبان بولنے اور ہرمذہب سے تعلق رکھنےوالوں کی یونیورسٹی ہوگی۔الطاف حسین
حیدرآباد کاشہری خواہ کوئی بھی زبان بولتا ہواور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہووہ میرٹ کی بنیاد پر اس یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرسکتا ہے
الطاف حسین یونیورسٹی کے قیام پرملک ریاض اور گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد کو سلام تحسین اور خراج تحسین پیش کرتاہوں
یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں تعاون پر آصف علی زرداری کاشکریہ اداکرتاہوں
پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ ہرشہر میں اسکول،کالج اور یونیورسٹیوں کا جال بچھایا جائے
ہنگامی بنیادوں پر شعبہ تعلیم کے بجٹ میں سالانہ چار سے پانچ فیصد اضافہ کیاجائے ، یہ رقم میڈیکل وانجینئرنگ کی یونیورسٹیاں ، کالج اور اسکول تعمیر کرنے میں صرف کی جائے
دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے ہمیں پاکستان بھر میں یونیورسٹیوں ،کالجوں اور اسکولوں کا جال بچھانا ہوگا
حیدرآباد میں’’ الطاف حسین یونیورسٹی‘‘ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔30، جنوری2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ الطاف حسین یونیورسٹی صرف اردوبولنے والوں کی نہیں بلکہ ہرزبان بولنے اور ہرمذہب سے تعلق رکھنے والوں کی یونیورسٹی ہوگی۔ حیدرآباد کاشہری خواہ کوئی بھی زبان بولتا ہواور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہومیرٹ کی بنیاد پر اس یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرسکتا ہے۔ علم ، انسانیت کی معراج اور قوموں کی ترقی کی کنجی ہے لہٰذا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ ہرشہر میں اسکول،کالج اور یونیورسٹیوں کا جال بچھایا جائے، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، جاگیردارانہ معاشرہ، ملک کی ترقی وخوشحالی،جمہوریت، تہذیب وشائستگی ، روشن خیالی اور تعلیم کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہنگامی بنیادوں پرملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کیاجائے اور شعبہ تعلیم کے بجٹ میں سالانہ چار سے پانچ فیصد اضافہ کیاجائے ۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز حیدرآباد میں’’ الطاف حسین یونیورسٹی‘‘ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ قبل ازیں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے الطاف حسین یونیورسٹی کاسنگ بنیاد رکھا۔ تقریب سے بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ، حق پرست ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، حیدرآباد زونل کمیٹی کے ارکان اور عمائدین شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے حیدرآباد کے عوام کو یونیورسٹی کے قیام کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کا قیام میرا دیرینہ خواب تھا، گزشتہ 55 برسوں سے حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کی امید باندھنے والے نجانے کتنے لوگ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، آج ان کی روحیں بھی بہت خوش ہورہی ہونگی۔ میں حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے مستقل کوششیں کرتا رہااورگورنرسندھ ڈاکٹر عشرت کو تلقین کرتا رہاکہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام پر توجہ دی جائے تاکہ اس کارخیر میں شریک ہرفرد کو صدقہ جاریہ کی شکل میں ثواب ملتا رہے ۔گورنر سندھ ،خلوص نیت سے کوشش کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے ملک ریاض کو فرشتہ بناکر ان کے پاس بھیج دیا جوغریب پرور ہیں اور نبی کریم ؐ کی تعلیمات کے مطابق انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔ملک ریاض صاحب کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا سب کچھ ہے وہ اس یونیورسٹی کے بجائے کیسینو یا ڈانس کلب بھی بناسکتے تھے لیکن جس کے دل میں مفلوک الحال انسانوں کی خدمت کا جذبہ ہو اس کے دل میں شیطانی سوچ جنم نہیں لے سکتی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک  ریاض نے نہ صرف اس مشن پر رضامندی ظاہر کی بلکہ یونیورسٹی کیلئے زمین کا مسئلہ آیا تو انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری سے اس کا تذکرہ کیا جنہوں نے یونیورسٹی کیلئے مفت زمین دینے کااعلان کیا جس پر میں آصف علی زرداری صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، آصف زرداری صاحب کو غورکرنا چاہیے کہ اگر حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا اعلان آپ کے دور حکومت میں ہوجاتا تو کتنا اچھا ہوتا ۔ انہوں نے حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں تعاون پر آصف علی زرداری، ملک ریاض اور گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد کو سلام تحسین اور خراج تحسین بھی پیش کی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب نے کہاہے کہ ملک کی ترقی کیلئے مل کر چلیں تو زیادہ بہتر ہوتا ہے لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اورہاتھ ملانے کیلئے دوسرے ہاتھ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ الطاف حسین یونیورسٹی میں دیگرقومیتوں کے لوگوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، میں دوٹوک الفاظ میں واضح کررہا ہوں کہ یہ یونیورسٹی صرف اردوبولنے والوں کی نہیں بلکہ ہرزبان بولنے اور ہرمذہب سے تعلق رکھنے والوں کی یونیورسٹی ہے ۔ حیدرآباد کاشہری خواہ کوئی بھی زبان بولتا ہواور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہومیرٹ کی بنیاد پر اس یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرسکتا ہے۔جناب الطاف حسین نے دین اسلام میں علم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ حضوراکرم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ؐ پر پہلی وحی ’’اقراء باسم ربک الذی خلق‘‘ نازل فرمائی جس کاترجمہ یہ ہے ’’ پڑھ اس کے رب سے جس نے تجھے پیداکیا‘‘۔یعنی جوخودعلم کاشہرہے اللہ تعالیٰ اسے بھی مزید پڑھنے کی تلقین کررہاہے۔اس کاصاف مطلب ہے کہ حصول علم کی کوئی حد نہیں ہوتی اور جو جتنا علم حاصل کرے گا اتنی ہی ترقی اور خوشحالی پائے گا۔حدیث مبارکہ ہے کہ علم حاصل کروخواہ اس کیلئے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے ، جبکہ اس وقت چین میں قرآن یا احادیث کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی، دین اسلام میں دینی علم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم کے حصول پر بھی زوردیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جہاں علم ہوگا وہاں تہذیب ، شائستگی ، بردباری اور شعور ہوگا۔جہاں علم ہوگاوہیں ترقی اورکامیابی ہوگی ۔ قوموں کی تعمیروترقی میں علم کی اتنی اہمیت ہے اتنی ہے کہ جتنی جسم کیلئے روح کی ہے ۔اگر کسی جسم سے روح نکال دی جائے تو وہ جسم مردہ ہوجاتا ہے لہٰذا جوقومیں علم سے بے بہرہ ہوتی ہیں وہ مردہ قومیں کہلاتی ہیں اور تاریکیوں میں ڈوب جاتی ہیں جبکہ تعلیم کی بدولت ترقی پاکر جہالت میں ڈوبی قومیں سپرپاور بن جاتی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے حکمرانوں نے پاکستان میں علم کے فروغ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے آج 67 برس گزرجانے کے باوجود پاکستان ایک فقیر کی مانند بھیک کاپیالہ لیکر امریکہ ،برطانیہ اور مغربی ممالک سے بھیک مانگ رہا ہے جبکہ دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے ہمیں پاکستان بھر میں یونیورسٹیوں ،کالجوں اور اسکولوں کا جال بچھانا ہوگا۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہنگامی بنیادوں پر شعبہ تعلیم کے بجٹ میں سالانہ چار سے پانچ فیصد اضافہ کیاجائے لیکن یہ رقم کھانے پینے کیلئے نہیں بلکہ میڈیکل وانجینئرنگ کی یونیورسٹیاں ، کالج اور اسکول تعمیر کرنے میں صرف کی جائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب سندھ میں تعلیم کی وزارت ایم کیوایم کے پاس تھی تو ہم نے سندھ بھر میں 400 سے زائد اسکول تعمیر کیے لیکن بعد میں جاگیرداروں اوروڈیروں نے ان اسکولوں کو اپنی اوطاق اور بھینسوں کے باڑے میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ جاگیردارانہ معاشرہ ملک کی ترقی وخوشحالی،جمہوریت، تہذیب وشائستگی ، روشن خیالی اور تعلیم کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور تعلیم کے بغیرہم مضبوط قوم نہیں بن سکتے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ملک ریاض سے زندگی میں کبھی نہیں ملا لیکن دل کودل سے راہ ہوتی ہے،میری اورملک ریاض کی سوچ ایک ہے،میں بھی غریبوں کی حالت بہتربناناچاہتاہوں اورملک کوترقی دیناچاہتاہوں اورمجھے یقین ہے کہ ملک ریاض بھی ملک کی ترقی کیلئے کام کر یں گے اوربھیک کا کشکول توڑ ڈالیں گے۔انہوں نے کہاکہ اگرملک ریاض جیسے 10، 15 سخی لوگ پیداہوگئے تواس ملک کولندن اورپیرس بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکرہے کہ اس نے ملک ریاض کورحمت کافرشتہ بناکربھیجااور میرا حیدرآباد یونیورسٹی کاخواب پوراکردیا۔اللہ تعالیٰ ملک ریاض کورحمت کافرشتہ بنائے رکھے اوران کے رزق اورکاروبارمیں برکت عطافرمائے۔جناب الطاف حسین نے ملک ریاض کی جانب سے حیدرآباد میں دسترخوان سجانے اوریونیورسٹی میں 50 اسکالرشپ دینے کے اعلان کازبردست خیرمقدم کیااور ان سے کہاکہ اسکالرشپ میرٹ کی بنیادپر دینے کیلئے گورننگ بورڈ بنایاجائے۔انہوں نے تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے کہاکہ الطاف حسین یونیورسٹی تمام لوگوں کی یونیورسٹی ہے۔ آپ یونیورسٹی میں داخلے کیلئے امتحان دیں،کہیں اورآپ کاداخلہ نہ ملتے ہو، شائدیہاں داخلہ مل جائے۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں شکارپورکی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی شدیدمذمت کی اوردھماکے میں متعددافرادکے جاں بحق ہونے پر دلی افسوس کااظہارکیا۔ انہوں نے اعلان کیاکہ اس سانحہ پر کل پورے پاکستان میں ایم کیوایم کی جانب سے سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دعاکی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کوعلم حاصل کرنے کی توفیق دے۔انہوں نے طلبہ وطالبات پر ذور دیاکہ وہ فیل ہوجاناگواراکرلیں لیکن نقل نہ کریں اورپڑھ کرامتحان دیں اوراپنے اساتذہ کااحترام کریں اورانکے ساتھ بدتمیزی اوربدسلوکی سے گریزکریں اوریہ یاد رکھیں کہ جوقومیں اساتذہ کااحترام نہیں کرتیں علم ان سے دورچلاجاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ سنکرکانپ جاتاہوں کہ طلبہ کاہاتھ اساتذ ہ کے گریبان تک پہنچا۔جناب الطاف حسین نے نوجوانوں کوتلقین کی کہ وہ اپنے والدین ،خواتین اور بزرگوں کااحترام کریں۔



12/2/2016 4:17:41 PM