Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

خدا کیلئے ایم کیوایم اور الطاف حسین کو پاکستان کاخیرخواہ سمجھواور ملک دشمن نہ سمجھو،الطاف حسین


خدا کیلئے ایم کیوایم اور الطاف حسین کو پاکستان کاخیرخواہ سمجھواور ملک دشمن نہ سمجھو،الطاف حسین
 Posted on: 1/29/2015
خدا کیلئے ایم کیوایم اور الطاف حسین کو پاکستان کاخیرخواہ سمجھواور ملک دشمن نہ سمجھو،الطاف حسین
خدا کیلئے ملک کی سلامتی وبقاء کی خاطر عسکری اداروں کو متعصب عناصر سے پاک کیاجائے
اسٹیبلشمنٹ ہمیں بتائے کہ آخرانہیں مہاجروں سے کیاشکایت ہے؟ 
ماورائے عدالت قتل بندکردیں اورایساکرکے اللہ کے قہرکودعوت نہ دیں
کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورکارکنوں کے اجتماعات سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔29، جنوری2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے مسلح افواج عسکری اداروں کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خدا کیلئے ایم کیوایم اور الطاف حسین کو پاکستان کاخیرخواہ سمجھواور ملک دشمن نہ سمجھو،خدا کیلئے ملک کی سلامتی وبقاء کی خاطر عسکری اداروں کو متعصب عناصر سے پاک کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ میں امن پسنداور ہرقسم کے تشددکے خلاف ہوں، میں اجتماعیت اور احترام انسانیت پر یقین رکھتاہوں اور چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بسنے والے غیرمسلموں، خواتین اورتمام زبانیں بولنے والے غریبوں کو مساوی حقوق میسرہوں۔یہ بات انہوں نے کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورکارکنوں کے اجتماعات سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے تحریک پاکستان کی جدوجہد میں بانیان پاکستان کی جانی ومالی قربانیوں، 1964ء میں محترمہ فاطمہ جناح اور ایوب خان کے مابین صدارتی انتخابات کے بعد محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دینے کی پاداش میں مہاجروں پر حملے، 1971 ء میں سانحہ مشرقی پاکستان کے اسباب ، پاکستان کے دفاع کیلئے اردوبولنے والوں کی قربانیوں، محب وطن پاکستانیوں کی ریڈ کراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی ، 1972ء میں سندھ میں کوٹہ سسٹم کانفاذ، سندھ میں لسانی بل کے ذریعہ مہاجروں اور سندھیوں میں نفرتیں پیدا کرنے کی سازش،لاڑکانہ اور جیکب آباد سمیت اندرون سندھ کے مختلف شہروں سے مہاجرآبادیوں کے انخلاء، سرکاری ملازمتوں پر کراچی ، حیدرآباد اور سکھر کے شہریوں کیلئے پابندی پر مبنی اشتہارات ، جامشورو اور مہران یونیورسٹی میں مہاجروں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے ، اے پی ایم ایس او ، مہاجرقومی موومنٹ اور متحدہ قومی موومنٹ کے قیام ، 8،اگست1986ء کو نشترپارک کراچی میں تاریخ ساز جلسہ عام، 30، اکتوبر1986ء کو سہراب گوٹھ کراچی اور مارکیٹ چوک حیدرآبادمیں قتل وغارتگری کی سازش، 14،دسمبر1986ء کو سانحہ قصبہ علیگڑھ ،30،ستمبر1988ء کے سانحہ حیدرآباد، 1988ء میں پیپلزپارٹی سے اتحاد، اے پی ایم ایس اوکے کارکنان کے اغواء ، انہیں انسانیت سوز تشدد کانشانہ بنانے کے واقعات، ایم کیوایم کو کچلنے کیلئے پی پی آئی کی تشکیل کے پس پردہ عناصر، مہاجرآبادیوں پر حملوں اور 1990ء میں میاں نوازشریف سے اتحادکے حوالہ سے تاریخی حقائق تفصیل سے بیان کیے ۔ انہوں نے کہاکہ 1990ء میں جب میں نے مینارپاکستان لاہور میں خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے غریب ومتوسط طبقہ کو ایم کیوایم کی طرز پر متحد ہونے کا پیغام دیا اورانہیں جاگیرداروں اوروڈیروں کے خلاف جدوجہد کا درس دیا تو بعض صحافیوں نے کہاکہ اب آپ کو پنجاب میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پنجا ب میں آج بھی وہ صورتحال ہے کہ کوئی غریب آدمی اقتدارمیں آنا تو کجا الیکشن لڑنے کا بھی تصور نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کی حق پرستانہ جدوجہد کے خاتمے کیلئے مجھے خریدنے کی کوشش کی گئی ۔جنرل حمید گل کے کہنے پر بریگیڈئیر امتیاز احمد میرے پاس نوٹوں سے بھرے بریف کیس لیکرآئے لیکن میں نے صاف کہہ دیا کہ الطاف حسین اس مٹی سے نہیں بنا جو اپنے ضمیرکا سودا کرتی ہو۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک سازش کے تحت مہاجروں اور پختونوں کوآپس میں لڑانے کی سازش کی گئی اس وقت میں جیل میں تھا ،میں نے جیل سے خان ولی خان کو خط لکھااور اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اے این پی کے رہنماء ولی خان، اجمل خٹک اور غلام احمد بلور نائن زیروتشریف لائے تو پختونوں اور مہاجروں کے درمیان غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ جب میں نے کراچی میں طالبانائزیشن کا انکشاف کیاتو اے این پی کے شاہی سید جسے اسفندیارولی نے رشتہ داری کی بنیاد اے این پی سندھ کا صدر بنادیا تھا، نے پختون لویہ جرگہ بناکر مہاجروں کے خلاف نفرت انگیزبیانات کا سلسلہ شروع کردیا۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے علاوہ شاہی سید نے بھی میری مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کوئی طالبانائزیشن نہیں ہورہی ہے اور الطاف حسین کراچی سے پختونوں کو نکالنا چاہتا ہے ،اسی طرح وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اورپیپلزپارٹی کے تمام وزراء نے بھی طالبانائزیشن کے حوالہ سے میری مخالفت کی ۔ انہوں نے کہاکہ جب آصف علی زرداری پر کڑا وقت آیا تو پیپلزپارٹی کی پوری قیادت غائب تھی اس وقت انکی حمایت میں ملین ریلی کا انعقاد کرنے والا الطاف حسین تھاجس کا صلہ آصف علی زرداری نے امن کمیٹی بناکردیا، جرائم پیشہ عناصر کی اس کمیٹی کو ایجنسیوں کے بعض افسران کی مکمل سرپرستی حاصل تھی ، پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا نے عوامی جلسوں میں کہاکہ امن کمیٹی والے میرے بچے ہیں ، اگر یہ کریمنل ہیں تو ذوالفقار مرزا بھی کریمنل ہے اور میں نے امن کمیٹی کے لوگوں کو ایک لاکھ اسلحہ ک لائسنس شادی بیاہ میں ہوائی فائرنگ کرنے کیلئے نہیں دیے۔ پیپلزامن کمیٹی کے دہشت گردوں نے کراچی کے مختلف علاقوں سے مہاجرنوجوانوں کو ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر اغواء کرکے لیاری لے جایا گیاجہاں ان کے ساتھ زیادتی کی گئی،انہیں قتل کرکے سرتن سے جدا کر دیئے اور پھرسروں سے فٹ با ل کھیلی گئی، اس وقت رینجرز ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے موجود تھے ، انہیں ایک ایک واقعہ کی اطلاع دی جاتی رہی لیکن سفاک قاتلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب لسانی فسادات کے ذریعہ ایم کیوایم کوختم نہیں کیاجاسکا تو ایک سازش کے تحت ایم کیوایم کو اندر سے کمزورکرنے کی کوشش کی گئی، ایم کیوایم کے چند لوگوں کو خرید کرانہیں پنجاب میں رکھاگیا، انہیں تربیت، اسلحہ اور رقم دی گئی جو 19،جون1992ء میں فوجی ٹرکوں پر بیٹھ کر کراچی میں داخل ہوئے ، اس وقت کے آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ کا بیان شائع ہوا کہ جب کئی مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی ہوسکتی ہیں تو ایم کیوایم تین چارکیوں نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف اسی قسم کے طرز عمل کاسلسلہ جاری رہا، میں نے ڈی جی رینجرز رضوان اخترکو اسکیم 33 میں ایم کیوایم کے کارکنان کی گرفتاری، رینجرز کی چوکی پر گرفتارشدگان کی رینجرز کی گاڑی میں تبادلے اور پھر تین کارکنان کے قتل کی پوری تفصیل سے آگاہ کیا لیکن انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کے سامنے صاف انکارکردیا۔ اس وقت رینجرز، ایجنسیوں کے بعض افسران اور پیپلزپارٹی کے مابین یہ معاہدہ ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنان کو پکڑ کر سفاکی سے قتل کردیا جائے اورلاشیں ویرانے میں پھینک دی جائیں۔انہوں نے کہاکہ کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے کہاگیا تھا کہ تمام جماعتوں میں عسکری ونگ موجود ہیں لیکن ٹی وی ٹاک شوز میں بعض تجزیہ نگار صر ف ایم کیوایم پر بہتان تراشی کرتے ہیں اورجان بوجھ کرجماعت اسلامی ، سنی تحریک اورپیپلزپارٹی کے عسکری ونگ کا نام تک نہیں لیتے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے طالبان،داعش اور القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف جاری ضرب عضب کی حمایت کی اور مسلح افواج کی حمایت میں ایک ملین کاجلوس نکالا، میں نے باربار فوجی افسروں اورجوانوں کو سیلوٹ پیش کیا لیکن اس کے باوجود ایم کیوایم اور الطا ف حسین کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔اسٹیبلشمنٹ ہمیں بتائے کہ آخرانہیں مہاجروں سے کیاشکایت ہے؟ آخرکب تک حب الوطنی کی پاداش میں ایم کیوایم کے کارکنان کوماورائے عدالت قتل کیاجاتا رہے گا؟انہوں نے کہاکہ میں نے آج تک اپنے کارکنان کو امن اورصبرکادرس دیا ہے اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بے گناہ کارکنان کوگرفتارکرنے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو عوام میں کیاسوچ پیدا ہوگی؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ والے آج بھی کہتے ہیں کہ ایم کیوایم، الطاف حسین کے بغیر بہت اچھی جماعت ہے اور آج بھی مائنس الطاف حسین فارمولے پر کام کیاجارہا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں امن پسند ہوں اور ہرقسم کے تشدد کے خلاف ہوں، اگرمحض الزام کی بنیاد پرایم کیوایم کے کسی کارکن کو گرفتارکرکے عدالت میں پیش کرنے کے بجائے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری رہے ، وزیراعظم اور وفاقی وزیرداخلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی زیادتیوں کی نگرانی کیلئے مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل نہ دیں اور ظلم وزیادتی کا سلسلہ بدستورجاری رہے تو جس ملک میں یہ عمل ہوگا وہاں لوگ خود قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں یہ تاریخ ہے جس سے انکارممکن نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے متحدہ قومی موومنٹ اس لئے بنائی تھی کہ ملک بھرکے غریب پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، کشمیریوں، سرائیکیوں، ہزاروال، گلگتی ، بلتستانی اور غیرمسلم پاکستانیوں کو ایک پرچم تلے متحد کروں تاکہ ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی قائم کی جاسکے ۔ میں چاہتا ہوں کہ جن لوگوں نے قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ان سے ایک ایک پائی وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے ، کرپشن اورچوری چکاری سے محلات بنانے والوں کی جاگیریں غریبوں میں تقسیم کی جائے ، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ اور تمام تقرریاں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں۔ جناب الطاف حسین نے مسلح افواج اور آئی ایس آئی کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خدا کیلئے ایم کیوایم اور الطاف حسین کو پاکستان کاخیرخواہ سمجھواور ملک دشمن نہ سمجھو اورخدا کیلئے ملک کی سلامتی وبقاء کی خاطر عسکری اداروں کو متعصب عناصر سے پاک کیاجائے ۔ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو شہید کرکے شہداء قبرستان بنوادیا گیا، اربوں کھربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ایم کیوایم کو ختم نہیں کیاجاسکا۔ آ پ کو اللہ کی طاقت سے ڈرنا چاہیے کیونکہ مظلوموں کے دلوں سے آہ نکلتی ہے تو سیدھی عرش پر جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں امن پسنداور ہرقسم کے تشددکے خلاف ہوں، میں اجتماعیت اور احترام انسانیت پر یقین رکھتاہوں اور چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بسنے والے غیرمسلموں، خواتین اور غریبوں کو مساوی حقوق میسرہوں۔میں کسی سے لڑائی جھگڑانہیں چاہتا،قتل وغارتگری اورتشدد سے نفرت کرتاہوں، دہشت گردوں سے نفرت کرتا ہوں اورچاہتا ہوں کہ پاکستان میں ایسا معاشرہ تشکیل پائے جہاں ہرطبقہ، ہرقومیت ، ثقافت، مذہب اور جنس سے تعلق رکھنے والے پیارومحبت سے رہیں اور ایک دوسرے کی مددکریں۔ میں ایسے معاشرے کا قیام چاہتا ہوں جہاں صرف پیارہو اور جہاں نفرت کیلئے کوئی جگہ نہ ملے ، یہی میرامشن ،مقصد اورجدوجہد ہے لیکن جاگیردار، وڈیرے اور مراعات یافتہ طبقہ مجھے پسند نہیں کرتا۔ جناب الطاف حسین نے بزرگوں خصوصاً ماؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے متعصبانہ اور ظالمانہ سلوک کی تاریخ سے نوجوان نسل کو آگاہ کریں تاکہ ان کے معصوم ذہنوں کو کوئی پراگندہ نہ کرسکے ۔ جناب الطاف حسین نے حق وصداقت اور جراتمندانہ مؤقف اختیارکرنے پر صوبہ پنجاب کے سابق گورنر چوہدری محمد سرور کو زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف اوروزیرداخلہ چوہدری نثارکراچی آخرکس لئے آرہے ہیں، انہوں نے اعلان کیا تھاکہ کراچی آپریشن کی مانیٹرنگ کیلئے کمیٹی بنے گی اورجوبھی گرفتارہوگاوہ عدالت میں پیش کیاجائے گالیکن ایسانہیں ہوااور آپریشن کے نام پر زیادتیاں ہورہی ہیں۔ ہم اپنے شہیدکارکنوں کی میتیں لے کرفریادکرنے وزیراعلیٰ ہاؤس گئے لیکن شہیدوں کے لواحقین کی فریاد سننے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اسمبلی میں کہا کہ سی ایم ہاؤس پر دھرنانہیں حملہ کیاگیا۔ہمارے کارکنوں کوماراجارہا ہے، گرفتارکرکے لاپتہ کیاجارہاہے، عدالتوں میں پٹیشنز لگائی جاتی ہیں تووہاں سنوائی نہیں ہوتی۔آخرہم کیاکریں؟جناب الطاف حسین نے اعلان کیاکہ آئندہ ایم کیوایم کاایک بھی کارکن شہیدہواتو اگلے روز احتجاجاً پیہ جام کیاجائے گا ۔ جو لوگ آج ظلم کررہے ہیں وہ یہ یاد رکھیں کہ وہ آج دوسروں پرظلم کررہے ہیں تو قدرت کے مکافات عمل کے تحت کل یہ سب ان کے سامنے آئے گا۔ آج اکثر ٹی وی ٹاک شوزمیں بعض شرکاء کہتے ہیں کہ 19جون 1992ء کے آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسران ایک ایک کرکے ماردیئے گئے لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ ہرپولیس افسران نے 100، 100 معصوم وبے گناہ افرادکوماورائے عدالت قتل کیاتھا۔انہوں نے کہاکہ بخداان پولیس افسران کوہم نے نہیں مارا لیکن برے لوگوں کاانجام براہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ میں بدلہ لینے کادرس نہیں دیتالیکن جو لوگ آج بے گناہ نوجوانوں کوگرفتارکرکے دوران حراست وحشیانہ تشددکرکے ان کاماورائے عدالت قتل کررہے ہیں وہ اس بات کو سمجھیں کہ اپنے پیاروں کے بہیمانہ قتل پر کسی کابھی متھاگھوم سکتاہے اور اگرکسی شہیدکے بیٹے یابھائی کامتھاگھوم گیا اورکسی نے اس کابدلہ لینے کی قسم کھائی تواس کاذمہ دارکون ہوگا؟آخرہم کس کس شہیدکے بھائی یابیٹے کاہاتھ روکیں گے؟ اگر ایسا ہوا تویہ بدلہ یاردعمل نہیں بلکہ سائیکوری ایکشنری ایکشن کہلاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ جوقوتیں بھی ایم کیوایم کے کارکنوں کاماورائے عدالت قتل کروارہی ہیں وہ یہ ماورائے عدالت قتل بندکردیں اورایساکرکے اللہ کے قہرکودعوت نہ دیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کانظام درست کرنے کیلئے کوئی مصطفےٰ کمال اتاترک بھیج دے،اگر کوئی اسے بغاوت کہتاہے توکہتارہے۔ایسی بغاوت جوکسی کے سر سے چادراتارنے کیلئے نہیں بلکہ سرپرچادرڈالنے کیلئے ہومیں ایسی بغاوت کوچومتاہوں کیونکہ میں خودباغی ہوں،میں باغی ہوں اس کرپٹ نظام کا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ملک بچاناہے تو ایک اتاترک چاہیے جوملک کے تمام سول اورعسکری اداروں میں چھانٹی کرے اوربے گناہ شہریوں کوتکلیف پہنچانے والوں سے نمٹے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے غریب سندھیوں کی حالت دیکھ کربہت دکھ ہوتاہے۔ غریب سندھی الطاف حسین کے ساتھ آجائیں کیونکہ پیپلزپارٹی نے غریب سندھیوں کونہ کبھی کچھ دیاہے اورنہ ہی دے گی۔یہی پیغام غریب پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں اوردیگرقومیتوں کے غریب عوام کیلئے بھی ہے کہ وہ اپنی قسمت بدلنے کیلئے ایم کیوایم جیسی جماعت میں آجائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کچھ تاجروصنعتکار جن میں سراج قاسم تیلی، میاں زاہدحسین، ایس ایم منیراوربعض صنعتکاروں کے نام غلط فہمی کی بناء پر لئے گئے، یہ لوگ اگرچہ ایم کیوایم کے کارکن نہیں لیکن یہ ایم کیوایم کے دشمن نہیں ہیں اورہم ان کے خلاف نہیں ہیں ۔انہوں نے پیمراسے مطالبہ کیاکہ بعض ٹی وی چینلزکے لائسنس کے معاملے میں زیادتی بند کی جائے۔اخبارات کے مالکان صحافیوں کے ویج ایوارڈ پر عمل کریں۔ 
  

12/7/2016 10:22:54 AM