Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

''بااختیار عوام'' ایم کیو ایم کا انتخابی منشور برائے 2013ء


''بااختیار عوام'' ایم کیو ایم کا انتخابی منشور برائے 2013ء
 Posted on: 4/1/2013 1
''بااختیار عوام''
انتخابی منشور برائے 2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ


ایم کیو ایم کا انتخابی منشور برائے 2013ء 

پیش لفظ:

ایم کیو ایم پاکستان کی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کے اٹھانوے فیصد متوسط اور غریب عوام کی نمائندگی کرتی ہے جو اس وقت کچلے ہوئے اور محروم ہیں اور دو فیصد حکمراں طبقے کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں۔ 
ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست میں انقلاب لے کر آئی ہے اور اس کے منتخب نمائندے اور ذمہ داران ، جن کو عام پارٹی ممبران / کارکنان اور عوام اہلیت کی بنیاد پر ان کے حلقوں سے منتخب کرتے ہیں ، نہ کہ کسی جاگیردارخاندان میں پیدا ہونے کی بنیاد پر یا پھر سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے کے سہارے۔ 
پاکستان میں مروّجہ جاگیردارانہ نظام ملک کی ترقی اور یہاں کے عوام کی خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اس فرسودہ نظام کی وجہ سے حقیقی جمہوریت ملک میں نہ پنپ سکی اور ملک کے عوام اپنے حقوق بشمول معاشرتی انصاف، یکساں مواقع، قانون کی حکمرانی اور ریاست کے معاملات میں حقیقی شمولیت کو حاصل نہ کرسکے۔ 
ایم کیوایم اس فرسودہ نظام کو ختم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے اور شراکتی جمہوریت، اہلیت کی بنیاد پر بیوروکریسی اور آزاد عدلیہ کا نظام متعارف کرانا چاہتی ہے جہاں ریاست عوام کے معاشرتی اور معاشی فلاح و بہبودکو فروغ دے تاکہ ملک میں ایک حقیقی جمہوری، روشن خیال (ترقی پسند) اور برابری پر مبنی معاشرے کا قیام عمل میں آسکے جہاں تمام شہری یکساں حقوق کے حامل ہوں اور ان سے ذات، رنگ، نسل، زبان، علاقائیت ، جنس ،عقیدے یا مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق روا نہ رکھی جائے۔ 
ایم کیو ایم حقیقت پسندی اور عملیت پسندی پر یقین رکھتی ہے جیسا کہ بانی وقائد تحریک الطاف حسین نے بتایا ہے۔ ایم کیوایم ہر قسم کی دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف ہے اور اتحاد بین المسلمین اور اتفاق بین المذاہب کے لیے کوشاں ہے۔ 
ایم کیو ایم کے اہم مقاصد میں سیاسی اجارہ داری اورجاگیردارانہ نظام کا خاتمہ، کثیر النسل ثقافت کا فروغ، اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی ،مکمل صوبائی خودمختاری کا حصول اور مکمل طور پر نچلی سطح پر پھیلا ہوا مقامی حکومت کا نظام ہے۔ ایم کیو ایم عام عوام کی اقتدار میں شراکت پر یقین رکھتی ہے تاکہ معاشی اور معاشرتی طور پر کچلے ہوئے عوام کو موقع دیاجائے اور ’’اختیار سب کے لیے ‘‘ ہو، تاکہ آج اور کل کے لیے ایک بہتر اور محفوظ زندگی کا حصول ممکن بنایاجائے۔ 
ایم کیو ایم امید کرتی ہے کہ پاکستان کے عوام ایم کیو ایم کی ان اہم مقاصد کے حصول میں مدد کریں گے۔ 


1۔تعلیم:

تعلیم تمام تکنیکی اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے اور ٹیکنالوجی معاشی ترقی کی کلید ہے۔ یہ بے روزگاری کے خلاف ڈھال ہے، معاشرتی مساوات، شعور، برداشت، عزت نفس مہیا کرتی ہے اور خصوصاً ثقافتی اور کثیر اللسان تنوع کے خلاف ڈھال ہے۔ دیگر معاشرتی شعبوں کی طرح تعلیم بھی بہت سے مسائل سے گھری ہوئی ہے۔ 
ایم کیو ایم تعلیم کے فروغ کے لیے درج ذیل نکات تجویز کرتی ہے :
تعلیم کے اخراجات بتدریج کل قومی پیداوار (GDP)کے 2.2 فیصد سے 5% فیصد تک لائے جائیں، جبکہ صوبوں کے لیے ان کے مالیاتی بجٹ کا 20فیصد تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کیاجائے۔ 
ii۔ موجودہ دہرا تعلیمی نظام ختم ہونا چاہئے ، اس کے لیے نجی تعلیمی اداروں کو نیچے نہ لایاجائے بلکہ اردو میڈیم سرکاری تعلیمی اداروں کو گرامر اور انگلش میڈیم اداروں کی سطح پر لایاجائے۔ 
iii۔ سرکاری تعلیمی اداروں اور اردو میڈیم اسکولوں کے نصاب کی تیزی سے نظر ثانی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ تمام تعلیمی اداروں کا نصاب یکساں ہوسکے۔ 
iv۔ مدارس (دینی درس گاہوں) کو وہ مراعات دی جائیں کہ ان اداروں کو قومی سطح پر تعلیمی اداروں کی صف میں لایاجاسکے۔ 
بچے جن کی عمریں 5سے 16 سال کے درمیان ہیں، ان کو حکومت ، عام معاشرہ اور خاص طور پر غیر حکومتی تنظیموں(NGOs ) کی طرف سے بڑے پیمانے پر رجسٹر کیاجائے ۔ کیونکہ سندھ اسمبلی نے ایم کیو ایم کی ایماء پر ایک بل آئین کی دفعہ 25-Aکے تحت نافذکیا ہے ، لہٰذا یہی وقت ہے کہ تمام صوبے اس کی تقلید کریں اور تعلیم کو اس عمر کے بچوں کے لیے لازمی اور مفت قرار دینے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ 
vi۔ صوبے اسکول جانے والے بچوں کو مفت کتابیں، وردیاں اور سفری سہولیات فراہم کریں۔ 
vii۔ بنیادی کارکردگی کی علامات(Key Performance Indicators (KPI) کے ذریعے ایک تجزیاتی نظام متعارف کروایاجائے جسے کمیونٹی مینجمنٹ بورڈز تعلقہ /تحصیل اور ضلعی سطح پر نگرانی کریں تاکہ شرح خواندگی اور معیاری تعلیم میں اضافہ ہو تاکہ طلبہ کے اسکول چھوڑنے کی شرح کم سے کم کی جائے اور طلبہ کو کوئی جسمانی سزا نہ دی جائے۔ 
viii۔ ہر صوبے کو اسکول کی عمارات کی تعمیر نو، پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، بیت الخلاء، دیواریں(باؤنڈری والز) اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ 
ix۔ ’’ایک اسکول گود لو‘‘ کے منصوبے کی حقیقی معنوں میں حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ مفت تعلیم کے فروغ میں مخیر حضرات ایک اہم کردار ادا کرسکیں۔ 
’’سیکھنے کے لیے آئیے اور جا کر کمائیے‘‘ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خصوصاً فنی تربیت کے (ووکیشنل)اسکولوں میں اختیار کیاجائے۔ 
xi۔ پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے اساتذہ کے لیے وسیع تربیتی اور عملی (ریفریشر)کورسز کا اہتمام کیاجائے۔ 
xii۔ امتحانی نظام کو زیادہ شفاف اور کارگر بنایاجائے۔ 
xiii۔ ان ذہین طلبہ کو ملک میں اور بیرون ملک وظائف اور امداد دی جائے جو بہترین نتائج لاتے ہیں ، خاص طور پر وہ طلبہ جو مالی طور پر مستحق ہوں۔ 
xiv۔ پیشہ ورانہ فنون مثلاً میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز، کو سرکاری امداد دی جائے تاکہ ان غریب طلبہ کا بوجھ کم کیا جائے جو زیادہ فیس کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے۔ 
xv۔ منتخب طلبہ یونینوں کو دوبارہ متعارف کروایاجائے اور ان کو مضبوط کیاجائے۔ 
xvi۔ عوامی لائبریریوں کا ایک نیٹ ورک وضع کیاجائے جس میں ڈیجیٹل لائبریریاں بھی شامل ہوں۔ 
ایم کیو ایم تمام درج بالا اقدامات اٹھانے کے لیے پر عزم ہے تاکہ تعلیم کے ہنگامی نوعیت کے مسائل سے نبرد آزما ہوا جاسکے۔ سب کے ساتھ اتفاق رائے سے ایم کیو ایم قانونی سازی کے لیے کام کرے گی تاکہ اضافی مالی ذرائع، اندراج (داخلوں)کی ترغیب، نصاب میں اصلاح اور سب سے اہم بات یہ کہ قومی اور بین الاقوامی تنظیموں اور بین الاقوامی مہارت حاصل کی جائے تاکہ ایک بین الاقوامی معیار کے نظام تعلیم کے ذریعے ہماری قوم کی ترقی میں فنڈز کا استعمال ہو۔ 


صحت:
ایم کیو ایم یقین رکھتی ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کے معیاری نظام تک رسائی پر ہر پاکستانی کا حق ہے چاہے اس کی آمدنی کا معیار یا اس کی معاشرتی حیثیت کچھ بھی ہو ۔ ایم کیو ایم بنیادی اور احتیاطی نظام صحت پر زور دیتی ہے ، نہ کہ ثانوی دیکھ بھال پر جو کہ پاکستان کی صحت کے حوالے سے پالیسی کا گزشتہ 65 برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ 
ایم کیو ایم عوام کی صحت کے پسماندہ معیار اور اس کو متاثر کرنے والے اسباب کو سمجھتی ہے ، مثال کے طور پر زیادہ آبادی، زچہ و بچہ کی زائد شرح اموات، طرز حکمرانی کے مسائل او ر صحت کے شعبے کی بے قاعدگی سمیت دیگر بڑے مسائل جو قوم کی پسماندہ صحت کا سبب ہیں۔ 
’’صحت سب کے لیے‘‘ کے نعرے کو حقیقت بنانے کے لیے ایم کیو ایم مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کرتی ہے:
ایک سہ نکاتی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے:
* اس امر کو ممکن بنانے کے لیے کہ وفاق صحت کے شعبے میں باقاعدگی لانے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرے اور نہ صرف صحت سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں سے مدد لے بلکہ ان کے تجویز کردہ اقدامات پر عمل بھی کرے۔ 
* اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ان کی صحت سے متعلقہ حکمت عملی اور منصوبے بنانے کے لیے اختیارات کی منتقلی کو جاری رکھاجائے تاکہ وہ صحت کے شعبے میں صوبائی سطح پر بہتری لا سکیں۔ 
* مقامی حکومتوں کا کردار علاقائی سطح پر طبی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے اور موثر عمل درآمد کے لیے بحال کیاجائے۔ 
ایم کیو ایم مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کرتی ہے تاکہ قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کو ساتھ ملا کر ایک عمدہ حکمت عملی ترتیب دی جائے :
بہبود آبادی کی حکمت عملی کو ہدف بنایاجائے کیونکہ یہ اہم مسئلہ ہے جسے وہ توجہ نہیں دی جارہی ، جس کا یہ مستحق ہے۔ 
ii۔ بنیادی صحت سے متعلقہ مسائل پر توجہ دی جائے جس میں ماحولیاتی مسائل اور عوامی صحت، خصوصاً فراہمی و نکاسی آب اور EPI(حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام) پر وسیع پیمانے پر عمل درآمد شامل ہے۔ ایم کیو ایم کا یہ عزم ہے کہ ایک ملک گیر مؤثر انسدادِ پولیو مہم کے ذریعے ملک سے پولیو کو ختم کردیاجائے گاجس میں عوام کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ 
iii۔ صحت پر سرکاری اخراجات کو اگلے پانچ سال میں کل قومی پیداوار (GDP )کے 0.6فیصد سے بڑھا کر 5فیصد تک لایاجائے۔ خزانے کے مؤثر اور درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایم کیو ایم یہ تجویز کرتی ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر بھی صحت سے متعلق جو فنڈز مختص کئے جاتے ہیں، اس میں اضافہ کیاجائے۔ فنڈز کے استعمال اور فنڈ ز کی منتقلی میں مشکلات کو دور کیاجائے تاکہ مقصد کا حصول ممکن ہو۔ 
iv۔ پورے ملک میں تحصیل، ضلع اور گاؤں /دیہات کی سطح پر اسپتالوں کا قیام عمل میں لایاجائے ، توسیع کی جائے اور جدید آلات سے آراستہ کیاجائے۔ 
نرسوں، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز، دائیوں (مڈ وائفز)اور دیگر پیرامیڈیکل اسٹاف کی تربیت کے لیے تربیتی اداروں کا قیام ہر ضلع میں عمل میں لایاجائے۔ ایک تربیت یافتہ انتظامی ڈھانچہ صحت کے شعبے میں ہو تاکہ صحت سے متعلق انتظامات ہر ضلع اور صوبے کی سطح پر بہتر ہو سکیں۔ 
vi۔ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے کام کو دوسری جگہ منتقل کرنا(ٹاسک شفٹنگ)، ریفرل لنکس اور اعلیٰ سطح پر بہتر شدہ معلوماتی نظام (انفارمیشن سسٹم) بنایاجائے تاکہ معالجین کی کمی کو دور کیاجاسکے۔ 
vii۔ کم قیمت اور رعایتی صحت کی انشورنس اسکیمیں حکومت تمام عوام کے لیے متعارف کروائے۔ صحت کے شعبے میں زکوٰۃ فنڈ کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایاجائے۔ 
viii۔ تمام ملازمین کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ملازم اشتراک پر مبنی اسکیمیں شروع کرنے کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ شفاف نظام کی تعمیر کے لیے نجی شعبے کی استعدادِ کار کو بڑھایاجائے تاکہ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے شعبہ مزید وسیع ہوجائے۔ حفاظتی دیکھ بھال کے لیے بنیادی صحت کے مراکز (BHU) کی سطح تک نجی شعبے کی شمولیت درکار ہے تاکہ اس کی معاشرے تک پہنچنے کی صلاحیت کو مزید طاقتور بنایاجاسکے۔
ix۔ ادویات کیلئے خام مال کو درآمد کرنے کی حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ انہیں مقامی طور پر بنایاجاسکے اور ان کی قیمت کم کی جائے تاکہ ادویات عوام کی قوت خرید میں آسکیں۔ 
اعضاء کی منتقلی (Transplantation) کے لیے اعضاء کی خرید و فروخت ختم کرنے کے لیے قانون پر مؤثر طریقے سے عمل کیاجائے۔ 
xi۔ معذور افراد جن مسائل کا سامنا کرتے ہیں، ان سے متعلق سہولیات اور آگہی مہیا کی جائیتاکہ انہیں صحت سے متعلق سہولیات اور بہتر معیارِ زندگی تک آسانی سے رسائی حاصل ہوسکے۔ 
xii۔ خدمات کا ایک ڈھانچہ ترتیب دیاجائے جو طبی اور پیرا میڈکس کے لیے اتنا پر کشش ہو کہ وہ ملک میں رہیں اور ملک کی خدمت کریں۔ سرکاری اداروں میں نجی خدمات کے لیے مراعات دی جائیں تاکہ یہ خدمات مؤثر وشفاف ہوں اور عوام کی قوتِ خرید میں ہوں۔ 
xiii۔ ایک خودمختار اور شفاف ’’ہیلتھ سروسز ریفارم کمیشن‘‘ بنایاجائے جو مختلف قسم کے ساجھے داروں سے بات کرے اور انہیں مشورے دے جو تحقیق کرے، تحقیق کے لیے ایک کلیرنگ ہاؤس بنائے، خدمات کے معیار ات وضع کرے اور قیمت کے لحاظ سے اور دیگر اعتبار سے صحت کے مسائل کے اچھے حل پیش کرے۔ 
xiv۔ انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) کے درمیان تضادات کو عملی اقدامات کے ذریعے ہدف بنایاجائے جو عموماً درست مراعات کے ذریعے قابل حل ہیں اور جن کے ذریعے شعبے کے لیے آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس میں پیرا میڈکس کی تربیت شامل ہے جس سے پیرا میڈکس اور ڈاکٹرز کا تناسب بہتر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ فارماسسٹس کی تربیت اور پہلے سے موجود اسکولز کے دیگر متعلقہ ڈھانچوں کو توسیع دے کر ان کا معیار بلند بنایاجاسکتا ہے۔ 
xv۔ ہنگامی صورتحال کے لیے متوازی منصوبہ بندی اور عمل کرنا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کو بحال کیاجائے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (PDMAs) کو اس مقصد کے لیے مستحکم بنایاجائے کہ وہ زیادہ شفاف ہوں۔ 


معیشت:
ملک کی خوشحالی کا انحصار خودمختار اور آزاد معاشی حکمت عملی پر ہوتا ہے۔ معیشت کی غیر مستحکم صورتحال ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ایم کیو ایم کی معاشی بصیرت کے انتہائی اہم مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ مندرجہ ذیل امورکے لیے مستحکم لائحہ عمل فراہم کرے : 
* عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بہتر کرنے کے لیے غربت کا خاتمہ، اشیائے صرف کی قیمت کو ایک مقررہ مدت میں کم کرنا جس میں سرکاری اور نجی سفری ذرائع، تیل ، پیٹرول اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ 
* کاروبار کی لاگت کم کرنا، برآمدت کے معیار کو بہتر کرنا۔ 
* توانائی کے بحران پر قابو پانا اور جاری قرضوں (Circular Debt)کو ختم کرنا۔ 
* صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے مراعات دینا۔ 
* روزگار کے امکانات کو بہتر بنانا اور 
* خوراک وتوانائی کے لیے خصوصی امدا د فراہم کرنا۔ 
* مالی و مالیاتی(Fiscal & Monetary) حکمت عملی وضع کرنا جو ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہوں۔ 
ایم کیوایم تجویز کرتی ہے کہ:
وفاقی حکومت کے اخراجات میں قناعت اور اختیارات کی منتقلی کو مدنظر رکھتے ہوئے بشمول غیر ترقیاتی اخراجات کم کیے جائیں۔ 
ii۔ بغیر ٹیکسیشن کے کوئی نمائندگی نہ ہو۔ 
iii۔ ایم کیو ایم تجویز کرتی ہے کہ زراعت کی آمدنی پر ضروری آئینی ترامیم کے ذریعے ٹیکس عائد کیاجائے۔ 
iv۔ عوام کو بالواسطہ ٹیکس اور دیگر محصولات میں کمی کرکے فائدہ پہنچایاجائے۔ 
غیر ضروری سامان کی درآمد تیزی سے کم کی جائے۔ 
vi۔ سرکاری شعبے کی کمپنیوں مثلاً PIA، پاکستان اسٹیل، پاکستان ریلویز، PEPCO وغیرہ کی انتظام کاری بہتر کی جائے ، انہیں تباہی سے بچایاجائے اور نجی شعبے کو سرکاری ونجی شراکتی ماڈلز میں ایک کردار دیاجائے ۔ 
vii۔ تمام ناپسندیدہ /غیر ادا شدہ قرض جو گزشتہ 65برسوں میں دئیے گئے ، اور کبھی پوری طرح یا جزوی طور پر واپس نہ کیے گئے، ان کی واپسی کا مطالبہ اور دعویٰ کیا جائے اور اس کے لیے قرض نادہندگان کو ملنے والے تمام قومی اور بین الاقوامی سطح پر تحفظ (جو انہوں نے سیاسی طور پر حاصل کر رکھا ہے)کو نظر انداز کیاجائے۔ 
viii۔ پاکستان کی تیز اور مستحکم معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کے کردار کو بڑھایاجائے۔ مثال کے طور پر آئی ٹی پارکس سمیت سرکاری و نجی شراکتی ماڈلز ، صنعتی زونز، ٹیکنالوجی سٹیز، کم قیمت رہائشی منصوبے وغیرہ۔ 
ix۔ افغانستان کے راستے ہونے والی تجارت کے غلط استعمال کا تدارک کیاجائے تاکہ اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حمل کو روکا جائے۔ 
سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے انسانی وسائل اور معاشرتی شعبے کو ترقی دی جائے۔ 
xi۔ لوٹی ہوئی اور چوری کی گئی قومی دولت جو اربوں امریکی ڈالرز پر مشتمل ہے اور پاکستان سے باہر چلی گئی، اسے واپس لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ 
xii۔ شہری مراکز (Urban Centres) میں بھی منظم مائیکرو فنانس سیکٹربشمول زیادہ سرمایہ کاری ، کو آپریٹو فارمنگ، زرعی اصلاحات، چھوٹے پیمانے کی کمپنیوں (Enterprises)، SMEs، مزدوروں اور ترقی پذیر صنعتوں وغیرہ کو ترقی دی جائے۔ 


بہتر طرزِ حکمرانی:
پاکستان کے معرضِ وجود میں آتے ہی حکومت کا نظام بہت زیادہ بیورو کریٹک رہا اور عام شہریوں کو ان کے بنیادی جمہوری حقوق سے مسلسل محروم رکھا گیا۔ 
اعتماد کا ایک بہت بڑا خلاء رہا جس پر کسی سوال کی ضرورت نہیں جس کا رد عمل ایم کیو ایم نپے تلے اور مدلل انداز میں پیش کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم، اس لیے یہ تجویز پیش کرتی ہے کہ معاملات میں لاقانونیت (انارکی) کا نہ صرف خاتمہ کیاجائے بلکہ قانون کی حکمرانی بھی قائم ہو جس میں کسی کو نقصان پہنچائے بغیر درج ذیل نکات پر عمل درآمد کیاجائے:
اہلیت(میرٹ) کے اصول پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ 
ii۔ ٹھیکوں، کام دینے اور بھرتیوں سمیت تمام سرکاری امور میں شفافیت اور اہلیت کا خیال رکھا جائے۔ 
iii۔ تمام خفیہ فنڈز جو صدر ، وزیر اعظم، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور سفیروں کے پاس ہیں، ان کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ذریعے آڈٹ کیاجائے۔ 
iv۔ تمام شہریوں کی املاک اور زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر سختی سے عمل کو یقینی بنایاجائے اور اس ضمن میں ذات، نسل، رنگ، مذہب، مسلک، جنس ، سیاسی وابستگی یا عقائد کو مدنظر نہ رکھا جائے تاکہ کوئی بے گناہ شخص بلا وجہ ظلم کا نشانہ نہ بن سکے اور ہر مظلو م کو انصاف مل سکے۔ 
ایماندار اور مخلص سرکاری افسران اور عوامی نمائندوں کا تقرر وفاقی اور صوبائی محتسب اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفیسر، انسدادِ بد عنوانی ، پبلک اکاؤنٹ کمیٹیز، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کی مانیٹرنگ کمیٹیوں کے تحت عمل میں لایاجائے تاکہ ان اداروں کو زیادہ مستعد اور مؤثر بنایاجاسکے۔ 
vi۔ پولیس کو شہری اور ضلعی حکومت کے زیر انتظام لایاجائے۔ 
vii۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مسلسل بااختیار بنایاجائے تاکہ اسے مکمل طور پر خودمختاری حاصل ہوجائے، اور یہ غیرجانبدار ادارہ بن سکے تاکہ اس کے ذریعے آزاد اور صاف و شفاف انتخابات ہوسکیں چاہے وہ عام انتخابات ہوں یا مقامی حکومتوں کے انتخابات۔ 

4.1
بد عنوانی:
بد عنوانی پاکستان کی بد ترین دشمن ہے ۔ بد عنوانی کے تدارک کے لیے تجویز ہے کہ:
صوبائی تنظیم کو قومی احتساب بیورو (NAB)کی طرز پر صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں بنایاجائے ۔ دونوں وفاقی اور صوبائی بیوروز کو خودمختاری دی جائے اور انہیں پبلک سروس کمیشنز کی طرز پر اہداف دئیے جائیں۔ 
ii۔ ایسی تمام جائیدادوں پر دعویٰ دائر کیا جائے جو بد عنوانی کے جرم اور قومی خزانے کو لوٹ کر بنائی گئی ہوں اور ان پر اسکول، کالج اور اسپتال وغیرہ تعمیر کیے جائیں۔ 
iii۔ عوامی قوانین برائے وصولی (غصب کی گئی دولت کے قوانین) پر ان کی روح اور متن کے مطابق عمل کیا جائے اور ان سے کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ٹھیکے دینے میں بد عنوانی ، جس سے کروڑوں اور اربوں کا نقصان ہوا، کے خاتمے سے کسی کو چھوٹ نہ دی جائے۔ 
iv۔ مختلف قوانین کے تحت حاصل شدہ صوابدیدی اختیارات کو واپس لیا جائے ، مثلاً قیمتی سرکاری اراضی کو اونے پونے داموں بیچنا، اہلیت (میرٹ) کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بے شمار ملازمتیں بانٹنا، پبلک سروس کمیشن کے دائرۂ اختیار سے ملازمتیں واپس لینا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد نہ کرنا، بد عنوان عناصر سے مول تول کرنا اور نام نہاد ناپسندیدہ قرضے (Bad Debts) معاف کر دینا جس سے نادہندگان کو غیر قانونی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ 


دہشت گردی:
دہشت گردی پاکستان کو درپیش خطرات میں سرفہرست ہے۔ دہشت گردی کے جرائم میں ہزاروں شہریوں ، فوجی جوانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانیں جا چکیں اور اربوں روپے کی املاک تباہ ہو گئیں۔ دہشت گردی کے عوامل اب اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ معاشرے کا ایک قابل قدر طبقہ یہ یقین کرنے لگ گیا ہے کہ پورا ملک داؤ پر لگا ہوا ہے۔ دہشت گردی سے جنگ کے لیے ایم کیو ایم کی تجاویز مندرجہ ذیل ہیں:
ایک قومی دہشت گرد مخالف پالیسی فوری ترتیب دی جائے جس میں منتخب نمائندوں، پولیس، بیوروکریسی اور مسلح افواج کی مشترکہ قیادت سے رائے لی جائے۔ 
ii۔ عدلیہ اور وکلاء (بینچ اور بار)کے نظام میں با معنی تبدیلیاں کی جائیں تاکہ لوگ جو قانون کے ساتھ کھیلتے ہیں، ان کو ان کے انجام تک پہنچایاجاسکے۔ 
iii۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کوسیاسی نظام کے چنگل سے نجات دلا کر خودمختار بنایاجائے۔
iv۔ دہشت گردی کے بنیادی اسباب ، جن میں غربت، مذہبی انتہا پسندی، غیر منصفانہ پالیسیاں شامل ہیں، ترتیب دی جائیں گی تا کہ، غربت کا انسداد کیا جائے اور تعلیم کو فروغ دیاجائے۔ 
اسلحے سے پاک پاکستان :
ایم کیو ایم ’’اسلحے سے پاک پاکستان کا بل 2011ء‘‘ ترتیب دے چکی ہے اور اسے قومی اسمبلی کے سامنے 16جنوری 2011ء کوپیش کیا گیا۔ اسے ضروری گفت و شنید ، بحث و مباحثے اور (اگر ضروری ہو تو)ترامیم کے بعد نافذ کیاجائے۔ اس بل کے مقاصد کے حصول کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ پاکستان کو اسلحے سے پاک کیاجائے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ اسلحے کی پیداوار، تجارت، غیر قانونی نقل وحمل، درآمد کو روکا جائے۔ اسلحے ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کو روکنا بھی ضروری ہے اور ایسا مرحلہ وارحکمت عملی کے تحت ہوگا۔ 
مجوزہ بل پر عمل درآمد پورے ملک میں بغیر وقت ضائع کیے پارلیمنٹ کے ذریعے ایک ہی وقت میں اختیار اور نافذ کیاجائے۔ 
vi۔ عوامی شعور کی مہم شہریوں اور مذہبی علماء کے تعاون سے شروع کی جائے جس کا مقصد ملک سے شدت پسندی، نفرت اور مذہبی انتہا پسندی کو ختم کرنا ہے۔ 

5.1
امن و امان:
امن و امان کا قیام ایم کیو ایم کی اولین ترجیح ہے۔ شہریوں کی زندگی، املاک اور عزت نفس کی حفاظت ریاست اور حکومت وقت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ 
ایم کیو ایم پاکستان کے عوام کی مؤثر شمولیت سے ایک بہتر حفاظتی ماحول مہیا کرکے ملک کو لاقانونیت اور انارکی سے نکالنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کرتی ہے:
پولیس کی خدمات کو از سر نومربوط کیاجائے اور اسے عوامی خدمت پر مبنی بنایاجائے۔ 
ii۔ بحال شدہ سندھ پولیس ایکٹ 1961ء میں ترامیم ضروری ہیں تاکہ ضلعی پبلک سیفٹی کمیشن اور پولیس شکایتی کمیشن کے تصورات بھی اس میں شامل کیے جاسکیں۔
iii۔ ایک خوداعتماد پولیس کی خدمات کے فروغ کے لیے جامع پالیسی بنائی جائے تاکہ ایک قانون نافذ کرنے والا عوام دوست ادارہ تشکیل دیاجاسکے۔ 
iv۔ شہریوں کو اخلاقی حوصلہ فراہم کیا جائے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ’’کمیونٹی پولیسنگ‘‘ کو متعارف کروایاجائے جو مقامی حکومت کے تحت کام کرے۔ کمیونٹی پولیس ہمسایوں کو’’ہمسایہ نگرانی اور حفاظتی نظام‘‘ (Watch & Ward System) کے ذریعے منسلک کرے گی۔ 
بین اللسان، بین المسالک اور بین الجماتی معاشرتی کمیٹیاں پولیس اسٹیشن اور ٹاؤن کی سطح پر بنائی جائیں تاکہ متعلقہ مسائل پر بحث کرکے ان کو حل کیا جائے اور امن وامان کی صورتحال کو بہتر کرکے شہریوں کے درمیان ہم آہنگی اور امن کو فروغ دیاجائے۔ 

غربت اور بے روزگاری کا انسداد:
ہماری آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتاہے۔ غربت کی بڑی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ انسانی وسائل کو ترقی نہیں دی گئی۔ دیہی علاقوں میں کم زرعی پیداوار کی وجہ پسماندہ /غیر مناسب طریقے سے وسائل کا استعمال ہے ، جبکہ شہری علاقوں میں اس کی وجہ آہستہ ترقی کرنے والے رسمی شعبوں اور نسبتاً تیزی سے ترقی کرنے والے غیر رسمی شعبوں میں اجرت کا فرق ہے ۔ غربت کسی جادو کی چھڑی سے دور ہونے والی نہیں بلکہ اس کے لیے ایک کثیر الجہتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
کچھ مجوزہ اقدامات مندرجہ ذیل ہیں:
ایک عمدہ قومی پالیسی وضع کی جائے جس میں مخصوص اہداف واضح کیے جائیں اور غربت ختم کرنے کے اقدامات تجویز کیے جائیں ۔ اس بات پر بھی توجہ دی جائے کہ کھیل کے میدانوں کو بھی حصول تعلیم ، صحت اور روزگار کے مواقع کا ذریعہ بنایاجائے۔ 
ii۔ تنخواہوں میں اضافے اور مہنگائی کے مابین فرق کو کم کیاجائے۔ سرکاری اور نجی شعبوں میں تنخواہوں میں اضافہ براہ راست مہنگائی سے ہم آہنگ ہو۔ 
iii۔ گندم، چاول، چینی اور تیل کی قیمتوں میں رعایت دینے یا ان کی قیمتوں کو مستحکم کرکے اشیائے خوردو نوش پر مہنگائی کو کنٹرول کیاجائے۔ 
iv۔ زراعت، بشمول زرعی صنعتوں، زرعی کاروبار اور مویشیوں کے کاروبار پر عوامی سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔ دیہی علاقوں میں کو آپریٹو فارمنگ، کو آپریٹو مارکیٹنگ اورشہروں میں رہائشی منصوبوں اور تعمیرات پر زیادہ مراعات دی جائیں۔ 
کم آمدنی رکھنے والے اور غریب عوام پرعائد ٹیکس کم کیاجائے۔ 
vi۔ تمام بالغ آبادی کے لیے معاشرتی تحفظ کی اسکیمیں متعارف کروائی جائیں۔ 
vii۔ پورے ملک میں صنعتوں کے قیام ، کاٹیج انڈسٹریز ، ووکیشنل تعلیمی ادارے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی سے بے روزگاری کم کی جائے اور زراعت پر مبنی صنعتوں کے دیہی علاقوں میں قیام پر مراعات دی جائیں۔ 
viii۔ مزدوروں سے چلنے والی صنعتوں کے لیے زیادہ مراعات دی جائیں۔ 
ix۔ غربت کے خاتمے کے لیے تعلیم و تربیت کا فروغ ضروری ہے۔ 


صنعتیں اور مزدور:
پیداوار کے ساتھ ساتھ ہلکی اور بھاری صنعتوں پر بھی مساوی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک مستحکم اور قابل اعتماد صنعتی شعبے کا قیام عمل میں آسکے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ نجی شعبے سے اسٹیک ہولڈرز کو سہولیات مہیا کی جائیں کہ وہ صنعتی علاقے قائم کریں۔ 
ii۔ معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ایم کیو ایم کی تجویز ہے کہ کاٹیج انڈسٹری کے جال کو پورے ملک میں پھیلادیاجائے۔ خواتین کے انڈسٹریل ہومز کی تعداد بڑھانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ خواتین اپنا معیارِ زندگی بلند کریں اور اپنے خاندانوں کی مدد کرسکیں۔ 
iii۔ ایک سرکاری و نجی اشتراک پر مبنی نظام تشکیل دیاجائے جس کے تحت سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مخفی مواقع تک پہنچا جائے۔ 
iv۔ وَن ونڈو آپریشن کو متعارف کروا کر بہترین طریقے سے انجام دہی کو یقینی بنایاجائے تاکہ سرمایہ کاروں کی مشکلا ت کم ہوں اور صنعت کاری تیز تر ہو۔ 
صنعت پر مبنی معیشت تشکیل دی جائے جس میں اجرتوں کا نظام مناسب ہو، صحت کی سہولیات، انشورنس، بڑھاپے سے متعلق فوائد، معذوری، پنشن اور ایک گھر جو ملازمت کے اختتام (ریٹائرمنٹ )کے بعد ملے ، پایاجائے ،کم آمدنی والے سرکاری اور نجی ملازمین کے لیے ضروری ہے ۔
vi۔ آجر اور اجیر کے تعاون پر مبنی معائنہ کاری کے بورڈز صنعتی شعبوں میں بنائے جائیں تاکہ ملازمین کے لیے قابل احترام اجرت کا ڈھانچہ تشکیل دیا جاسکے اور پیداوار بغیر کسی مداخلت کے جاری رہے۔ 
vii۔ سرکاری اثاثوں کی نجکاری سے قبل ملازمین کی ٹریڈ یونینز کے ساتھ با معنی مشاورت کو یقینی بنایاجائے۔ 
viii۔ چھوٹی اور کاٹیج انڈسٹریز کو مراعات دی جائیں جس میں آسان قرضے اور زمینوں کی الاٹمنٹ شامل ہے، لیکن یہ اسی تک محدود نہیں۔ 
ix۔ صنعتی شعبوں میں مسلسل لوڈ شیڈنگ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ 
نجی شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اس طرح استعمال کرنے اور عمل میں لانے کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ یہ زرمبادلہ کمانے کا تیز ترین ذریعہ ثابت ہوسکے۔ 


توانائی:
توانائی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اس میں تجارت، صنعت، توانائی کی مختلف حالتیں اور تجارت شامل ہے، اس سے ملازمتیں پیدا ہوتی اور معاشی ترقی کے مواقع بڑھتے ہیں۔ پاکستان میں توانائی کا دونوں ہی طرح کا طویل المدت بحران ہے، چاہے وہ پانی سے متعلق ہو یا گیس سے پیدا ہونے والی بجلی /توانائی ہو جس کی وجہ سے ملک خاص طور پر گرمیوں کے مہینے میں بتدریج تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ سردیوں میں ملک کے شمال میں کچھ مخصوص حصوں میں گیس کی کمی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر توانائی کے بحران کی وجہ ایک متفقہ قومی پالیسی کا نہ ہونا ہے۔ توانائی کی طلب اور رسد میں تقریباً 6000 میگا واٹ کا وسیع خلا موجودہے۔ پاکستان کی اوسط روزانہ توانائی کی ضرورت 20 ہزار میگا واٹ ہے ۔ توانائی کے شعبے میں مسلسل مسائل کی وجہ یہ ہے کہ جاری قرضے اب تقریباً 384 بلین کو پہنچ چکے ہیں ۔ ایسا اس وجہ سے ہوا ہے کہ واجبات کی ادائیگی تاخیر سے کی جاتی ہے یا سرے سے نہیں کی جاتی (یہ ان لوگوں کی طرف سے ہے جو بجلی پیدا یا فراہم کرنے والے اداروں کے صارفین ہیں اور ان کمپنیوں کی طرف سے تیل دینے والی کمپنیوں کو اور ان کی طرف سے بین الاقوامی تیل کی کمپنیوں کوادائیگی تاخیر سے کی جاتی ہے یانہیں کی جاتی)۔ ایم کیو ایم اس لیے اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ وہ ایک جامع قومی منصوبہ بندی کو عمل میں لائے گی جو مقامی ماہرین کے مشورے سے بنے گی۔ 
ایم کیو ایم کے توانائی سے متعلق منصوبوں کے اہم خدوخال مندرجہ ذیل ہیں:
پیشہ ور افراد کو اہلیت کی بنیاد پر ان محکمو ں کے سربراہ کے طور پر تعینات کرکے توانائی، تیل اور گیس کے شعبوں کے انتظام کو جلد بہتر بنایاجائے۔ 
ii۔ مختلف صارفین کے درمیان قدرتی گیس کے استعمال کوترجیح دی جائے ، مثال کے طور پر بجلی کے پلانٹس کو کھاد کے پلانٹس پر ترجیح دی جائے تاکہ موجود بجلی کے پلانٹس اپنی گنجائش کے مطابق بجلی پیدا کرسکیں۔ 
iii۔ فوری طور پر کم قیمت اور زیادہ گیس اور بجلی کی فراہمی کے منصوبوں کی تکمیل ممکن بنائی جائے جن کا تعلق ایران، قطر اور مشرق وسطیٰ کی ریاستوں سے ہے۔ 
iv۔ مائع قدرتی گیس (LNG) کے پلانٹس اور درآمد شدہ گیس پروسیسنگ پلانٹس کو تیزی سے قائم کیاجائے ۔
سی این جی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور سی این جی کی قیمتوں کو پیٹرول اور گیس کی قیمتوں کے ساتھ بتدریج کم کیاجائے تاکہ سی این جی سیکٹر کو توسیع دی جاسکے۔ 
vi۔ تیل اور گیس دریافت کرنے کے لیے کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ نئے ایندھن کے ذرائع ترجیحی بنیادوں پر تلاش کیے جاسکیں۔ 
vii۔ تربیلا اور منگلا ڈیم کی جنگی بنیادوں پر توسیع و تعمیر نو کی جائے ۔ 
viii۔ تمام چھوٹے اور متوسط حجم کے آبی ذخائر کو جتنی جلدی ممکن ہوسکے، تعمیر کیاجائے۔ 
ix۔ تمام موجودہ گیس کے پاور پلانٹس کو بہتر کیاجائے تاکہ ان کی استعدادِ کار اور پیداوار کو بڑھایاجاسکے۔ 
ایم کیوایم انتہائی محنت سے متبادل ذرائع توانائی ، جیسا کہ ہوائی توانائی، شمسی توانائی اور گیس کی توانائی کو دریافت کرنا چاہتی ہے۔اس مقصد کے لیے وہ جدید ٹیکنالوجی کا مقامی مہارت کے ساتھ استعمال کرے گی۔ 


شراکت پر مبنی /نچلی سطح کی جمہوریت اور مقامی خودمختاری (اختیارات سب کے لیے):
پوری دنیا میں رائج جمہوریتیں ضروری طور پر ایسی نمائندگی /حکومت کی حامل ہیں جنہیں مقامی حکومتی نظام کہاجاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان کے پاس کبھی کسی شہری جمہوری نظام میں ایسا کوئی نچلی سطح کی جمہوریت کا نظام نہیں رہا۔
ایم کیو ایم کا پختہ یقین ہے کہ جمہوریت کو غیر مرکزی، فعال اور شمولیتی بنایاجائے۔ منتخب مقامی حکومتی نظام وضع کیاجائے اور مقامی حکومتی نظام کے انتخابات پاکستان میں عام انتخابات کے تین ماہ کے اندر اندر ہوں۔ 
ایم کیو ایم کے پاس ایک حل ہے جس کے تحت اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح پر منتقل کیاجائے گا اور مقامی حکومتوں کو مکمل خودمختاری دی جائے گی کیونکہ یہ بات ہم عصر دنیا میں اب عام ہو چکی ہے۔ جیسا آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-Aمیں درج ہے۔
"تمام صوبے مقامی حکومت کا ایسا نظام وضع کریں جس کے تحت سیاسی ،انتظامی اور مالی زمہ داریاں اوراختیارات صوبوں کو منتقل کئے جاسکیں"
ایم کیو ایم کا مقامی حکومت کا نمونہ پاکستان کے عوام کی خدمت مندرجہ ذیل طریقے سے کرے گا:
نچلی سطح پر منتقل شدہ حکومتی نظام شہری و دیہی اشتراک سے معاشرے کے کمزور طبقے کو وسیع تر نمائندگی فراہم کرے گا۔ مثلاًمزارعین، کسان، مزدور، خواتین اور غیر مسلم (اقلیتیں) اور مختلف النوع افراد میں یکجہتی پیدا کرے گا۔ 
ii۔ نظام کے اندر ایک ایسا پروگرام ہوگا جس میں اختیارات ، طاقت ،ذمہ داریوں اور وظائف کو مزید نچلی سطح تک لایاجائے گا جو کہ ضلعی سطح سے تعلقہ /تحصیل/ٹاؤن کی سطح پر اور پھر مزید یوسی اور وارڈ کی سطح تک ہوں گے۔ 
iii۔ ایم کیو ایم مقامی حکومت کو اس کے روایتی کردار یعنی شہری خدمات کے ساتھ ساتھ معاشرتی و معاشی اور انسانی وسائل کی ترقی ، سرمایہ کاری میں اضافے، بڑے تعمیری ڈھانچوں اور توانائی کی پیداوار اور ترقی کی ذمہ داریاں اور وظائف تفویض کرکے نشوونما کا پیدا کار بنانا چاہتی ہے۔ 
iv۔ ایم کیو ایم کی مجوزہ مقامی حکومت توانائی کے منصوبوں اور عوامی نقل و حمل کے پروگرام پر پاکستان کے اہم شہروں، مثلاً کراچی، لاہور، راولپنڈی ، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، پشاور اور کوئٹہ میں عمل درآمد کرے گی۔ 
ایم کیو ایم ترجیحی طور پر تمام اسکولوں اور کالجز جو کہ انٹرمیڈیٹ تک ہوں گے، ان کو صوبائی حکومت سے نکال کر مقامی حکومت کے نظام کے تحت لائے گی۔ ٹاؤن کی سطح کے اسپتال بھی ضلعی اور مقامی حکومتوں کے ماتحت ہوں گے۔ 
vi۔ ایم کیو ایم تجویز کرتی ہے کہ کہ کمیونٹی پولیسنگ کا مؤثر نظام تشکیل دیاجائے جس میں پڑوسیوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کا انتظام اس کی مقامی حکومت کے تحت شامل ہو تاکہ شہریوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ذریعے جرائم، تشدد اور دہشت گردی کی لعنت سے مؤثرجنگ کی جاسکے۔ 


10۔
شہری ترقی:
ایم کیوایم کا نقطہ نظر ہے کے وفاقی اور صوبائی حکومتیں صرف دیہی معشت پر توجہ دے کر غربت میں کمی نہیں کرسکتیں یہی وجہ ہے کے ایم کیو ایم کی توجہ ایسی پالیسیوں پر بھی ہے جو شہری ترقی کا باعث ہوں اس ضمن ابھرتے ہوئے اداروں کی آمدنی سے شہروں کی ترقی میں مدد ملتی ہے۔
ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ غریب ایک ایسا اثاثہ ہے جسکی اقتصادی اہمیت تسلیم شدہ ہے بین الااقوامی اور نجی شعبے کے اشتراک سے غریب کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ 
شہر اور قصبے منصوبہ بندی کے فقدان ،غیر مستحکم ڈھانچوں، بنیادی سہولیات کی کمی، کچی آبادیوں کی افزائش (اضافے کا باعث)اور شدید آلودگی سے لبریز ہیں۔ دوسری طرف شہری اضلاع اور ضلعی حکومتیں شہری سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ حکومت کے لیے متعدد نظام اور ان میں اکائیوں کی کثرت ہے۔ 
اس صورتحال کو درست کرنے کے لیے ایم کیو ایم مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کرتی ہے:
ہر شہر /ضلع میں واحد انتظامی ادارے کا قیام جو منتخب شدہ سٹی /ڈسٹرکٹ ناظم کے تحت کام کرے گا۔ اختیارات کی وحدانیت سے زیادہ مؤثر طریقے سے محصولات کا حصول ممکن ہوگا اور شہری (Municiple)خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور مختلف شہری محکموں کے درمیان رابطے کو بہتر بنایاجاسکے گا تاکہ فراہمی و نکاسی آب، کوڑا کرکٹ، بجلی کی فراہمی، ماسٹر پلاننگ، زمینی استعمال اور الاٹ منٹ اور تعلیم وغیرہ کے مسائل کو حل کیاجاسکے۔ 
ii۔ تمام میٹرو پولیٹن شہروں میں پولیس سے ٹریفک کے انتظام کے اختیارات واپس لیے جائیں اور اسے شہری /ضلعی حکومتوں کے تحت رکھاجائے۔ 
iii۔ ماحول دوست بسیں تمام اضلاع میں متعارف کروائی جائیں ۔بڑے پیمانے پر تیز ذرائع آمد و رفت ہو جونجی شعبے میں تمام شہری /ضلعی آمد و رفت کے نظام سے مربوط اور ایک ریگولیٹری بورڈ کے تحت ناظم کے دائرۂ اختیار میں شامل ہو۔ 
iv۔ مقامی پولیس کے ذریعے جرائم کا انسداد یقینی بنایاجائے اور عام انسان کی جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی جائے۔ 
پاکستان کے ہر شہری تک صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے کیونکہ مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 65فیصد بیماریاں ملک میں آلودہ پانی کے استعمال سے پھیلتی ہیں۔ 
vi۔ پاکستان میں شہروں کی جانب آبادی کے انتقال کو روکنے کے لیے وسائل مختص کیے جائیں۔ دیہات سے شہروں میں منتقل ہونے کا رجحان پاکستان میں عروج پر ہے۔ ہمارے شہر دیہات سے آنے والے لوگوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔ غیر قانونی کچی آبادیاں ہر بڑے شہر میں بڑھ رہی ہیں ،ایم کیو ایم کا یقین ہے کہ ڈھانچے کی ترقی اور صنعت کاری (Industrialisation)پورے پاکستان میں ہونی چاہئے تاکہ عوام پیشہ ورانہ تعلیم، ملازمت اور کاروبار اپنے گھر کے جتنا قریب ممکن ہو، فراہم کی جائیں۔ 
vii۔ اتنے فنڈز فراہم کیے جائیں کہ سمندر /دریا میں جانے سے پہلے آلودہ پانی کا ہر قطرہ نقصان پہنچانے والے زہریلے جراثیم سے پاک کر لیاجائے۔ صاف پانی کے ذرائع کم ہوتے جار ہے ہیں کیونکہ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور پانی صاف کرنا ضروری ہوچکا ہے۔ مزید برآں آلودہ پانی اس وجہ سے بھی صاف کرنا ضروری ہے کہ یہ آبی حیات کے لیے خطرہ ہے۔ 
viii۔ شہروں میں کم قیمت رہائشی منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری کی جائے۔


11۔
خارجہ پالیسی:
ایم کیو ایم پاکستان کے لیے ایک آزاد خارجہ پالیسی چاہتی ہے اور قریبی، دوستانہ اور قابل احترام تعلقات ہر ملک کے ساتھ، خصوصاً پڑوسی ممالک سے چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتی ہے، یا سادہ الفاظ میں جسے جیو اور جینے دو کہا جاسکتا ہے۔ ایم کیو ایم کا یقین ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات مذاکرات اور پر امن ذرائع سے حل ہوسکتے ہیں۔ ایم کیو ایم مسئلہ کشمیر کو با معنی، پر خلوص اور قابل احترام مذاکرات کے ذریعے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم اعتماد سازی کے اقدامات (CBMs) اور بھارت کے ساتھ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور یہ خواہش رکھتی ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک میں امن اور قریبی تعاون ہو، خاص طور پر معاشی میدان میں تاکہ امن، ترقی اور خوشحالی اس خطے میں بسنے والے پوری دنیا کے پانچویں حصے کا مقدر ہوں۔ جبکہ مغربی ممالک کے ساتھ باوقار تعلقات کے خواہاں ہیں۔


12۔
زراعت اور آب پاشی
پاکستان میں زراعت کل قومی پیداوار (GDP) کا 21فیصد پیدا کرتی ہے اور خاص طور پر مقامی استعمال سے زائد گندم اور چاول پیدا کرکے زر مبادلہ بچاتی ہے۔ 
ایم کیوایم تجویز کرتی ہے کہ:
ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم کیاجائے۔ 
ii۔ ماضی میں کی جانے والی زرعی اصلاحات سے مطلوبہ مقاصد پورے نہ ہوسکے جس میں بڑی وجہ تجویز کی گئی حد سے زیادہ زمینوں کی بے زمین ہاریوں میں تقسیم نہ ہونا یا ان کو زمین دینا جو انتہائی کم رقبہ اراضی کے مالک تھے۔ اس ضمن میں ایم کیو ایم نے ’’زرعی اصلاحات کا بل 2010ء‘‘ پیش کرکے ایک تجویز دی جو قومی اسمبلی میں 12اکتوبر2010 کو زیر بحث آیا اور ابھی تک جاگیرداروں کی غالب اکثریت رکھنے والی پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے جو اپنی زمین جو کہ 36 ایکڑ نہری اور 54ایکڑ بارانی سے زیادہ زمین چھوڑنانہیں چاہتے۔ ایم کیو ایم زمینی اصلاحات کے لیے پر عزم ہے اور بل پارلیمنٹ سے پاس کروانے کی پوری کوشش کرے گی۔ 
iii۔ ایم کیو ایم آئین میں ترمیم کی تجویزپیش کرتی ہے جس کے ذریعے زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کیاجاسکے گا۔ 
iv۔ متبادل نظام کے ذریعے کسانوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر معیاری بیج، کھاد، کیڑے مار ادویات، پانی خاص طور پر دور دراز کے کسانوں کو مہیا کرنے اور دیگر کم مدتی قرضے مہیا کرنے کی طرف توجہ دی جائے تاکہ نجی مارکیٹنگ سوسائٹیز وجود میں آئیں اور درمیان میں کمیشن لینے والے آڑھتی کا کردار ختم کیاجائے۔ 
ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کی جائے ۔ پٹواری یا تپے داروں اور لینڈ مافیا کی مزاحمت پر توجہ نہ دی جائے جو ریکارڈ کی اجارہ داری سے رقم بٹورتے ہیں۔ 
vi۔ ہاریوں اور کسانوں کی مشکلات کو دور کیاجائے اور انہیں زمینداروں اور حکومتی اہلکاروں کے چنگل سے نجات دلائی جائے۔ اس کے لیے فوری آئینی ترامیم کی ضرورت ہے جس میں سندھ Tenancy ایکٹ، 1950 ء کے تحت ہاری کورٹس کا قیام شامل ہے۔ 
vii۔ بے گار لینے کا تدارک اور نجی جیلوں کا خاتمہ کیاجائے۔ ہاریوں کو ان کی زمینوں سے نکالنا، ہاریوں کی خواتین اور بچوں سے زمینداروں کا ناروا سلوک بند کیاجائے۔ اس سلسلے میں گھریلو تشدد کا قانون (Domestic Violence Act) ترامیم چاہتا ہے۔ 
viii۔ گندم یا گنا جس کے لیے امدادی قیمت حکومت نے متعین کی ہے، وہ صرف چھوٹے کھاتے داروں سے لی جائے جبکہ آڑھتی اور بڑے زمینداروں (جاگیرداروں) سے رعایت ختم کی جائے۔ دستیاب ذخائر کی گنجائش سے زائد پیداوار نہ لی جائے۔ دوسری بات یہ کہ گندم یا تیار شدہ چینی برآمد نہ کی جائے، جب تک کہ اگلی فصل مارکیٹ میں نہ آجائے۔ آزاد برآمد اور کمزورانتظام کاری کی وجہ سے آٹے کی قیمت 30/- یا 35/-روپے فی کلو سے 45/- روپے فی کلو ہوچکی ہے جس سے شہریوں کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ لہٰذا یہ تجویز دی جاتی ہے کہ ملوں کے آٹے پر شہری صارفین کو رعایت دی جائے جو زائد قیمتوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ 
ix۔ دیہی عوام کو ہاؤس بلڈنگ کارپوریشن قرض انہی شرائط اور زمینی حد پر دے جن پر شہریوں کو دیتی ہے۔ 
مویشیوں اور مچھلیوں کے پیداکاروں (Producers) کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
xi۔ ہاریوں /مزارعین کا حصہ 50فیصد سے بڑھا کر 60فیصد کیاجائے۔
xii۔ ضلعی سطح کے چھوٹے قرضوں کو گرامین بینک آف بنگلہ دیش کی طرز پر متعارف کروایاجائے۔ 
xiii۔ ٹریکٹر اور چھوٹی زرعی مشینری خریدنے پر رعایت دی جائے۔ 
xiv۔ ریاست کی زمین بے زمین ہاریوں کو دی جائے جس کے ساتھ ساتھ انہیں کو آپریٹو فارمنگ، کو آپریٹو مارکیٹنگ اور آسان قرضے فراہم کیے جائیں۔ 
xv۔ ہاریوں /مزارعین کو مزدور سمجھا جائے اور انہیں مزدور قوانین کی طرز پر ضروری قانون سازی کی جائے اور کرایہ داروں کو جبراً بے دخل نہ کیا جائے۔ 
xvi۔ جبری مزدور ی نہ لی جائے جیسا کہ روایتی زمینداروں کی روایت ہے اور نجی جیلوں کو ختم کرنے اور سخت عمل درآمد کے لیے قانون سازی کی جائے ۔ 
xvii۔ دیہی علاقوں میں زرعی صنعتوں کے قیام کے لیے مراعات دیتے ہوئے حوصلہ افزائی کی جائے۔ 

12.1۔ آب پاشی:

پاکستان کے پاس برطانوی دورسے دنیا کا بہترین نظام آب پاشی موجود ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے بد انتظامی ، دیکھ بھال اور توسیع کے فقدان، آمد و رفت میں ضیاع اور آب پاشی کی فیس کی کم ادائیگی اور زیادہ رعایتوں کی وجہ سے مستقل نقصان اور اربوں روپے کا ضیاع ہوا ہے۔ 
ایم کیو ایم آب پاشی کے نظام کے بچاؤ کے لیے درج ذیل نکات تجویز کرتی ہے:
ڈیمز کی تعمیر چاہے چھوٹے پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، پانی کو جمع کرنے کے لیے کی جائے تاکہ مصنوعی آبشاروں کے ذریعے بجلی پیدا کی جاسکے۔ کاشتکاروں کی کمیٹیاں بنائی جائیں جو وارا بندی فارمولا کے تحت پانی کی یکساں تقسیم عمل میں لائیں جو اراضی اور فصل کی بنیاد پر ہو۔ 
ii۔ غیر پیداواری اخراجات جو مسلسل بڑھ رہے ہیں، ان کو قابو میں لانے کی ضرورت ہے۔ پانی کو نمکین ہونے سے بچانے یا پانی کی چوری سے بچانے کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے۔ 
iii۔ پانی کے ریٹس پر نظر ثانی سے پہلے ان بڑے زمینداروں کے خلاف کچھ اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو دیہی محصولات کے اہلکاروں سے مل کر وضع کردہ پانی کی فیس بھی نہیں دیتے اور صوبائی محکمے کو غیر قانونی نقصان پہنچاتے ہیں۔ 
iv۔ فصلیں اُگانے کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کو شامل کیا جائے جو کسانوں کو تعلیم و تربیت دیں تاکہ وہ اپنی فی ایکڑ پیداوار بڑھا سکیں اور یہ علم بڑھے کہ کون سی فصل سال کے کس موسم میں اُگائی جاتی ہے۔ 
ہر صوبے کو اپنی صوبائی پالیسی برائے زراعت اور آب پاشی بنانی ہوگی تاکہ فی ایکڑ پیداوار کوبہتر کیاجاسکے۔ 


13۔
عدلیہ:
آزاد، خودمختار اور غیر جانبدار عدلیہ کے قیام کے لیے ایم کیو ایم مندرجہ ذیل تجاویز پیش کرتی ہے:
آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ کے ہر سطح پر قیام کے لیے : ایم کیو ایم اپنے اس عہد کا اعادہ کرتی ہے کہ عدلیہ کو مکمل طور پر آزاد اور غیر جانبدار بنا دیاجائے ،یہ عہد کرتے ہوئے کہ ایم کیو ایم ایک آزاد اور خودمختار عدلیہ کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی جس سے انصاف پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے یقینی اور معاشرے میں قانون کی حکومت قائم ہوسکے ۔ 
ii۔ انصاف میں تاخیر ، مقدمہ نہ چلانا یا مقدمات میں غیر متوقع تاخیر ، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ افراد کو قید میں رکھنے کے خلاف قانونی ترامیم اور حکومت و عدلیہ کے مابین قریبی تعلقاتِ کار سے اصلاحات لائی جائیں۔ 
iii۔ جیل میں وسیع اور متنوع و مؤثر اصلاحات سے قیدیوں کو ذمہ دار شہری بنایاجائے تاکہ جیلوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے انسانی حقوق کی پامالی کو ختم کیاجائے۔ 
iv۔ ایم کیو ایم ہر شہری کو بلا امتیاز مالی حیثیت انصاف مہیا کرنے کے لیے اقدامات کو یقینی بنائے گی ۔ ریاست غریبوں کو قانونی امداد فراہم کرے گی تاکہ وہ عدالت میں اپنے مقدمات کا دفاع کرسکیں۔ 
ایم کیو ایم گواہوں کی حفاظت کے لیے ایک جامع منصوبہ متعارف کروائے گی اور اسے آئینی تحفظ دے گی تاکہ شہریوں کی آگے آنے اور بلا خوف و خطر اپنے بیانات قلمبند کروانے میں حوصلہ افزائی کی جائے۔ 


14۔
ذرائع ابلاغ اور آزادئ اظہارِ رائے:
ایم کیو ایم آزادئ اظہار پر پختہ یقین رکھتی ہے۔ ذرائع ابلاغ (پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا)کی نشوونما اور آزادی سے ہرطرح کی عوامی آگہی بڑھی ہے۔ ایم کیو ایم وسیع ، تخلیقی، ذمہ دار اور ترقی کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کی صنعت، جس میں تجارتی کامیابی اور عوامی خدمات کا اشتراک ہو، پر یقین رکھتی ہے۔ کسی بھی طرح کے حالات میں ذرائع ابلاغ کی آزادی ختم نہیں ہونی چاہئے تاکہ عوام ان کی قابل قدر خدمات سے محروم نہ ہوں۔ 
ii۔ غیر سرکاری انتظامی اداروں کی آزادی : ذرائع ابلاغ کی نگرانی کرنے والے ادارے حکومتی انتظام سے آزاد ہوں،مکمل طور پر خودمختار ہوں اور انہیں معقول قواعد و ضوابط کے تحت چلایاجائے جو سیاست دانوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہ کیے جاسکیں۔ 
iii۔ ذرائع ابلاغ سے متعلق افراد ، خاص طور پر جو متنازعہ (خطرناک) علاقوں میں ہیں، ان کی حفاظت یقینی بنائی جائے، انہیں بیمہ زندگی اور بہتر تربیت دی جائے اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) مندرجہ بالا سہولیات کی فراہمی پر عمل درآمد کا پابند ہوگا۔ ۔


15۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی:
یہ مشاہدہ حوصلہ افزا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید پیچیدہ ہورہا ہے، آئی ٹی کا استعمال ہماری زندگی کے مختلف شعبوں کو بہتر کرنے کے لیے ضروری ہوچکا ہے۔ چھوٹے مقصد سے لے کر بڑے مقاصد کے حصول تک ہم آئی ٹی اور انٹرنیٹ کا بہت اثر اپنی زندگیوں پر دیکھتے ہیں ۔ آئی ٹی کا استعمال معاشرتی طور پر جہاں تنظیمیں اور افراد اس کے استعمال کو فوقیت دیتے ہیں، حوصلہ افزا ہے۔ آئی ٹی کا اطلاق ایک مسلسل معاشرتی عمل ہے جس میں لوگوں کے کردار اور تنظیمی عوامل پر اثر پڑتا ہے۔ آئی ٹی نہ صرف زندگیوں کو انفرادی اعتبار سے تبدیل کر رہی ہے، بلکہ یہ وسیع تناظر میں معیشت کو بھی بہتر کر رہی ہے۔ تجارتی اکائیاں، ادارے، ذرائع ابلاغ، معاشرتی ادارے آئی ٹی کے مؤثر استعمال سے مستفیض ہو رہے ہیں۔ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے فروغ اور اس کے اطلاق اور مختلف خطوں میں نشوونما سے وہ رجحانات بڑھے ہیں جو ماضی میں دو عشروں سے جاری تھے اور اب انہیں ای کامرس کہاجاتا ہے۔ ایم کیو ایم ایسے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور ہماری قوم کے نوجوانوں کی اس ضمن میں حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ ای کامرس اور آئی ٹی کا استعمال کریں تاکہ ہمارے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جاسکے۔ یہی وہ وقت ہے کہ ٹیکنالوجی میں سب سے آگے رہا جائے تاکہ دشواریوں سے بچا جاسکے اور ہمارے معاشرے کو معلومات اور ابلاغی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) سے آراستہ کیا جائے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آراستہ خدمات (آئی ٹی ایز) حاصل کی جاسکیں۔ 
ٹیکنالوجی کی اصل طاقت اور توانائی اس میں ہے کہ کیسے کوئی تنظیم اپنا کاروبار کرتی ہے بشمول کیسے وہ اپنی بیرونی عوامی خدمات بروئے کار لاتی ہے ، کیسے اس ٹیکنالوجی کا اپنے اندرونی بزنس کے معاملات میں استعمال کرتی ہے اور حتمی طور پر کیسے وہ حکومت کرتی ہے۔ 
اگلے پانچ سال کے لیے حکمت عملی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق ایم کیو ایم کے مندرجہ ذیل مقاصد ہیں :
سمارٹ شہر کے تصور کو ملک کے تمام میٹروپولیٹن شہروں میں متعارف کروانا ۔
ii۔ بامقصد انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بڑے شہروں میں تحقیقی جامعات قائم کی جائیں گی۔ 
iii۔ وفاقی اور صوبائی داالحکومتوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شہر اور پارکس ۔
iv۔ نجی و سرکاری شعبے کے لیے مرکزی سطح پر ڈیٹا سینٹرز کا قیام۔ 
ایک محفوظ، تیز اور قابل اعتماد ابلاغی نیٹ ورک برائے بینکس اور مالی شعبہ جات۔
vi۔ سرکاری خدمات ، منصوبوں اور سرگرمیوں تک عوام کی آن لائن رسائی ممکن بنائی جائے۔ 
vii۔ مستعد، مضبوط اورمستحکم ڈھانچے سے متعلق خدمات متعارف کرانا۔ 
viii۔ ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک انفراسٹرکچر میں بہتری۔ 
ix۔ دستاویزات اور ریکارڈز کو وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے لیے کمپیوٹرائزڈ کرنا۔ 
ای گورنمنٹ اور ای گورننس پروگرام، ملکی سطح پر ای گورنمنٹ ، مستحکم ای گورنمنٹ کے کارکنان، حکومت کے ساتھ تعلق میں عوام کے تجربے کو بہتر کیاجائے، تعاون اور تخلیق پر مبنی رجحان کو فروغ دیاجائے، اس طرح حکومت کی استعدادِ کار کے ساتھ ساتھ شفافیت، احتساب اور اہلیت یقینی بنائی جائے گی۔ خصوصاً ITEs کی تربیت کو سرکاری شعبے کے اسٹاف کے لیے لازمی قرار دیاجائے گا۔ 
xi۔ IT کے پیشہ ورافراد کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی اِن ایبلڈ خدمات(ITEs)کے ذریعے ملازمتیں پیدا کی جائیں گی۔ 
xii۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اِن ایبلڈ سروسز (ITEs)کے ذریعے شہریوں کو فائدہ پہنچایاجائے گا، عمومی ڈھانچہ اور باہم قابل استعمال ہونے، تعاون پر مبنی خدمات اور کاروباری امور، سرکاری شعبے کی حکمرانی، نیٹ ورک سے منسلک تنظیمی ڈھانچہ، معاشرتی شمولیت، نقل و حمل اور کھلی حکومت تشکیل دی جائے گی۔ 


16۔
سمندر پار پاکستانی:
پاکستان کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی خدمات مختلف پہلوؤں سے بے حد اہم ہیں۔ وہ بغیر ناکام ہوئے ، قیمتی زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں تاکہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو۔ پاکستانی تارکین نے کچھ بڑی مغربی جمہوریتوں میں ممتاز مقام حاصل کیا ہے جو انہیں وہاں کی مقامی سیاست میں فعال حصہ لینے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔ یہ ممتاز سیاسی مقام انہیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے مفادات کا بیرون ملک تحفظ کریں اور وہاں پاکستان کی ساکھ کو بہتر کریں۔ اپنے وطن سے اپنی غیر متزلزل وفاداری کو مسلسل ثابت کرنے کے باوجود سمندر پار پاکستانیوں کو وہ عزت نہیں دی گئی، جو ان کی خدمات کا اعتراف ہوسکتی تھی۔ اس ناجائز صورتحال کے خلاف جو سمندر پار پاکستانیوں سے روا رکھی جارہی ہے، 
ایم کیو ایم تجویز کرتی ہے کہ:
دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے خلاف آئینی ترمیم کے ذریعے متنازعہ پابندی ختم کرنے کے لیے ایم کیو ایم نے پہلے ہی ایک آئینی ترمیم کا بل گزشتہ پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ وہ لوگ جو حساس حکومتی عہدوں پر براجمان ہیں، مثلاً گورنر، جج اور بیورو کریٹس، انہیں یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ دہری شہریت رکھیں لیکن سمندر پار پاکستانیوں کو الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جارہی ہے۔ 
ii۔ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا آئینی حق دیاجائے۔ اس کے لیے ایم کیو ایم نے ایک آئینی ترمیم کا بل گزشتہ پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔ 
iii۔ سمندر پار پاکستانیوں کا احترام کیا جائے اور انہیں پاکستان میں معاشی مواقع فراہم کیے جائیں۔
iv۔ باصلاحیت اور تعلیم یافتہ سمندر پار پاکستانیوں کو پر کشش معاشی مواقع دئیے جائیں تاکہ وہ پاکستان آئیں اور ان کی مہارت سے استفادہ حاصل کیا جائے جس کے فقدان کے سبب اہم عہدوں پر غیر موزوں افراد براجمان ہیں۔ 
ایم کیو ایم نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے گزشتہ حکومت میں سب سے پہلی پالیسی تشکیل دی تاکہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے قدر ے مؤثر کردار وضع کیاجاسکے جس کے تحت وہ پاکستان کی قومی زندگی میں کام کرسکیں۔ ایم کیو ایم اس بل کو اگلی حکومت سے پاس کروا لے گی۔ 


17۔
صوبائی خودمختاری :
ایم کیو ایم کے قانون سازوں نے پارلیمنٹ میں 18ویںآئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا کیونکہ ا س کے تحت اختیارات صوبوں کو منتقل ہوتے تھے۔ تاہم چند اہم معاملات اب بھی حل ہونا باقی ہیں۔ نتیجتاً مکمل صوبائی خودمختاری اب بھی پاکستان کے وفاقی اکائیوں کے درمیان اختلافِ رائے اور عدم اعتماد کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ایم کیو ایم قومی مذاکرات اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اتفاق رائے چاہتی ہے تاکہ اس اہم مسئلے کو اس طرح حل کیا جائے کہ اس سے پاکستان کے ، خاص طور پر چھوٹے صوبوں کے عوام کی امنگوں کی تکمیل ہوسکے۔ 
ایم کیو ایم صوبائی خودمختاری کے معاملے پر افہام و تفہیم کے لیے پر عزم ہے اور اختیارات کی مزید نچلی سطح پر منتقلی یعنی مقامی حکومت کی سطح تک، جیسا کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 140-A میں بیان کیا گیا ہے اور یہ تجویز کرتی ہے کہ مندرجہ ذیل آئینی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ سیاسی خودمختاری اور مقامی حکومتوں تک اختیارات کی منتقلی کا مسئلہ حل ہوسکے:
وفاق کے پاس دفاع، خارجہ امور اور کرنسی کے محکمے رہیں گے۔ دیگر تمام محکمے وفاقی اکائیوں (صوبوں) کی ذمہ داری قرار دئیے جائیں۔ 
ii۔ مقامی حکومت کا نظام قانون کے تحت متعارف کروایاجائے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں اور اختیارات مقامی حکومت کے نمائندوں کو منتقل کردئیے جائیں۔ 


18۔
انسانی حقوق، خواتین ، بچے اور اقلیتیں
ایم کیو ایم تمام شہریوں کے لیے بنیادی حقوق پر یقین رکھتی ہے اور ریاست کو اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ذمہ دارانہ اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔ پاکستان میں تشدد، پولیس کی زیادتیاں، بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنا، اور معاشرتی و سیاسی طور پر ہراساں کرنے کی روش کو ختم ہونا چاہئے۔ 

18.1۔ خواتین، بچے اور مذہبی اقلیتیں:

ایم کیو ایم یقین رکھتی ہے کہ پاکستان کا ہر شہری بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ انسانی حقوق حاصل کرنے کا استحقاق رکھتا ہے جس میں زندہ رہنے کا حق، آزادی، تعلیم، عبادت، جائیداد، خوشحالی، معاشرتی مساوات، اور بغیر کسی امتیاز کے سیاسی عمل میں شمولیت شامل ہے۔ ایم کیو ایم اپنے اس یقین کا اعادہ کرتی ہے کہ کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہے۔ انسانی حقوق کی صورتحال پاکستان میں بہتر کرنے کے لیے ، ایم کیو ایم مندرجہ ذیل تجاویز پیش کرتی ہے:
تمام پولیس /دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں جو تشدد اور زیادتیاں کریں، مقدمہ چلائے بغیر حراست میں رکھیں، معاشرتی و سیاسی طور پر ڈرائیں، معاشرتی بگاڑ مثلاً جنس کی بنیاد پر امتیاز، جنسی طور پر ہراساں کرنا، خواتین کی تعلیم اوران کی معاشرے میں مکمل شراکت اور یکساں حقوق کی حوصلہ شکنی کرنا اور گھریلوتشدد، بچوں سے زیادتی، کسی کے جرم کے بدلے کسی کے ساتھ زنا یا پھر مخالف کی خواتین کو برہنہ گلیوں میں گھمانا، بچوں کی شادی، کارو کاری، وِنی، قرآن سے نکاح، تیزاب پھینکنا، بے گار لینا اور بچوں سے مزدوری لینا وغیرہ شامل ہے، اس کے خلاف مؤثر قانون سازی ، عمل درآمد اور سخت سزا دی جائے۔ 
ii۔ شہری اور دیہی علاقوں میں عوامی شعور کی مہم چلائی جائے جس میں معاشرتی شرکت کو یقینی بنایاجائے تاکہ عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے روشناس کروایاجائے اور وہ ذرائع بتائے جائیں جن کے ذریعے سے وہ حق تلفی پر احتجاج کرسکتے ہیں۔ 
iii۔ تمام امتیازی قوانین جو خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہیں، ان کو ختم کیاجائے۔ 
iv۔ اقلیتوں کے ساتھ پاکستان کے یکساں شہری کا سا سلوک روا رکھا جائے اور انہیں ان کی زندگیوں اور املاک کا تحفظ فراہم کیاجائے اور انہیں آزادی کے ساتھ اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیاجائے۔ 
ایم کیو ایم پاکستان کی غیر مسلم آبادی کے لیے ’’اقلیت‘‘ کی اصطلاح ختم کرنا چاہتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اقلیتوں کو بھی عام انتخابات کے ذریعے براہِ راست منتخب ہونے کا حق دیاجانا چاہئے۔ 
vi۔ ایم کیو ایم خواتین کی شرکت کو تمام شعبہ ہائے زندگی بشمول حکومت و نیم سرکاری اداروں میں یقینی بنائے گی ۔ بالخصوص قومی و صوبائی اسمبلی میں خواتین کی شرکت بتدریج 50فیصد تک پہنچائے گی۔ 
vii۔ ایم کیو ایم خواتین مراکز (وومن شیلٹر ہومز)بنائے گی تاکہ ریاست ان بالغ جوڑوں کو تحفظ فراہم کرے جو آزادی سے شادی کرتے ہیں لیکن انہیں خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے خصوصاًکچھ دیہی علاقوں میں رائج صدیوں پرانی روایات کو توڑا۔ ریاست ان پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔ 


19۔
ماحول:
قدرتی ذرائع اور توانائی کا درست استعمال جس میں قدرتی دنیا اور جنگلی حیات کی قدر کی جائے، کھلی فضا کو استعمال کرتے ہوئے ماحول دوست ڈیزائن اور تعمیر ات کی جائیں ، کوڑے کرکٹ کو ری سائیکل کیاجائے، بڑے پیمانے پر پودے لگائے جائیں اور ہر علاقے میں پارکس تعمیر کرکے ماحول کو بہتر بنایاجائے۔ 
وسیع پیمانے پر جنگلات اُگائے جائیں۔ 
ii۔ صنعتی فضلے اور آلودہ پانی کو سمندر میں نہ پھینکا جائے۔
iii۔ سمندر اور ساحلی پٹی کا تحفظ کیاجائے۔
iv۔ ماحول دوست شہری ترقی کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اس کو ترویج دی جائے۔
صنعتی فضلے کے انسداد کے لیے ابتدائی طور پر حکومت مائع فضلے کو صاف کرنے والے پلانٹس لگائے۔ 


20۔
نوجوان:
قوم کا بڑا طبقہ ان افراد پر مشتمل ہے جو قوم کے معمار ہیں۔ ان کی بہتر تعلیم و تربیت اور نشوونما سے ریاست کی تیز تر ترقی ممکن ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں جو نوجوانوں کو بین الاقوامی فورم پر قوم کی آواز پہنچانے کا ذریعہ ہوں اور نوجوان قوم کی عزت کا باعث بنیں۔ ہمارے نوجوانوں کی بہتر صحت ہمارے معاشرے سے منفی رجحانات کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تفصیلی سفارشات مندرجہ ذیل ہیں:
نوجوانوں کو تعلیمی اداروں میں نشستوں کے لیے منتظر نہیں چھوڑنا چاہئے۔ ہر طالب علم جو اپنی مرضی کے مضامین میں داخلہ چاہتا ہے، اس کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہئے۔ 
ii۔ ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کو بڑھایاجائے تاکہ ہزاروں میٹرک کرکے فارغ ہونے والے طلبہ جو ان اداروں میں پڑھنا چاہتے ہیں، ان کو داخلہ دیاجائے۔ 
iii۔ ہر ضلع میں نوجوانوں کی ترقی کے مراکز قائم ہونے چاہئیں تاکہ نوجوانوں کو بااختیار بنایاجائے۔ 
iv۔ کھیلوں کے میدان، اسٹیڈیمز، پرفارمنگ آرٹ کے اسکول ہر انتظامی اکائی میں فراہم کیے جائیں۔ 
ملازمت سے متعلق مشاورت (کیریر کونسلنگ ) اور ملازمت کی جگہوں کے مراکز (جاب پلیس منٹ سینٹرز ) ہر صوبے میں متعارف کروائے جائیں۔ 
vi۔ نوجوانوں کے لیے قومی لائبریری پروگرام شروع کیاجائے۔ 


21۔
ثقافت اور کھیل:
ثقافت کی کوئی حدود نہیں ہیں۔ ریاست کی طرف سے بے جا پابندیوں کے بغیر اسے لوگوں کی دانش مندی پر چھوڑ دیاجائے۔ فنون اور کھیل کا رواج معاشرے میں اجتماعیت کے احساس کو اجاگرکرتا ہے۔ ایم کیوا یم اس حق میں ہے کہ فنون اور کھیلوں کے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں جن کا تعلق ترقی نوجوانان سے ہے۔ ایم کیو ایم جوانوں کو فنون اور کھیلوں کے حوالے سے کھیلوں کی سہولیات، پارک اور نجی رعایات، جیسا کہ آرٹ اکیڈمیاں قائم کرکے حوصلہ افزائی کرے گی ۔


22۔  
فلاحی ریاست:
معاشرے میں وہ طبقات بھی ہیں جن کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور وہ کچلے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر بوڑھے لوگ، یتیم، جسمانی و ذہنی طور پر معذور افراد، گلیوں میں گھومنے والے بچے اور لاوارث افراد جنہیں دیکھ بھال اور امداد کی ضرورت ہے جن کا اپنا کوئی خاندان نہیں ہے یا پھر انہیں خاندان سے نکال دیا گیا ہے۔ بہت سے فوری نوعیت کے مسائل ہیں جن کو حل کرنا ضروری ہے، مثال کے طور پر:
ہر ضلع میں بوڑھے لوگوں کے لیے، جن کے اپنے گھرنہیں ، اولڈ ایج ہوم بنائے جائیں۔
ii۔ جسمانی یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے ہر میدان میں مناسب اور ضروری مواقع مثال کے طور پر تعلیم سے
لے کر ملازمت کے حصول تک ترقی کے مراکز میں اضافہ کیاجائے ۔.
iii۔ جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں متعارف کروائی جائیں تاکہ وہ قانون ساز کے طور پر قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے توسط سے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ 
iv۔ یتیم خانے حکومت کے زیر انتظام چلائے جائیں اور ان کی اس طرح سے توسیع و تعمیر نو کی جائے کہ ان میں رہائش پذیر بچوں کی جسمانی صحت اور حفاظت کو یقینی بنا یا جاسکے اور انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

(ختم شد)

12/8/2016 5:56:15 PM