Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سی پی ایل سی کے سربراہ احمدچنائے کے ساتھ رینجرزکے اہلکاروں کی جانب سے کیا جانے والا نارواسلوک قابل مذمت ہے۔ الطاف حسین


سی پی ایل سی کے سربراہ احمدچنائے کے ساتھ رینجرزکے اہلکاروں کی جانب سے کیا جانے والا نارواسلوک قابل مذمت ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 1/27/2015
سی پی ایل سی کے سربراہ احمدچنائے کے ساتھ رینجرزکے اہلکاروں کی جانب سے کیا جانے والا نارواسلوک قابل مذمت ہے۔ الطاف حسین
احمد چنائے کا کام لوگوں کوبازیاب کروانااوراغوابرائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث جرائم پیشہ افراد کو گرفتارکرواناہے ،ان پر الزام لگانا سراسر زیادتی ہے
فوج کی قیادت بتادے کہ وہ مہاجروں کوکیاکبھی پاکستانی نہیں سمجھیں گے؟الطاف حسین
کیا اسٹیبلشمنٹ کی نظرمیں ایک بھی مہاجر معزز کہلانے کاحقدارہے یا نہیں ؟ 
19جون1992ء کوہونے والے فوجی آپریشن کی زخم لگی ہوئی یادیں آج تک تازہ ہیں، ان سے خون آج بھی رس رہاہے
یہ ذلت آمیزسلوک صرف احمدچنائے کے ساتھ نہیں بلکہ پوری میمن برادری کے ساتھ بالخصوص اور مہاجروں کے ساتھ بالعموم کیا گیا ہے
اس طرح کی حرکات اور ایک طبقہ آبادی کے خلاف کئے جانے والے متعصبانہ اقدامات سے اس طبقہ آبادی میں کیا جذبات پیداہوں گے؟
لندن۔۔۔ 27 جنوری 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے سی پی ایل سی کے سربراہ احمدچنائے کے ساتھ رینجرزکے اہلکاروں کی جانب سے کئے جانے والے نارواسلوک کی شدیدمذمت کی ہے اورفوج کی اعلیٰ قیادت اورفوج کی شاخوں کے ذمہ داروں کومخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کوبنے ہوئے 67سال گزرچکے ہیں، مہاجروں خصوصاً میمن برادری نے پاکستان کے قیام کیلئے جوناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کاحصہ بن چکی ہیں ۔ پاکستان پر جب بھی براوقت پڑاہے مہاجراپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیرملک کی سلامتی کیلئے بلاخوف وخطر دامے درمے قدمے سخنے آگے بڑھے ۔ پاکستان بنانے کیلئے 20لاکھ جانوں کانذرانہ پیش کیا، پاکستان کوبچانے کیلئے سانحہ مشرقی پاکستان کے موقع پر سات لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا اورفوج کے قدم بہ قدم چلتے رہے اورجانی قربانیاں پیش کرتے رہے لیکن اس کے باوجودان کے ساتھ متعصبانہ سلوک انتہائی قابل مذمت ہے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ اغوابرائے تاوان کی وارداتوں سے متاثرہ شہری سی ایل سی کے سربراہ کی حیثیت سے احمدچنائے سے رابطے کرتے ہیں، احمد چنائے کا کام لوگوں کوبازیاب کروانااوراغوابرائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث جرائم پیشہ افرادکوگرفتارکرواناہے۔اوراس سلسلے میں مغوی کے اہل خانہ اوراغواکنندگان سے رابطہ کرناان کے فرائض میں شامل ہے لیکن اس بنیادپر احمدچنائے پر الزام لگانا سراسر زیادتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اورمظلوم عوام کیلئے احمدچنائے نے جو خدمات پیش کی ہیں اس کے اعتراف کے بجائے ان کے گھرپردھاوا بولنااوران پربے بنیاد الزام لگاناچاندپر تھوکنے کے مترادف ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ صومالی قزاقوں نے بھی جب پاکستانی بحری جہازکے عملے کویرغمال بنایاتوسی پی ایل سی کے سربراہ احمد چنائے اور گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العبادنے اپنی جانوں کوخطرے میں ڈال کرپاکستانی مغویوں کو بازیاب کروایا۔احمدچنائے کئی سالوں سے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر چور اچکوں ، اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں کے خلاف پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ دن رات کام کرتے ہیں لیکن اس کاصلہ فوج کی ایک شاخ پیراملٹری رینجرز کے افسران اورجوانوں نے اس طرح دیا کہ احمد چنائے کے گھرپر علی الصبح دھاوابول کرانہیں ذلت ورسوائی سے دوچارکیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج کی قیادت بتادے کہ وہ مہاجروں کو کیا کبھی پاکستانی سمجھیں گے یانہیں سمجھیں گے؟19جون1992ء کوہونے والے فوجی آپریشن کی زخم لگی ہوئی یادیں آج تک تازہ ہیں، ان سے خون آج بھی رس رہا ہے۔فوجی اسٹیبلشمنٹ صاف الفاظ میں بتادے کہ ان کی نظرمیں ایک بھی مہاجر معزز کہلانے کاحقدارہے یا نہیں ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان دشمن دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں اگرفوج کی سب سے بڑھ کرکسی نے حمایت کی تووہ ایم کیوایم اور الطاف حسین نے کی، کراچی کے لوگوں نے کی۔ اس کے باوجوداحمدچنائے کے ساتھ یہ ذلت آمیزسلوک،یہ بے عزتی اورغیر شریفانہ حرکت کی گئی جو قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ذلت آمیزسلوک صرف احمدچنائے کے ساتھ نہیں کی گئی بلکہ پوری میمن برادری کے ساتھ بالخصوص اور مہاجروں کے ساتھ بالعموم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے محب وطن لوگ اس طرح کی مسلسل کی جانے والی حرکات اور ایک طبقہ آبادی کے خلاف کئے جانے والے متعصبانہ اقدامات سے اس طبقہ آبادی میں کیاحب الوطنی کے جذبات پیداہوں گے یاانہیں اپنے بارے میں غورکرنے پر مجبورکریں گے کہ وہ 67سال گزرجانے کے باوجودآج بھی پاکستانی کیوں نہیں سمجھے جاتے؟جناب الطا ف حسین نے احمدچنائے اور میمن برادری کی تمام انجمنوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اوران سے کہاکہ وہ احمدچنائے کے ساتھ کئے جانے والے اس نازیباسلوک پرہڑتال یاکسی بھی قسم کے احتجاج کا جوبھی پروگرام بنائیں گے ہم اس میں مکمل تعاون کریں گے اور ان کے شانہ بشانہ ہوں گے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہترہے، یہ نعرہ اب ہجرت کرکے آنے والے ہرفردکی زبان پر ہوگااوراس کاجوبھی انجام ہوگااس کی ساری ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پرعائد ہوگی۔
وڈیو



12/5/2016 10:35:40 AM