Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکومت سندھ اور اس کے وزراء کرپشن ، بدعنوانی اور اقرباء پروری کی دلدل میں دھنس چکے ہیں،رابطہ کمیٹی


حکومت سندھ اور اس کے وزراء کرپشن ، بدعنوانی اور اقرباء پروری کی دلدل میں دھنس چکے ہیں،رابطہ کمیٹی
 Posted on: 1/23/2015
حکومت سندھ اور اس کے وزراء کرپشن ، بدعنوانی اور اقرباء پروری کی دلدل میں دھنس چکے ہیں،رابطہ کمیٹی 
ملک کی عدالت عظمیٰ سمیت نیب کے ڈائریکٹر جنرل سندھ حکومت کی بد ترین کارکردگی کا پردہ چاک کرچکے ہیں ، رابطہ کمیٹی 
صوبے میں غیر معمولی حالات ہیں اور غیر معمولی حالات میں صوبہ سندھ میں مارشل لاء کے نفاذ کا مطالبہ سو فیصد درست ہے، رابطہ کمیٹی 
سپریم کورٹ کے بھی ریمارکس ہیں کہ حکومت سندھ میں اہلیت نہیں ہے ، رابطہ کمیٹی 
حکومت سندھ نے 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے مشیروں کی بھر مارکرکے آئینی ترمیم کو بلڈوز کردیا ہے ، رابطہ کمیٹی 
سندھ حکومت ، اس کے وزراء اور پیپلزپارٹی کے رہنما یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ سندھ میں حق حکمرانی کے بعد وہ جو چاہے کرسکتے 
ہیں اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، رابطہ کمیٹی 
جس صوبے کی منتخب اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندوں کو عوامی مسائل اجاگر کرنے پر خاموش کرایاجائے اور غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں تو ایسی اسمبلی کے بجائے مارشل لاء کی بات کرنا حق بجانب ہوگا ، رابطہ کمیٹی 
کراچی ۔۔۔23، جنوری 2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ اور اس کے وزراء کرپشن ، بدعنوانی اور اقرباء پروری کی دلدل میں دھنس چکے ہیں ،ملک کی عدالت عظمیٰ اپنے ریمارکس میں یہ کہہ چکی ہے کہ سندھ حکومت میں اہلیت نہیں ہے کہ وہ صوبہ سنبھال سکے اس لئے آئینی ترمیم کرکے اعتراف کرے کہ وہ صوبہ نہیں سنبھال سکتی اور یہ کہے کہ وہ صوبہ سندھ کو وفاق کے حوالے کرتی ہے ۔ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے علاوہ نیب کے ڈائریکٹر جنرل سندھ کی جانب سے حکومت سندھ کی بیڈ گورننس ، کاغذوں پر موجود اربوں روپے کی گھوسٹ ترقیاتی اسکیموں، صوبے کے انتظامی انفرا اسٹرکچر کی تباہی ، ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز کرپشن کی نذر کئے جانے اور بدترین صورتحال کی نشاندہی کی جاچکی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صوبے میں غیر معمولی حالات ہیں اور غیر معمولی حالات میں صوبہ سندھ میں مارشل لاء کے نفاذ کا مطالبہ سو فیصد درست ہے ۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ یہی نہیں بلکہ حکومت سندھ نے 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے مشیروں کی بھر مارکرکے آئینی ترمیم کو بلڈوز کردیا ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ڈائریکٹر جنرل نیب سندھ کی جانب سے حکومت سندھ کی مایوسی کن کارکردگی کی نشاندہیوں کے باوجود حکومت سندھ اور اس کے وزراء کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ نہیں رہی ہے اور مفاد پرستی ، انانیت اور کرپشن میں ملوث سندھ حکومت اور اس کے وزراء بے حس ہوچکے ہیں اور اپنے آپ کوعدلیہ ، آئین و قانون سے ماورا تصورکررہے ہیں ۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ شہر کراچی اور سندھ تو بدامنی ، قتل و غارتگری کا شکار ہے ہی اب سندھ اسمبلی کے معزز ایوان کوبھی شرجیل میمن اور حکومتی وزراء نے اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے اور شرجیل میمن کے اشاروں اور ایماء پر سندھ اسمبلی کی کارروائی ختم کی جاتی ہے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شرجیل میمن صوبے کے کرتا دھرتا بن بیٹھے ہیں اور سندھ اسمبلی کے معزز اراکین کو عوامی ایشو اجاگر کرنے سے روک رہے ہیں ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ شرجیل میمن اور حکومتی وزراء ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل ، ٹارگٹ کلنگ ، اغواء برائے تاوان اور دہشت گردوں کی سرپرستی پر خاموشی کیوں اختیار کئے بیٹھے ہیں اور سندھ اسمبلی کے ایوان میں اس کا جواب دینے کے بجائے اسمبلی کے باہر آکر جھوٹے دعوے اور تنقید کیوں کرتے ہیں ؟۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ جس صوبے کی منتخب اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندوں کو عوامی مسائل اجاگر کرنے پر خاموش کرایاجائے اور غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں تو ایسی اسمبلی کے بجائے پھر مارشل لاء کی بات کرنا حق بجانب ہوگا ۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ سندھ حکومت کی جانب سے کرپشن ، اقرباء پروری ، بدعنوانیاں اور اس پر شرمندگی کا اظہار کرنے ، معافی مانگنے کے بجائے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنا جمہوریت کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ جو حکومت اور اس کے وزراء عوامی مفاد کے بجائے اپنے مفادات کی دوڑ میں لگ جائیں اور لالچ و ہوس میں مبتلا ہوکر کرپشن ، بدعنوانیوں اور اقرباء پروری کا کھیل جاری رکھیں تو ایسی حکومت اور وزراء سے بہتر ہے کہ صوبہ سندھ میں مارشل لاء نافذ ہوجائے۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سندھ حکومت ، اس کے وزراء اور پیپلزپارٹی کے رہنما یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ سندھ میں حق حکمرانی کے بعد وہ جو چاہے کرسکتے ہیں اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ سندھ حکومت اور اسکے وزراء کی کرپشن ، بدعنوانی ، اقرباء پروری کا احتساب ایک دن ضرور ہوگا اور صوبے اور اس کے عوام کے سیاسی ، جمہوری اور بنیادی حقوق غصب کرنے اور انہیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے والے اس الہامی احتساب کے شکنجے میں ہوں گے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ سندھ حکومت کے پاس اب صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ وہ باعزت طریقے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردے۔ 

12/7/2016 6:14:31 PM