Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مکالمے میں شریک علما ء کرام ؍ مشائخ عظام و دیگر مذاہب کے رہنماؤں اور میڈیا پرسنز کی جناب الطاف حسین سے گفتگو


مکالمے میں شریک علما ء کرام ؍ مشائخ عظام و دیگر مذاہب کے رہنماؤں اور میڈیا پرسنز کی جناب الطاف حسین سے گفتگو
 Posted on: 1/17/2015
مکالمے میں شریک علما ء کرام ؍ مشائخ عظام و دیگر مذاہب کے رہنماؤں اور میڈیا پرسنز کی جناب الطاف حسین سے گفتگو 
ایم کیو ایم کے زیر اہتمام ہفتہ کے روز لال قلعہ گراؤنڈ ،عزیز آباد میں مکالمہ ’’ دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اتفاق بین المذاہب ‘‘پر جناب الطاف حسین نے خصوصی گفتگو کی اور شرکاء مجلس کو موجودہ صورتحال میں اتحاد و اتفاق بین المذاہب کے مختلف پہلوں سے روشناس کرایا ۔ اس موقع پر شرکا ء نے جناب الطاف حسین سے خصوصی گفتگو کرتے کی اور انہیں اپنے خیالات سے آ گاہ کیا اس موقع پر جناب الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ سراج الحق قادری نے جناب الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب الطاف حسین صرف ایم کیوا یم کے قائد نہیں رہے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے قائد بن گئے ہیں اور جس طرح آپ نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کیخلاف آواز بلند کی وہ قابل تحسین ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ، داعش ، طالبان ایک ہی ہیں ان سب پر پابندی لگنی چاہئے کیوں کہ یہی جماعت پاکستان کے قیام کی سب سے بڑی مخالف جماعت تھی ۔نجی ٹی وی چینل کی نیوز کاسٹر شازیہ خان نے جناب الطاف حسین سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور پر معصوم بچوں کی شہادت پر آپ کی نظم حقیقتاً تمام والدین کے جذبات کی ترجمان ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ 150بچوں کا لہو بہا ہے اب ہم اپنے ملک کو دہشت گردو ں سے نجات دلوا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کو اس سانحہ سے سبق لینا چاہئے اور دہشت گردی کے خلاف عملی طور سے میدان میں آنا چاہئے ۔ اسلامک لرننگ ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر جلال الدین نوری نے کہا کہ آپ ملک کے واحد سیاسی لیڈر ہیں جو ملک میں اندرونی و بیرو نی مسائل پر بحث و مباحثے کا انعقاد کر تے ہیں اور مظلوموں پر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح یورپ میں حضرت عیسی ؑ کی شان میں گستاخی غیر قانونی ہے اسی طرح اقوام متحدہ میں نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کو بھی غیر قانونی و ناجائز قرار دیا جائے ۔چےئر مین جامعہ نور القرآن علامہ سید محمد علی شاہ نے مکالمے کے انعقاد پر جناب الطاف حسین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جانور کو پانی پلانا بھی نیکی ہے لہٰذا ہمیں اپنی صفوں میں دیکھنا ہوگا اور اسلا م کے نام پر دہشت گردی کرنے کیخلاف آواز بلند کرکے ایسے عناصر کا خاتمہ کرنا ہوگا چاہئے ایسے عناصر مسجد میں ہوں ، مدرسے میں ہوں ، یا کسی بھی جگہ موجود ہوں ۔ ۔ رہنما اہل حدیث عامر عبد اللہ محمدی نے کہاکہ جس طرح آپ نے نبی آخر الزماں ﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف آواز احتجاج بلند کی ہے اس پر آپ تحسین کے قابل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ اگر روئے زمین کے تمام بد بخت نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کی جرأ ت کریں تب بھی آپ ؐ کی شان میں کوئی کمی نہیں آئے گی انہوں نے کہا کہ آج آپ کے خطاب نے قوم کے زہنوں کو جھنجھوڑا کر یہ پیغام دیا ہے کہ اب اتحاد بین المسلمین کے ساتھ ساتھ اتحاد آدمیت کی اشد ضرورت ہے اور آپ کی آواز پر تمام مذاہب کے لوگ لبیک کہہ رہے ہیں۔ معروف اینکر پرسن علی حسن نے کہا کہ جب بھی نبی آخر الزماں ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی ہے یا کسی کی حق تلفی ہوتی ہے آ پ سب سے پہلے اس حق تلفی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ، انہوں نے جناب الطاف حسین کی جانب سے نجی ٹی وی کا لائسنس منسوخ کر نے کے خلاف آواز بلند کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیااور کہاکہ مسلمانوں کو بھی فرانس میں 40ممالک کے سربراہان کے اتحاد کی طرح متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔سکھ برادری کے رہنما سردار بھولا سنگھ نے کہا کہ آپ نے تمام مذاہب کے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے گلدستہ بنا دیا ہے۔تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے صوبائی صدر سید وقار حسن تقوی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ایم کیو ایم کے حق پرستانہ مؤقف کی تائید کی ہے اور آج ایک مرتبہ پھر آپ نے ثابت کردیا کہ مظلوموں کا ساتھی صرف الطاف حسین ہی ہے ۔ کرسچن کمیونٹی کے بشپ اعجاز عنایت نے کہا کہ آپ نے اس قسم کے حقائق پر گفتگو کرکے لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہیں لہٰذا ہماری درخواست ہے کہ اس قسم کی کانفرنس مزید ہونی چاہئیں جوکہ وقت کی اہم ضرورت ہے جسسے انسانیت کا پیغام اور لوگوں تک پہنچے گاانہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین سے اپیل کی کہ وہ اپنی دعاؤں میں انہیں یاد رکھیں ۔مقتدا منصور سب سے پہلے تومیں آپ کی جرأت و ہمت کی داد دینا چاہوں گا کہ آپ نے
جاری ہے۔۔۔


صفحہ2 الطاف حسین ؍ مکالمہ ؍ گفتگو 
کراچی میں طالبان کی موجودگی کی بات کی تو لوگوں نے مذاق اُڑایا لیکن وہ سچ ثابت ہوا ،آپ نے جس طرح یہ اجلاس کیا ہے یہ عالمی و ملکی و بین الاقوامی سطح پر ہونی چاہئے۔ہونا یہ چاہئے کہ ہمارے درمیان مسلسل گفتگو کا سلسلہ شروع ہو ، آپ کی نظم بھی دکھی دلوں کی آواز بن کر اُبھری ہے ، آپ نے پورے پاکستان کی ماؤں کے جذبات کا اظہار کیا ہے جنا ب الطاف حسین نے کہا کہ ہر پرزہ اپنی جگہ قیمتی ہے ، کوئی بڑا ہوگا کوئی چھوٹا ہوگا لیکن سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ٹی وی اینکر سید ارتضی علی نے کہا کہ ایم کیوا یم نے بہت اہم معاملہ اُٹھایا ہے ،ہم نے پہلی مرتبہ کراچی میں دیکھا جس میں ہمارے مسلمانوں ، سکھوں ، ہندوں ، مسیح برادری کے بزرگ موجود ہیں ، یہ جو خاکے بنائے گئے اس سے انسانیت کو دھچکا پہنچاہے ، تمام مذاہب اس عمل کی مذمت کر رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چا ہئیے تھا ، انہوں نے مہندر سنگھ بیدی کی جانب سے شان رسالت مآب ﷺ میں کہے گئے اشعار سنا ئے ۔ چےئر مین آل پاکستان سنی تحریک مطلوب اعوان نے کہا کہ آپ نے پاکستا ن میں ہونے والی دہشت گردی سے سب سے پہلے قوم کو آگاہ کیا اور قوم کو بتایا کہ کس طرح طالبان اور داعش ہمارے ملک میں قبضہ کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ آج جس طرح سے ایم کیو ایم نے تمام مسالک کے علماء کرام کو جمع کیا ہے قابل تحسین ہے اور اگر اس قسم کی مجالس کا ملک بھر میں انعقاد کر وایا جائے تو عوا م میں بہتر تاثر جائے گا۔علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ آج یہاں موجود ہیں وہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہم مختلف لوگ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے چاہنے والے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں فرقہ واریت بھی OICاور مسلم ممالک میں انتشارکے سبب ہے اگر یہ ایک ہوتے تو ایسا نہیں ہوتا ،ہمیں بھر پور ریلی کرکے تمام مسالک ، و مذاہب کے رہنماؤں کو بتانا چاہئے کہ احتجاج کس احتیاط کے ساتھ ہوتا ہے اور اس میں سب شرکت کریں تاکہ اس میں پتہ چلے کہ وہ جماعت اسلامی کی ریلی تھی او ر یہ جماعت ایمانی کی ریلی ہے۔محمد حسین لاکھانی کا کہناتھا کہ مسلمان حکمرانوں کی یورپ اور مغرب زدہ غلامانہ ذہنیت نے مسلمانوں کو اس حد پر پہنچا دیا کہ مشرکین کہیں قرآن جلاتے ہیں اور کہیں نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان متحد ہو جائیں اور گستاخ رسول ﷺ کے خلا ف آواز بلند کریں تو ہمیں ناکامی نہیں ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ مسلمان دنیا بھر میں کہیں بھی ہوں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی نے ملک میں قتال فی سبیل اللہ کے کلچرکو عام کرنے کی بات کی اور فوجیوں کو شہید کہنے سے منع کیا لہٰذا اس جماعت پر فوری پابندی لگنی چاہئے۔سنی اتحاد کونسل کے رہنما مفتی سید بلال حسین نے کہا کہ آپ نے ناموس رسالت ﷺ کے لئے آواز بلند کر کے نیکی کا کام کیا ہے جس پر مکالمے کے تمام شرکاء آ پکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اپنے ملک کے شہریوں کی املاک اور جان کو ناحق نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔علامہ تنویر الحق تھانوی نے کہا کہ پورے ملک میں آپ واحد سیاسی لیڈر ہیں جو اپنے خطابات میں قرآنی آیات سے دلائل و حوالے دیتے ہیں ، آج آپ نے جو آیتیں پڑھ کر سنائی اس کا مطلب یہ ہے کہ کون کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور اسکا عقیدہ کیاہے یہ لڑنے جھگڑنے کی چیز نہیں ہے اللہ کے ہاتھ میں فیصلہ ہے اور اللہ یوم حشر فیصلہ کریں گے ۔حقوق العباد کے بارے میں آپ نے جو بات کہی ہے یہ حضور اکرم ﷺ کی حدیث کی تائید ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لوگوں کا نوٹس لیا جائے جو دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور ان لوگوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہئے اورتمام مذاہب کے لوگوں کو قریب لایا جائے اور ایک دوسرے کے جذبات مجروح کرنے کے اقدامات سے بعض رہا جائے کیوں کہ ہم نبی پاک ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔علامہ علی کرار نقوی نے کہا کہ سانحہ پشاور کا دکھ سب کا سانجھہ ہے کیوں کہ انسان کے لہو کا کوئی دین ، مذہب یازبان نہیں ہوتی ،انہوں نے ایم کیوایم کے گزشتہ ہفتے شہید ہونیوالے کارکنان کی شہادت پر تعزیت کا بھی اظہار کیا ۔ خلیفہ مجاذ سید اعجاز حسین چشتی کے نمائندہ ارمان چشتی نے کہا کہ آپ نے ہمیشہ باطل قوتوں کے خلاف بلا خو ف و خطر آواز بلند کی ہے۔ جماعت المسلین کی شوعرہ کے رکن سید زین العابدین نے کہا کہ آج ہم سب کے اجتماع نے حسد ، فرقہ واریت ، تعصب اور حسد کرنیوالوں کو شکست دے دی ہے ۔اینکر پرسن رضوان جعفر نے کہا کہ شان رسول میں گستاخی پر OICکی سرد مہری قابل افسو س ہے انہوں نے کہا کہ نبی پاک ﷺ کی گستاخی پر ہمیں متحد ہوکر دنیا کو دکھانا ہوگا کہ مسلمان متحد ہیں ان کے ایک سوا ل کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ 56مسلم ممالک کے سربراہان اپنی عیاشیوں اور حکمرانی کو برقرار رکھنے میں مصروف ہیں ۔ہندؤ برادری کے رہنما پنڈت شام لال شرما نے کہا کہ ہمیں دکھ ہو رہا ہے کہ حکمران ہمارے ملک کو تباہی کی جانب لے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ بچوں میں ایک دوسرے کے مذہب کے احترام کی تعلیمات کو پروان چڑھایا جائے ۔ معروف ٹی وی اینکر صدا م طفیل نے قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر قوم و مذہب میں شر انگیزی کرنیوالے لوگ موجود ہیں لیکن اسلامی تعلیما ت انسانیت کے احترام کا درس دیتی ہے اور شر انگیز کرنے والے کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہے ۔معروف اینکر صفان خان نے کہا کہ میں یہ سوال کرتاہوں کہ اگر قومی اسمبلی میں گستاخانہ خاکو ں پر جس طرح ملک بھر میں مظاہرے کےئے گئے اسی طرح Charlie Hebdoپر فائرنگ کی مذمت کی جاتی تو دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کو سراہاجاتا انکے سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہمارا دفتر خارجہ مصلحتوں کا شکار رہا ہے اگر لیڈر جراؤت مند ہوتو اسکی فوج بھی بہادر ہوتی ہے ۔

12/8/2016 11:48:15 PM