Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

گستاخانہ خاکے کی اشاعت کی مذمت کایہ طریقہ کسی بھی طرح مناسب نہیں کہ اپنے شہروں اورگلیوں میں احتجاج کرکے ایک دوسرے کاقتل کیاجائے۔الطاف حسین


 Posted on: 1/17/2015
گستاخانہ خاکے کی اشاعت کی مذمت کایہ طریقہ کسی بھی طرح مناسب نہیں کہ اپنے شہروں اورگلیوں  میں احتجاج کرکے ایک دوسرے کاقتل کیاجائے۔الطاف حسین
یہ عمل سرکاردوعالمؐ سے محبت کااظہار نہیں بلکہ ان کی تعلیمات کے سراسرخلاف ہے
منشائے الٰہی یہی ہے کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو ،جوایک دوسرے کو بلاجوازقتل کرے وہ منشائے الٰہی کے خلاف جاتاہے
ملت اسلامیہ کا المیہ ہے کہ 56 مسلم ممالک کے سربراہان اپنی اپنی حکومت اور شہنشاہیت برقرار رکھنے کیلئے اپنی عیاشیوں اور مفادات میں مست ہیں
ایم کیوایم کے زیراہتمام ’’ دنیا کی بدلتی صورتحال اور اتفاق بین المذاہب ‘‘ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب
لندن۔۔۔ 17جنوری 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکے کی اشاعت انتہائی قابل مذمت عمل ہے لیکن اس کی مذمت کایہ طریقہ کسی بھی طرح مناسب نہیں کہ اپنے شہروں اورگلیوں میں احتجاج کرکے ایک دوسرے کاقتل کیاجائے اوربے گناہ شہریوں کی املاک کونقصان پہنچایاجائے۔یہ عمل سرکاردوعالمؐ سے محبت کااظہار نہیں بلکہ ان کی تعلیمات کے سراسرخلاف ہے۔ یہ ملت اسلامیہ کا المیہ ہے کہ 56 مسلم ممالک کے سربراہان اپنی عیاشیوں ، مفادات اوراپنی اپنی حکومت اور شہنشاہیت برقرار رکھنے میں مست ہیں جس کے باعث ملت اسلامیہ بکھری ہوئی ہے۔انہوں نے ان خیالات کااظہارآج لال قلعہ گراؤنڈعزیزآبادمیں ایم کیوایم کے زیراہتمام منعقد کی گئی ایک کانفرنس سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کاموضوع ’’ دنیا کی بدلتی صورتحال اور اتفاق بین المذاہب ‘‘ تھا۔ اس اجتماع میں مسلمانوں کے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے جیدعلمائے کرام، مشائخ عظام، زاکرین اورواعظین کے ساتھ ساتھ ہندو، سکھ اورعیسائی مذہب کے اکابرین کے علاوہ دانشوروں، کالم نگاروں، ٹی وی چینلزکے اینکرز، یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام اورزندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔اجتماع سے اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے مذاہب عالم کی تاریخ، ان کی تعلیمات اور تمام مذاہب کی تعلیمات کے بنیادی نکات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے حوالے سے دنیابھرمیں ہونے والی تبدیلیوں، پاکستان میں دہشت گردی ، مذہبی انتہاپسندی اورموجودہ حالات میں مذہبی رواداری ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورتمام عقائدکے درمیان باہمی احترام کے بارے میں تفصیلی اظہارخیال کیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے قرآن مجیدکی مختلف سورتوں کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ قرآن مجیدمیں واضح فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے روز سزا اور جزاکافیصلہ کرے گالہٰذا ہم انسانوں کوکوئی حق نہیں پہنچتاکہ ہم کسی کو کافریاجہنمی قرار دیں اورواجب القتل قراردیں۔انہوں نے کہا کہ قرآن مجیدکی سورہ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشادفرمایاہے کہ ’’ جولوگ اوراس کے رسول ؐ سے لڑیں اورملک میں فساد کرنے کودوڑتے پھریں ان کی سزایہی ہے کہ ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور پیرکاٹ دیے جائیں ، وہ سولی پر چڑھادیے جائیں یاملک سے نکال دیئے جائیں ‘‘ ۔ انہو ں نے کہاکہ اسلام کانام لیکر مساجد، امام بارگاہوں، بزرگان دین کی درگاہوں، مندروں، کلیساؤں، دیگر مذاہب کی عبادتگاہوں پر حملے کرنے والے، سیکوریٹی فورسزکے ہیڈ کوارٹرز ،سول وعسکری تنصیبات، بازاروں میں بم دھماکے کرنے والے اورپشاورآرمی پبلک اسکول میں معصوم بچوں کاقتل عام کرنے والے اسلام کے دوست نہیں بلکہ اسلام کے نام پرملک میں فسادبرپاکررہے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ تمام مذاہب نے احترام انسانیت کادرس دیا، اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اوراس میں انسانیت کاجذبہ پیداکیا،اسے دیگرانسانوں سے پیارکرنے اور انکی مددکرنے کی تعلیم دی۔یہی وجہ ہے کہ اگرسڑک پر کسی مرد، عورت یابچے کوچوٹ لگ جائے توہم اس سے اس کامذہب ، فقہ، مسلک یاعقیدہ نہیں پوچھتے بلکہ اس کی مددکرتے ہیں۔ منشائے الٰہی یہی ہے کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اورجوایک دوسرے کو بلاجوازقتل کرے وہ منشائے الٰہی کے خلاف جاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ میں یہ چاہتاہوں کہ ہم میں سے کسی کے ہاتھ سے کسی کاخون ناحق نہ ہو۔ ہم کسی مذہب، فقہ ،مسلک یاعقیدے کے خلاف نہیں بلکہ ہم پورے ملک میں مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورتمام عقائدکے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام کاماحول قائم کرناچاہتے ہیں اور پاکستان بھرکے عوام میں اسلام کے احترام انسانیت کے سنہرے درس کو پھیلانا چاہتے ہیں اورسب کویہی سمجھاناچاہتے ہیں کہ خدارا ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارو اورایک دوسرے کی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ کرو۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ قرآن مجیدکی سورہ ہجرات میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایاکہ ’’ ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیداکیا،پھرتمہیں قوموں اورقبیلوں اورگروہوں میں تقسیم کیا تاکہ آپس کی شناخت ہو، تم میں افضل وہی ہے جوتقوے میں اعلیٰ ہو ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ مرد اورعورت چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ان کے ملاپ سے بچہ پیداہوتاہے اوربچہ عموماً وہی مذہب یاعقیدہ اختیارکرتاہے جواس کے والدین یاگھروالوں کاہوتاہے توپھر کسی بھی مذہب سے وابستگی کی بنیادپر کسی کا قتل کیوں ہو؟ ۔ جناب الطاف حسین نے فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے سرکاردوعالمؐ کوجس بلنداورعظیم مرتبہ پر فائزکیاہے اورجودرجہ عطاکیاہے ،کسی میگزین کی شرمناک حرکت سے اس میں بال برابربھی کمی نہیں آسکتی۔ انہوں نے کہاکہ گستاخانہ خاکوں کی ہرسطح پر بھرپورمذمت کی جانی چاہیے لیکن اس کی مذمت کایہ طریقہ کسی بھی مناسب نہیں کہ اپنے شہروں اور گلیوں میں احتجاج کرکے ایک دوسرے کاقتل کیاجائے اوربے گناہ شہریوں کی املاک کونقصان پہنچایاجائے۔یہ عمل سرکار دوعالمؐ سے محبت کااظہار نہیں بلکہ انکی تعلیمات کے سراسرخلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بھی گستاخانہ خاکوں کی شدیدمذمت کی اوراحتجاج کیا لیکن کہیں گولی نہیں چلائی، املاک کوآگ نہیں لگائی۔ انہوں نے حاظرین سے کہاکہ فوج مساجد، امام بارگاہوں، فوجی یاسول تنصیبات پرحملے کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے لہٰذاہمیں دہشت گردوں کے خلا ف پاک فوج کاساتھ دیناچاہیے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ توہین آمیز خاکے ڈنمارک، ناروے اور فرانس میں شائع ہوئے جس کی بنیاد پر فرانسیسی رسالے چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے کے بعد پیرس میں ملین مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں 40 ممالک کے سربراہان نے شرکت کرکے دہشت گردی کا شکار عوام سے یکجہتی کااظہارکیااور مزاحیہ رسالے کے سرورق پر دوبارہ توہین آمیز خاکہ شائع کیاگیا، چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے سے قبل اس رسالے کی 60 ہزار کاپیاں شائع کی جاتی تھیں اورحملے کے بعد 60 لاکھ کاپیاں شائع کی گئیں ۔ انہوں نے کہاکہ نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخانہ خاکے کی اشاعت پرہمیں عالمی برادری سے پرزوراحتجاج ضرور کرنا چاہیے لیکن اس معاملہ پر اپنے ہی ملک میں توڑ پھوڑ کرنا،اپنی ہی املاک کو نذرآتش کرنا اور اپنے ہی لوگوں کی جان لینے کے عمل کو کسی بھی طرح درست قرارنہیں دیا جاسکتا ۔گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اورکہیں پرتشدد واقعات رونما نہیں ہوئے لیکن کراچی میں جماعت اسلامی کی طلباء تنظیم نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، احتجاج کے دوران شرپسند وں نے پولیس اور صحافیوں پر گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں دوصحافی اور ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگئے،جماعت اسلامی ایک مرتبہ پھر کراچی کو خاص طورپر نشانہ بناکر شہر کو آگ وخون میں نہلاناچاہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک ماہ قبل آرمی پبلک اسکول پشاور میں طالبان دہشت گردوں کی جانب سے اسکول کے معصوم بچوں پراندھادھند گولیاں برسائیں ، معصوم بچوں کو سفاکی سے قتل کردیا ، اساتذہ کو زندہ جلایا گیااور مسلح افواج کے افسران وجوانوں کے بچوں کے سرتن سے جدا کردیئے گئے لیکن اس دہشت گردی اور بربریت کے خلاف کسی بھی مذہبی جماعت نے کوئی احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا۔اسی طرح طالبان ، القاعدہ اور داعش کے دہشت گردوں کی جانب سے ملک کے دیگر حصوں میں خودکش حملوں اوربم دھماکوں میں ہزاروں شہریوں کو خاک وخون میں نہلادیا گیالیکن کسی مذہبی جماعت نے دہشت گردی اور بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف کوئی احتجاجی جلسہ جلوس کرنا تو کجا ،ان سفاک دہشت گردوں کاکھل کرنام تک نہیں لیا ۔ جناب الطاف حسین نے سانحہ پشاور کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تمام شہداء کے لواحقین سے دلی یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ توہین آمیز خاکے شائع کرنا قابل مذمت ہے ،اس طرح کا عمل کرکے نہ صرف مسلمانوں کو مشتعل کیاجارہا ہے بلکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیلا بھی جارہا ہے۔مذہب کے نام پر فرانس میں دہشت گردی کے واقعات کا امریکہ ، برطانیہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں اوروہاں کے اسکولوں میں زیرتعلیم مسلم بچے شدید خوف کا شکار ہیں،اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ انہوں نے اجلاس کے شرکاء سے کہاکہ آپ کو یاد ہوگا کہ امریکہ میں نائن الیون کے المناک واقعہ کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا تھاکہ ٹوئن ٹاور پر حملہ ’’کروسیڈ وار‘‘یعنی صلیبی جنگوں کا آغاز ہے ۔ جناب الطاف حسین نے دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پاکستان پر مرتب ہونے والے اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ کریگ ہملٹن پارکر CRAIG HAMILTON PARKER نامی دانشور نے پیش گوئی کی ہے کہ پڑوسی ملک بھارت، پاکستان کی کمزور صورتحال کا فائدہ اٹھاکر کشمیراورنیپال کواپنی ریاست میں شامل کرکے اپنی سرحدوں میں توسیع کرلے گا۔ اس کے علاوہ بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش کو پیش کش کی جائے گی کہ وہ دوبارہ بھارت کا حصہ بن جائے ۔ اس پیش گوئی میں اس یقین کااظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان کابڑا حصہ بھارت میں شامل ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کا چاہنے والا شہری ہوں اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز کے خلاف اس قسم کے منصوبے کو ناکام بنائے۔ اسی طرح فاشسٹ نظریات رکھنے والے ایک روسی فلاسفر ایلگزینڈر ڈیوگنALEXANDER DUGIN نے چوتھی تھیوری پیش کی کہ دنیا میں روس کے ایک عالمی قوت بن کر ابھرے گا اور روس یا تو تمام ممالک پر غلبہ حاصل کرلے گا یا انہیں غلام ریاست بنالے گا۔اس تناظر میں پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک چائنا، افغانستان، ایران اوربھارت سے روابطہ، روس اور چائنا میں بڑھتی ہوئی قربت، پاکستانی سرحدوں پر بھارت کی جانب سے جارحیت، پاکستان میں مذہبی انتہاء پسندی ،فرقہ واریت کا فروغ اور ملک میں القاعدہ ، داعش اور طالبان کی مذموم کارروائیاں پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں ہیں ۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں القاعدہ، داعش اور طالبان کی وال چاکنگ اور لٹریچرزکی تقسیم کا حکومت کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیاجارہا میرا مطالبہ ہے کہ حکومت اس قسم کی نفرت انگیز اور شرانگیز وال چاکنگ اور لٹریچر کی تقسیم کافوری نوٹس لے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، پاکستان میں مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور احترام انسانیت کے فروغ کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور نتائج کی پرواہ کیے بغیرالقاعدہ ، داعش اورطالبان دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کررہی ہے ۔ اس حق پرستانہ جدوجہد میں حق پرست رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف، حق پرست ارکان سندھ اسمبلی ساجدقریشی، رضاحیدر اور منظرامام سمیت ایم کیوایم کے درجنوں کارکنوں کو شہید کردیا گیا، اللہ تعالیٰ ہمیں یہ صدمات برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے اور حق پرستانہ جدوجہد میں ہماری غیب سے مدد فرمائے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کوانگنت اندرونی وبیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے،وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں اتحاد ویکجہتی کامظاہرہ کریں،اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی سلامتی وبقاء ،ترقی وخوشحالی اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے اپنا بھرپورکردار ادا کریں۔جناب الطاف حسین نے ملک سے مذہبی انتہاء پسندی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جرات مندانہ فیصلے کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف، مسلح افواج کے تمام افسران اور جوانوں کو سلام تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے۔اجلاس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر مسلم ممالک کے سربراہان اور OIC کی خاموشی ، نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر فرانس کی حکومت کے کردار ، آرمی پبلک اسکول پشاور میں معصوم بچوں کو سفاکی سے قتل کرنے والوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے نہ کرنے والی مذہبی جماعتوں کے خلاف قرارداد مذمت پیش کی گئی جبکہ شرکاء کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد میں جماعت اسلامی کو دہشت گردتنظیم قراردیکر اس پر فوری پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اپنے ہاتھ بلند کرکے ان قراردادوں کو متفقہ طورپر منظور کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ ملت اسلامیہ کا المیہ ہے کہ 56 مسلم ممالک کے سربراہان اپنی عیاشیوں ، مفادات اوراپنی اپنی شہنشاہیت برقراررکھنے میں مست ہیں جس کے باعث ملت اسلامیہ بکھری ہوئی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملت اسلامیہ کیلئے کوئی ایسا فرد بھیج دے جو ملت اسلامیہ کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پرو دے۔انہوں نے کہاکہ نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ؐ کی شخصیت ہمارے لئے انتہائی قابل احترام ہے اور کوئی مسلمان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کے دفترخارجہ کو مزاحیہ رسالے کے دفتر پر دہشت گردوں کے حملے کے ساتھ ساتھ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر بھی اظہارمذمت کرنا چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے اجلاس کے تمام شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح کسی مشین میں چھوٹے سے چھوٹا پرزہ بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح ہر انسان کی بھی اپنی اہمیت ہوتی ہے لہٰذا ہمیں چھوٹے بڑے کی تفریق ختم کرکے سب کی قدر کرنی چاہیے ، انہوں نے اجلاس کے شرکاء پر زوردیا کہ وہ اپنی اپنی بساط کے مطابق مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اپنا کردارادا کریں ،جس طرح قطرہ قطرہ کرکے دریا بنتا ہے اسی طرح مختلف انسانوں کی صلاحیتوں کو جمع کرکے زندہ اور ترقی یافتہ قومیں پیدا ہوتی ہیں۔اجلاس کے آخر میں معروف عالم دین اور حق پرست سینیٹر مولانا تنویرالحق تھانوی نے دعا کرائی۔ 
تصاویر       وڈیو حصہ پہلا  دوسرا



12/8/2016 5:59:05 AM