Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہیدوں کی پکار ..... سانحہ پشاورکے ایک ماہ ہونے پر قائد تحریک جناب الطاف حسین کی خصوصی نظم


 Posted on: 1/17/2015
آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہیدوں کی پکار
(سانحہ پشاورکے ایک ماہ ہونے پر )

(الطاف حسین)
16، جنوری2015ء
ماں کی ممتا ، باپ کی بپتا
کس کو پکارے ،کس سے پوچھے
میرے بچے ، میرے دلارے
کیوں نہ آئے کہاں گئے تم
تمہارے من کا ، تمہاری پسند کا
کھانا سب ٹیبل پہ سجا ہے
آلو گوشت کا سالن بھی ہے
کالی دال اور چاول بھی ہے
سبزی کی ترکاری بھی ہے
تمہاری پسند کا کسٹرڈ بھی ہے
تم نہ جانے کہاں ہو اب تک
ابھی تلک تم کیوں نہ آئے
کھانا پڑے پڑے ٹھنڈا ہوا ہے
دروازے پہ دستک ہوئی تو
خوشی خوشی دروازہ کھولا
اس امید پہ اس چاہت میں
پیارے بچے آئے ہوں گے
دروازہ کھلا تو پتہ چلا یہ
بچے نہیں کوئی اور ہے آیا
دروازے پہ آنے والا
دھیمی سی آواز میں بولا
آپ سب فوراً اسکول کو پہنچیں
ماں کا دل پھر دھک سے بولا
ہائے اللہ! خیر تو ہے ناں
ہمیں اسکول بلایا کیوں ہے
آخر کو یہ قصہ کیا ہے
آنے والا پہلے تو خاموش رہا پھر
پھر چپ چاپ ہی لوٹ گیا وہ
جب اسکول گئے تو دیکھا
ہرسو قیامت کا منظر بپا تھا
کیسے بتائیں کیا کچھ دیکھا
خون ہی خون تھا چاروں جانب
چاروں طرف لاشیں ہی لاشیں
کہیں پڑے تھے گوشت کے لوتھڑے 
کونے میں اک لاش کو دیکھا
بیٹا خون میں لت پت اوندھا پڑا تھا
پشت تھی اسکی گولیوں سے چھلنی
جب بیٹے کو سیدھا کیا تو
ایک اور ہولناک منظر دیکھا
بیٹے نے یوں اپنے جسم سے
چھوٹی بہن کو چھپا لیا تھا
تاکہ اپنی چھوٹی بہن کو
گولیاں لگنے سے بچالے
لیکن وہ معصوم سا بھائی
اپنے جسم پہ گولیاں کھاکے
اپنی اس معصوم بہن کو
درندوں سے وہ بچا نہ پایا
اور یوں اس کی بہن بھی آخر
بھائی کے ساتھ شہید ہوگئی

کیسے بتائیں کیا کچھ دیکھا
چاروں طرف قیامت کے منظر
ایک طرف بچوں کی لاشیں
دوسری جانب پڑی ہوئی تھی
پرنسپل کی سوختہ لاش
وہ معصوم سے پیارے بچے
کچھ کے بدن گولیوں سے چھلنی
اور کچھ کے سر تن سے جدا تھے
خون میں لت پت بچوں کے لاشے
پوچھ رہے تھے چیخ چیخ کر
آخر ہم کو کیوں مارا ہے
آخر ہمارا قصور کیا ہے
کیا ہے بس یہ جرم ہمارا
کہ ہم فوجیوں کے بچے ہیں

کیسے بتائیں کیا کچھ دیکھا
ہر جانب دلخراش منظر
ماؤں کی وہ گریہ زاری
رو رو کر وہ سینہ کوبی
ماؤں کا وہ رونا سن کر
معصوم شہیدوں کے لاشوں سے
آنے لگیں بس یہ آوازیں
اے ماؤں! تم کیوں روتی ہو
کیوں سینہ کوبی کرتی ہو
ہم نے تو بس اپنے لہو سے
اپنے وطن کا قرض چکایا
چپ ہوجاؤ پیاری ماؤں
چپ ہوجاؤ ، چپ ہوجاؤ
تم گر ایسے روتی رہو گی
ہماری روح کو اذیت ہوگی
سو اے میری پیاری ماں تم
اب مت رونا ، اب مت رونا
گر کچھ کرسکتی ہو تو پھر
ہمت کرو اور آگے بڑھو اب
جنہوں نے خون کی ہولی کھیلی
ان سفاک درندوں کے خلاف
طالبان دہشت گردوں کے خلاف
اب میدان میں آجاؤ تم
جنگ میں پاک افواج کا اب
بڑھ چڑھ کر تم ساتھ دو اب
اپنے پاک وطن سے بس اب
ان درندوں کا خاتمہ کردو
تاکہ یہ سفاک درندے 
پھر نہ کسی کی گود اجاڑیں
یہی ہے بس پیغام ہمارا
رہے گا زندہ نام ہمارا
اے پیاری ماؤں اب تم کو
ہمارا ہے یہ سلام آخر
پاکستان ہو زندہ باد
پاکستان پائندہ باد


12/8/2016 9:58:06 PM