Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

فرانسیسی میگزین میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ذریعے دنیاکو جنگ کی طرف دھکیلاجارہاہے۔الطاف حسین


فرانسیسی میگزین میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ذریعے دنیاکو جنگ کی طرف دھکیلاجارہاہے۔الطاف حسین
 Posted on: 1/15/2015
فرانسیسی میگزین میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ذریعے دنیاکو جنگ کی طرف دھکیلاجارہاہے۔الطاف حسین
اگریہ گستاخیاں جاری رہیں اورقوموں کے جذبات قابوسے باہرہوگئے توکہیں تیسری عالمی جنگ نہ ہوجائے 
اگرخدانخواستہ یہ جنگ ہوئی تویہ صلیبی جنگ ہوگی جس کااشارہ سابق امریکی صدربش نے نائن الیون کے بعددیاتھا
ملت اسلامیہ اس معاملے پر ہوشمندی کامظاہرہ کرے ، اپنی کمزوریوں کا جائزہ لے اور اپنے اندر اتحاد پیدا کرے
اسلامی ممالک ملکر وفودبنائیں اورمغربی ممالک سے دلائل کے ساتھ بات کریں ،اگر مظاہرے کرنا ہیں تواقوام متحدہ اور یورپی یونین کے سامنے مظاہرے کرناچاہئیں، ان المناک واقعات پر ملت اسلامیہ کا کیاکردار ہے؟او آئی سی کہاں غائب ہے ؟
معصوم بچوں کو قتل کرنے والوں، مساجد ، امام بارگاہوں، بازاروں ، سول اور عسکری تنصیبات پر حملے کرنے والوں ، ان کی حمایت کرنے والوں اور گستاخانہ کارٹون شائع کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔مختلف ٹی وی چینلزپراظہارخیال
قائدتحریک الطاف حسین کا فرانسیسی میگزین میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی شدید الفاظ میں مذمت
وڈیو   جیو   سماء
English
لندن۔۔۔15،جنوری2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے فرانسیسی میگزین میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کاعمل کرکے مسلمانوں کواشتعال دلانے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے بلکہ دنیاکو جنگ کی طرف دھکیلاجارہاہے، اگریہ گستاخیاں جاری رہیں اورقوموں کے جذبات قابوسے باہرہوگئے توکہیں تیسری عالمی جنگ نہ ہوجائے ۔ ملت اسلامیہ اس معاملے پر ہوشمندی کامظاہرہ کرے ، اپنی کمزوریوں کا جائزہ لے اور اپنے اندر اتحاد پیدا کرے۔انہوں نے یہ بات اس معاملے پر مختلف چینلزپر اظہارخیال کرتے ہوئے کہی۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اس سے قبل بھی ڈنمارک،ناروے اور فرانس میں ہوئی اوراب ایک مرتبہ پھر فرانس میں یہ گستاخانہ عمل کیا گیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ روایت بن چکی ہے کہ جب اس قسم کا افسوسناک واقعہ رونما ہوتاہے تو ہمارا اسلامی جذبہ بیدار ہوجاتا ہے اور ہم جلسہ جلوس شروع کردیتے ہیں،اپنے ہی لوگوں کی املاک کی توڑپھوڑکرتے ہیں اورپرتشددکارروائیاں کرتے ہیں جن میں جانی ومالی نقصان ہوتا ہے جبکہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے والوں کاکوئی نقصان نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ پہلے چارلی ہیبڈو کی 60 ہزار کاپیاں شائع ہوتی تھیں ،اس واقعہ کے بعد60 لاکھ کاپیاں شائع ہوئیں جوپوری دنیا میں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ امریکہ میں نائن الیون کے واقعہ میں بہت سی جانوں کازیاں ہوا لیکن اس کے بعد عراق، افغانستان، شام، الجزائز، یمن اور پاکستان میں مسلمانوں کا جو حشر ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ان المناک واقعات پر ملت اسلامیہ کا کیاکردار ہے اوراو آئی سی کہاں غائب ہے ؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم کوئی کنکریٹ بات نہیں کرتے بلکہ جذباتی ہوکر خود کو اسلام کا سب سے بڑا شیدائی ظاہرکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد پوری دنیا چیخ اٹھی، امریکی صدر جارج بش کے منہ سے نکل گیا کہ اب کروسیڈ جنگ ( صلیبی جنگ ) شروع ہوگئی ہے لیکن ہم نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔انہوں نے کہاکہ فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے ذریعے مسلمانوں کواشتعال دلانے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے بلکہ دنیاکو جنگ کی طرف دھکیلاجارہاہے، اگریہ گستاخیاں جاری رہیں اورقوموں کے جذبات قابوسے باہرہوگئے توکہیں تیسری عالمی جنگ نہ ہوجائے اوراگرخدانخواستہ یہ جنگ ہوئی تویہ صلیبی جنگ ہوگی جس کااشارہ سابق امریکی صدربش نے 9/11کے بعددیاتھا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہماراطرزعمل یہ ہے ایک جگہ ہم توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں اور یہ ظاہرکرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ؐ سے بہت محبت ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک بے گناہ کی جان خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے اور ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ ایک ماہ قبل 16،دسمبر2014ء کو پشاورمیں آرمی پبلک اسکول میں جوقیامت صغریٰ ڈھائی گئی، معصوم کلیوں کو کچلا گیا، معصوم بچوں کو گولیاں ماری گئیں ، انکے گلے کاٹے گئے اور اسکول کے اساتذہ کو زندہ جلایاگیا،اس وقت کتنے احتجاجی جلسے جلوس کئے گئے؟میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف جلسہ جلوس کرنے والوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ سرکار دوعالم ؐ کے کس درس، تبلیغ یا حکم میں ہے کہ اس طرح معصوم بچوں کو ذبح کردو؟ نبی کریم ؐ کی شان تو یہ ہے کہ آپؐ جنگ پرروانگی کے وقت صحابہ کرامؓ کوحکم دیتے تھے کہ ہم جنگ میں جارہے ہیں، فتح کی صورت میں خواتین اور بچوں کو قتل نہ کرنا اور پھل داریا سایہ دار درختوں کو نہ کاٹنا۔ گستانہ خاکوں کی اشاعت پر آج جلسہ جلوس نکالنے والے کتنے لوگوں نے آرمی پبلک اسکول پشاورمیں معصوم بچو ں کاقتل عام کرنے والے سفاک دہشت گردوں کا نام لیکر مذمت کی اوریہ کہا ہو کہ یہ طالبان،داعش اور القاعدہ کے دہشت گرد ہیں؟ یہاں ان کے منہ پر تالے لگ جاتے ہیں اور آج جلسہ جلوس نکال کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ امریکہ، مغربی ممالک کو پچھاڑ دیں گے اور توہین آمیز، بیہودہ اور ناقابل برداشت خاکے شائع کرنے والوں کا قلع قمع کردیں گے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قرآن مجید اورسرکاردوعالمؐ کی ختم نبوت پر یقین رکھتاہوں ،میں ان نام نہادملاؤں کی طرح نہیں جواسلام کانام لیکرمنافقت کرتے ہیں اورقرآنی آیات اوراحادیث کی تجارت کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیاکہ کتنے اسلامی ممالک ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قرآن مجید اور ختم نبوت پر یقین رکھنے والے دنیابھرکے مسلمانوں کو اپنے ملک میں بغیرویزے کے داخل ہونے، اپنے ملک کی شہریت دینے ،وہاں رہنے اور نوکری کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟جبکہ دوسری جانب مغربی ممالک میں آبادمسلمانوں کوتمام مساوی حقوق اورسہولتیں حاصل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم امہ کے اتحاد کا یہ عالم ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سربراہی کانفرنس کی تو انہیں قتل کردیا گیا، کرنل قذافی کوقتل کیاگیا، یاسرعرفات اورصدام حسین کو بھی قتل کردیا گیالیکن ہم خاموش رہے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ آج گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پرسعودی عرب اورمشرق وسطیٰ کے ممالک نے کس ردعمل کااظہارکیا؟ اسلامی ممالک کی تنظیم ’’او آئی سی ‘‘ کہاں سوئی ہوئی ہے؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخانہ کارٹون کی اشاعت بے حرمتی، گناہ اور گستاخی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا بہتر بدلہ لینے والا ہے لیکن اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ پہلے اپنے عمل وکردار پرنظر ڈالواوراپنے اند ر اتحاد پیدا کرو۔ہمیں اس وقت نہایت ہوشمندی کامظاہرہ کرناچاہیے ،ہم تمام اسلامی ممالک ملکر وفودبنائیں اورمغربی ممالک سے دلائل کے ساتھ بات کریں اور اگراس پر مظاہرے کرنا ہے تواقوام متحدہ اور یورپی یونین کے سامنے مظاہرے کرناچاہئیں۔ ہم غیرمسلم ملک میں توہین آمیز خاکے شائع ہونے پر جلسہ جلوس نکالتے ہیں مگر بعض لوگ جو دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے فوجیوں کو ہلاک اور طالبان ،داعش اور القاعدہ کے دہشت گردوں کو شہید قراردیتے ہیں وہ آزادی سے تقاریر کررہے ہیں،ہم ایسے عناصر کو دعوتوں پربلاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ معصوم بچوں کو قتل کرنے والوں، مساجد ، امام بارگاہوں، بازاروں ، سول اور عسکری تنصیبات پر حملے کرنے والوں ، ان کی حمایت کرنے والوں اور گستاخانہ کارٹون شائع کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے عوام پہلے یہ فیصلہ کرلیں کہ پاکستان طالبان ،القاعدہ اورداعش کا پاکستان ہے یا اللہ تعالیٰ، قرآن مجید اور رسول اللہ ؐ کے ماننے والوں کا ملک ہے ، ہمیں پہلے اس نکتہ پر متحد ہونا چاہیے۔ہم فرقہ واریت کی آگ میں جل رہے ہیں ۔ ہمیں سوچناچاہیے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح خودخوجہ اثنائےعشری شیعہ تھے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ توہین آمیزاورگستاخانہ خاکوں کی اشاعت قابل مذمت ہے ، اس کی پرامن طریقے سے جس قدرمذمت کی جاسکتی ہے کی جائے ، پرامن جلسے جلوس منعقد کیے جائیں اور احتجاجی مظاہرے بھی کیے جائیں لیکن اس سے قبل فیصلہ کیاجائے کہ آیاہم منافق ہیں یا اصل مسلمان ہیں، ہم مسجد ضرار کے ماننے والے ہیں یا سچی مسجد سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں۔انہوں نے کہاکہ صرف متحدہ قومی موومنٹ واحد جماعت تھی جس نے ملٹری کورٹس کے قیام کی کھل کرمخالفت کی اورکہاکہ پہلے اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ ؐ اور قرآن مجید کی تعلیمات کے خلاف کام کرنے والوں اور رسول اللہ ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیاجائے لیکن جب آرمی چیف اورآئی ایس آئی کے سربراہ وردی میں ہوں اور ان کے ہاتھوں میں اسٹک بھی ہوتو انکے سامنے بعض عناصر ملٹری کورٹس کی حمایت کرتے ہیں اور بعد میں مکرجاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم نے ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت نہیں کی۔ ایسے منافق عناصر کے کھوکھلے نعروں سے مغربی دنیا پرکیا اثر پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں جذباتی نعرے لگاتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ مغربی ممالک میں آباد کروڑوں مسلمانوں کا کیاہوگا؟ آج لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ امریکہ ، برطانیہ اور مغربی ممالک کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلمان بچوں کوآج شک کی نظرسے دیکھاجارہاہے، بعض اسکولوں میں زیرتعلیم مسلمان بچوں کو طالبان ، القاعدہ اور داعش کہہ کر پکارا جارہا ہے،انہیں طعنے دیے جارہے ہیں، بہت سے والدین نے ڈرکی وجہ سے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا بند کردیا ہے مگرہم حالات کاحقیقت پسندی سے جائزہ لینے اورہوشمندی کامظاہرہ کرنے کے بجائے آج بھی جذباتیت کامظاہرہ کررہے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی سلامتی کے سب دشمن ہیں ، بھارت کی جانب سے مستقل سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور امریکہ اورمغربی ممالک کی جانب سے بھارت کا بھرپورساتھ دیا جارہا ہے جبکہ پاکستان تنہائی کاشکارہے ۔ ان حقائق کے باوجود بعض عناصر کہتے ہیں کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہمارے پاس ایٹم بم ہیں،کیا وہ نہیں جانتے کہ روس کے پاس بھاری تعداد میں ایٹم بم ہونے کے باوجود اس کا کیا انجام ہوا؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ ایٹم بم کوجوڑنے اورزندہ رکھنے میں ایک دن میں کتنے ملین ڈالر کے اخراجات ہوتے ہیں؟ پاکستان مشکل حالات سے دوچارہے لہٰذا ہمیں لوگوں کے جذبات بھڑکانے کے بجائے ہوشمندی سے کام لیں اوراتحادکامظاہرہ کریں۔

12/6/2016 9:58:36 AM