Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

(مذہب کی تبدیلی کا عمل ) تحریر ارشد حسین )


(مذہب کی تبدیلی کا عمل ) تحریر ارشد حسین )
 Posted on: 3/9/2013 1
(مذہب کی تبدیلی کا عمل )
[email protected],ukتحریر ارشد حسین 
کہنے کو پاکستان ایک آزاد ریاست ہے جو دنیا کے نقشے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے شامل ہے جہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادری جس میں ہندو ،عیسائی ، سیکھ سمیت دیگر ممالک کے لو گ بھی بڑی تعداد میں رچے بسے ہوئے ہیں اور ایک آزاد زندگی گزررہے تھے یہ وہ لوگ ہیں جو قیام پاکستان سے قبل یہاں رہائش پذیر تھے جو آج بھی مستقل باشندے ہیں۔ جس طرح پاکستان بننے سے قبل مسلمان ہندو ستان میں رہائش پذیر تھے لیکن وہاں سے تمام مسلمان بعد میں پاکستان نہیں آئے تھے اور جو مسلمان آج بھی ہندو ستان میں ہیں مگر مستقل باشندے کے طور پر وہ ہندوستانی ہی کہلاتے ہیں اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ ایک سیکولر ملک ہے اور ہر شہری کومساوی حقوق حاصل ہیں وہاں رہنے والوں کا اپنا اپنا مذہب ہے جسکا احترام بھی ہے اور تحفظ بھی وہاں کوئی اقلیتی نہیں بلکہ سبس ہندوستانی کہلا تے ہیں ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ قیام پاکستان سے قبل یہاں آباد تھے اس ملک کے بننے کے بعد وہ اقلیتی کہلانے لگے جبکہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے اور ان کے حقوق بھی ریاست میں بسنے والے تمام شہر یوں کے برابر ہیں ۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس ملک میں مستقل رہنے والے شہریوں کو ان کے مساوی حقو ق سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ ان کو اقلیت کا نام دے کر انہیں احساس محرومی میں مبتلا کر دیا گیا ۔ 
پاکستان ایک آزادریاست ہے جہاںآئین وقانون تمام مذاہب ،فقہواورمسالک سے تعلق رکھنے والے پاکستانی عوام پوری آزادی سے زندگی گزارنے کا حق فراہم کرتاہے تاہم اگر یہ کہا جائے کہ یہ سب کچھ محض کتابوں ،مثالوں ، دعوؤ ں ،سیمناروں ،جلسوں اورمختلف تقاریب تک محدو د ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ارباب اختیار، حکمراں اور چند نام نہاد سیاسی ومذہبی رہنما ء ہندو اور عیسائی برادی سمیت تمام اقلیتی برادریوں کے حقوق پاکستان کے مساوی قر ار تو دیتے ہیں مگر عملی طور پراپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ جس طرح ملک میں بسنے والی ہندوسمیت دیگر اقلیتی خواتین خصوصاً جوان لڑکیوں کواغواء کرکے زبردستی مذہب تبدیل کروانے اور انکی شادیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، ان کے ساتھ ظلم وزیادتی،ناانصافی غیروں جیسابرتاؤ کیا جارہا ہے، کہیں انہیں برہنہ کر کے سرعام رسوا کیا جارہا ہے تو کسی جگہ ان خواتین کو ذہنی وجسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو کسی مقام پر ان کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کی جارہی ہیں۔ اور ظلم وزیادتی کے نہ رکنے والے واقعات اور ان کا تسلسل کے ساتھ جاری رہنا اس بات کا غماز ہے کہ جو بدقسمتی سے یہاں نہ صرف آئینی و قانونی اور جمہوری عمل کو بری طرح پامال کیا جارہا ہے جس سے دنیا بھر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو خواتین پر مظالم ڈھانے جانے والے ملک کی حیثیت سے شناخت کیا جارہا ہے۔ملک کے مختلف حصوں خصوصاًدیہی علاقوں میں ہندوخواتین اور نوجوان لڑکیوں کواغواء کرکے ان کا مذہب تبدیل کرنے کے عمل کے باعث ہندو سمیت تما م اقلیتی برادری میں نہ صرف شدیدغم وغصہ ،بے چینی ومایوسی پائی جارہی ہے بلکہ وہ عدم تحفظ کاشکار بھی ہیں جس کے سبب اقلیتی برادری نہ صرف سراپا احتجاج ہے بلکہ مختلف علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں یہ صورتحال ملک بھر کے عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اس کا ردعمل دیگر ممالک کے عوام کی جانب سے بھی شروع کر دیا گیا تو یقیناًدیگر ممالک میں بسنے والے اقلیتی خصوصاً پاکستانی خواتین کیلئے پر یشان کن ہو سکتا ہے۔ لہٰذا حکومت وقت اور ارباب اختیار کو چاہیئے کہ وہ اس حساس معاملے پر فوری توجہ دے اور ہندو سمیت تمام اقلیتی برادری کو تحفظ فراہم کر نے میں مثبت اور ٹھو س اقدامات کر ے۔

12/3/2016 9:39:37 AM