Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کے بعد مخالفت کرنے والے دراصل منافقت کررہے ہیں، الطاف حسین


 Posted on: 12/31/2014
ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کے بعد مخالفت کرنے والے دراصل منافقت کررہے ہیں، الطاف حسین
اگر سیاسی رہنماؤں کی منا فقت کا یہ عمل جاری رہا تو 2015ء جمہوریت کا نہیں مارشل لاء کا سال ہوگا
اگر ان عناصر کے منافقانہ عمل سے ملک میں مارشل لاء نافذ ہواتو اس کے ذمہ دار یہی منافق ہوں گے
منافقت کرنے والوں کے ڈانڈے لال مسجد ، مسجد ضرار اورعبداللہ بن ابی کے ماننے والے عبدالعزیز سے ملتے ہیں 
اگرسیاسی جماعتوں کو مخالفت کرنی ہے تو کھل کر کریں اور اگرہاں کرنی ہے تو کھل کر کریں تاکہ عسکری وسیاسی قیادت اورپوری قوم ایک صفحہ پر نظرآئے
بعض حالات میں قوموں کو ایسا فیصلہ کرناپڑتا ہے جو انکی روایات کاحصہ نہیں ہوتا
جنرل راحیل شریف تحقیقات کرا ئیں کہ پولیس، رینجرزاورپولیس کی ایجنسیوں کوکس نے ایم کیوایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے احکامات دیئے
شکرگڑھ سیکٹر میں پاکستانی فوجیوں پربھارتی فوجیوں کا حملہ دھوکہ دہی اور بزدلانہ ہے ، الطاف حسین
موجودہ صورتحال پرمختلف ٹی وی چینلز کو قائد ایم کیوایم الطاف حسین کے خصوصی انٹرویوز
DAWN  Dunya  SAMAA  GEO   ARY
لندن۔۔۔31،دسمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کرنے کے بعد مخالفت کرنے والی سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماء مخالفت نہیں بلکہ منافقت کررہے ہیں۔اگرسیاسی رہنماؤں کی منا فقت کایہ عمل جاری رہاتو 2015ء جمہوریت کانہیں مارشل لاء کاسال ہوگا ۔مختلف ٹی وی چینلز کو اپنے خصوصی انٹرویوزمیں جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی سیاست میں منافقت کا بہت بڑا عمل دخل رہا ہے ۔ تین روز قبل وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم میاں نوازشریف کی صدارت میں پارلیمانی پارٹیوں کے نمائندوں کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی اور وفاقی کابینہ کے ارکان کے علاوہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف او رآئی ایس آئی کے سربراہ جنر ل رضوان اختر بھی شریک تھے ۔ اس اجلاس کے پہلے سیشن میں ملٹری کورٹس کے قیام کے حوالہ سے کوئی حتمی بات نہیں ہوئی ۔دوسرے سیشن میں ایم کیوایم کے سواتمام جماعتوں نے ملٹری کورٹس کے قیام کے حق میں رضامندی ظاہر کی ۔ جب مسودہ لکھا جانے لگا اور اس میں ملٹری کورٹس کے قیام کومتفقہ فیصلہ کہاجانے لگا توایم کیوایم کے نمائندگان رشید گوڈیل،ڈاکٹر فاروق ستار، بابرغوری اورڈاکٹرخالدمقبول صدیقی نے اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ مسودے میں متفقہ کے بجائے اکثریتی فیصلہ لکھاجائے اور ایم کیوایم اس حوالہ سے اپنا اختلافی نوٹ لکھے گی کیونکہ ہمارا ماضی کا تجربہ بہت تلخ ہے، سب سے زیادہ ہماری مارلگی ہے ، ہمیں بتایاکچھ گیااورکیاکچھ اورگیا۔1992ء میں بھی ہم سے کہاگیاکہ فوجی آپریشن 72بڑی مچھلیوں کے خلاف ہوگا، ہم نے حمایت کردی لیکن آپریشن ایم کیوایم کے خلاف کیاگیا۔ لہٰذا ہم نے ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں اصولی بنیاد پر ملٹری کورٹس کے قیام کی تجویزکی مخالفت کی ۔ ایم کیوایم کی جانب سے ملٹری کورٹس کے قیام کی مخالفت پرچیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہاکہ ایم کیوایم کواعتمادمیں لیاجائے تاکہ فیصلہ اتفاق رائے سے ہو، وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے لندن رابطہ کیا، اس وقت میں کراچی میں علمائے کرام، اینکر پرسنز، مدیروں، سینئر صحافیوں اوررپورٹرز کے ایک بڑے اجتماع سے ٹیلی فون پرخطاب میں مصروف تھا اورڈیڑھ گھنٹے بعد جب میرے علم میں یہ بات آئی تو ہم نے مشاورت کے بعد مسودے میں اضافی نوٹ شامل کرنے کی رائے دی کہ ملٹری کورٹس کا دائرہ صرف ان لوگوں تک محدود ہوگا جو خودکش حملے اوربم دھماکے کرکے مساجد، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات،دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی عبادتگاہوں، اسکولوں، بازاروں ، فوجی تنصیبات اور پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں قتل وغارتگری میں ملوث ہیں،فرقہ واریت کی بنیاد پر نفرت پھیلاتے ہیں ، فرقہ ورانہ فسادات کراتے ہیں اور ملٹری کورٹس کوانہی عناصر تک محدودہوں گی اورانہیں سیاسی بنیادوں پرہرگز استعمال نہیں کیاجائے گا ۔ جب ایم کیوایم کے اضافی نوٹ کو وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی اصولی طورپر تسلیم کرلیا تب ایم کیوایم نے ملٹری کورٹس کے قیام کے فیصلے کی حمایت کی ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ میں کبھی ملٹری کورٹس قائم نہیں ہوئیں لیکن نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکہ میں ملٹری کورٹس کے قیام کی اجازت دیدی گئی کیونکہ بعض حالات میں قوموں کو ایسا فیصلہ کرناپڑتا ہے جو انکی روایات کاحصہ نہیں ہوتا اور گوانتاناموبے اس کی بڑی مثال ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم آخری جماعت تھی جس نے ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کی ،اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف، پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی اوردیگر جماعتیں ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کرچکی تھیں، آرمی چیف کے سامنے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان، پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن، ا ے این پی اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے ملٹری کورٹ کے فیصلے میں ہاں کہی اور اجلاس سے باہرآکران جماعتوں کے نمائندوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے کڑوے گھونٹ پی کراور دل پر پتھر رکھ کر ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کی ہے ۔ لیکن گزشتہ روز یہ تمام جماعتیں اچانک بدل گئیں اور ان کے نمائندوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے ملٹری کورٹس کے قیام کی مخالفت کی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ مخالفت نہیں بلکہ کھلی منافقت ہے اور اس منافقت سے صاف ظاہرہے کہ ان جماعتوں کے رہنماؤں کے ڈانڈے دراصل لال مسجد ، مسجد ضرار اورعبداللہ بن ابی کے ماننے والے زنانہ عبدالعزیز سے ملتے ہیں۔ ان عناصر کے ڈانڈے طالبان، القاعدہ اور داعش سے بلواسطہ یا بلاواسطہ ملتے ہیں ، یہی وہ عناصر ہیں جنہوں نے ماضی میں ملک کو دولخت کردیا اور اب یہی عناصر اپنے منافقانہ عمل کے ذریعہ باقی ماندہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کررہی ہیں لیکن آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ان جیسے بہادر کور کمانڈرز اور فوجی افسران کی موجودگی میں منافقانہ عمل کرنے والی جماعتیں ملک کوتباہ نہیں کرسکتیں، جب تک مسلح افواج کاایک ایک افسرزندہ ہے اورایم کیوایم کے کارکنان زندہ ہیں پاکستان کونقصان نہیں پہنچے گا۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ اگرانہیں مخالفت کرنی ہے تو کھل کر کریں ، وزیراعظم، آرمی چیف اورآئی ایس آئی کے چیف کے سامنے بھی مخالفت کریں اور اگرہاں کرنی ہے تو کھل کرہاں کریں تاکہ پوری قوم، عسکری قیادت اور سیاسی قیادت ایک صفحہ پر نظرآئیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر سیاسی ومذہبی رہنماؤں کا آرمی چیف کی موجودگی میں ’’ہاں‘‘ اورغیرموجودگی میں’’ ناں‘‘کرنے کا یہ منافقانہ طرز عمل جاری رہاتو 2015ء جمہوریت کانہیں مارشل لاء کاسال ہوگا اوراگر ملک میں مارشل لاء نافذ ہواتو اس کے ذمہ دار یہی منافق عناصر ہوں گے ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے ،ملک کو قائم ودائم رکھے اورپاکستان کو منافقوں سے محفوظ رکھے ، (آمین) ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ٹی وی چینلزکوبھی کھل کریہ تبصرہ کرناچاہیے کہ آج منافقت کرنے والے جھوٹے، مکاراورعیارہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم اب بھی اپنی بات پرقائم ہے، اگرسینیٹ میں بھی یہ بل آئے گاتوایم کیوایم اسی بنیادپر فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کرے گی کہ ان کااستعمال سیاسی بنیادوں پر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے بہادرچیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں ملک کو ایک موقع دیاہے اورہم دعاکرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ملک کو صحیح ڈگرپرلگادے۔ جناب الطاف حسین نے کراچی میں ایم کیوایم کے کارکن سیدانضارزیدی کے ماورائے عدالت قتل کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کواس کا نوٹس لیناچاہیے اوراس بات کی تحقیقات کرانی چاہیے کہ پولیس، رینجرزاورپولیس کی ایجنسیوں کوکس نے ایم کیوایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے احکامات دیئے۔انہوں نے کہاکہ آج بھی کراچی میں ایم کیوایم کے کارکنوں کوگرفتارکرکے غائب کیاجارہاہے اوران کاماورائے عدالت قتل کیا جارہاہے، ہمیں حضرت علیؓ کایہ قول نہیں بھولنا چاہیے کہ حکومت کفرسے چل سکتی ہے لیکن ظلم سے نہیں چل سکتی۔ جناب الطاف حسین نے سیالکوٹ کے شکرگڑھ سیکٹرمیں پاکستانی افواج پر بھارتی فوج کی فائرنگ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ آج صبح بھارت کی جانب سے پاکستانی فوج کو فلیگ مارچ کی دعوت دی گئی تھی لیکن جب پاکستانی فوج کے جوان وہاں پہنچیں تو بھارتی فوج نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دوفوجی جوان شدیدزخمی ہوگئے جوبعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہیدہوگئے ہیں۔انہوں نے شہیدفوجیوں کے ایصال ثواب کیلئے دعاکی اور بھارت کے بزدلانہ حملے اوردھوکہ دہی کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو اس سلسلے میں صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی فوجیوں پر بزدلانہ حملے کا نوٹس لیاجائے اور حملے میں ملوث بھارتی فوجیوں کے خلاف ایسا سخت ایکشن کیا جائے جو نظربھی آئے۔ جناب الطاف حسین نے مظفرآباد کوہالہ روڈ میں مسافر وین کے کھائی میں گرنے کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک وزخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد ومکمل صحت یابی کیلئے دعا بھی کی ۔

12/3/2016 9:39:05 AM