Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سید انظار علی عرف سید سکندر علی شہید کے قاتل خود کو رضاکارانہ طور پر پولیس کے حوالہ کردیں ورنہ انہیں قدرت کے مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑے گا، الطاف حسین


سید انظار علی عرف سید سکندر علی شہید کے قاتل خود کو رضاکارانہ طور پر پولیس کے حوالہ کردیں ورنہ انہیں قدرت کے مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑے گا، الطاف حسین
 Posted on: 12/31/2014
سید انظار علی عرف سید سکندر علی شہید کے قاتل خود کو رضاکارانہ طور پر پولیس کے حوالہ کردیں ورنہ انہیں قدرت کے مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑے گا، الطاف حسین
اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کی آل اولاد پر ایسا عذاب نازل کرے گاجسے یہ سفاکانہ عمل کرنے والے بھی دیکھیں گے اور ان کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک مجرمان بھی دیکھیں گے، الطاف حسین
سید سکندر علی کو پیر کی شب کراچی ائیرپورٹ کے قریب سے سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے اغواء کیا، الطاف حسین
منگل کی صبح ان کی لاش مواچھ گوٹھ، حب ریورروڈ، بلدیہ ٹاؤن کے قریب سے ملی، الطاف حسین
چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ نے سید سکندرعلی کے بہیمانہ قتل کا نوٹس نہ لیا تو قدرت کے مکافات عمل کے تحت ان پر اوران کے خاندان پر بھی عذاب الہی نازل ہوگا، الطاف حسین
لندن ۔۔۔31، دسمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم کے کارکن سید انظارعلی عرف سید سکندر علی شہیدکے قاتل خود کو رضاکارانہ طورپر پولیس کے حوالہ کردیں ورنہ انہیں قدرت کے مکافات عمل کا سامنا کرناپڑے گا۔ ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ سید انظارعلی ولد سید ارتضیٰ حسین رضوی اہل محلہ ، خاندان ، دوست احباب اور ایم کیوایم کے حلقے میں سید سکندرعلی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ شہید کی عمر 38 سال تھی ، وہ شادی شدہ اور چار بیٹوں کے باپ تھے اور مکان نمبرR-44 ، بلاک K نارتھ ناظم آبادکراچی میں رہائش پذیر تھے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سید سکندرعلی پیر کی شب اپنے ایک دوست کو لینے کراچی ائیرپورٹ گئے کہ ائیرپورٹ کے قریب سے سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے جوکہ ایک ڈبل کیبن ، وائٹ کلر کی کرولا اور پولیس موبائل SP-1975 میں سوار تھے ، انہیں وہاں سے اغواء کرلیا اور نامعلوم مقام پر لے جاکر انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہاکہ اس واقعہ کی اطلاع ایم کیوایم کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی نے متعلقہ رینجرز ، پولیس اور انتظامیہ کے اہم اہلکاروں میں سے جوجو فون پر دستیاب ہوئے انہیں دی ۔ ایم کیوایم کے ارکان اسمبلی منگل کی صبح ایف آئی آر درج کرانے اور گرفتاری کی پٹیشن بناکر اسے داخل عدالت کرناچاہ رہے تھے کہ اس سے قبل ہی ہمیں یہ افسوسناک اطلاع ملی کہ سکندر علی کی ڈیڈباڈی مواچھ گوٹھ ، حب ریورروڈ ، بلدیہ ٹاؤن کے قریب پائی گئی ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے بہت سے رہنماؤں اور منتخب ارکان اسمبلی کو اسی طرح بیدردی سے قتل کیا جاتا رہا ہے ۔ تمام تر ثبوت وشواہد کے ساتھ متعلقہ حکام بالا بشمول عسکری حکام کو اطلاع دیئے جانے کے باوجود ان افسوسناک سانحات کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جن عناصر نے سید انظارعلی عرف سید سکندرعلی کو اغواء کرکے بیدردی سے قتل کیا ہے ، بہتر ہے وہ خود سامنے آجائیں اور اپنے آپ کو رضاکارانہ طورپر پولیس کے حوالہ کردیں تو ان کی خیرہوجائے گی ورنہ وہ قدرت کے مکافات عمل سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے اور اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کی آل اولاد پر ایساعذاب نازل کرے گا جسے یہ سفاکانہ عمل کرنے والے بھی دیکھیں گے اوران کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک مجرمان بھی دیکھیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اس گھناؤنے عمل میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک مجرمان بھی سزا سے دوچارکرے گا۔ آخر میں جناب الطاف حسین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس ناصرالملوک اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس مقبول بابر سے کہاکہ اگرآپ نے سید انظار علی عرف سید سکندرعلی ولد ارتضیٰ حسین رضوی کے بہیمانہ قتل کا نوٹس نہ لیا تو قدرت کے مکافات عمل کے تحت آپ اور آپ کے خاندان پر بھی عذاب الہی نازل ہوگا۔

12/7/2016 2:40:22 AM