Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی اجتماع میں جناب الطا ف حسین سے ٹیلی فونک گفتگو


مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی اجتماع میں جناب الطا ف حسین سے ٹیلی فونک گفتگو
 Posted on: 12/30/2014
مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی اجتماع میں جناب الطا ف حسین سے ٹیلی فونک گفتگو
ملک سے دہشت گردی ختم کرنی ہے تو ہمیں آگے آنا ہوگا تمام علماء اور عوام کو مل کر محلہ کمیٹیاں بنانی ہوں گی، علامہ عباس کمیلی
جناب الطاف حسین نے ہمیشہ ظالموں، قاتلوں، غاصبوں کے خلاف آواز اٹھائی انہیں مرد حریت کا خطاب دیتا ہوں، علامہ علی قرار نقوی
صرف بروں کو نہ مارا جائے بلکہ جو بروں کے ساتھ ہوں انہیں بھی مارا جائے، رانا نفیس حسین
جناب الطاف حسین نے دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے، فیصل عزیزی
وہ علماء جو آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے نہیں تھے جناب الطا ف حسین کی وجہ سے ایک ٹیبل پر بیٹھے ہیں، مولانا شاہ الدین اشرفی
جناب الطاف حسین پاکستا ن کی واحد سیاسی شخصیت ہیں جو تمام مسالک کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں، ڈاکٹر عامر عبد اللہ فاروقی 
لال مسجد کو فوری خالی کرایا جائے اور ملا عزیز کو گرفتار کیا جائے، مطلوب اعوان
کراچی ۔۔۔30، دسمبر2014ء
مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے کہا ہے کہ لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں جناب الطاف حسین کے علمائے کرام سے اجتماع کے خطاب کو سو فیصد درست قرار دیاہیں اور طالبان ، داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں اوران کے حمایتیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ دہشت گردی کی جو حمایت کررہے ہیں ان سے باز پرس کی جائے اور ان سے نجات کیلئے ملک بھر میں شیعہ سنی اور دیگر مکاتب فکر کے علمائے کرام اور عوام پر مشتمل امن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں منعقدہ علمائے کرام کے اجتماع میں جناب الطاف حسین سے ٹیلی فون پر براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر علمائے کرام نے جناب الطاف حسین کی پیش کردہ مختلف قرار داد وں کی بھر پور تائید کی اور انہیں اپنی حمایت کا یقین بھی دلایا ۔ معروف عالم دین علامہ عباس کمیلی نے جناب الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب آپ کی گفتگو کی حرف بہ حرف تائید کررہے ہیں ،میرے نزدیک ملک میں کوئی فرقہ واریت ، شیعہ سنی جھگڑا نہیں ہے ، کسی محلے میں شیعہ سنی تصادم ہوا ہی نہیں ہے ، اس ملک میں صرف دو ہی طبقے ہیں ، ایک وہ طبقہ جو اپنے سوا دوسرے سب کو کافر اور واجب القتل سمجھتا ہیں اور ایک وہ جو کلمہ پڑھنے والے کو مسلمان سمجھتا ہیں ۔ 
طالبان ، داعش ہو یا کوئی تنظیم ہو انکا تعلق اسی طبقے سے ہے ، اس طبقہ نے پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلائی ہوئی ہے ، آج یہی طبقہ عراق اور شام میں قتل و غارتگری کررہا ہے ، نائیجر ، کینیامیں عیسائیوں کو قتل کررہا ہے ، یہ پوری دنیا میں دہشت پھیلا رہے ہیں ان کا صفایا عنقریب ہوکر رہے گا ۔ انہوں نے کہاکہ آج کامیاب اجتماع ہوا ہے ، میری گزارش ہے کہ یہاں جو سنا اور کہا اسے عملی شکل دینی چاہئے ، ہمیں چاہئے کہ ہم نفرتوں کے بتوں کو توڑیں ، دلوں میں محبتیں پیدا کریں ،شہروں سے دہشت گردی ختم کرنی ہے تو ہمیں آگے آنا ہوگا اور تمام علماء مل کر محلہ کمیٹیاں بنائیں اور محلے کے اندر فسادی پہنچانا جائے گا اور وہ خود ہی نکل جائے گا ۔ علامہ علی کرار نقوی نے جناب الطاف حسن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو کاوشیں اور کوشش کی ہیں وہ رنگ لارہی ہے ، ربیع الاول کا مہینہ شرو ع ہے ، عظیم نبی ﷺ پر ہماری جانیں قربان جن کی صحبت میں بیٹھنے والے صحابی بن گئے اور آج ہم اسلام کا نام لیکر قاتل بنے ہوئے ہیں ۔ ہم پیغمبر اسلام ﷺ کے ماننے والے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں ، جناب الطاف حسین نے ہمیشہ ظالموں ، قاتلوں ، غاصبوں کے خلاف آواز اٹھائی ، میرا فرض ہے کہ آج میں اپنی جانب سے الطاف بھائی کو مرد حریت کا خطاب دیتا ہوں ۔رانا نفیس حسین نے جناب الطاف حسین سے گفتگو میں کہا کہ صرف بروں کو نہ مارا جائے بلکہ جو بروں کے ساتھ ہوں انہیں بھی مارا جائے، طالبان کے ساتھ دہشت گردوں کے ٹھکانے اور نرسریوں کا بھی خاتمہ ہونا چاہئے جہاں سے ان طالبا ن کو پیدا کیاجارہاہے ۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے رہنما فیصل عزیزی نے جناب الطاف حسین سے اپنی گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپ نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے ، سنی اتحاد کونسل پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے طالبان ظالمان کے خلاف نبرد آزما ہونے کیلئے آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کرچلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ظالم ایک طرف اور مظلوم ایک طرف ہوگئے ہیں ، دہشت گردی کی جو حمایت کررہے ہیں ان سے باز پرس کی جائے ، جو مسلح افواج کے شہداء کو ہلاک کہ رہے ہیں ان کا احتساب کیاجائے، تمام دہشت گردوں کو فی الفور پکڑا جائے ، سخت ترین سزائیں دی جائیں ، اسلام وہ مذہب ہے جس میں بھاگتے ہوئے بھی عورتیں اور بچوں پر حملہ کا درس نہیں ہے طالبان مسلمان توکجا انسان بھی نہیں ہیں ۔سنی تحریک کے راشد قادری نے کہا کہ جو جماعتیں فوج کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کے قیام کی حامی تھی وہ اب مخالفت کررہی ہیں جو قابل مذمت ہے ۔ مولانا شاہ الدین اشرفی نے کہا کہ آپ وہ واحد سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے جشن عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر اجلاس منعقد کئے وہ علماء جو آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے نہیں تھے اورسلام تک نہیں کرتے تھے آج آپ کی وجہ سے ایک ٹیبل پر بیٹھے ہیں اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو پاکستان پر کوئی میری میلی نگاہ نہیں پڑ سکتی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشت گردی اس لئے ہورہی ہے کہ یہاں پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے خود موجود ہیں جب تک حکومت وقت ان کا محاسبہ نہیں کرے گی تب تک ہم اپنے ارادے میں کامیاب نہیں ہوں گے ڈاکٹر عامر عبد اللہ فاروقی نے جناب الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے خوبصورت انداز میں پاکستان کی مختلف اکائیوں ، مسالک اور فقہوں میں بٹے ہوئے مسلمانوں کا درد دلی کے ساتھ تذکرہ کیا ہے ، آپ پاکستا ن کی واحد سیاسی شخصیت ہیں جو تمام مسالک کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں یہ آپ کی محنت جستجو ، عزم ہے جس کی بناء پر آج یہاں شیعہ ، سنی ، دیو بندی ، اہلحدیث سب اکٹھے ہوتے ہیں اور ملتے ہیں ، اپنی مدارس اور مساجد میں جاکر اتحاد کی بات کرتے ہیں ، آج طالبان کو سب ہی ظالمان کہ رہے ہیں لیکن کئی سالوں پہلے جب پاکستان میں طالبان کی بات کرنے والا کوئی نہیں تھا جب آپ طالبان کا ذکر کرتے تو لوگ ہنسا کرتے تھے ، آپ نے کراچی میں طالبان کے ہونے کی پیشن گوئی کی اور آئے دن اب طالبان کی ہلاکتوں کی خبریں اخبار میں پڑھتے ہیں ۔مطلوب اعوان نے جناب الطا ف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ نے نشاندہی کی تھی کہ طالبان کراچی میں آچکے ہیں دوسروں نے آپ کا مذاق اڑایا تھا ، ہم آپ کی بصیرت کو سلام پیش کرتے ہیں ، جیسا آپ نے کہا ویسا ہی ہورہا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لال مسجد کو فوری خالی کرایا جائے اور ملا عزیز کو گرفتار کیاجائے ۔تحریک منہاج القرآن صوبہ سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر خواجہ محمد اشرف نے جناب الطاف حسین سے تشکر کااظہا رکیا اور کہا کہ آ پ نے دھرنے میں بھی بڑی مدد کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جتنی باتیں آپ نے پہلے طالبان کے حوالے کی ہیں وہ سب درست ثاب ت ہوئی ہیں ، عبد العزیز عورت کے روپے میں نکلا تھا جو بچ گیا نہیں تو مارا جاتا ۔


12/8/2016 8:05:56 AM