Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم قصبہ علی گڑھ سیکٹر کے کارکن سید سکندر علی کی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری اور بہیمانہ تشدد کے بعد گلا گھونٹ کر ماورائے عدالت قتل کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، ایم کیوایم


ایم کیوایم قصبہ علی گڑھ سیکٹر کے کارکن سید سکندر علی کی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری اور بہیمانہ تشدد کے بعد گلا گھونٹ کر ماورائے عدالت قتل کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، ایم کیوایم
 Posted on: 12/30/2014
ایم کیوایم قصبہ علی گڑھ سیکٹر کے کارکن سید سکندر علی کی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری اور بہیمانہ تشدد کے بعد گلا گھونٹ کر ماورائے عدالت قتل کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، ایم کیوایم 
سید سکندرعلی کے بہیمانہ قتل کی انکوائری ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے کرائی جائے اور پاسپورٹ آفس کے ڈائریکٹر خالد میمن سمیت اعلیٰ افسران اوراعلیٰ پولیس افسران کو شامل تفتیش کیا جائے،رابطہ کمیٹی کامطالبہ 
سید سکندر علی گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل یہ شکایت کررہے تھے کہ انکو پاسپورٹ آفس کے ڈائریکٹر خالد میمن اور اعلیٰ افسران کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہیں
گزشتہ رات پولیس کی سادہ وردی میں ملبوث اہلکاروں نے ایک عدد پولیس موبائل اور ڈبل کیبن VIGO کے ہمراہ سفید رنگ کی Carolla کار نمبر SP-1975 میں38سالہ کارکن سید سکندر علی کو جناح انٹر نیشنل ائیر پورٹ کی پارکنگ سے تقریباً10بجے کے قریب گرفتار کرکے لاپتہ کردیا تھا
پیر و منگل کی درمیانی شب تقریبا صبح  4بجے سیدسکندر علی کی تشددزدہ بوری بند نعش کراچی کے علاقے مواچھ گوٹھ بلدیہ ٹاؤن سے برآمد ہوئی 
ہرگزرتے دن کے ساتھ ایم کیوایم اپنے لاپتہ کارکنان کے جنازے اٹھارہی ہے اوراب تک درجنوں کارکنان کوپولیس کے سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے اغواء کرکے قتل کیاجاچکاہے ایم کیوایم کے کارکنان کی پیٹشنیں داخل ہونے کے باوجود انصاف کی عدالتیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں،پاکستان رابطہ کمیٹی انچارج قمرمنصور
پانی سرسے اونچا ہوتا جارہا ہے اگر اب بھی ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افسران کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی توایم کیوایم پرامن احتجاج کا اپنا جمہوری حق استعمال کریگی
ایم کیوایم جمہوریت پریقین رکھنے والی امن پسندجماعت ہے تاہم ایساگماں ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکنان اور مہاجروں پرظلم و ستم اور سازشوں کی روک تھام کسی حکمران یا قانون نافذ کرنیوالے ادارے کے اعلیٰ افسران کے لئے اہمیت کا حامل نہیں
کارکنان کے پے در پے ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف بیانات ،پریس کانفرنسوں اور عدالتوں میں پٹیشن دائرکرنے اور انسانی حقوق کے تنظیموں و علمبرداروں کی تو جہ مبذول کرانے کے باوجود ہماراکوئی پرسان حال نہیں ہے
جب ملک میں قانون کے محافظوں ظالم بن جائیں تو مظلوم عوام انصاف کی فریاد لیکر عالمی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے؟
ایم کیوایم رابطہ کمیٹی پاکستان کے انچارج قمرمنصورکی اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ خورشید بیگم سیکرٹریٹ عزیزآباد میں ہنگامی پریس کانفرنس
کراچی:۔۔۔30؍دسمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ایم کیوایم قصبہ علیگڑھ سیکٹریونٹ131کے کارکن سیدسکندرعلی کے پولیس کے سادہ لباس اہلکاروں کے ہاتھوں اغواء کے بعدبہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدرپاکستان،وزیراعظم،وفاقی وزیرداخلہ،چیف آف آرمی اسٹاف ،وزیراعلیٰ سندھ،گورنرسندھ اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران اورآئی جی سندھ سے مطالبہ کیاہے کہ سیدسکندرعلی عرف سکندرکوکراچی ائیرپورٹ کی حدودسے پولیس کے سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے اغواء اورانہیں نامعلوم مقام پرلیجاکربہیمانہ تشددکا نشانہ بناکرگلاگھونٹ کربے دردی سے ماورائے عدالت قتل کرنے کاسنجیدگی نوٹس لیاجائے اور سید سکندرعلی کے بہیمانہ قتل کی انکوائری ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے کرائی جائے اور پاسپورٹ آفس کے ڈائریکٹرخالدمیمن سمیت اعلیٰ افسران، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے اعلیٰ پولیس افسران کو شامل تفتیش کیا جائے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی(CAA) کے حکام کے ذریعے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرکے اسے ثبوت کے طورپر داخل دفتر کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ہرگزرتے دن کے ساتھ ایم کیوایم اپنے لاپتہ کارکنان کے جنازے اٹھارہی ہے اوراب تک درجنوں کارکنان کوپولیس کے سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے اغواء کرکے قتل کیاجاچکاہے تاہم انصاف کی وہ عدالتیں جہاں ہمارے کارکنان کی پیٹشنیں داخل ہیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم جمہوریت پریقین رکھنے والی امن پسندجماعت ہے جس پربے شمارالزامات عائدکیے جاچکے ہیں لیکن ایم کیوایم ہرالزام سے بری ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اب پانی سرسے انچاہوتاجارہاہے اوراگراب بھی ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں اوردیگرقانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاراورافسران کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی توایم کیوایم پرامن احتجاج کااپناجمہوری حق استعمال کرنے پرمجبورہوگی۔ان خیالات کااظہارایم کیوایم رابطہ کمیٹی پاکستان کے انچارج قمرمنصورنے اراکین رابطہ کمیٹی عامرخان،عارف خان ایڈووکیٹ،حیدرعباس رضوی،کہف الوریٰ، گلفرازخان خٹک اوراسلم آفریدی کے ہمراہ خورشیدبیگم سیکریٹری عزیزآبادمیں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔قمرمنصورنے کہاکہ ایم کیو ایم 36سالوں سے حکمرانوں صدر ، وزیر اعظم ،وفاقی وزیر داخلہ، چیف آف آرمی اسٹاف ، وزیر اعلی سندھ ،گورنرسندھ اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اعلیٰ افسران اور آئی جی سندھ کی توجہ مبذول کراتی آئی ہے لیکن آ ج ماضی کی طرح ایک اور افسوسناک واقعہ کے بعد ایم کیوا یم کے کارکنان اور حق پرست عوام کو ایسا گماں ہو رہا ہے جیسے پاکستان میں ایم کیو ایم کے کارکنان اورمہاجروں پرظلم و ستم اور سازشوں کی روک تھام کسی حکمران یا قانون نافذ کرنیوالے ادارے کے اعلیٰ افسران کے لئے اہمیت کا حامل نہیں ہے۔انہوں نے سیدسکندرعلی شہید پولیس اہلکاروں کی جانب سے اغواء اورقتل کاواقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ رات پولیس کی سادہ وردی میں ملبوث اہلکاروں نے ایک عدد پولیس موبائل اور ڈبل کیبن VIGO کے ہمراہ سفید رنگ کی Carollaکار نمبر SP-1975 میں ایم کیو ایم یونٹ 131قصبہ علیگڑھ سیکٹر کے 38سالہ کارکن سید سکندر علی کوجناح انٹر نیشنل ائیر پورٹ کی پارکنگ سے تقریباً10بجے کے قریب گرفتار کرکے لاپتہ کردیا تھاتاہم تمام رات بھر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی و دیگر ذمہ داران اورسید سکندرعلی کے اہل خانہ کی جانب سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سربراہوں او رپولیس کے اعلیٰ حکام سے انکی گرفتاری سے متعلق متعدد مرتبہ رابطے کئے گئے لیکن کسی نے ہمیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی اور پیر و منگل کی درمیانی شب تقریباصبح 4بجے سیدسکندر علی کی بوری بندتشدد زدہ نعش کراچی کے ویران علاقے مواچھ گوٹھ بلدیہ ٹاؤن سے برآمد ہوئی جس کا علم ہمیں اور شہید کے اہل خانہ کو بذریعہ ٹیلیویژ ن اور ریسکیوذرائع سے ہوا ،سیدقاصد علی نا رتھ ناظم آباد بلاک Kکے رہائشی تھے اورپاسپورٹ آفس میں ایجنٹ کاکام کرتے تھے۔انہوں نے مزیدکہاکہ سید سکندر علی گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل یہ شکایت کررہے تھے کہ انکو پاسپورٹ آفس کے ڈائریکٹر پاسپورٹ خالدمیمن اور اعلیٰ افسران کی جانب سے دھمکیاں موصول ہورہی تھیں اور ان کو تنگ کیا جارہا تھا جہاں سکندر علی بطور ایجنٹ ایک طویل عرصے سے کام کررہے تھے ۔ یہاں ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ واقعہ ایئرپورٹ کی حدود میں ہوا ہے جس کا چپہ چپہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے کور کیا جاتا ہے ۔قمرمنصورنے کہاکہ اس سے قبل بھی ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکنان کو ان کی رہائشگاہوں،دفاتر اوردیگرمقامات سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سادہ لباس اہلکار گرفتار کرکے بہیمانہ اور انسایت سوز تشددکا نشانہ بنانے کے بعد شہید کرچکے ہیں لیکن تازہ واقعات میں ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ یکم دسمبر کو ایم کیوایم لانڈھی سیکٹر کے کارکن محمدساجدولدمحمدیوسف جودبئی جارہے تھے اورجنہیں کراچی ائیرپورٹ کی پارکنگ سے پہلے سنگل پرکھڑی پولیس موبائل نے ان کی گاڑی روک کر شناخت کرنے اور تلاشی لینے کے بعد ساتھ کھڑی بغیرنمبرپلیٹ ڈبل کیبن گاڑی میں ڈال کرنامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا جس کے بعد محمدساجدکی گلے میں رسی کاپھندہ لگی لاش ملیرندی سے ملی جس سے ثابت ہوتاہے کہ انہیں گلے میں پھندہ ڈال کر ماورائے عدالت قتل کیاگیاتھا، اسی طرح گلشن معمار اسکیم 33کنٹری اپارٹمنٹ سے گرفتاری کے بعد شہید کئے گئے ایم کیو ایم کے جوان سا ل کارکنان محمد سمید، علی حیدر،فیضان اور سلمان قریشی کے ماورائے عدالت بہیمانہ قتل کاواقعہ جبکہ ایک اورسوسائٹی سیکٹرکے ایک یونٹ انچارج سہیل کوبھی سادہ لباس اہلکاروں نے ہائی روف نمبر2372 میں ڈال کر لے گئے ہیں یہ تمام واقعات بھی میڈیا نمائندگا ن اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے سامنے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح 10 مارچ 2013ء سے آج 30دسمبر2014ء تک ایم کیوایم کے 20کارکنان رینجرز اور پولیس کی جانب سے غیر قانونی گرفتار یوں کے بعد سے تاحال لاپتہ ہیں جبکہ سینکڑوں کارکنان تاحال جیلوں میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ سیدسکندرعلی اور گزشتہ دنوں شہید کئے گئے لانڈھی سیکٹر کے کارکن محمد ساجد کو ائیر پورٹ کی پارکنگ سے گرفتار کیاگیا تھا تاہم یہ بات ہر ذی شعور پاکستانی بلکہ دنیا بھر کے عقل وفہم رکھنے والے عوام اس بات سے باخوبی واقف ہیں کہ ائیر پورٹ دنیا بھر میں حساس ترین علاقہ سمجھا جاتاہے جہاں CCTV کیمرے و سیکورٹی کے دیگر آلات نصب ہوتے ہیں جو ائیر پورٹ کے اطراف اوراندرہونے والی ایک ایک حرکت کو ریکارڈ کرتے ہیں جبکہ کراچی ائیر پورٹ میں گزشتہ مہینو ں سے سیکورٹی کے سبب مسافر کے ہمراہ صرف ایک شخص کو جانے کی اجازت دی جارہی ہے لہٰذا پولیس یا دیگر ایجنسیوں کے علاوہ ائیر پورٹ سے ایم کیو ایم کے کارکنان کو کوئی دوسرا فریق گرفتار نہیں کرسکتا ۔انہوں نے کہاکہ سیدسکندر علی کی ائیر پورٹ کی پارکنگ سے سادہ لباس میں ملبوث پولیس اہلکاروں کی جانب سے غیر قانونی گرفتاری کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کردینے کے واقعے سے انسانیت بھی شرما گئی ہے اورچ چاہئے؟اب تک ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں، ہمدردوں کی گرفتاری پر عدالتوں میں پٹیشن بھی دائر کی ہیں مگر عدالتیں نامعلوم اشارے پر انصاف کی قتل پر خاموش ہیں،رینجرز،پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکار خونی بھیڑیوں کی طرح کراچی بھر میں ایم کیو ایم کے کارکنان بالخصوص مہاجر طبقے سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران و کارکنان کو جب چاہتے ہیں شہر کے کسی بھی حصے سے اُٹھا کر انہیں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بناتے ہیں جس کے بعد انہیں مختلف طریقوں سے قتل کرنے کے بعد انکی لاوارث لاشیں شہر کے سنسان و دور دراز علاقوں میں پھینک دی جاتی ہیں لیکن ان غیر قانونی اور ماورائے عدالت کارکنان کے پے در پے قتل کے واقعات کے خلاف بیانات اور پریس کانفرنسوں اور عدالتوں میں پٹیشن دائرکرنے کے باوجود بشمول انسانی حقوق کے تنظیموں اور علمبرداروں کے تو جہ مبذول کرانے کے باوجود ہماراکوئی پرسان حال نہیں ہے شاید تعصب اور عصبیت ان کی زبانوں کو خاموش رکھ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکنان کے ماروائے عدالت قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اہلکاروں کو آخر قانون کی گرفت میں کیوں نہیں لیاجاتا اور ان پر کیس کیوں نہیں چلائے جاتے ۔اگر کارکنان کے ماورائے عدالت کا سلسلہ جاری رہا اور اس میں ملوث پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افسران اسی طرح قانون کی گرفت سے محفوظ رہے تو کارکنان و عوام کو انصاف اور قانون کی حکمرانی کی امیدکس طرح سے دلائی جاسکتی ہے اورکس طرح سے اپنے پیاروں کے قتل پرصبرکرسکتے ہیں جس معاشرے میں درندگی اور وحشی پن کے مظاہروں کو جاری رکھا جائے اور جنگل کے جیسا قانون نافذ ہو تو کیا کارکنان و عوام کو اپنے تحفظ کا کوئی قانونی اور آئینی حق حاصل نہیں ہے ؟ قمرمنصورنے وفاقی حکمرانوں،آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان و افسران سمیت سندھ کے صوبائی حکمرانوں سے سوال کیا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان و ذمہ داران کی بلاجواز گرفتاریوں ،انکے ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کئے جانے کا سلسلہ کب ختم کروایا جائے گا یا کراچی کے عوام اور ایم کیو ایم کے کارکنان اپنے اور اپنے بیوی بچوں اور اہل خانہ کے تحفظ کیلئے کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبورہوجائیں ؟ کیا اب کراچی میں ایم کیوایم کے کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں اور تشدد کے بعد ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بند کروایا جائے گا یا کراچی کے مظلوم عوام انصاف کی فریاد لیکر عالمی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟ انہوں نے قائدتحریک الطاف حسین اورایم کیوایم کی جانب سے سید سکندرعلی شہید کے تمام سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت وہمدردی کااظہار کرتے ہوئے اور دعاکی کہ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگواران کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطاکرے ۔قمرمنصورنے وزیراعظم نواز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، آئی ایس آئی کے چیف جنرل رضوان اختر اورو دیگر قانون نافذ کرنے والا اداروں کے سربراہاں و افسران وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے پرزورمطالبہ کیاکہ کراچی ایئر پورٹ سے ایم کیوایم قصبہ علی گڑھ سیکٹر یونٹ 131کے کارکن سید سکندر علی کی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری اور تشدد کے بعد گلا گھونٹ کر ماورائے عدالت قتل کا سنجیدگی سے نوٹس لیاجائے اور اس میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اگر ایم کیوایم کے کارکنان کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افسران کے خلاف کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی تو ایم کیوایم پرامن اور جمہوری احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے اور اب احتجاج کچھ بھی شکل اختیار کرے اس کی ذمہ داری ایم کیوایم پر ہرگز عائد نہیں کی جاسکتی ہے ۔



12/10/2016 10:35:13 AM